Wednesday, June 2, 2010

Al-Seraj, March 2010




گرجا پرشاد کوئرالہ کی رحلت Editorial , March 2010

تجلیات
شمیم احمدندویؔ
گرجا پرشاد کوئرالہ کی رحلت
ملک میں ایک سیاسی عہد کا خاتمہ

دارالحکومت کٹھمنڈو میں’’نیشنل مسلم فورم نیپال‘‘ کا ایک اہم اجلاس ۲۰؍۲۱؍مارچ کو ہورہا تھا، یہ پورے ملک کے مسلمانوں کی ایک نمائندہ تنظیم ہے جس میں ہرمکتب فکر کے مسلمانوں کی شمولیت ہے اورجومسلمانوں کے سیاسی وسماجی حقوق کے لئے ہرسطح پرجدوجہد کرتی ہے اورحالیہ برسوں میں مسلمانوں کے بعض مطالبات کو حکومت سے منظور کرانے میں اسے خاطرخواہ کامیابی ملی ہے۔
ملک میں اس وقت جدید خطوط پر اورجدید نظام حکومت کے تحت دستور سازی کا عمل تیزی کے ساتھ جاری ہے، یہ دستورہی طے کرے گا کہ اس ملک میں مسلمانوں کا مستقبل کیا ہوگا آیا انھیں دیگربرادران وطن کے ساتھ مساوی حقوق حاصل ہوں گے یا انھیں دوسرے درجہ کا شہری بن کرجینے کے لئے مجبورہونا پڑے گا، اورپھر سب سے بڑی اورقابل غور بات یہ کہ یہاں مسلمانوں کا دین وایمان اوران کا عقیدہ محفوظ ہو گا یا نہیں اورانھیں اپنی شرعی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی حاصل ہوگی یا عائلی قوانین میں انھیں اکثریت کے سامنے سپرانداز ہونا پڑے گا ،یہ ساری چیزیں ابھی مشکوک ہیں اور حکومت کی نیت واضح نہیں ہے، ایسے میں دستور ساز کمیٹی کے لئے انتخاب ہوا جس میں پورے ملک سے 600نشستوں والی پارلیمنٹ میں ۱۷مسلمان بھی منتخب ہوکرآئے جوکہ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے کافی کم تعداد ہے پھربھی کسی قدریہ اطمینان تھا کہ دستورمیں مسلمانوں کے حقوق کے لئے یہ متحدہ طورپر آواز اٹھائیں گے اوران حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے پارٹی مفادات سے اوپراٹھ کر ملت اسلامیہ نیپالیہ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں گے لیکن افسوس کہ یہ توقعات پوری ہوتی نظرنہیں آرہی تھیں، اورادھر وقت تیزی سے گزرتا جارہا تھا اوردستور سازی کا کام اپنے آخری مراحل میں پہونچ رہاتھا، ایسے میں ضرورت محسوس ہوئی کہ ملک کی متحدہ ونمائندہ اسلامی تنظیم نیشنل مسلم فورم نیپال قوم وملک کی مناسب رہنمائی کا فریضہ انجام دے اور اپنی ملی ذمہ داریوں کواداکرے،اس لئے ایک فوری اجلاس کا فیصلہ کیا گیا۔
۲۰؍مارچ اس اجلاس کا پہلادن تھا جس کی کارروائی کامیابی کے ساتھ جاری تھی اس میں ملک کے دورونزدیک کے مختلف علاقوں وسیاسی پارٹیوں کے تمام مسلم ممبران پارلیمنٹ کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی اورتقریباً نصف ممبران پارلیمنٹ اس میں شریک بھی ہوئے، فورم کی مجلس شوریٰ ومجلس عاملہ کے ممبران اور اضلاع کے نمائندے بھی شریک بزم تھے، کٹھمنڈو کا ایک بڑاہال اس کے لئے منتخب کیا گیا تھا، مسلم مسائل پربحث زوروشورسے جاری تھی اوراس کے مختلف پہلوؤں پر مقررین روشنی ڈال رہے تھے، بیشتر مقررین ملک کی زبان نیپالی میں اظہار خیال کررہے تھے اوردستورکی ان شقوں اورپہلوؤں کی نشاندہی کررہے تھے جہاں ہمارے ساتھ ناانصافی اورحق تلفی ہورہی تھی یا ہوسکتی تھی، سامعین گوش برآواز تھے کہ اسی دوران بعض حاضرین کے موبائل پر موصول ہوئی کچھ خبروں کے بعد سامعین میں اضطراب وبے چینی محسوس کی گئی پھرکچھ سرگوشیوں اورکانا پھوسیوں کے درمیان انا ونسرنے اٹھ کریہ المناک وحسرت ناک خبرسنائی کہ نیپالی کانگریس کے سبھاپتی(صدر) اورملک کے سابق وزیراعظم گرجاپرشاد کوئرالہ اب اس دنیا میں نہیں رہے اورملک ایک فیصلہ کن وحساس مرحلہ میں ایک مردآہن اورزبردست قوت ارادی کے مالک اورسیاسی شعورسے مالامال شخصیت کی قیادت سے محروم ہوگیا، اورایک ایسے نازک لمحہ میں جب کہ ملک ایک نئے نظام حکومت کے خدوخال طے کرنے میں مصروف ہے اورنیا آئین ترتیب وتکمیل کے آخری مرحلہ میں ہے ملک نے ایک ایسی شخصیت کو کھودیا جو کسی بھی خلفشار وانتشار سے عہدہ برآہونے اورکسی بھی نازک صورتحال سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
گرجا پرشاد کوئرالہ جنھیں سیاسی حلقوں میں دوست ودشمن سبھی کی جانب سے احتراماً ’’گرجابابو‘‘ کے لقب سے یاد کیاجاتا تھا اورسبھی ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اورپیچیدہ گتھیاں سلجھانے کی صلاحیت کا اعتراف کرتے تھے اوران کی یہی صلاحیت تھی کہ انھیں پانچ بارملک کا وزیراعظم منتخب کیا گیا اوران کی قیادت پراعتماد کیاگیا۔
گرجا پرشاد کوئرالہ یوں تو نیپالی کانگریس کے صدرتھے لیکن تمام سیاسی پارٹیوں میں عزت واحترام کی نظرسے دیکھے جاتے تھے، اورملک میں ان سے بڑا قدآورلیڈر کوئی پیدانہیں ہوا، انھیں سیاست اپنے والد بی.پی. کوئرالہ سے وراثت میں ملی تھی جنھوں نے پہلی بارشاہی حکومت کے خلاف ایک مؤثرتحریک چلاکراس کے ایوانوں میں زلزلہ برپاکردیا تھا اورجمہوریت کی جانب مضبوطی سے قدم بڑھادئے تھے، لیکن شاہی حکومت کا اقتدار بھی ابھی مضبوط تھا اورعوام میں اس کی جڑیں بھی گہری تھیں،لیکن اس سے زیادہ طاقت کا توازن اس کے حق میں تھا اس لئے انھیں خاطرخواہ کامیابی نہیں ملی۔
تاہم قیام جمہوریت کی ان تحریکات میں جن میں نیپالی کانگریس کا قائدانہ کردارتھا گرجا پرشاد کوئرالہ اپنی پارٹی اوراپنے والد کے دست وبازو بنے رہے، جہاں وہ سیاست کے بنیادی اصول بھی سیکھتے رہے اورجمہوریت کے لئے راہ بھی ہموار کرتے رہے 2039بکرمی سال میں ان کے والد کی وفات ہوئی جس کے بعد تحریک میں مزید تیزی آئی،شاہی حکومت کو اقتداراعلیٰ سے محرومی کسی طرح گوارہ نہ تھی اس لئے عوامی تحریک کو بزورطاقت دبانے کی ہرممکن سعی وتدبیرکی گئی، گرجاپرشاد پرشاہی عتاب نازل ہوا اورانھیں اپنے دیگر کئی ساتھیوں کے ساتھ ملک بدری اورجلاوطنی کی زندگی گزارنی پڑی، اورکئی سال تک انھوں نے پڑوسی ملک ہندوستان کے شہر بنارس اوردیگر مقامات میں مقیم پناہ گزین کے طورپرزندگی کے بیش قیمت ایام گزارے لیکن جمہوری حقوق کی حصولیابی کے لئے ان کی تگ ودوجاری رہی، 2046ب سال میں ایک نئے آندولن کا آغاز ہوا جس نے ملک گیرتحریک کی شکل اختیار کرلی، اس کی قیادت بھی کمیونسٹ پارٹیوں کے تعاون کے ساتھ نیپالی کانگریس کے ہاتھ میں ہی تھی، چندہفتوں کی پرامن اورپھرپرتشددتحریک کے بعد راجہ بریندر کو عوامی خواہشات کے سامنے سرجھکاناپڑا اورانھیں اس بات پرمجبور ہوناپڑا کہ پارلیمنٹ کی قانون ساز اوربااختیار ادارہ کی حیثیت تسلیم کرلیں ورنہ اس سے پہلے اگرچہ پارلیمنٹ تھی لیکن سارے اختیارات کا سرچشمہ نارائن ہیٹی درباریعنی ایوان شاہی تھا، ملک کے لئے سارے فرمان وہیں سے صادرہوتے تھے اورممبران پارلیمنٹ کی حیثیت راجہ کی جی حضوری وکاسہ لیسی کرنے والے خوشامدی درباریوں جیسی تھی، حتی کہ وزیر اعظم کی تقرری کا اختیاربھی راجہ ہی کے پاس تھا،دیگر وزرائے مملکت کا انتخاب بھی راجہ کی صوابدید پرہی منحصرتھا، گویاکہ اختیارات سے عاری ایک نام کی پارلیمنٹ تھی، لیکن ۲۰۴۶سال کی تحریک جمہوریت کے بعدراجہ کو پہلی بارعوامی احساسات کے سامنے سپرڈالنے پرمجبورہوناپڑا، یہ گرجا پرشاد کوئرالہ اوران کے سینئرساتھیوں گنیش مان سنگھ اورکے پی بھٹرائی کی پرامن تحریک کا نتیجہ تھا،لیکن اس تحریک کی کامیابی کے پیچھے گرجا پرشاد کوئرالہ کا ہی دماغ کام کررہاتھا جسے انھوں نے عوامی رابطوں کے ذریعہ ملک گیر تحریک میں تبدیل کردیا تھا، اس طرح پہلی بار پارلیمنٹ کو یہ اختیارات حاصل ہوئے کہ ملک کی فلاح وبہبود کے لئے آزادانہ طورپر قوانین بناسکے اورفیصلے صادر کرسکے، لیکن اقتدار اعلیٰ ابھی بھی راجہ کے ہی ہاتھ میں تھا، جوملک کے آئینی صدرمملکت کی حیثیت سے اپنی صوابدید پرپارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا اختیاررکھتا تھا اورملک کی مسلح افواج کی کمان اسی کے ہاتھ میں تھی جسے استعمال کرنے کا حق بھی صرف اسے حاصل تھا، یہ وسیع حقوق واختیارات کئی بارپارلیمنٹ کے وقارکومجروح کرنے کا باعث بنے اسے نیپالی دستور کی اصطلاح میں آئینی راج تنترکہاگیا گویاکہ اختیارات کا مرکز گرچہ اب بھی ایوان شاہی ہی تھا لیکن اسے آئین ودستور کے تابع رکھاگیاتھا،گویاکہ اس نئے دستورمیں جمہوریت بھی تھی اورشہنشاہیت بھی،لیکن پارلیمنٹ کو حاصل ہونے والے یہ جزوی اختیارات بھی اس شاہی مطلق العنانی کے مقابلہ میں بسا غنیمت تھے جس کے بارے میں نیپالی میں ایک مشہورجملہ زبان زد خاص وعام تھا اوراسی پرعمل بھی کہ ’’راجہ کو مکھے لے آئین ہو‘‘ یعنی راجہ کافرمان شاہی ہی دستورہے اس میں کسی چوں چرا کی گنجائش نہیں، لیکن ۲۰۴۶کے اس آندولن کے بعد ملک کا ایک دستور مرتب ہوا جس میں پارلیمنٹ کی آئینی وقانون سازی کی حیثیت کو تسلیم کیاگیا، یہ ایک بڑی پیش رفت تھی جو ملک کے باشعور سیاستدانوں کی بدولت ممکن ہوئی جس کے سرخیل وروح رواں گرجا پرشاد کوئرالہ تھے کہ کسی خوں ریزی وتشدد کے بغیرانھوں نے ملک میں قیام جمہوریت کے خوابوں کوتعبیر عطاکیا۔
نئے دستور کے تحت ملک میں انتخابات ہوئے جس میں نیپالی کانگریس، امالے(کمیونسٹ پارٹی) نیپال سدبھا وناپارٹی اورراجہ کی حمایت یافتہ راشٹریہ پرجاتنترپارٹی سمیت ایک درجن سے زائد چھوٹی بڑی پارٹیوں نے حصہ لیا، نئے دستور کے تحت اس پہلے پارلیمانی انتخاب میں نیپالی کانگریس پارٹی کو اکثریت حاصل ہوئی اوراسے حکومت سازی کا موقع ملا، اورگرجا پرشاد کوئرالہ کو ملک کی پہلی منتخب حکومت کا وزیراعظم تسلیم کیا گیا جب کہ اس سے قبل عارضی حکومت کی وزارت عظمیٰ کاتاج کے پی بھٹرائی کے سرپررکھاگیاتھا۔
گرجاپرشاد کوئرالہ کی سیاسی زندگی کا سفربہت طویل ہے جو ۶دہائیوں سے زائد عرصہ پرمحیط ہے اوریہ سفرجہد مسلسل اورقربانیوں وحصولیابیوں سے عبارت ہے، انھوں نے کئی بارملک کو سنگین بحرانوں سے نکالا ہے اوراپنی سوجھ بوجھ ،قائدانہ صلاحیت اوردوراندیشی کا لوہامنوایا ہے، انھوں نے اپنے طویل سیاسی سفر میں کئی نشیب وفراز دیکھے،کبھی پارٹی کے اندر سے انھیں مخالفتوں ومخاصمتوں کا سامنا کرناپڑا اوران کی قیادت کو چیلنج کیاگیا توکبھی رہ رہ کرشاہی حکومت کی جانب سے ان کی راہ میں روڑے اٹکائے گئے اوراختیارات کا ناجائز استعمال کیاگیا، اوربارہا جمہوریت کوآمریت سے خطرات لاحق ہوئے لیکن گرجاپرشاد کوئرالہ کی آہنی شخصیت تھی کہ ہرخطرہ وصورت حال کا پامردی سے مقابلہ کیا اورجمہوریت جس نامکمل شکل میں بھی تھی اس کی حفاظت کی،لیکن ان کی سیاسی زندگی میں ملک کے لئے جوسب سے سنگین بحران سامنے آیا وہ ماؤنوازوں کی پرتشدد تحریک کی صورت میں تھا اور اس سے جمہوریت ہی نہیں ایک وقت ایسا آیا کہ ملک کا وجودہی خطرہ میں پڑگیاتھا ،پوراملک تشددکی آگ میں جل رہا تھا، انسانی جان ومال اورعزت وآبرو کی کوئی قیمت نہ تھی، پوراملک خوف وہراس کا شکارتھا اورمستقبل غیریقینی، راجہ کے زیرکنٹرول مسلح افواج بھی ماؤنوازوں سے نپٹنے اورصورت حال کوبدلنے سے عاجز وقاصرتھی، ماؤنوازوں کی مسلح وپرتشددتحریک گرچہ کانگریسی دوراقتدار میں ہی شروع ہوئی تھی لیکن راجہ کے عدم تعاون اوربروقت فوج کے استعمال کی اجازت نہ دینے کی بناپر اس پرقابونہیں پایاجاسکا اورتشدد وخون خرابہ کادائرہ وسیع سے وسیع ترہوتا گیا، یہاں تک کہ پارلیمانی انتخاب کو بھی غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کرناپڑا کیونکہ ماؤنوازوں کی پرتشدد کارروائیوں کی بدولت حالات انتہائی ناساز گاربلکہ ناگفتہ بہ ہوچکے تھے،ایسے میں راجہ کوپارلیمنٹ تحلیل کرنے اوراپنے دستوری اختیارات استعمال کرنے کا موقع مل گیا اس طرح جمہوریت کا یہ پہلا دوربہت مختصر ثابت ہوا یعنی ۲۰۴۷ب میں قائم شدہ جمہوریت کو راجہ نے صرف ۱۲سال بعد ۲۰۵۹ب سال میں کالعدم قرار دے کرسارے اختیارات ازسرنواپنے ہاتھ میں لے لئے، راجہ کا یہ فیصلہ سیاسی پارٹیوں کے لئے حیرتناک اورناقابل برداشت تھا لیکن اس وقت ماؤنوازوں کی دہشت گردی اس قدر عروج پرتھی کہ ہرآدمی کو صرف اپنی جان ومال اورعزت وآبروکی فکرتھی، یہی وجہ ہے کہ راجہ کے اس جمہوریت شکن اقدام کے رد عمل میں کوئی عوامی احتجاج سامنے نہیں آیا اورہرآدمی صرف اپنی ذات کی فکرکرنے تک محدو د ہوگیا ،ملک کی صورت حال بہت مخدوش تھی اورصرف جمہوریت ہی نہیں بلکہ ملک کا وجود وبقابھی خطرہ میں تھا اورایسے میں عوام ماؤنوازوں کی جارحانہ وسنگدلانہ کارروائیوں اورفوجی زیادتیوں کے درمیان چکّی کے دوپاٹوں کی طرح پس رہے تھے نہ کوئی ان کا پرسان حال تھا اورنہ ان کے لئے کوئی جائے پناہ اورجائے فریاد، ایسے میں جب ملک انتہائی سنگین بحران کے دورسے گزررہا تھا گرجا پرشاد کوئرالہ کی ذات ہی مرکز امید ثابت ہوئی اوراس وقت جب راجہ کے فیصلوں کے خلاف کسی کو دُم مارنے کی مجال نہ تھی اورماؤنوازوں کے مظالم سے ملک کو اورخود اپنی ذات کو بچانے کی کوئی تدبیرنہ تھی ایسی نازک گھڑی میں گرجاپرشاد کوئرالہ ان چند لیڈروں میں سے ایک تھے جنھیں اپنی ذات سے زیادہ ملک کے مستقبل کی فکر تھی۔
راجہ نے امن وامان کی بگڑتی صورت حال کا حوالہ دے کر زمام اقتدار توضرور اپنے ہاتھ میں لے لیاتھا لیکن اس میں کوئی بہتری آنے کے بجائے روزبروزحالات بدسے بدترہوتے گئے اور ایک وقت ایسا آیا کہ ملک کے بیشترحصوں بالخصوص دورافتادہ پہاڑی اضلاع پرعملاً ماؤنوازوں کا کنٹرول ہوگیا، برادران وطن کا خون ارزاں ہوگیا اورپانی کی طرح بہتا رہا ،یہ سب سے سنگین صورت حال تھی جس کا سامناگرجاپرشاد کوئرالہ اپنی طویل سیاسی زندگی میں کررہے تھے ایسے میں ملک کو اس بحران سے نکالنے کے لئے انھوں نے اپناسب کچھ داؤں پرلگادیا، اگرچہ وہ کمیونسٹ فکرکے ہمیشہ سے مخالف تھے اورسب سے بڑی کمیونسٹ پارٹی(امالے) ان کی سب سے بڑی حریف پارٹی تھی اورماؤنوازوں کی مسلح جدوجہد اور ان کی پرتشدد سرگرمیاں نظرانداز کئے جانے کے لائق نہیں تھیں لیکن جب انھوں نے حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینے کے بعدیہ محسوس کرلیا کہ نہ توراجہ کی مسلح افواج کو ماؤنواز تحریک کو کچلنے میں کامیابی مل سکتی ہے اور نہ ماؤنواز خون خرابہ اورقتل عام بند کرسکتے ہیں توبہرصورت نقصان ملک کا اور ملک کے بے قصورعوام کا ہی ہوگا،ایسے میں انھوں نے ان کمیونسٹ پارٹیوں کے ساتھ مفاہمت ومصالحت کاتلخ گھونٹ پینا بھی گوارہ کرلیا، اس طرح ان کے زیر قیادت نیپالی کانگریس وماؤوادیوں سمیت ۸پارٹیوں کا دلّی میں اجتماع ہوا اور۱۲ نکاتی سمجھوتہ تشکیل پایا یہ ان کی ایک اہم کامیابی تھی کہ مسلح ماؤوادیوں اورخونی انقلاب کاخواب دیکھنے والے جنونیوں کومذاکرات کی میز پربیٹھنے کے لئے مجبورکردیا، اوریہ ان کی مقبولیت اوران کی قیادت پراعتماد کا ہی نتیجہ تھاکہ ان تاریخ ساز اورفیصلہ کن لمحات میں ان کو تمام پارٹیوں نے اپنا صدر منتخب کیا ،جب کہ ان مختلف الخیال پارٹیوں کے نمائندوں کاکسی ایک شخص کی قیادت پرمتفق ہونا بادی النظر میں محال نظر آتا تھا، اب گرجا پرشاد کوئرالہ کی حیثیت محض نیپالی کانگریس کے سبھاپتی کی نہ تھی بلکہ ان کی حیثیت پورے ملک کے غیرمتنازعہ اورمتفقہ قائد کی ہوگئی تھی۔
راج شاہی کے خلاف جنگ اور تحریک بحالی جمہوریت کی قیادت جب گرجا پرشاد کوئرالہ کے پاس آئی توانھوں نے اس خوش اسلوبی کے ساتھ ملک کو بحران سے نکالا کہ ہرشخص موافق ہویامخالف ان کی قائدانہ صلاحیت اوران کی سیاسی سوجھ بوجھ کامعترف ومداح ہوگیا، کیونکہ جہاں ایک طرف وہ کمیونسٹ پارٹیوں اوران ماؤنوازوں کوساتھ لے کرچل رہے تھے جوہرمسئلہ کا حل صرف تشددوطاقت کے ذریعہ نکالے جانے میں یقین رکھتے تھے تودوسری طرف ان کے مقابلہ میں راجہ کی وہ شاہی سیناتھی جوہرتحریک کوبزورطاقت کچلنے کی قائل تھی ایسے میں ملک میں جس قدر بھی خون خرابہ نہ ہوتاکم تھا،لیکن حیرت انگیز طورپرملک میں اتنابڑا سیاسی انقلاب آگیا اورپورے ملک میں صرف ۱۷ آدمیوں کی ہلاکت ہوئی جب کہ اس سے قبل ماؤنوازوں کی دس سالہ پرتشددجدوجہد میں تقریباً ۲۰ہزارآدمیوں کواپنی جان سے ہاتھ دھوناپڑاتھا اوراتنی بڑی ہلاکت کے بعدبھی ماؤنواز آخرتک اپنے مقصد (یعنی حصول اقتدار) سے اتنے ہی دورتھے جتنے اپنی تحریک کے آغاز میں تھے،لیکن گرجاپرشاد کوئرالہ کی پُرعزم اورباشعورقیادت کانتیجہ تھا کہ صرف ۱۵دن کی عوامی تحریک اورپُرامن احتجاج اورصرف ۱۷آدمیوں کی ہلاکت کے بعدملک سے ڈھائی سو سالہ شاہی اقتدار کا خاتمہ ہوگیا اورجمہوری انقلاب کا مطلوبہ ہدف حاصل کرلیاگیا، یعنی جوکام بے گناہوں کے قتل عام اورگولہ بارودسے ممکن نہ ہوا اسے ایک مرد آہن نے اپنے ناخن تدبیرسے حل کرکے دکھادیا۔
اب گرجا پرشاد کوئرالہ کی ذات نگاہوں کا مرکز تھی اورملک کے عوام کی امیدوں کا محور،اوراپنے اس منصب کوانھوں نے بھرپور طریقہ سے محسوس کیا، ایسانہیں ہے کہ شاہی حکومت کی اقتدارسے بے دخلی کے بعدسب کچھ خاموشی کے ساتھ پلک جھپکتے درست ہوگیاہو، بلکہ بے شماررکاوٹیں آئیں اورکئی بارسیاسی مشکلات کا سامنا کرناپڑا، ماؤنوازوں نے کبھی بھی اس صورت حال کاتصور نہیں کیاتھا جو ان کو درپیش تھی وہ انتخابات کے راستہ مسند اقتدارپرقابض ہونے کے بجائے بزورطاقت اسے حاصل کرنا چاہتے تھے اوراپنے منصوبہ کے تحت ملک کو خالص کمیونزم ریاست میں تبدیل کرناچاہتے تھے ،جمہوریت ان کی کبھی منزل نہیں رہی اورماؤنواز لیڈر پرچنڈ نے اس کا بارہا وبرملا اظہاربھی کیا کہ یہ جمہوریت صرف ہمارا ایک پڑاؤ ہے ،ہماری منزل نہیں، لیکن گرجاپرشاد کوئرالہ نے ان کی ایک نہ چلنے دی، ان تمام سیاسی سرگرمیوں کے دوران ان کی رہائش گاہ’’بلواٹار‘‘ کوایک اہم مرکز کی حیثیت حاصل تھی جہاں جاکرتمام بڑی پارٹیوں کے لیڈران سیاسی رہنمائی اورفکری روشنی حاصل کیاکرتے تھے۔
اس سفر میں بڑے نشیب وفراز آئے اورملک کی سیاسی کشتی ہچکولے کھاکھا کرآگے بڑھتی رہی اورجب بھی ایسا لگا کہ ماؤنوازوں کے برپاکئے ہوئے طوفان میں پھنس کر یہ کشتی ڈوب جائے گی توایک ناخدانے آگے بڑھ کر پتوار سنبھالے اور اسے گرداب سے نکال کرساحل قرارپر پہونچادیا،اسی ناخداکو نیپالی عوام گرجاپرشاد کوئرالہ کے نام سے جانتے ہیں اوراس کانام عزت وعقیدت سے لیتے ہوئے انھیں ’’گرجا بابو‘‘کہتے ہیں۔
یہ نہیں کہاجاسکتا کہ ان کی ذات انسانی فطرت کی کمزوریوں سے مبراتھی ،ان کے اندربھی اقتدارکی ہوس کسی نہ کسی درجہ میں موجودتھی، اقرباپروری بھی عام سیاستدانوں کی کمزوری کی طرح حاوی تھی جس کی وجہ سے اپنے قریبی عزیزوں کوپارٹی کے اونچے عہدوں اورملک کی اہم وزارتوں پرفائز دیکھنا چاہتے تھے اپنی بیٹی سجاتاکوئرالہ کووزیرخارجہ اورپھرنائب وزیراعظم بنوانے کے سلسلہ میں ان کوکافی ہدف تنقید بننا پڑا اورچہار جانب سے ملامتوں کاسامناکرناپڑا اسی طرح خود وزارت عظمیٰ کے عہدہ کے لئے بارہا پارٹی میں جوڑتوڑکی سیاست پربھی وہ کاربند رہے ان کے اوپر لگائے گئے اس الزام میں بھی کافی صداقت تھی کہ ماؤنوازوں کی مسلح جدوجہد کے آغاز میں انھوں نے ان کو نظرانداز کیا اوربروقت اس سلسلہ کی سنگینی کا احساس نہیں کیا اورنہ توان کو بزور طاقت کچلنے کی ضرورت سمجھی اورنہ بات کرنے کے لائق سمجھا جس کا نتیجہ یہ ہواکہ آگے چل کرملک ایک پیچیدہ اورسنگین صورت حال سے دوچارہوا،اوربے شمار قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اورقومی املاک کی بربادی ہوئی۔
ایسامحسوس ہوتاہے کہ وہ عمرکے آخری پڑاؤ میں قوت فیصلہ کی کمزوری کاشکارہوگئے تھے ،یہی وجہ ہے کہ وہ ماؤنواز لیڈرپرچنڈ کے ان مطالبات کے سامنے بھی سرتسلیم خم کرنے پرمجبور ہوجایاکرتے تھے جنھوں نے بعدمیں پرچنڈ کو طاقت واستحکام عطاکیا اور روز بروز ان کی قوت میں اضافہ ہوتاگیا،یہی وجہ ہے کہ دستور سازکمیٹی کے لئے ہونے والے انتخابات میں ماؤنواز سب سے بڑی پارٹی کی شکل میں سامنے آئے اورنیپالی کانگریس کوکافی پیچھے چھوڑدیا،اس سے گرجاپرشاد کافی ملول خاطراوردل شکستہ ہوئے اوران کی اس خواہش کوبھی دھکا لگا جووہ ملک کے پہلے صدرمملکت کا اعزاز حاصل کرکے پانا چاہتے تھے، پارٹی کے اندورنی وبیرونی اختلافات کی وجہ سے ان کی یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی لیکن پرچنڈ کو بھی یہ اعزاز حاصل کرنے میں اگرکامیابی نہیں ملی تواس میں گرجاپرشاد کوئرالہ کااہم رول ہے۔
ایک اورآخری بات جسے کہے بغیر چارہ نہیں کہ اگرچہ ان کا حلقہ انتخاب ترائی ضلع سنسری کاوہ علاقہ ہے جہاں مسلمان بڑی تعداد میں سکونت پذیر ہیں اوران کی بھرپور حمایت کرتے رہے ہیں ،لیکن مسلم مسائل کو حل کرنے اور ان کے مطالبات کو پورا کرنے میں انھوں نے کبھی دلچسپی نہیں دکھائی اورہرسطح پرانھیں نظرانداز کیا نہ پارٹی میں انھیں مناصب دئے اورنہ کسی اسلامی ملک میں بھی کسی مسلمان کو سفارتی خدمات انجام دینے کے لائق سمجھا اور نہ ہی پولیس وانتظامیہ اورفوج تودرکنار عام ملازمتوں میں بھی مسلمانوں کو نمائندگی دی گئی۔
لیکن بہرحال ان کی ذات میں موجود ان بعض کوتاہیوں کے باوجود ان کی ذات میں خوبیوں کا پہلوحاوی ہے اورملک سے محبت اوراس کو چلانے کی صلاحیت دوسروں کے بالمقابل بدرجہازیادہ تھی اورعوام میں ان کی مقبولیت کا گواہ توان کے ’’شویاترا‘‘ کاجلوس ہی ہے جس میں لاکھوں سوگوارعوام کی شمولیت یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ وہ کسی ایک پارٹی کے لیڈرنہ ہوکرپورے ملک کے لیڈرتھے اورہرپارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں ان کا خاص مقام تھا اوروہ ہرسطح پر ہردل عزیز نیتاتھے، ایسے مقبول عام اورہردل عزیز لیڈرکسی ملک میں صدیوں میں پیداہوتے ہیں جوتاریخ کادھارا بدلنے اورانقلاب لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،وہ واحد ایسے لیڈر تھے جنھیں بوقت وفات کسی اہم سرکاری منصب پرنہ ہوتے ہوئے بھی پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ آخری رسومات کی ادائیگی کی گئی جنھیں ۱۵توپوں کی الوداعی سلامی دی گئی اورتین دن کے سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ۔
گرجا پرشادکی رحلت کے ساتھ ہی ملک میں ایک سیاسی عہدکا خاتمہ ہوگیا اورنئے نظام حکومت کے ساتھ اب ایک نئے عہدکا آغاز ہورہا ہے جو نئے دستورکی تکمیل کے بعد ملک کے سیاسی گلیاروں میں دستک دینے کے لئے تیارہے۔
**

توحید پرمرنے والے گنہگار کابالآخر ٹھکانہ جنت March 2010

ڈاکٹرسید سعید عابدیؔ
صدرشعبۂ اردو، جدہ ریڈیو،سعودی عرب
توحید پرمرنے والے گنہگار کابالآخر ٹھکانہ جنت

مسئلہ: ایک بزرگ نے میرے نام اپنے خط میں ایک رسالے سے درج ذیل اقتباس ارسال کیا ہے’’ صحیح بخاری کے باب’’تفاضل اہل الایمان فی الاعمال‘‘ کے تحت ایک حدیث ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے کہ دوزخ میں جلنے والے مجرمین کے بارے میں حکم ہوگا کہ رائی کے دانے کے برابربھی جس مجرم کے اندرایمان ہے اس کو دوزخ سے نکال لو، اس طرح جو لوگ جل کرکوئلہ ہوچکے ہوں گے ان کوبھی نکال کرنہرحیات میں ڈالا جائے گا تو وہ دانوں کی طرح اُگ پڑیں گے ،سوال یہ ہے کہ جب ایمان کا ہرچھوٹا بڑا ذرہ میزان میں تولے جانے کے بعد اللہ تعالیٰ مجرمین کے لئے جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ کرے گا پھراتنا قیمتی ذرہ جودوزخ سے نجات کاباعث بن سکتا ہے اعمال نامہ میں سے کیسے برآمد ہوجائے گا اوروہ پہلے کس طرح نظرانداز ہوگیا، پھرقرآن کی روسے مجرمین کے لئے خلود فی النار کی خبردی گئی ہے اس فیصلے میں تبدیلی کیوں کردی جائے گی؟ اس طرح کا عقیدہ یہود رکھتے تھے، قرآن نے اس کی نفی کی ہے اوربتایاکہ یہ ان کامن گھڑت عقیدہ ہے توکیا انسانوں میں سنت اللہ کا اطلاق الگ الگ بنیادوں پرہوگا، دراصل کسی بھی عقیدہ کاقرآن میں موجودہونا ضروری ہے اوریہ عقیدہ قرآن میں نہیں ہے‘‘۔
جواب: ۔مندرجہ بالا اقتباس میں صحیح بخاری کی جس حدیث پراعتراض کیاگیا ہے وہ حدیث امام بخاری کتاب الایمان کے باب’’اہل ایمان میں اعمال کے اعتبارسے درجات‘‘ کے تحت لائے ہیں اوروہ اس حدیث کے ذریعے یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اعمال کی بنیاد پرایمان میں درجات ہیں، دوسرے لفظوں میں ایمان میں عمل بھی داخل ہے اورایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے یعنی اللہ کی اطاعت سے اس میں اضافہ ہوتاہے اوراس کی معصیت سے اس میں کمی ہوتی ہے، ایمان کے 3حصے ہیں ،دل میں تصدیق ،زبان سے اقراراوراعضاء سے عمل، ان تینوں کے مجموعے سے ایمان کو وجودملتا ہے بایں معنی کہ اگران میں سے کوئی ایک حصہ ناقص ہوگا توایمان ناقابل اعتبار ہوگا،ایمان کاجوحصہ دل سے متعلق ہے وہ تصدیق اوراعتقاد ہے جوگھٹتے گھٹتے رائی یاذرہ کے برابرہوسکتاہے۔
صحیح عقیدہ رکھنے والے مومن کوبھی بداعمالی اورگناہوں کی سزاملے گی اوراس کے گناہوں کی پاداش میں اسے دوزخ میں ڈالا جائے گا مگراپنے ایمان کی وجہ سے اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ ایک نہ ایک دن اللہ تعالیٰ کی نظرعنایت اور اس کے حکم سے دوزخ سے نکال کرجنت میں داخل کیاجائے گا، حدیث میں جس مومن کے جہنم سے نکال کرجنت میں ڈالنے کا ذکرآیاہے، وہ وہی ہے جواپنے گناہوں کی سزاکاٹ چکا ہوگا لیکن دل میں اپنے ایمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت عنایت کا مستحق ٹھہرے گا۔
زیربحث حدیث میں’’ مجرمین‘‘ کاکوئی ذکرنہیں آیا، معترض نے اپنی بات میں وزن پیداکرنے کے لئے اپنی طرف سے اس کااضافہ کردیاہے لیکن اس سے ان کی بات میں کوئی وزن پیدا ہونا تودرکنار وہ ریت کا ایک ایسا تودہ ثابت ہوئی ہے جو علم کی ایک ٹھوکربھی برداشت نہیں کرسکتا اورحدیث میں اپنے اس خودساختہ اورمن گھڑت اضافے پرانھوں نے جوایک اور ’’ردہ‘‘ یہ چڑھایا ہے ’’قرآن کی روسے مجرمین کے لئے خلودفی النار کی خبردی گئی ہے ‘‘وہ ان کی قرآن فہمی کا مذاق اڑارہاہے۔
تعجب ہے کہ ایک ایسے شخص کو جس کی ساری عمرقرآن پاک کے درس و مطالعہ اورغور وتدبرمیں گزری ہے اورجس کواپنی قرآن فہمی کا احساس بھی تھا، اتنی بات نہیں معلوم تھی کہ قرآن پاک میں کسی گنہگارمومن کو’’مجرم‘‘نہیں کہاگیا۔
قرآن پاک میں لفظ مجرم واحد کے صیغے میں 2بار ایک بار الف لام کے ساتھ حالت رفع میں اوردوسری بار حالت نصب میں ’’نکرہ‘‘ استعمال ہوا ہے اورجمع کے صیغے میں 49مرتبہ استعمال ہوا ہے ،15بار حالت رفع میں اور34بارحالت نصب اورجرمیں لیکن کہیں بھی گنہگار اورمعصیت کا رمومنین کے مترادف کے طورپر نہیں آیاہے بلکہ نہایت ہٹ دھرم کفار اورمشرکین کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اگرمعترض نے پورے قرآن نہیں بلکہ صرف سورہ طہ کی آیت74اور75پراپنی اچٹتی سی نظرڈال لی ہوتی توان کو معلوم ہوجاتا کہ مومن اورمجرم ایک دوسرے کی ضدہیں ارشاد الٰہی ہے آیات قرآنیہ’’درحقیقت جواپنے رب کے حضورمجرم بن کر حاضرہوگا اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اورنہ جیے گا اورجواس کے حضورمومن کی حیثیت سے حاضرہوگا جس نے نیک اعمال کئے ہوں گے ایسے سب لوگوں کے لئے بلند درجات ہوں گے‘‘۔
اس قرآنی وضاحت کے ہوتے ہوئے یہودی عقیدے اورسنت الٰہی کے ذکر کی کیا ضرورت تھی؟
رہی یہ بات کہ ’’ایمان کا یہ چھوٹا ذرہ میزان میں تولے جانے سے نظرانداز کس طرح ہوگیا‘‘تواس کا جواب یہ ہے کہ گنہگار مومن کے دل میں پایاجانے والا ایمان کا یہ چھوٹا ذرہ اللہ تعالیٰ کی میزان عدل سے نظرانداز نہیں ہوابلکہ ہوایہ کہ وہ اپنے اس ایمان کے ساتھ ’’شرک‘‘ کے سواگناہوں کا ایک انبار بھی لے گیا تھا اوراللہ تعالیٰ کے عدل ہی کا یہ تقاضا تھا کہ اس کو ان گناہوں کی سزاملے لہذا وہ جہنم میں ڈال دیاگیا اورجب تک اللہ نے چاہا اس میں رہا، لیکن چونکہ وہ ’’موحد‘‘ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ اس کو دوزخ سے نکال کرجنت میں ڈال دو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ جوعقیدہ توحید پرمرے گا وہ لامحالہ جنت میں جائے گا۔
امام بخاریؒ مذکورہ حدیث اس باب کے تحت مرجۂ اورمعتزلہ کی رد میں لائے ہیں، مرجۂ اس فرقے کو کہتے ہیں جس کا عقیدہ ہے کہ ایمان کے ساتھ معصیت سے کوئی نقصان نہیں ہوتا جس طرح کفرکے ساتھ نیکی سے کوئی فائدہ نہیں، یہ لفظ مرجۂ صفت ہے جس کا موصوف فرقہ ہے یعنی فرقہ مرجۂ، یہ لفظ ارجاء سے بناہے جس کے معنیٰ ٹال دینے اورمؤخر کردینے کے آتے ہیں، یہ فرقہ ایمان کے ساتھ عمل پرکوئی حکم لگانے کے بجائے اس کو قیامت تک کے لئے ملتوی اور موخرکردیتاہے۔
معتزلہ اس فرقے کو کہتے ہیں جوگناہ کبیرہ کے مرتکب کو نہ مومن مانتا ہے اورنہ کافر، اس کا عقیدہ ہے کہ معاصی کے مرتکب مومن کو دوزخ میں ہمیشہ رہنا ہوگا، یہ لفظ اعتزال سے بناہے جس کے معنی ہیں الگ ہوجانا اورکنارہ کش ہوجانا، اس فرقہ کابانی واصل بن عطا ہے جوپہلے امام حسن بصریؒ کے حلقے میں شامل تھا لیکن ایمان کے ساتھ معصیت کے ارتکاب کے مسئلے میں ان سے اختلاف کربیٹھا اوران کے حلقے سے الگ ہوگیا۔
صحیح بخاری کی زیربحث حدیث پراعتراض کرنے والے بزرگ کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی عقیدہ کا قرآن میں موجو دہونا ضروری ہے اورگنہگار مومن کو جہنم سے نکال کرجنت میں داخل کرنے کا عقیدہ قرآن پاک میں نہیں، دراصل کسی عقیدے کو اسلامی عقیدہ ماننے کے لئے اس کے قرآن میں ہونے کا دعویٰ بہت پراناہے، یہ ’’راگ‘‘ سب سے پہلے خوارج اورمعتزلہ نے الاپاتھا جونئے منکرین حدیث وقفہ وقفہ سے الاپتے رہتے ہیں، انکا دعویٰ ہے کہ چونکہ حدیث ظنی الثبوت ہے اس لئے حدیث سے کوئی عقیدہ ثابت نہیں ہوتا، اگرہم کٹ حجتی اورمناظرہ بازی پراترآئیں توبلاخوف تردید کہہ سکتے ہیں کہ خود یہ عقیدہ جس کی بنیادپرمنکرین حدیث اپنے دعوؤں کا قصرتعمیر کرتے ہیں، وہ ’’غیر قرآنی‘‘ لفظ ہے یعنی قرآن وحدیث میں ’’عقیدہ‘‘ کا لفظ نہیں آیا ،جس چیز کو ہم عقیدہ اوراس کی جمع عقائد کہتے ہیں اس کے لئے قرآن وحدیث میں’’ایمان‘‘ کی تعبیر استعمال کی گئی ہے اورایمان کے آخرمیں یائے نسبت کے اضافے سے یہ صفت’’ ایمانی‘‘ بن جاتی ہے جس کی جمع’’ایمانیات‘‘ ہے یعنی وہ مسلمہ بنیادی امورجن پر ایمان ضروری ہے۔
مذکورہ وضاحت کے تناظرمیں ایمان کے ساتھ عمل بھی شامل ہے، جس کے شواہد قرآن وحدیث میں بھرے پڑے ہیں اوراحادیث میں متعدد مقامات اورموقعوں پر جویہ فرمایاگیا ہے کہ جوشخص اس حال میں مرے کہ وہ صرف اللہ کے معبود ہونے کا معتقد رہا ہو یا جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہو جنت میں جائے گا۔(بخاری ومسلم) تویہ چیز خود قرآن پاک میں زیادہ صریح الفاظ میں موجود ہے، ارشاد ربانی ہے‘‘جن لوگوں نے کہا،اللہ ہمارا رب ہے، پھراس پرجم گئے یقیناًان پرفرشتے نازل ہوتے ہیں اوران سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرواورنہ غم کرواورخوش ہوجاؤ اس جنت کی بشارت سے جس کاتم سے وعدہ کیا گیاہے‘‘۔(حم السجدہ:30)
یقیناًجن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے پھرثابت قدم رہے ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے اورنہ وہ غمگین ہوں گے۔(الاحقاف:13)
ظاہر سی بات ہے کہ قرآن پاک کی ان دونوں آیات میں ’’اللہ کواپنا رب کہنے ‘‘اوردسیوں صحیح احادیث میں’’صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا معبود اورالٰہ کہنے‘‘ کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ اس ایمان سے رسالت اورآخرت و غیرہ پرایمان اورعمل خارج ہے بلکہ قرآنی آیات اوراحادیث میں جزو کوبول کر’’کل ‘‘مراد لیاگیا ہے اورچونکہ ’توحید کی معراج‘‘ توحید الوہیت ہے اورتوحید کے دوسرے اجزاء اس کے تابع ہیں اور توحید الوہیت کے اقرار کے بغیر ان کا کوئی اعتبارنہیں اس لئے ہرجگہ اسی توحید الوہیت پرزوردیاگیا ہے اورانبیاء علیہم السلام کی زبانوں سے یہی اعلان کرایاگیا ہے کہ’’اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی عبادت کرو،اس کے سواتمہارا کوئی معبودنہیں‘‘۔(الاعراف:85-73-65-59)
میں نے ابھی جوکچھ عرض کیا ہے اس کی تفصیلا ت پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہیں اورحدیث جبرئیل میں یکجا بیان کردی گئی ہیں، منکرین حدیث ہر دورمیں حدیث کے شرعی حجت ہونے کا انکار کرتے رہے ہیں، وہ لوگوں کو یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں کہ چونکہ اولاً توحدیث رسول اللہﷺ کے اجتہادات سے عبارت ہے اوراجتہاد میں خطاء اورصواب دونوں کا احتمال ہے اس لئے حدیث اساسیات دین کا مأخذ بننے کے قابل نہیں ہے۔
ثانیاً حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،تابعین اورتبع تابعین رحمہم اللہ کی زبانی روایت اورنقل پر مبنی ہے جس کی وجہ سے اس میں بیرونی چیزوں کے شامل ہوجانے کا امکان ہے اس لئے جوذریعہ علم یہ صفت رکھتا ہواس پر آنکھیں بند کرکے کس طرح اعتماد کیاجاسکتاہے۔
جہاں تک حدیث رسول اکرمﷺ کے اجتہادات سے عبارت ہونے کا دعویٰ ہے تویہ دعویٰ بے بنیاد اورباطل ہے کیونکہ حدیث،رسول اللہﷺ کا اجتہاد نہیں ،بلکہ سراسروحی الٰہی ہے، ارشاد ربانی ہے: ’’ہم ہی نے ’’الذکر‘‘ کو نازل کیاہے اورہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں‘‘(الحجر9:)اس آیت مبارکہ میں’’الذکر‘‘سے مراد قرآن وحدیث دونوں ہیں اوردونوں منزل من اللہ ہیں جس پرلفظ’’نزّلنا ‘‘ دلالت کرتاہے، قرآن وحی متلوجلی ہے اورحدیث وحی غیرمتلوخفی ہے۔
اللہ تعالی نے قرآن پاک میں حدیث کے لئے اس مشترک لفظ’’الذکر‘‘کے علاوہ ایک سے زیادہ مقام پر ’’الحکمۃ‘‘ کا لفظ استعمال کیاہے اوراس کا ذکرالکتاب پرمعطوف کرکے کیاہے’’اوراللہ نے تیرے اوپرکتاب اورحکمت نازل کی اورتجھے ان باتوں کی تعلیم دی جوتونہ جانتاتھا‘‘(النساء:113) اورسورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ نے امہات المومنین کو مخاطب کرکے فرمایاہے:’’اے نبی کی بیویو!یادرکھواللہ کی آیات اورحکمت کی ان باتوں کو جوتمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں(34)
ان آیات مبارکہ میں الکتاب سے مراد قرآن اورالحکمۃ سے مراد رسول اللہﷺ کی حدیث ہے، چنانچہ امام شافعیؒ اپنی مشہورکتاب ’’الرسالہ‘‘میں فرماتے ہیں’’ان آیات میں حکمت سے مراد رسول اللہﷺ کی سنت ہے کیونکہ ان میں قرآن کے ذکرکے بعدالحکمۃ کاذکرآیا ہے اوراللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو کتاب وحکمت کی تعلیم دینے کواحسان کے طورپر ذکرفرمایاہے لہذا یہ جائز نہیں کہ ان میں حکمت سے سنت کے علاوہ کچھ اورمراد ہو‘‘۔(ص:۸۷۔۸۸)
یادرہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ پہلے امام المسلمین ہیں جومنکرین حدیث کے مقابلے میں نکلے اور امام احمدرحمہ اللہ نے ان کومجدد اسلام کالقب دیا اور بغدادمیں ان کوناصر الحدیث کا خطاب دیاگیا۔(سیراعلام النبلاء)
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ تحریرفرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ کی کتاب میں الحکمۃ کا استعمال2طرح ہواہے، تنہا اورالکتاب کے ساتھ ملاہوا(معطوف)، جہاں یہ لفظ تنہا آیا ہے وہاں اس کی تفسیرنبوت اورعلم قرآن سے کی گئی ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے اورجہاں یہ لفظ الکتاب کے ساتھ ملاہوا (معطوف ہوکر)آیا ہے وہاں اس سے مراد سنت ہی مشہور ومعروف ہے‘‘۔ (مدارج السالکین ص:۳۷۸۔۳۷۹ ج۲)
اہل قرآن اورمنکرین حدیث نے مذکورہ آیتوں میں الحکمۃ کو الکتاب کا مترادف قرار دیا ہے لیکن انھوں نے ایسا اس لئے کیاہے تاکہ قرآن سے حدیث کی’’حجیت‘‘ پراستدلال نہ کیاجاسکے ورنہ زبان وبیان کی روسے ان کی یہ تفسیر ناقابل التفات ہے کیونکہ حرف’’واؤ‘‘ کے ذریعہ مترادفات کو اس وقت جمع کیاجاتا ہے جبکہ وہ سب ہم معنی ہوں یا ایک جنس کے ہوں لیکن مذکورہ آیتوں میں’ الحکمۃ‘‘ ’الکتاب‘ کا ہم معنیٰ نہیں ہے اس لئے ’’واو‘‘کو تفسیری قراردے کر الحکمۃ کو الکتاب کا مترادف نہیں قراردیا جاسکتا، مزید یہ کہ یہ لفظ پورے قرآن پاک میں کہیں بھی کتاب کے معنی میں نہیں آیاہے لہذا مذکورہ آیتوں میں یہ لفظ الکتاب کامغایر اوراس سے مختلف ہے جیسا کہ’’حرف واؤ‘‘ کاتقاضاہے۔
اوپرکی وضاحت سے معلوم ہوا کہ ’’حدیث‘‘ منزل من اللہ ہے رسول اللہﷺ کے اجتہادی اقوال سے عبارت نہیں ہے اور اسی طرح حجت ہے جس طرح قرآن حجت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی اطاعت کو فرض قراردیاہے بلکہ رسول اللہﷺ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قراردیاہے۔
جہاں تک زبانی روایت ہونے کی وجہ سے حدیث پرعدم اعتماد کی بات ہے اورجس کو بنیادبناکر منکرین ‘حدیث کے ذخیرے کومشکوک قراردینے کی سعی لاحاصل کررہے ہیں تواس کے بارے میں عرض ہے کہ قرآن پاک جس کو وہ قطعی الثبوت قراردیتے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے تحریری شکل میں نازل نہیں فرمایا بلکہ اس کو تھوڑا تھوڑا کرکے اپنے نبیﷺ پرنازل فرمایاہے اورنبیﷺ کی زبان مبارک سے سن کرہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو اپنے سینوں میں محفوظ کیاتھا پھرقرآن پاک کے نزول اوراس کے جمع وتدوین کی ساری تفصیلات بھی ہمیں صحابہ کرام کی زبانی ہی معلوم ہوئی ہیں،اس تناظرمیں اگراللہ کے وہ نیک بندے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو بالکل صحیح شکل میں اپنے سینوں میں محفوظ رکھنے پرقدرت رکھتے تھے توپھررسول اللہﷺ کے ارشادات مبارک کو یاد کرکے انہی الفاظ میں جن الفاظ میں وہ نبیﷺ سے سنتے تھے محفوظ رکھنے پرقدرت کیوں نہیں رکھتے تھے ؟جب کہ ان کو یہ معلوم تھاکہ جس طرح ان پراللہ کی اطاعت فرض ہے اسی طرح نبیﷺ کی اطاعت بھی فرض ہے اورجس طرح قرآن پاک میں کوئی تبدیلی کرنا اوراس میں اپنی طرف سے کوئی کمی بیشی کرنا حرام اورموجب کفرہے اسی طرح حدیث میں بھی کوئی ردوبدل حرام اورموجب جہنم ہے۔
وحی متلو قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ مقام پرنبیﷺ کی حدیث کواپنی کتاب کی تفسیر قراردیاہے اورصریح لفظوں میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ رسول اکرمﷺ قرآن پاک کی تلاوت کرنے والے، اس کے مبلغ اورمفسر اورامت کے معلم، مربی اورمزکی ہیں لہذا آپ ﷺ کے ارشادات واجب العمل اورآپ ﷺ کی ذات واجب التقلید ہے۔
قرآن پاک کی سورۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ نے جہاں رسول اللہﷺ کے تشریعی اختیارات کو واضح کردیاہے وہیں اس نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ایسے اوصاف بیان فرمادئے ہیں جن کی روشنی میں ان کی مکمل اورتابناک تصویردیکھی جاسکتی ہے، یہ آیت دراصل اس دعاکا جواب ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ سیناکے پاس کی تھی ارشاد الٰہی ہے ’’جولوگ نبی امی کی پیروی کریں گے جس کاذکر وہ اپنے پاس تورات اورانجیل میں لکھا ہوا پائیں گے وہ انھیں نیکی کاحکم دے گا اوربدی سے روکے گا اوران کے لئے پاک اورعمدہ چیزیں حلال کرے گا اورناپاک اوربری چیزیں حرام کرے گا اوران پرسے وہ بوجھ اتارے گا جوان پرلداہوگا اوروہ بندشیں کھولے گا جن میں وہ جکڑے ہوئے ہوں گے، پس جولوگ اس پرایمان لائیں گے اوراس کی حمایت اور نصرت کریں گے اوراس روشنی کی پیروی کریں گے جواس کے ساتھ نازل کی جائے گی وہی فلاح پائیں گے‘‘۔(آیت:157)
چونکہ یہ آیت جیساکہ اوپرعرض کیا گیاہے موسیٰ علیہ السلام کی دعاکا جواب ہے اس لئے اس میں ہرفعل کاترجمہ’’استقبال‘‘ کے صیغے میں کیاگیا ہے اوراس میں اہل ایمان کی جوصفات بیان ہوئی ہیں وہ اگرچہ فعل ماضی میں ہیں مگرچونکہ جس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرمائی تھی اس وقت یہ پاکباز جماعت موجود نہ تھی بلکہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعدظاہر ہونے والی تھی لہذا یہاں بھی فعل ماضی کے صیغوں کاترجمہ استقبال کے صیغوں میں کیاگیاہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت مبارکہ میں جس مقدس اور پاکبازجماعت کی تعریف اس کے وجودمیں آنے سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ان الفاظ میں کی تھی’’وہ اس نبی پرایمان لائیں گے اوراس کی حمایت اورنصرت کریں گے اوراس روشنی کی پیروی کریں گے جواس کے ساتھ نازل کی جائے گی وہی فلاح پائیں گے‘‘ کیا ان اعلیٰ اورپاکیزہ صفات سے متصف جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ انھوں نے نبیﷺ کی زبان مبارک سے اداہونے والے ارشادات، آپ ﷺ کے افعال اورآپ ﷺ کی سیرت پاک کے واقعات کواسی طرح اپنے سینوں میں محفوظ نہ کیاہوگاجس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنے سینوں میں محفوظ کیاتھا۔
صحابہ کرام کے بعدتابعین اورتبع تابعین اوران کے بعدکے ادوارمیں اگرچہ تمام راویانِ حدیث عدالت اورثقاہت کے اس درجہ پرفائز نہ تھے جس درجے پرصحابہ کرام فائز تھے لیکن محدثین کرام نے اپنی ذاتی محنت وتلاش سے ان راویانِ حدیث کاپتہ لگالیا جو زبردست اورحیرت ناک قوت حافظہ رکھنے کے ساتھ ساتھ حدیث رسول ﷺ کی روایت میں حددرجہ امانت دار اورمحتاط تھے، پھرمحدثین نے علم حدیث ایجاد کیا جس کے لئے ایسے قواعدوضوابط بنائے جن کی روشنی میں بے لاگ طریقے سے راویوں کی ثقاہت اورعدم ثقاہت اورحدیث کی صحت وسقم کومعلوم کیاجاسکتا ہے ،یہ ایسا علم ہے جس سے دنیا محدثین سے قبل واقف نہ تھی۔
***

شیخ الإسلام محمد بن عبد الوہاب نجدی رحمہ اللہ March 2010

عبدالمنان سلفیؔ
شیخ الإسلام محمد بن عبد الوہاب نجدی رحمہ اللہ

بارہویں صدی ہجری میں عالم اسلام کا زوال وانحطاط اپنی حدکو پہونچ چکا تھا، مسلمان ہراعتبارسے پستی اور تخلف کا شکارتھے، اورافسوسناک بات یہ ہے کہ سیاسی،ثقافتی،اخلاقی اور علمی انحطاط کے ساتھ ساتھ دینی اعتبارسے بھی یہ سخت زبوں حالی کاشکارتھے، دین کی گرفت نہ صرف یہ کہ مسلمانوں پرڈھیلی پڑچکی تھی بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ دین ان کی زندگی سے پورے طور پر نکل چکا تھا، اورایک غیر مسلم امریکی اہل قلم اسٹارڈ کے مطابق صورت حال یہ ہوگئی تھی کہ:
’’تصوف کے طفلانہ توہمات کی کثرت نے خالص اسلامی توحید کو ڈھک لیاتھا،مسجدیں ویران اورسنسان پڑی تھیں، جاہل عوام ان سے بھاگتے تھے اورتعویذ، گنڈے اورمالامیں پھنس کر گندے فقیروں اور دیوانے درویشوں پراعتقاد رکھتے اور بزرگوں کے مزاروں پرجاتے جن کی پرستش بارگاہ ایزدی کے شفیع اورولی کے طورپرکی جاتی تھی، کیوں کہ ان جاہلوں کا خیال تھا کہ خداکی برتری کے باعث وہ اس کی اطاعت بلاواسطہ نہیں کرسکتے، قرآن کریم کی تعلیمات نہ صرف پس پشت ڈال دی گئی تھی بلکہ اس کی خلاف ورزی بھی کی جاتی تھی...........یہاں تک کہ مقامات مقدسہ (مکہ ومدینہ) بداعمالیوں کا مرکز بن گئے تھے اورحج جوفرائض میں داخل تھا بدعات کی وجہ سے حقیرہوگیا تھا، فی الجملہ اسلام کی جان نکل چکی تھی.........اگر محمد(ﷺ) پھردنیا میں آتے تووہ اپنے پیرؤں کے ارتداد اوربت پرستی پربیزاری کااظہار فرماتے‘‘۔
(The New World Of Islam P.25-36 بحوالہ ’’ایک مظلوم اوربدنام مصلح ‘‘،از:مولانا مسعود عالم ندوی)
پوری دنیاکے مسلمانوں کی بات توجانے دیجئے خودجزیرۃ العرب جہاں نبی کریم ﷺ کی بعثت ہوئی، جہاں وحی کانزول ہوا، جسے صحابہ کرام کی مقدس جماعت کا مسکن ہونے کاشرف حاصل ہے ، جہاں ایمان کی ایسی قندیلیں روشن ہوئیں کہ ان کی شعاؤں سے پوری دنیا بقعۂ نوربن گئی اورکفروشرک کی تاریکیاں چھنٹ گئی، جہاں سے وہ صالح انقلاب بر پا ہوا جس نے عرب کے بدّؤں کو تہذیب و تمدن سے آشنا کیا، اسی خطۂ ارض سے پوری دنیا میں توحید کا غلغلہ بلندہوا، یہیں شرک اور اس کے مظاہر سے قولی وعملی برأت کاظہور ہوااورپھردیکھتے دیکھتے اسلام کا بول بالا مشرق سے مغرب تک اورشمال سے جنوب تک ہرخطۂ ارض پرہوگیا،اسی جزیرۃ العرب میں خالص،صحیح اورسچا اسلام اجنبی اور نامانوس ہوگیا ،اب وہاں توحید کی جگہ شرک اورقبرپرستی کازورتھا، اللہ واحد کے بجائے دردر پرمسلمانوں کی پیشانیاں خم ہورہی تھیں، اصحاب القبور،ولیوں بزرگوں سے استغاثہ واستعانت کا سلسلہ تو جاری ہی تھا درختوں اورپتھروں تک کو مقدس مان کران سے مرادیں طلب کی جاتی تھیں، عقیدہ کے فساد و بگاڑ کے ساتھ عملی طور پر بھی مسلمان گمراہی کا شکار تھے، ان میں اخلاقی گراوٹ بھی عام ہوچکی تھی اورقتل وغارت گری ،جاہلانہ عصبیت، لوٹ کھسوٹ اوربدکاری و بے راہ روی جیسی معاشرتی برائیوں سے پورا جزیرۂ عرب بدبو دارہوچکاتھا، ان پرآشوب حالات میں عالم اسلام خصوصاً جزیرۃ العرب پراللہ کافیضان ہوا، اورشیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب تیمی نجدیؔ رحمہ اللہ نے نجدکے’ عیُیَیْنَہ‘‘نامی بستی میں ایک علمی خانوادہ کے اندر ۱۱۱۵ھ مطابق ۱۷۰۳ء میں آنکھیں کھولیں،اورسن شعورکو پہونچنے کے بعدتحصیل علم میں لگ گئے، اپنے والد شیخ عبدالوہاب سے جونجدکے علماء میں ممتاز تھے کسب فیض کیا اورمزید علم کی تلاش میں حجاز کا رخ کیا اورمدینۃ الرسول پہونچ کر وہاں کے علماء ومشائخ سے حدیث کا درس لیا اورپھر مزید علمی تشنگی بجھانے کے لئے بصرہ کاقصدکیا اور وہاں پہونچ کر حدیث وادب میں مزید مہارت پیداکی، اور اس کے بعدآپ اپنے علاقہ نجدمیں واپس آکر دعوت وتبلیغ میں مصروف ہوئے۔
شیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ بچپن ہی سے امربالمعروف اورنہی عن المنکر کے جذبات سے سرشارتھے اورجہاں بھی وہ خلاف شرع کوئی بات دیکھتے برملا ٹوکتے اورنکیرکرتے، مدینہ منورہ اوربصرہ کے زمانۂ طالب علمی ہی سے آپ نے شرک وبدعات کے خلاف محاذ کھول رکھاتھا جس کے نتیجہ میں انھیں تکلیفیں جھیلنا پڑیں بلکہ بصرہ سے نکلنے کا سبب بھی ان کا یہی جذبۂ دعوت وارشاد ہی بنا۔
نجدواپس آنے کے بعد آپ نے شرک وبدعات کے استیصال کا عزم مصمم کیا، توحید کی دعوت عام کی ،شرک اوراس کے مفاسد کا برملا بیان کیا، غیراللہ کی عبادت اورقبرپرسجدہ کرنے سے منع کیا، اسلامی اخلاق کوعام کرنے کی کوشش کی، پھرکیاتھا مخالفتوں کاسیلاب ا مڈ پڑا، پرائے تو تھے ہی خود اپنے بھی در پئے آزارہوگئے، باپ نے بھی سرد مہری دکھائی، ایذارسانیوں کا سلسلہ شروع ہوا، مگرشیخ نے ان ناموافق حالات کی قطعا پروا نہ کی اورصبروعزیمت کا پہاڑ بن کر توحید خالص کی اشاعت میں مصروف رہے،دروس کا سلسلہ چلتا رہا، وعظ کی مجلسیں منعقد ہوتی رہیں اورپھرآہستہ آہستہ آپ کی دعوت کے ثمرات ظاہر ہوناشروع ہوئے،کچھ لوگ آپ کی دعوت سے متاثرہوکر آپ کے پُرجوش معاون بنے،پھراصلاح و دعوت کی اس تحریک کووسعت دینے کے مقصد سے شیخ ’عینیہ‘ تشریف لے گئے اور وہاں کے امیرکو اپنی دعوت سے متعارف کرایا، امیر نے اولاشیخ کی تکریم کی اور آپ کو اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی،مگر کچھ دنوں بعد علاقہ کی بعض بڑی طاقتوں کے دباؤ کے نتیجہ میں دست تعاون کھینچ لیا،شیخ ’عیینہ‘ سے’ درعیہ‘ پہونچے اوربالآخر درعیہ کے امیرمحمد بن سعود اوران کے اہل خاندان کی قسمت نے یاوری کی اورانھوں نے شیخ کا پر تپاک خیر مقدم کیا اور آپ کی بھر پور تکریم اور حوصلہ افزائی کی نیز مکمل حمایت وتائید کا اعلان کیا ،اس کے بعدشیخ محمدبن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ نے امیر محمد بن سعود اور ان کی وفات کے بعد ان کے جانشین امیر عبدالعزیز بن محمد بن سعود کے تعاون سے دعوت اوراصلاح کے مشن کو پوری کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا اورآپ کی پچاس سالہ جدوجہد سے نہ صرف جزیرۃ العرب بلکہ پورا عالم اسلام دوبارہ صحیح اورخالص اسلام سے روشناس ہوگیا۔فجزاہ اللہ خیراً عن الاسلام والمسلمین أحسن الجزاء۔
شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ نے عقیدہ وعمل کی اصلاح کی خاطر جس تحریک کا آغاز کیاتھا اس کوکامیابی سے ہم کنار کرنے کے لئے تمام ممکنہ وسائل اختیار کئے،زبانی وعظ وتبلیغ اوردروس کے ساتھ آپ نے قلم کابھی سہارالیا اورامیر محمدبن سعود کی معیت میں جہاد بالسیف کی سعادت بھی حاصل کی اورشرک اوراس کے مظاہر کے خاتمہ کے لئے قوت وطاقت کابرملا استعمال کیا۔
شیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ کی تحریریں دیکھنے سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کا رہوارقلم بڑاتیز تھا اورانھوں نے عقائد، حدیث،فقہ، تفسیراورسیرت ہرموضوع پر لکھا ہے اورخوب لکھا ہے، چنانچہ جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ ریاض نے چودہویں صدی ہجری کے اختتام پرشیخ الاسلام کی شخصیت اور تجدیدی کارناموں سے دنیا کو آگاہ کرنے کے مقصد سے ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیاتھا، اس موقعہ پر جامعۃ الامام نے شیخ کی تمام تصنیفات، رسالوں اورتحریروں کوفن وارایک ساتھ شائع کرنے کا اہتمام کیا تھا، چنانچہ شیخ کی چھوٹی بڑی تمام تحریریں ۱۱؍ضخیم جلدوں میں شائع ہوئی ہیں اوریہ ساری تحریریں تقریباً پانچ ہزار صفحات پر پھیلی ہیں۔
شیخ کی ان قابل قدر تحریروں اور قیمتی علمی سرمایہ اور ذخیرہ کودیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ دعوت واصلاح میں ہمہ وقت مصروف رہنے والے،ہمہ جہت مخالفتوں کا سامنا اورمختلف مصائب ومشکلات جھیلنے والے شخص کو ان کتابوں کی تحریرکا وقت اورموقعہ کب ملا ہوگا؟بلا شبہ یہ شیخ پر اللہ کابے پایاں فضل ہے کہ اس کی توفیق سے انھوں نے امت کے لئے یہ قیمتی علمی ودعوتی سرمایہ فراہم کیا اور سلف صالح اور محدثین کے منہج کے مطابق مختلف موضوعات پرخالص کتاب وسنت کی روشنی میں معلومات کا ایسا ذخیرہ اور بیش قیمت مواد اجمع کردیا کہ رہتی دنیا تک طالبان علوم شرعیہ اور داعیان توحید اس سے بے نیاز نہ ہوسکیں گے۔
یوں تو شیخ نے عقیدہ،حدیث، تفسیر،فقہ اور سیرت کے مختلف گوشوں کو اپنے قلم کی جولان گاہ بنایا ہے لیکن ان سب میں اصلاح عقیدہ کا عنصر ہر تحریر میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے، اس مختصر مضمون میں شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی تمام تصانیف پرنظر ڈالنا ممکن نہیں تاہم آئندہ قسط میں صرف ان کتابوں کااجمالی تعارف پیش کرنے کا ارادہ ہے جنھیں آپ نے عقائد کی اصلاح کے سلسلہ میں خصوصیت کے ساتھ علیحدہ تحریر کی ہیں، اور اس سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مضمون کے اس قسط میں شیخ کے اسلوب نگارش کے تعلق سے چندباتیں بہ طور تمہیدذکرکردی جائیں۔
شیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب نجدی کا اسلوب نگارش:
شیخ الاسلام رحمہ اللہ محض روایتی عالم دین نہ تھے بلکہ آپ ایک مجدد اورمصلح تھے، اللہ تعالیٰ نے تجدید دین اوراصلاح امت جیسے عظیم مقصدکے لئے آپ کو پیدا کیاتھا، اس لئے ان میں بہت ساری خوبیاں بھی ودیعت کررکھی تھیں،امت کے لئے خیرخواہی کاجذبہ آپ کے اندرکوٹ کوٹ کر بھرا تھا،آٖپ ہر قیمت پر امت کو عقیدہ و عمل کی گمراہیوں سے نجات دلانے کے خواہاں اوراسے شرک و بدعات کی آلائشوں سے پاک و صاف کرکے خالص دین میں واپس لانے کے حریص تھے ، آپ کی ہربات ،ہرعمل وحرکت اورہرتقریر و تحریرمیں یہی ناصحانہ اورمخلصانہ جذبہ نمایاں طورپرنظر آتاہے، یہی وجہ ہے آپ کی تحریریں بڑی دلپذیر،سوز میں ڈوبی ہوئی اور نہایت موثر ہیں اورباوجودیکہ ان میں زبان وبیان کی رنگینی نہیں تاہم بمصداق ؂
از دل خیزد بر دل ریزد
وہ قاری کے دل پربراہ راست اثرانداز ہوتی ہیں اورجذبۂ صادق کے ساتھ پڑھنے والے کوہدایت کا سامان فراہم کرتی ہیں۔
شیخ کی اکثر اصلاحی تحریروں میں آپ دیکھیں گے کہ انشائیہ اسلوب کے بجائے خطابی اسلوب غالب ہے، چنانچہ جگہ جگہ’’ اعلم رحمک اللہ، فتأمل رحمک اللہ،أنظر رحمک اللہ، اعلم أرشدک اللہ، ماتقول ؟ جیسے صیغے استعمال کرکے براہ راست مخاطب کے دل میں اترنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے ،بعض تحریروں سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شیخ خود قاری سے ہم کلام اور محوگفتگو ہیں،ساتھ ہی اس اندازتخاطب میں جو اپنائیت،خلوص،سوز اور درد پنہاں ہے وہ بھی اہل نظر سے مخفی نہیں ۔
شیخ چونکہ ایک مصلح اورسچے متبع کتاب وسنت تھے اس لئے ان کی تحریروں میں رطب ویابس کی آمیزش بالکل نہیں، تصنع وتکلف اورعبارت آرائی کے بجائے آپ اپنی بات بہت واضح الفاظ میں صاف صاف لکھتے ہیں اوراس پرقرآن وحدیث سے دلیل پیش فرماتے ہیں،اکثر کتابوں میں محدثین اور علماء سلف کے منہج کے مطابق آپ نے ابواب قائم کرکے صرف نصوص کتاب و سنت کے ذکر و نقل پر اکتفا کیاہے ۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ کو اللہ کی طرف سے مجتہدانہ بصیرت کا حظ وافر ملا تھا، اپنی تحریروں میں شیخ رحمہ اللہ کتاب و سنت کے نصوص سے ایسے نکتے بیان کرتے ہیں کہ متبحر اہل نظر بھی عش عش کر اٹھتے ہیں اور طریق استدلال اتنا زور دار ہوتا ہے کہ مخالفین ومعاندین تک ان کی دور رس نگاہ اور علمی پختگی کا لوہا ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں، یہ شیخ کے رسوخ فی العلم اور غزارت علمی کا بین ثبوت ہے۔
شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے اپنی کتابوں اورتحریروں میں قرآن کریم اورصحیح ثابت شدہ حدیثوں ہی کو اصل مرجع قراردیاہے اوربسااوقات صحابہ وتابعین، معتمد مفسرین اور شارحین حدیث کے اقوال بھی ذکر کئے ہیں نیز امام ابن تیمیہ اوران کے شاگرد رشید علامہ ابن القیم رحمہما اللہ اور ان کے جہود و مساعی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ان کے اقوال کوجابجا نقل کرنے کا اہتمام کیاہے۔
***

علم تفسیر۔تابعین کرام کے عہدمیں March 2010

مولاناعبدالصبورندوی جھنڈانگری
مدیر ترجمان السنۃ،رچھا
علم تفسیر۔تابعین کرام کے عہدمیں

صحابۂ کرامؓ اورتابعینؒ کے مابین تفسیری منہج واسلوب میں کوئی بڑافرق نہیں تھا، اس لئے کہ تابعین نے صحابہؓ سے ہی تفاسیر اخذ کی تھیں،تابعینؒ نے صحابہؓ کے نقش قدم پرچلتے ہوئے آیات کی تفسیرکرتے وقت بے پناہ احتیاط برتی، وہ بھی تفسیر بیان کرتے وقت حرج محسوس کرتے تھے، چنانچہ سعیدبن مُسَیّب رحمہ اللہ کودیکھیں ،جن کا شمار کبارتابعین میں ہوتاہے، جن کے علم وفضل کا شہرہ دوردورتک تھا، ان سے جب کسی آیت کی تفسیر پوچھی جاتی تووہ خاموش ہوجاتے گویاکہ انھوں نے کچھ سناہی نہیں۔(مقدمۃ فی أصول التفسیر لابن تیمیۃ ص:۱۱۲)
شعبی رحمہ اللہ کوکون نہیں جانتا وہ کہتے تھے:’’خداکی قسم! قرآن کی کوئی آیت ایسی نہیں گذری جس کی تفسیرمیں نے علماء سے نہ پوچھی ہو،کیونکہ اس کی سند اللہ عزوجل تک پہونچتی ہے۔(مقدمۃ فی أصول التفسیر ص:۱۱۳)
تابعین عظام کے یہ اقوال دلالت کرتے ہیں کہ وہ تفسیر کے معاملے میں بہت محتاط تھے، اگران کے پاس یقینی جانکاری نہیں ہوتی تھی تواس سلسلے میں وہ گفتگوکرنا بھی پسند نہ کرتے تھے، علامہ ابن تیمیہؒ کہتے ہیں:’’جوکوئی اپنی شرعی ولسانی معرفت ومہارت کے بل بوتے تفسیر کرتاہے تواس میں کوئی حرج نہیں ہے‘‘۔(مقدمۃ فی أصول التفسیر ص:۱۱۴)
تابعین کرامؒ کا تفسیری منہج:
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تفسیر کی جوبنیادیں قائم کی تھیں، انہی بنیادوں پرتابعین رحمہم اللہ نے بھی کام کیا، البتہ تابعین کرامؒ کے دورمیں اسلامی حکومت کا رقبہ بہت زیادہ بڑھ چکاتھا، مسلسل فتوحات نے منہج کی بنیادوں میں بھی اضافہ کیا، آیئے دیکھتے ہیں کہ تابعین کاتفسیری منہج کن بنیادوں پرقائم تھا ۔
(۱)قرآن کی تفسیر قرآن کے ذریعے(جیساکہ صحابۂ کرامؓ کامنہج تھا)
(۲)قرآن کی تفسیر سنت نبویہ کے ذریعے(جیساکہ صحابۂ کرامؓ کامنہج تھا)
(۳) قرآن کی تفسیر اقوال صحابہؓ کے ذریعے،تابعینؒ نے صحابہؓ سے قرآن کی تفسیرسیکھی تھی، اس لئے وہ صحابہؓ کے اقوال کو مقدم رکھتے تھے، مجاہد بن جبررحمہ اللہ کہتے ہیں’’میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تین مرتبہ پوراقرآن سنایا اورہرآیت پرتوقف کرتا اوران سے اس کی تفسیر پوچھتا ‘‘۔(مرجع سابق۱۰۲)
(۴) جب تابعین رحمہم اللہ کو قرآن کی تفسیر قرآن میں، یاسنت میں، یااقوالِ صحابہ میں نہیں ملتی تھی تووہ اجتہاد کا سہارالیتے تھے اوروہ اس کے اہل بھی تھے اس لئے کہ وہ عربی زبان اوراس کے لغوی گوشوں کے واقف کارتھے، انھوں نے صحابہؓ سے تفسیر اخذ کی تھی، انھوں نے صحابہ سے بہت کچھ سنااور سیکھا، اس لئے ان کا حق ہے کہ وہ اجتہاد کریں۔
(۵) اہل کتاب(یہود ونصاریٰ) کے اقوال:
یہ اس لئے ہواکہ قرآن کریم نے گذرے ہوئے انبیاء وسابقہ قوموں وامتوں کے احوال وقصے اختصار کے ساتھ بیان کئے ہیں اوران واقعات وقصوں کی تفصیل سے پرہیز کیا ہے، مگربشری نفوس کاطبعی میلان ان واقعات وقصوں کی تفصیل وتکمیل چاہتاہے، چنانچہ جب اسلامی فتوحات کا تسلسل بڑھتاگیا، تودوسری امتیں(اہل کتاب یہودونصاریٰ)بھی اسلام میں داخل ہوتی گئیں، اوراہل کتاب جو توریت وانجیل کے حامل تھے، انھیں ان قصوں کی تفصیل معلوم تھی،جن کا اختصار قرآن میں واردہواہے، پھرانھوں نے لوگوں کے لئے واقعات بیان کرنا شروع کیا، عوام الناس کی ایک بڑی تعداد ان قصوں کی تفصیل سماعت کرنے لگی، پھرمسلمانوں کے اس شوق نے تفسیر کے گھرمیں ایک ایسی جماعت کوداخل ہونے کا موقع فراہم کیا جسے’’اسرائیلیات‘‘ کے نام سے جاناجاتاہے۔
قرآن کی تفسیرمیں اسرائیلی روایتوں کوبیان کرنے میں عبداللہ بن سلام، کعب الاحبار، وہب بن منبہ اورعبدالملک بن جریج کے نام سب سے زیادہ آتے ہیں۔
تابعین کے دورمیں تفسیرکی خصوصیات:۔تابعین کرام رحمہم اللہ کی تفسیر درج ذیل خصوصیات کی حامل تھی:
۱۔تفسیر میں اسرائیلیات کاداخلہ۔
۲۔ پورے قرآن کی تفسیر:
اسلامی فتوحات کا دائرہ جوں جوں بڑھتاگیا، عجمیوں کی بڑی تعداد حلقۂ بگوش اسلام ہونے لگی، اس وقت شدت کے ساتھ ضرورت محسوس کی گئی کہ ان آیات کی تفسیر بھی بیان کردی جائے، جسے صحابۂ کرامؓ نے واضح مفہوم کے باعث چھوڑدیاتھا، اسی لئے تابعینؒ نے ہرآیت کی تفسیر کا اہتمام کیا اگرچہ بہت ساری آیات کے معانی واضح تھے لیکن اہل عجم کے لئے وہ بھی دشوار تھے۔
۳۔ تفسیرکی روایت کا چلن:
تابعینؒ کے دورمیں تفسیری سرمائے کو محفوظ رکھنے اوراسے مضبوطی عطاکرنے کی خاطرروایت کا سلسلہ شروع ہوا، اس سے قبل تفسیر بغیرسند وروایت کے لوگوں کے سینے میں محفوظ تھی، چنانچہ تفسیر کے جوتین مدرسے وجودمیں آئے تھے، ان کی طرف لوگ روایتوں کو منسوب کرنے لگے، اہل مکہ عبداللہ بن عباسؓ ،اہل مدینہ أبی بن کعبؓ اوراہل عراق عبداللہ بن مسعودؓ کے حوالے سے تفاسیر بیان کرنے لگے۔(التفسیر والمفسرون۱؍۱۳۱)
۴۔تفسیرمیں اختلافات:
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے عہد میں جس تفسیری سرمائے کوچھوڑاتھا، تابعین کرامؒ نے اپنے اجتہادکے ذریعے اس سرمائے میں اضافہ کیا، لیکن ایک ہی آیت کے متعلق متعدداقوال اورمختلف تفاسیرنے اختلافات کی راہ ہموارکردی۔
۵۔ تفسیر میں مسلکی اختلاف:
تابعین کے دورمیں ہی بعض آیتوں کے متعلق ایسی رائے ظاہر کی گئی جومسلکی حمایت میں تھی اورجس کاحقیقی تفسیرسے کوئی لینادینانہیں تھا۔
۶۔تفسیرمیں سند کااہتمام:
تابعین کرامؒ کے عہدمیں سندوں کااہتمام شروع ہوا، ہرقول اس کے قائل کی جانب منسوب کیاگیا، تاکہ اقوال کی صحت وضعف کی تمیز کی جاسکے۔
مشہور مفسرین:
تفسیر کے باب میں جن تابعین کی خدمات نمایاں رہی ہیں، ان کے نام درج ذیل ہیں:
مجاہدین جبر، سعید بن جبیر،عطاء، عکرمہ،حسن بصری، زیدبن اسلم، قتادۃ بن دعامہ السدوسی، محمدبن کعب القرظی، ابوعالیہ الریاحی، عامرالشعبی،رحمہم اللہ۔
تابعی کی تفسیر کا حکم:
اگرکسی آیت کی تفسیر رسول اکرمﷺ یاصحابۂ کرامؓ سے نہ ملے تواس صورت میں تابعی کی تفسیرکی طرف رجوع کاحکم کیاہے؟ علماء کے آراء اس سلسلے میں مختلف فیہ ہیں:
*علماء کی ایک جماعت جس میں ابن عقیلؒ ، امام احمد بن حنبلؒ اورشعبہؒ شامل ہیں، کہتی ہے کہ تابعی کی تفسیر کومرجع بنانا ضروری نہیں ہے اس لئے کہ:
۱۔انھوں نے نبی اکرمﷺ سے کچھ نہیں سماعت کیا، لہذا یہ ناممکن ہے کہ اس درجے میں رکھاجائے گویاکہ انھوں نے سب کچھ نبی اکرمﷺ سے سن کر بیان کیاہے۔
۲۔ وہ ان حالات ،قرائن، پس منظر وپیش منظر سے ناواقف تھے جس زمانے میں قرآن نازل ہوا، لہذا ان سے خطا کا امکان بڑھ جاتا ہے آیتوں کے مرادی معنٰی میں۔
۳۔تابعین کی عدالت وثقاہت پرکوئی نص ثابت نہیں ہے،جیساکہ صحابہ کی عدالت پرنصوص وارد ہوئے ہیں، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:’’جوکچھ رسول اللہﷺ سے منقول ہے، وہ سر آنکھوں پر، جو صحابۂ کرام سے وارد ہواہے وہ بھی سرآنکھوں پر، مگرجوتابعین سے منقول ہے،وہ مجتہد تھے اور ہم بھی اجتہاد کرتے ہیں‘‘۔(فواتح الرحموت بشرح مسلّم الثبوت:ابن عبدالشکور۲؍۱۸۸)
*جمہورعلماء ومفسرین کاکہناہے کہ تفسیر میں تابعی کا قول بھی حجت ہے اس صورت میں جب کسی آیت کی تفسیرسنت یا اقوال صحابہؓ میں نہ ملتی ہو، اس لئے کہ انھوں نے صحابہ سے ہی تفسیر اخذ کیاہے ،وہ صحابہ کی مجلسوں میں حاضر رہے، ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، ان کے علم سے خوب خوب استفادہ کیا، اوروہ کچھ ان سے سناجوان کے علاوہ نہ سن سکے، مشہور تابعی مجاہد رحمہ اللہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تین مرتبہ قرآن سنایا اورہرآیت کی تفسیر ان سے پوچھی، قتادہ بن دعامہؒ کہتے ہیں: قرآن کی کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے بارے میں کچھ سن نہ رکھا ہوں‘‘۔(طبقات المفسرین للداؤدی ۲؍۴۳)
شعبیؒ کہتے ہیں:’’قرآن کی کوئی آیت ایسی نہ گذری، جس کے بارے میں اپنے اساتذہ (صحابہؓ) سے نہ پوچھا ہو‘‘۔(مقدمۃ فی أصول التفسیر ،ابن تیمیۃ ۱۱۳)
*راجح قول:۔علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس میں تفصیل بیان کی ہے:
(۱) اگرکسی تفسیرمیں تمام تابعین کا اجماع ہوجائے، اس کا اخذ کرنا واجب ہے اوراس کے حجت ہونے میں کسی کوشبہہ نہیں ہوناچاہئے۔
(۲) اگرکسی آیت کی تفسیر میں وہ مختلف فیہ ہیں، توان کا اختلاف کسی کے لئے حجت نہ ہوگا، اس صورت میں قرآن وسنت کی لغت، عربوں کی عام زبان ولب ولہجہ اوراقوال صحابہؓ کی طرف رجوع کیاجاناچاہئے۔(مقدمۃ فی اصول التفسیر ص:۱۰۵)
(۳) اگرتابعی کسی آیت کی تفسیربیان کرتاہے، اورکوئی اس کی مخالفت نہیں کرتا، یا اس پر اجماع بھی ثابت نہیں ہے، ایسی صورت میں بہترطریقہ یہ ہے کہ اس کو اخذ کیا جائے اورحجت بنایاجائے۔
محترم قارئین! آپ نے ملاحظہ کیا کہ تابعین کرامؒ کے دورمیں تفسیر کی کیاحالت تھی،عہدتابعین کے بعدتفسیر تدوین کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے، ان شاء اللہ اس کی تفصیل آئندہ پیش کی جائے گی۔ *

زمین کے طبقات اورپٹرولیم کے متعلق قرآن مجید کی وضاحت March 2010

ڈاکٹر محمد وجاہت اللہ حیدرآبادیؔ
زمین کے طبقات اورپٹرولیم کے متعلق قرآن مجید کی وضاحت

(...لَہُ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا وَمَا تَحْتَ الثَّریٰ)
اسی (اللہ ) کے لئے ہے جوکچھ آسمانوں میں ہے اورجوزمین میں ہے اورجوان دونوں کے درمیان ہے اورجو(تحت الثری) گیلی مٹی کے نیچے ہے۔(سورہ طہ:۶)
مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی سائنسی انکشافات کئے ہیں جوآج کے سائنٹفک دورمیں واشگاف ہوئی ہیں حالانکہ قرآن کریم میں یہ حقیقت آج سے چودہ سوسال قبل کھول دی گئی جب کہ اس کرۂ ارض اورآسمان اورزمین کے اندرکیا کچھ پوشیدہ ہے کسی کوخبر نہیں تھی، اس سے بھی یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ قرآن اسی خالق اکبر یعنی اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے نہ کہ کسی کے ذہن کی پیداوار یا کسی اورصحیفہ سے مستعارلیا گیا ہے جیساکہ مغربی مفکرین باورکرتے ہیں، آیت مذکورہ کوسمجھنے سے قبل یہ جان لیناضروری ہے کہ ماہرین طبقات الارض اسی کرۂ ارض کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہیں، موجودہ نصاب میں پانچویں اورچھٹی جماعت کی نصاب میں بھی یہ بتلایا جاتاہے کہ کرۂ ارض تین مختلف طبقات پرمشتمل ہے جن میں سب سے اوپری طبق کو CRUSTکہاجاتا ہے اس کے نیچے دوسراطبق ہے جس کوMANTLEکہاجاتاہے اوراس کے نیچے تیسراطبق ہے جس کوCOREکہاجاتاہے، کورکومزید دوحصوں میں تقسیم کیاگیاہے یعنی OUTER COREاورINNER CORE،یہاں اس بات کی صراحت بھی ضروری ہے کہ ان طبقات کی ساخت کیا ہے، چنانچہ درسی کتب ہی اس کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پہلا طبق یعنیCRUST ایک چھلکے کی مانندہے اوریہ اپنی ساخت میں سخت یعنیSOLIDہے،اس کے نیچے جوطبق ہے یعنیMANTLEوہ سخت نہیں ہے بلکہMOLTENSTATEیعنی گیلا ہے یعنیLAVAکی شکل میں ہے اس کے نیچےCOREہے جواپنے اوپرکے دوطبقات کے وزن یابوجھ کی وجہ سےSOLID STATEمیں رہتا ہے اوراس میں زیادہ تر لوہا اور نکل(IRON&NICKLE)پایاجاتاہے۔
اس تناظرمیں اگرہم مذکورہ بالاآیت کاترجمہ اوراس کی تشریح کرناچاہیں توصاف پتہ چلتا ہے کہ قرآن نے آج سے1400سال قبل ہی کرۂ ارض کے ان تین طبقات کوبیان کردیاہے، اس آیت میں(مافی الارض)سے مراد پہلاطبق یعنیCRUSTہے اور’’ثریٰ‘‘ سے مرادMOLTEN STATEجو MANTLEیعنی لاوایا گیلی مٹی ہے اور(وماتحت الثریٰ)اور جوگیلی مٹی کے نیچے ہے وہ کچھ اور نہیں بلکہCOREہے۔
اس آیت میں ایک اورسائنسی انکشاف ہے جس کاذکر مشہور زمانہ مصنف اورسائنٹسٹ MauridLBauclleنے اپنی تصنیفThe Bible The Quran And Science میں کیاہے، وہ یہ ہے کہ اس آیت میں(لہ مافی السموٰت ومافی الأرض)کے بعد’’ومابینھما‘‘ ان دونوں کے درمیان یعنی زمین وآسمانوں کے درمیان کا ذکر موجودہ دورکا سائنسی انکشاف ہے۔
(والذی أخرج المرعٰی فجعلہ غثآء احویٰ)اورجس نے(اللہ نے)چارہ نکالا ، پھراسے سیاہ کوڑاکرکٹ بنادیا‘‘۔(سورہ اعلیٰ:۵،۴)
مذکورہ آیات سورہ اعلیٰ کی ۴اور۵آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم دریافت کاانکشاف کیاہے جوآج کے سائنسی دورمیں ہوئی، ان آیات میں اللہ تعالیٰ فرمارہاہے کہ’’اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے(زمین سے) چارہ نکالا اورپھر اس کوکچرا( سیاہ) کوڑاکرکٹ بنادیا۔
یہاں لفظ’’مرعیٰ‘‘کامطلب چارہ ہے جس سے مراد جھاڑ، پیڑ، پودے وغیرہ ہیں جو اسی زمین سے اُگتے ہیں، اس کے بعداللہ تعالیٰ فرمارہا ہے کہ اللہ نے ان جھاڑوں،پیڑپودوں کوکچرابنادیا جوسیاہ کوڑا کرکٹ کہلاتاہے، یہاں’’غثاء‘‘کامطلب کچراہے اور’’احوی‘‘ گہرے ہرے رنگ کوکہاجاتا ہے خصوصاً اس سبزی کو جوسڑکرگل جانے کے بعدگہرے ہرے رنگ یا سیاہی مائل یعنی کالی ہوجاتی ہے، غورطلب بات یہ ہے کہ قرآن جیسی پرعظمت کتاب میں اس بات کا ذکرکرنے سے اللہ کا کیا مطلب ومنشاہے کہ’’اس نے زمین سے چارہ نکالا اوراسے کوڑا کرکٹ بنادیا،یہ ایک عام مشاہدہ کی بات ہے جوعام آدمی بھی کہہ سکتاہے کہ زمین سے جوچارہ نکلتاہے وہ بالآخر سڑگل کر کچرابن جاتاہے لیکن قرآن میں اس کے ذکرسے کیامنشا ہے۔
دراصل اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی دورحاضر کے سائنسی دریافت اورانکشاف OILیاPETROLکی طرف اشارہ کیاہے، پٹرول کے متعلق سائنس کہتی ہے کہ یہ FOSSILISEDFUELہے۔
FOSSILکامطلب ’’کسی بھی جاندار مخلوق جھاڑ، پیڑپودے یا جانورکے باقیات جواس کے مرکرسڑجانے اورگلنے کے بعدباقی رہ جاتی ہے،چنانچہ واقعہ یہ ہے کہ صحرائے عرب اوراس کے قرب وجوار کا علاقہ ایک طویل زمانہ قبل (لاکھوں بلکہ کروڑوں برس قبل) گھنے جنگلات یعنی جھاڑ، پیڑ،پودوں سے بھراہواتھا، پھرایک ایسا دور آیا جب زمین کے اندرونی طبقات یعنیTectonic Platesمیں ٹکراؤ کے باعث یہ علاقہ زمین میں دھنس گیا اوراطراف کاسمندر اس پرچھاگیا جس میں ہزاروں ٹن ریت تھی جس نے ان گھنے جنگلات کوڈھانک دیا اوراسی ریت کے نیچے یہ جنگلات سڑنے اورگلنے لگے اورمعلوم نہیں کتنے ہزاریاکروڑوں سال بعدان کی باقیات Fossilآج پٹرول کی شکل میں نمودار ہورہے ہیں، یہاں اس امر کاتذکرہ بیجانہ ہوگاکہ کرۂ ارض پراکثرصحراDesertایک زمانہ میں پانی یعنی سمندر سے ڈھکے ہوئے تھے جس کی تہہ میں ریت ہوتی ہے اوررفتہ رفتہ یہ سمندر کی تہہ زمین کے اندرونی حصوں میں تغیرکی وجہ سے اوپر ابھرنے لگتی ہے اورسمندر ہٹ کر صرف ریت یعنی صحراباقی رہ جاتاہے۔ (بشکریہ روزنامہ منصف حیدرآباد)

صوفیاء اورعقیدۂ عشق March 2010

عبدالباری شفیق احمد اکرہرویؔ
متعلم جامعہ سلفیہ ،بنارس
صوفیاء اورعقیدۂ عشق
تمام تعریف اللہ رب العالمین کے لئے جس نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کوقیامت سے پہلے ہدایت وگمراہی،توحید وشرک، جاہلیت اوراسلام کے درمیان تفریق کنندہ بناکر مبعوث فرمایا، اوردرودوسلام ہونبی ہادی ﷺ پرجنھوں نے اپنے پروردگارکی رسالت کونہایت درجہ مکمل کردیا، لیکن کچھ گمراہ قسم کے لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے لائے ہوئے تحفے سے اعراض کیا جس کی وجہ سے آج روئے زمین پرمختلف قسم کے مذاہب وملل موجودہیں اور ان کے اپنے رسم ورواج ہیں انھیں گمراہ فرقوں میں سے ایک فرقہ صوفیاء کاہے، زیرنظر مضمون میں صوفیاء اورعقیدۂ عشق پرمختصرروشنی ڈالی گئی ہے۔
اشتقاق:۔ صوفی اورتصوف کے لغوی اشتقاق کے بارے میں محققین کے یہاں ہردورمیں اختلاف رہا ہے، قرآن اورصحاح ستہ میں یہ لفظ موجود نہیں ہے ،عربی زبان کی قدیم لغات، نیز جاہلی ادب کا وسیع ذخیرہ اس سے خالی ہے، یہی وجہ ہے کہ علماء اس کی اصل کے بارے میں مختلف الرائے ہیں عہدجاہلیت میں صوفی کی اصل تلاش کرنے کی پہلی کوشش حافظ محمد بن طاہرالمقدسی(۴۴۸ھ،۵۰۷ھ) کی بیان کردہ ایک روایت میں کی گئی ہے، ان کے بیان کے مطابق کوفہ کے ایک محدث ولید بن قاسم(۸۳۲ھ) سے صوفی کی نسبت کے بارے میں سوال کیاگیا توانھوں نے جواب دیا’’قوم فی الجاھلیۃ یقال لھم صوفۃ انقطعوا إلی اللہ عزوجل وفطنوا الکعبۃ فمن تشبہ بھم فھم الصوفیۃ‘‘(۱)صوفیاء کے بارے میں کہا جاتاہے کہ یہ لوگ خانہ کعبہ کے مجاورتھے اورحاجیوں کے آرام وآسائش کاانتظام کرنا ان کے ذ مہ تھا ان میں سب سے پہلے غوث بن مراوبن طانجہ بن الیاس بن مضرکانام صوفہ پڑا(۲)صوفی کو ’’صف‘‘ سے بھی ماخوذ بتایا گیا ہے، اس رائے کی بنیاد شیخ ابوالحسن نوری(م.۲۹۵ھ) کاقول ہے ’’الصوفیۃ ھم الذین صفّا ارواحھم فصاروا فی الصف الأول بین یدی الحق‘‘(۳) ایک طبقہ کی رائے یہ ہے کہ صوفی’’صفا‘‘ سے مشتق ہے صوفیہ کی بڑی تعداد اس رائے کی قائل ہے ،شیخ بشربن حارث الحاقی( ۱۵۰، ۲۲۷ھ) کاقول ہے’’الصوفی من صفا قلبہ للہ‘‘(۴)
تصوف اورصوفیاء کے تعلق سے محقق محمد لطفی لکھتے ہیں:’’ ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ یونانی کلمہ’’تھیوسوفیا‘‘سے مشتق ہے جس کے معنی حکمت الٰہی کے ہیں ،صوفی وہ حکیم ہے جوحکمت الٰہی کاطالب ہوتاہے اوراس کے لئے کوشاں رہتا ہے، صوفی یا تصوف کی غایت حقیقت الٰہی تک پہنچنا ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ صوفیاء جوکچھ بھی حقیقت الٰہی کے متعلق کہتے یا لکھتے ہیں اس پروہ فلسفیانہ بحث کرتے ہیں(۵) بیش ترعلماء اورمستشرقین اسے’’صوف‘‘ (اون) سے ماخوذ سمجھتے ہیں، شیخ ابوبکرکلاباذی(م.۳۸۰ھ) لکھتے ہیں کہ لباس کی وجہ سے ان کانام صوفہ پڑا کیونکہ وہ حفظ نفس یازینت کے لئے نرم لباس نہیں پہنتے بلکہ صرف سترعورت کے لئے بالوں کاکھردرااورموٹا اونی لباس استعمال کرتے ہیں۔(۶)
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقمطراز ہیں’’والنسبۃ فی الصوفیۃ الی لانہ غالب لباس الزھاد‘‘(۷)علامہ ابن خلدون کی بھی یہی رائے ہے، مصر اوربرصغیرکے اہل قلم میں سے عبدالباقی سرور ،ابراہیم الجیوشی اورڈاکٹر میرولی الدین نے بھی اس رائے کی تائید کی ہے ڈاکٹر زکی مبارک(۱۳۰۸۔ ۱۳۷۱ء) نے اسے سب سے صحیح قراردیا ہے۔(۸)
تصوف کا آغاز:۔ تصوف کا آغاز عالم اسلام کے دوشہروں کوفہ اوربصرہ سے ہواجوشیعوں کے شہرسے منسوب تھے اوران کے مراکز کہلاتے تھے، کوفہ پرمانی کی فکرکا اثرتھا اوربصرہ میں ہندوستانی علم وفکرکا، مانی کے مذہب میں عشق خداوندی کے عناصرپائے جاتے ہیں جبکہ ہندوستانی فلسفہ میں ساراز ورترک وتیاگ پرہے۔(۹)
ڈاکٹر ابوالعلاء عفیفی کے مطابق:’’تصوف مذاہب شیعہ سے قریب ہے اوریہ کوفہ میں۔ جوشیعوں کا مرکز تھا۔ وجودپذیرہوا، عبدک صوفی متوفی (۲۱۰ھ) اس کے آخری امام تھے۔(۱۰)
اساس:۔ یوں توتصوف پرکئی قسم کے اثرات ہیں،لیکن اس کی اساس میں فیثاغورث (م ۵۳۲ ق.م.)زینوفینیز(م.۴۴۵ق.م.) افلاطون (م.۳۴۷ق.م.) کے فلسفوں کے اثرات کاذکرخصو صیت کے ساتھ کیا جاتاہے۔
فیثاغورث کے نظام فلسفہ کی روح اصول اوراعمال کی بنیاد اصلا تناسخ ارواح (آواگون) کے عقیدے پر مبنی ہے، ان کا نصب العین پیدائش کے چکرسے آزاد ہونا اوربالآخر خدائی برکتوں کے عالم میں داخل ہوناہے ان کے حصول کے لئے سخت ریاضت اورذہنی مشقت کی وکالت کی جاتی ہے۔(۱۱)
زینو فینیز کے فلسفے کابنیادی خیال یہ ہے کہ ہرشئے میں اتحاد وحدت ہے یعنی سب ایک ہے یہ ایک ہراعتبار سے خداہے اس کی ابتداء اورانتہا نہیں ہے اپنی ذات میں یکساں ہے اس لئے غیر متغیرہے یہ کائنات سے علیحدہ بھی نہیں ہے۔(۱۲)
صوفیاء کس طرح فلوطینی عقائد وافکار کے حامل ہیں اوران کی ترویج واشاعت میں کوشاں، اس تعلق سے یونس خاں ایڈوکیٹ لکھتے ہیں :مسلمان صوفیاء پرنوفلاطونی تصوف کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں جنید بغدادی، شہاب الدین سہروردی اشراقی مقتول ،شیخ اکبر محی الدین ابن عربی وغیرہ کے افکار تصوف فلوطین سے متاثرہیں، بایزید بسطامی جوپہلے صاحب حال صوفی ہیں، فنافی اللہ کے مبلغ ہیں، جنید بغدادی نے فلوطین کی پیروی میں ذات احد کوحسن ازلی کہہ کر پکارا اورعشق حقیقی کو تصوف وسلوک کالازمہ قراردیا،حلاج کا یہ خیال کہ انسانی روح میں روح کل جلوہ گرہے، فلوطین سے ماخوذ ہے، ابن عربی کا اللہ افلاطون کے خیرمحض اورفلوطین کے تصوف ہی کی صدائے بازگشت ہے ،صوفی شعراء کی پرسوز شاعری نے نوفلاطونی افکارکو اسلامی دنیا میں دوردورتک پھیلادیا، اس طرح فلوطین کاتصوف مسلمانوں کے فکرواحساس کامحوربنا۔(۱۳)
لفظ عشق کامفہوم:۔لفظ عشق عربی زبان کا لفظ ہے، قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری رحمہ اللہ اس کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’الجنون فنون والعشق من فنہ یسجلہ المرء علی نفسہ باستحسان بعض الصور والشمائل‘‘یعنی جنون کے بہت سے اقسام میں عشق بھی جنون کی ایک قسم ہے اس مرض کوانسان اپنے نفس پر بعض صورتوں یا خصلتوں کواچھاسمجھ لینے سے خود واردکرلیاکرتا ہے(۱۴) امام ابوجعفرطحاوی اپنی کتاب میں لفظ عشق کی تعریف میں رقمطراز ہیں:’’إن العشق محبۃ مع شھوۃ‘‘(۱۵)یعنی شہوت کے ساتھ محبت کرنے کا نام عشق ہے۔
ابوالعباس احمد بن یحیٰ سے محبت اورعشق کے بارے میں پوچھاگیا کہ ان میں سے کون اچھا ہے توجواب میں فرمایا کہ محبت، کیونکہ عشق کے اندرشہوت کاغلبہ ہوتاہے(۱۶) علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ عشق کے سلسلے میں صوفیاء کے عقیدے کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عشق ہی کانام محبت تامہ ہے اورصوفیاء حضرات اس کا استدلال عبدالواحد بن زید سے روایت کی گئی ایک اثر سے کرتے ہیں جس میں ہے کہ’’برابر میرا بندہ میری طرف قربت حاصل کرتا ہے مجھ سے عشق کرکے اورمیں بھی اس سے عشق کرتا ہوں‘‘(۱۷)
لیکن جمہورعلماء کاکہناہے کہ لفظ عشق اللہ سے محبت کے اظہارکے لئے استعمال نہیں کیاجائے گا کیونکہ لفظ عشق کے اندر ایسی محبت کااظہار ہوتاہے جس کی کوئی انتہانہیں ہوتا، اورمزید یہ کہ لفظ عشق عرف عام میں مردکا عورت سے زیادہ محبت کے سلسلے میں بولاجاتاہے۔(۱۸)
عشق اورمعرفت الٰہی:۔ مذہب تصوف میں خداسے عشق کرنا اورخدا کو معشوق قراردینا، یاپھرخود کو معشوق قراردینا اورخداکو اپنے اوپرعاشق قراردینا، اورتصور باندھنا کہ بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتا ہے، بلکہ وہ ایمان کی تشریح ہی عشق سے کرتے ہیں، حالانکہ عشق کا لفظ اللہ کی ذات سے منسوب کرناانتہائی لغو اوربیہودہ بات ہے۔(۱۹)
اس سلسلے میں عبدالرحمن کیلانی نے بہت ہی صحیح بات کہی ہے’’عشق کا لفظ بالعموم برے کاموں میں استعمال ہوتاہے اس لئے کہ اس لفظ سے غیرشعوری طورپرطبیعت فحاشی اوربہیمیت کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔(۲۰)
اکثر صوفیاء فرماتے ہیں اوراس کے متعلق وہ خود بھی عمل کرتے ہیں کہ عشق حقیقی میں عشق خداوندی کی ابتداء عشق مجازی یعنی عورت کے عشق سے ہوتی ہے (۲۱) ابن عربی کاکہنا ہے کہ ’’جب مردعورت سے محبت اورمجامعت کرتا ہے تویہ مشاہدۂ حق کی اکمل ترین صورت ہوتی ہے اورعورت میں خداکا مشاہدہ کرتاہے یعنی عورت جو منفعل ہے اس میں اس کو خدانظر آتا ہے اورظاہر ہے کہ مادیات سے ہٹ کرخداکا مشاہدہ تجریدی صورت میں نہیں ہوسکتاہے۔(۲۲)
عشق مجازی اورامردپرستی:۔ ابن عربی نے تومشاہدۂ حق کے لئے عورت کاوجود ضروری سمجھا خواہ کوئی عورت ہو، مگردوسرے صوفی اکثرامردیابے ریش لڑکے کوپسند فرماتے ہیں اس بارے میں ان کا مقولہ بھی ہے ’’النظر إلی وجہ الأمردعبادۃ‘‘یعنی بے ریش لڑکے کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔(۲۳)
عشق مجازی کے فضائل:۔ عشق مجازی کایہ نظر یہ آہستہ آہستہ دین طریقت کی بنیاد قراردیاگیا، عارف جامی فرماتے ہیں ۔
متاب ازعشق اوگرچہ مجازی ست
کہ آن بہرحقیقت کارسازی ست
یعنی عشق سے روگردانی نہ کراگرچہ وہ مجازی ہوکہ یہ حقیقت(عشق حقیقی) کے لئے ایک حیلہ ہے۔(۲۴)
اوراس سلسلے میں ایک موضوع حدیث بھی پیش کی جاتی ہے ’’من عشق فعفف وکتم فمات مات شہیداً‘‘یعنی جوشخص کسی پر عاشق ہوجائے پھرعفیف رہے اورپوشیدہ رکھے پھرمرجائے تووہ شہید مرے گا۔(۲۵)
شکوہ:۔صوفی ابن عبدالغنی نابلسی کے بارے میں کہاگیاہے کہ وہ کس طرح گویا ہوتا ہے ؂
الٰہی لیس للعشاق ذنب لأنک انت تبلی العاشقینا
ترجمہ: اے میرے خدا عاشقوں کاکیاگناہ ہے، جبکہ توخودہی عشاق کوعشق میں مبتلاکرتاہے۔
وتخلق کل ذی وجہ جمیل تکادلہ تصلی العابدین
ترجمہ: اورتوہی خوبصورت چہروں کاخالق ہے، جن کی خوبصورتی کی وجہ سے عبادت گزار اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
وتأمرنا بغض البصرمنھم کانک ماخلقت لناعیونا
ترجمہ: اورپھرہمیں حکم دیتاہے کہ ان سے نگاہیں نیچی رکھیں کیا تونے ان کودیکھنے کے لئے ہمیں آنکھیں عطانہیں کیں۔(۲۶)
شیخ حسین لاہوری م ۱۰۵۲ھ کا عشق:۔ روایت ہے کہ ایک شخص حاجی یعقوب نامی مدینہ منورہ کا رہنے والاتھا، وہ ہمیشہ شیخ حسین کو روضۂ نبوی میں معتکف دیکھتا ایک مرتبہ لاہور آیا توایک بازارمیں دیکھا کہ ڈھول بج رہا ہے اورشیخ شراب کے نشہ میں چوررقص کررہا ہے دیکھ کرشیخ حسین کوپہچان لیا مگرسخت حیران ہواکہ یہ کیا بات ہے؟ شیخ نے کہا ’’آنکھیں بند کرو‘‘اس نے آنکھیں بندکرتے ہوئے اپنے آپ کو مدینہ منورہ میں اورحسین کو روضۂ نبوی میں معتکف پایا۔(۲۷)
حاجی محمدقادری نوشاہی:۔ مشہورہے کہ حضرت نوشاہ قوم گلگو(کمہار) سے تعلق رکھتے ہیں مگراصل حقیقت یہ ہے کہ آپ قوم کھکرہ (کھوکھر) سے تھے، اس قوم(گلگو،کمہار) سے مشہور ہوجانے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے بزرگ میں سے کوئی بزرگ اس قوم(گلگو،کمہار) کی ایک حسین جمیل لڑکی پرعاشق ہوگئے تھے اوراس کے عشق میں ایسے خودرفتہ ہوئے تھے کہ اسی قوم کے طورطریقے اختیار کرلئے،آخریہ عشق مجازی عشق حقیقی میں تبدیل ہوگیااورآپ زمرۂ اولیاء اللہ میں آگئے۔(۲۸)
میاں شیرمحمد شرقپوری م.۱۳۳۱ھ:۔ قطب العالم، غوث ربانی، شیریزدانی،مادرزادولی تھے، خزینہ معرفت کا مصنف بیان کرتاہے کہ ایک مرتبہ آپ کوایک نوعمرلڑکے غلام محمد کٹاریہ سے محبت ہوگئی، اس کے عشق میں اس درجہ محویت ہوئی کہ آپ اسے ہروقت یادکرتے رہتے، جب اسے نہ پاتے تو بے چین ہوکر اسے ڈھونڈنے نکل جاتے اورتلاش کرکے لے آتے اورجب کبھی وہ چلاجاتا تواکثرفرماتے: ’’ادھرعشق ستارہا ہے ادھر غلام محمد یادآرہاہے‘‘بہت عرصہ دراز تک میاں صاحب اس نوجوان کے عشق میں مبتلارہے اور آہ و فغاں کرتے رہے، پھرکافی مدت کے بعدآہستہ آہستہ اس سے کسی قسم کا تعلق نہ رہا۔(۲۹)
حرف آخر:۔ الغرض صوفیاء کا نصب العین وصل خداوندی ہے، خداسے واصل ہونے، اس کی ذات میں ضم ہونے اوراس کی ذات میں فناہوکرہی وہ باقی باللہ ہوسکتے ہیں چنانچہ ان کی زندگی کا مقصد عبادت خداوندی اوررضائے الٰہی نہیں ہوتا، بلکہ وہ خداسے عشق کرتے ہیں اوراپنے عشق وسرمستی کے اظہار کے لئے وجدوسماع رقص ونغمہ کوذریعہ بتاتے ہیں لیکن یہ ایک غیراسلامی اورباطل مذہب ہی نہیں ہے بلکہ اسلام کے خلاف مذہب ہونا اس کا امتیاز ہے، چنانچہ اسے کلّی یاجزوی طورپردرست سمجھنا، اسے اسلام کا جزء ماننا ،اسے طریقۂ نجات، طریقۂ تربیت ،طریقۂ تزکیہ وغیرہ مانناکفر وشرک اورزندیقیت ہے۔
آخرمیں اللہ جلالہ سے دعاہے کہ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت اورصراط مستقیم پرچلنے کی توفیق عطافرما۔(آمین)
اللھم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارناالباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ.(آمین)
***
مراجع ومصادر:
(۱)مطالعہ تصوف قرآن وسنت کی روشنی میں ص:۱۳،۱۴(۲) لسان العرب لابن منظور۹؍۲۰۰(۳) مطالعہ تصوف ازڈاکٹر غلام قادرلون ص:۱۸،کشف المحجوب ازابوالحسن علی بن عثمان الجلا بی الہجویری ص:۱۳۶(۴)اردوانسائیکلوپیڈیا۳؍۴۶،مطالعہ تصوف ازڈاکٹر غلام قادرلون ص:۲۰(۵)تصوف ایک باطل مذہب ص:۳۰۳(۶) مطالعہ تصوف ازڈاکٹر غلام قادرلون ص:۲۸(۷) مجموع الفتاوی ۱۰؍۳۶۹(۸) مطالعہ تصوف ازڈاکٹر غلام قادرلون ص:۲۸،۲۹(۹) تصوف ایک تجزیاتی مطالعہ ازڈاکٹرعبیداللہ فراہی ،سن طبع ،۱۹۹۱ص:۲۰(۱۰) تصوف ایک باطل مذہب ص:۳۰۷(۱۱)تصوف اورسرّیت ازپروفیسر لطیف اللہ سن طبع ۱۹۹۶ص:۴۰،۴۱،تصوف ایک باطل مذہب ص:۳۰۷(۱۲)تصوف اورسرّیت ازپروفیسر لطیف اللہ سن طبع ۱۹۹۶ص:۴۳،تصوف ایک باطل مذہب ص:۳۰۷،۳۰۸(۱۳) تصوف ایک باطل مذہب ص:۳۰۹(۱۴)رحمۃ للعالمین ازقاضی سلمان منصورپوری ۲؍۳۲۴(۱۵) شرح العقیدۃ الطحاویۃ ص:۱۶۵(۱۶)لسان العرب ۱۰؍۲۵۲، تہذیب اللغۃ ۱؍۱۷۰(۱۷) مجموع الفتاویٰ ۱۰؍۱۳۱(۱۸) مجموع الفتاویٰ ۱۰؍۱۳۱(۱۹)تصوف ایک باطل مذہب ص:۲۲۷(۲۰) شریعت وطریقت ازعبدالرحمن کیلانی ص:۱۹۸،تصوف ایک باطل مذہب ص:۲۳۶(۲۱) تصوف ایک باطل مذہب ص:۲۳۸(۲۲) فصوص الحکم ازشیخ اکبرمحی الدین ابن عربی ص:۲۱۷،تصوف ایک باطل مذہب ص:۲۳۸(۲۳) شریعت وطریقت ص:۲۰۰(۲۴) شریعت وطریقت ص:۲۰۱(۲۵)تجدید تصوف ازعبدالباری ص:۱۳۷،شریعت وطریقت ص:۲۰۱(۲۶) شریعت وطریقت ص:۲۰۰،۲۰۱(۲۷) خزینۃ الأولیاء ازمفتی محمودعالم ہاشمی ص:۲۲۱، شریعت وطریقت ص:۲۰۴.(۲۸)شریعت وطریقت ص:۲۰۷(۲۹) صوفیائے نقشبند ازسیدامین الدین ص:۳۶۵، شریعت وطریقت ص:۲۰۷

امام ابن بازؒ اورامام البانیؒ کے مابین ہم آہنگ ومشترک پہلو-March 2010

تحریر:عبداللطیف العثمان
ترجمہ: راشدحسن فضل حق مبارکپوریؔ

امام ابن بازؒ اورامام البانیؒ کے مابین ہم آہنگ ومشترک پہلو


امام ابن باز اور امام محمد ناصرالدین البانی رحمہما اللہ دونوں ہی یکتائے روزگار ،عالی ہمت اورغیرمعمولی طورپر سرگرم عمل عالم تھے، اسلامی عقیدے کے حوالے سے ان دونوں کی خدمات عظیم الشان ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں خیروبھلائی کاوافرحصہ عطافرمایاتھا، ان دونوں کی بدولت اسلام اورمسلمانوں کو بے پناہ فائدہ حاصل ہوا، دونوں اماموں کے مابین قول وعمل میں یکسانیت اورعادات واطوارمیں ہم آہنگی تھی، ان مشترک خصائل وخصائص میں سے ایک چیز یہ تھی کہ انھوں نے کتاب اللہ ،سنت رسول اللہﷺ اور منہج سلف صالحین کے پرچم کوبلند کیا، نیز صحیح حدیثوں کو ضعیف وموضوع روایات سے الگ کرنے، بالمشافہ گفتگو اور تحریروں کے ذریعہ علمی سخاوت وفیاضی، علمی وفنی خطوط، پیغامات اور کیسٹوں کے سرمایہ سے شریعت مطہرہ کے لئے انتھک جدوجہد اورپیہم کوششیں کیں، اسی طرح سے مخالفین ’’خواہ قریب ہوں یادور‘‘ کے سامنے ہرچیز سے بے پرواہ ہوکرحق پیش کرنے میں وہ دونوں ہم مزاج تھے، چنانچہ علامہ عبدالعزیز بن بازرحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’وإنی بحمد اللہ منذ عرفت الحق فی شبابی وأنا ادعوإلیہ وأصبر علی الأذی فی ذالک، ولا احابی فی ذالک أحداً، ولا اداھن فی ذالک أحداً،أقول الحق وأصبرعلی الأذی، فان قبل فالحمدللہ وإن لم یقبل فالحمدللہ‘‘
ترجمہ: اللہ کا شکرواحسان اوراس کا میرے اوپر فضل وکرم ہے کہ جب سے میں نے حق کو پہچانا میں اسی کی طرف دعوت دیتاہوں اوراس راہ میں درپیش مشکلات پر صبرواستقامت اختیارکرتاہوں، اس سلسلے میں کسی جانبداری سے ہرگزکام نہیں لیتا اورنہ ہی مداہنت کرتا ہوں، حق کہتاہوں اورمصائب میں الجھ کرصبروثبات کادامن نہیں چھوڑتا ،میری دعوت خواہ مقبول ہویا نہ ہو، ہرحال میں اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرتاہوں۔
اسی طرح علامہ البانی رحمہ اللہ نے جب کہ ان کے خلاف مخالفین نے چالیں چلیں، تویوں فرمایا:’’لقد کان لھذا کلہ آثار عکسیۃ لما أرادوہ، إذ ضاعف من تصمیمی علی العمل فی خدمۃ الدعوۃ حتی یقضی اللہ بأمرہٖ‘‘
ترجمہ: مخالفین جوچالیں میرے ساتھ چلناچاہتے ہیں ،میرے اوپراس کا الٹااثرپڑتا ہے، کہ دعوت حق کی خدمت میں میراعزم دوچند اور عمل میں مزید پختگی پیداہوجاتی ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے معاملے کا فیصلہ فرمادے۔
اسی طرح ان دونو ں میں ایک اشتراک یہ بھی تھا کہ دونو ں باہم ایک دوسرے سے استفادہ کرتے تھے، چنانچہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے شیخ ابن باز کے پاس خط لکھا کہ بینکوں میں جو رقم سودکی شکل میں بڑھ جاتی ہے( اسے نکالا جاسکتا ہے یانہیں)اس کاحکم کیاہے؟ علامہ البانی ؒ کا خیال تھا کہ ان رقموں کوکھانے،پینے اورپوشاک کے ماسوا دیگر رفاہ عام کے مصارف میں خرچ کیاجاسکتاہے ،مثلاً تیل وغیرہ سے آتش زدہ مکانات ودیگر چیزوں میں قیمت اداکی جاسکتی ہے،مزید راستے ،بیت الخلاء اورغسل خانے جیسے مقامات کی مرمت پربھی صرف کیاجاسکتا ہے، چنانچہ امام ابن باز رحمہ اللہ نے جوابی خط میں علامہ البانی کی موافقت وتائید کی، اسی طرح سے شیخ ابن بازؒ نے بھی علامہ البانی کے پاس ایک مرتبہ خط لکھا، دراصل اس کے ذریعہ ایک ’’مقالے‘‘کے سلسلے میں ضروری معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے، جس کے مقالہ نگارکا خیال تھاکہ ’’مسنداحمد‘‘ کی نسبت امام احمد بن حنبل کی طرف کرنا درست نہیں ہے۔
دونوں کی فکری یکسانیت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دونوں بہت زیادہ متواضع وخاکسارتھے، اوراپنی مدح سرائی وثناخوانی کو سخت ناپسند کرتے تھے، یہاں صرف ایک مثال دیناکافی ہوگا، ایک مرتبہ کسی اہل علم نے اپنے قصیدے میں امام ابن بازؒ کی تعریف وستائش کی، ان کو زہد میں ابراہیم بن ادہم ،جودوسخا میں حاتم طائی سے بھی بلند مقام پرپہونچا دیا اورقضا وفیصلہ میں قاضی شریح کاہم مثل قراردیا، چنانچہ امام ابن بازؒ نے مجلہ کو خطاب کرتے ہوئے لکھا اورانھوں نے اس خطاب میں ذکرکیا کہ اس قصیدے نے ان کی طبیعت میں تکدر پیداکردیا ہے،اس قصیدے کی رضامندی کے سلسلے میں وہ برأت کااظہارکرتے ہیں اور معاملہ اللہ کے حوالے کرتے ہیں، اوریہ چیز ان کو بہت ناگوار گذری اورسخت کبیدہ خاطر ہوئے، اوریہی معاملہ علامہ البانی رحمہ اللہ کا تھا کہ جب بھی ان کے لئے مدحیہ کلمات کہے جاتے توخود وہ اپنے آپ پرملامت کرتے،پھرحضرت ابوبکر صدیقؓ سے مروی مشہور اثرذکرکرتے’’أللھُمّ لاتواخذنی بمایقولون‘‘اے اللہ جوکچھ مجھے یہ لوگ کہتے ہیں اس پرتومیرا مواخذہ نہ کرنا،اور کبھی ایسا بھی ہوتاکہ مدح وستائش کی وجہ سے روپڑتے۔
اسی طرح ایک ہم آہنگی یہ بھی تھی کہ ان دونوں کو عالمی فیصل ایوارڈ سے نوازاگیا، اورایک اشتراک یہ بھی تھا کہ دونوں میں بڑی گہری محبت واخوت تھی، دونوں ایک دوسرے کے غم وحزن میں شریک ہوتے تھے، اس سلسلے میں بہت سارے واقعات موجود ہیں، ان کے آپسی خط وکتابت کے مشتملات اس کے لئے دلیل فراہم کرتے ہیں، چنانچہ علامہ ابن بازؒ علامہ البانیؒ کوایک خط میں لکھتے ہیں:’’آپ کا چاہنے والا بقدروسعت وامکان آپ کی ہرمددوخدمت کے لئے تیار ہے اللہ تعالیٰ ہم کو اورآپ کو اللہ کے لئے آپس میں محبت کرنے والا بنائے، یہاں تک کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کاشرف حاصل کرلیں‘‘۔
چنانچہ جب علامہ البانی کو علامہ ابن باز کی موت کی خبرپہونچی تواپنے آپ پر قابونہ رکھ سکے اور روپڑے، آنکھیں گرم آنسوؤں سے اشکبار ہوگئیں اوربہت ہی درد انگیز اورپاکیزہ کلمات کہے، فرمایا:شیخ ابن بازرحمہ اللہ چنندہ علماء میں سے تھے، ہم اللہ تعالیٰ سے دعاکرتے ہیں کہ ان کاٹھکانہ جنت بنائے، اگردنیا میں کسی کی زندگی طویل ہوتی توسب سے پہلے اللہ کے رسول ﷺ کی ہوتی، اللہ! ہم کوبھی ان کے اورصالحین کے ساتھ ملادے،چنانچہ ابھی چھ مہینے بھی نہ گزرے تھے کہ علامہ البانی بھی سفرآخرت کوروانہ ہوگئے، یہ بھی ان دونوں کی یکسانیت ،ہم آہنگی اوراشتراک تھا۔
اللہ تعالیٰ ان دونوں اماموں کوصالحین کے ساتھ ملادے۔(آمین)

آہ!نمونۂ سلف مولانا محمد عمر سلفیؔ رحمہ اللہ -March 2010

عبدالمنان سلفیؔ
جوبادہ کش تھے پُرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
آہ!نمونۂ سلف مولانا محمد عمر سلفیؔ رحمہ اللہ
جماعتی ،علمی اوردعوتی حلقوں میں یہ خبر بڑے رنج وغم کے ساتھ سنی گئی کہ نمونۂ سلف اورعالم باعمل جناب مولانا محمدعمر سلفیؔ رحمہ اللہ سابق شیخ الجامعہ وشیخ الحدیث جامعہ سراج العلوم بونڈیہار ضلع بلرام پور ایک طویل علالت کے بعد ۹؍مارچ ۲۰۱۰ء ؁ بوقت ظہرانتقال فرماگئے،انا للہ واناالیہ راجعون۔
معروف عالم دین مولانا ابوالعاص وحیدی ؍حفظہ اللہ(جنھیں جامعہ سراج العلوم بونڈیہار میں طویل عرصہ تک مولانا محمدعمر سلفیؔ رحمہ اللہ کے ساتھ تدریسی و دعوتی فرائض انجام دینے کا موقعہ ملا اور اسی دوران تاریخ جامعہ مرتب کرتے وقت مولانا کے حالات زندگی قلمبند فرماچکے ہیں) کے مطابق مولانا محمدعمرصاحب کا آبائی وطن ٹیرا ٹکرا، ضلع بارہ بنکی تھا،مولانا کی پیدائش سے قبل ہی ان کے والد نے ترک مکانی کرکے کرنیل گنج ضلع گونڈہ کے قریب سِسْئی گاؤں میں سکونت اختیارکی، اسی بستی میں مولانا محمد عمر صاحب کی پیدائش ۱۹۲۰ء میں ہوئی۔ بعد میں اس بستی کو بھی ان کے والد نے چھوڑ دیا اوراولاً دال ڈیہہ دھاری گھاٹ میں آباد ہوئے اور بالآخر اوسانی فیروزضلع گونڈہ نزد گوراچوکی میں مستقل سکونت پذیر ہوگئے۔
ابتدائی تعلیم دال ڈیہہ کے قریب پرائمری اسکول میں پائی، تقریباً ۱۹۳۲ء ؁ میں جامعہ سراج العلوم ، بونڈیہار میں داخلہ لیا اورجماعت ادنیٰ کی تعلیم مکمل کی، اور۱۹۳۳ء ؁ سے ۱۹۳۷ء ؁ تک جامعہ عالیہ عربیہ مؤمیں رہے اوروہاں جماعت رابعہ تک تعلیم مکمل کی،اس کے بعدمدرسہ سعیدیہ دہلی تشریف لے گئے اورشیخ الحدیث مولانا احمداللہ پرتاب گڈھی اور مولاناابوسعید شرف الدین دہلوی رحمہمااللہ سے بطورخاص استفادہ کیا اور ۱۹۴۰ء ؁ میں وہیں سے فراغت حاصل کی۔
فراغت کے بعد ایک برس تک قصبہ بارا،ضلع غازی پورمیں تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دیا اورپھر ریاست پٹیالہ میں تعلیم کی خدمت پر مامورہوئے اور۱۹۴۷ء ؁ تک وہاں رہے،ایک برس ناگ پورمیں بھی رہے، پھرشمس الہدیٰ دِلال پور مغربی بنگال میں کئی برس تک تدریسی فرائض انجام دئے، ۱۹۶۴ء ؁ میں ایک سال جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر(نیپال) میں تدریس فرمائی اوراس کے بعد ۱۹۶۵ء ؁ سے ۲۰۰۴ء ؁ تک پورے تسلسل کے ساتھ جامعہ سراج العلوم، بونڈیہار میں تدریسی خدمت انجام دیتے رہے۔
مولانا اخلاق ومعاملات اور عقائد وعبادات میں سلف صالحین کا نمونہ تھے،پوری زندگی تعلیم وتدریس اوردعوت وتبلیغ میں گذاردی،مولانا ایک کہنہ مشق اورمنجھے ہوئے استاد اورمشفق مربی تھے ساتھ ہی آپ دعوت وتبلیغ کے میدان میں بھی بڑے سرگرم رہے،آپ کا وعظ کتاب وسنت کے نصوص سے مدلل اوربڑا موثرہوتاتھا ،علاقائی جلسوں اورکانفرنسوں کے علاوہ دوردراز کے دعوتی پروگراموں میں آپ کوشرکت کی دعوت دی جاتی تھی،جمعیت وجماعت سے بھی ہمیشہ وابستہ رہے ،ایک زمانہ تک ضلعی جمعیت اہل حدیث ضلع بلرام پورکے صدر اورامیررہے، نیز صوبائی اورمرکزی جمعیتوں کے ساتھ بھی تعاون کرتے رہے،مولانا شبِ زندہ دار عالم تھے موجودہ زمانہ میں آپ جیسی بزرگ شخصیت کا وجود عنقا ہے،مولانانے بونڈیہار کے طویل قیام کی مدت میں تدریس کے ساتھ افتاء کابھی کام کیاہے اور شرعی مسائل میں مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی ہے،افتاء کے لئے اکثر آپ شروحات حدیث اورفتاویٰ ابن تیمیہ نیز المغنی لابن قدامہ کامطالعہ فرماتے تھے،مولاناکی طویل ترین تدریسی ودعوتی خدمات کے اعتراف کے طورپر آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس پاکوڑ (جھارکھنڈ) میں آپ کو ایوارڈ اور انعام سے نواز کر آپ کی قدر دانی کی کوشش کی گئی۔
بلاشبہ مولاناکی وفات سے زبردست علمی ودعوتی خلاپیداہواہے اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت کرے اور آپ کے جملہ پسماندگان ،تلامذہ اور محبین و معتقدین کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔(آمین)
۱۰؍مارچ کو تقریباً ۱۱؍بجے قبیل ظہرمولاناعبدالسلام رحمانی؍حفظہ اللہ(وکیل الجامعہ، جامعہ سراج العلوم، بونڈیہار) کی امامت میں نماز جنازہ اداکی گئی اورآپ کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کیاگیا، تقریباً ڈیڑھ ہزارعلماء ،طلبہ اورعقیدتمند نماز جنازہ میں حاضر رہے،خاص شرکاء میں مولاناعبداللہ مدنی جھنڈانگری، مولاناشہاب الدین مدنی (امیرصوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی) مولاناابوالعاص وحیدی،مولانا تبارک حسین قاسمی، مولانا ڈاکٹر عبدالرحمن لیثی، مولانامحمدابراہیم مدنی، مولاناعبدالعلیم ماہربستوی، وغیرہم قابل ذکرہیں، راقم کو بھی مولانا کے جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔
اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ وامطر علیہ شأبیب رحمتک۔
***

جامعہ کے روزوشب- March 2010

مولاناوصی اللہ عبدالحکیم مدنی
جامعہ کے روزوشب
توسیعی محاضرہ:
محترم ناظم جامعہ جناب مولانا شمیم احمد ندوی؍حفظہ اللہ کے حسب ارشاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر کے اندر ہرماہ ایک علمی وثقافتی پروگرام کا انعقاد ہوتا ہے ،پروگرام کے اہتمام وانصرام کی ذمہ داری مدیر ماہنامہ’’السراج‘‘ جناب مولانا عبدالمنان سلفی؍حفظہ اللہ کو تفویض کی گئی ہے جواپنی صوابدید سے علمی ودعوتی عناوین کا انتخاب کرتے ہیں اورجماعت کی کسی نامور علمی شخصیت کو محاضرہ پیش کرنے کی پُرخلوص دعوت دیتے ہیں، بحمداللہ! یہ پروگرام توقع سے زیادہ کامیاب چل رہا ہے، جومحترم کنوینر کے دلچسپی کی دلیل ہے۔
ماہانہ توسیعی محاضرات کا پانچواں پروگرام ۲۱؍مارچ ۲۰۱۰ء ؁ بروز اتوار بعدنماز مغرب جامعہ کی جامع مسجد میں منعقد ہوا جس میں جماعت کے قابل قدر نوجوان عالم دین ،ماہنامہ نورتوحید کے ایڈیٹر اورمدرسہ خدیجۃ الکبریٰ جھنڈانگر کے استاد جناب مولانامطیع اللہ مدنی؍حفظہ اللہ نے ’’منہج سلف۔ امتیازات وخصوصیات‘‘جیسے اہم موضوع پرتفصیلی ووقیع محاضرہ پیش کیا ۔
پروگرام کا آغاز عزیزم حافظ فضیل احمد کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا، اس کے بعدبرادر محترم شیخ عبدالمنان سلفی ؍حفظہ اللہ نے پروگرام کی افادیت پرروشنی ڈالتے ہوئے منتخب موضوع اورمحترم محاضر کا مختصراورجامع تعارف کرایا نیزفاضل محاضرسے برصغیر کی بعض تحریکات وتنظیمات کے زیغ وضلال پرروشنی ڈالنے کی خواہش ظاہرکی۔
محترم محاضرنے لفظ’’سلف‘‘کی تشریح کرتے ہوئے حاملین کتاب وسنت کے ان اسماء والقاب کاتذکرہ کیا جوکتاب وسنت کے نصوص سے ماخوذ ہیں ۔اس کے بعدبدعات واہواء کے ظہورکی تاریخ پرمختصر روشنی ڈالتے ہوئے سلف’’ اہل السنۃ والجماعۃ‘‘ کے خصائص واوصاف کا قدرے تفصیلی تذکرہ کرنے کے بعد سلف۔صحابہ وتابعین وائمۂ محدثین۔کے اصول وفروع میں استدلال اور مسائل کے استخراج واستنباط کے قواعد وضوابط کا مدلل تذکرہ کیا ،اوراپنی گفتگو کو ائمہ وفقہاء ومحدثین کے اقوال سے مزین کرتے ہوئے یہ باورکرانے کی کوشش کی :
*عقیدہ واحکام کے مسائل کے استخراج واستنباط کے لئے نصوص کتاب وسنت سے استدلال اورفہم صحابہ کو مشعل راہ بنانا اورسلف صالحین کے منہج وطریق کی پیروی واجب ہے ۔
*منہج سلف کے امتیازات وخصائص کی رعایت بدعات واہواء کے زیغ وانحراف اورہرنوع کی ضلالت سے حفاظت کی ضامن ہے۔
محاضرہ کے اختتام پرفاضل محاضر نے طلبہ کے بعض اہم سوالوں کے جوابات دیئے ۔