Wednesday, June 16, 2010

ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ اور ان کی عربی طرزِ تحریر apr-jul-2010

ڈاکٹرلیث محمد لال محمدعمریؔ مکی
ندوۃ السنۃ،اٹوابازار، سدھارتھ نگر

ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ
اور ان کی عربی طرزِ تحریر
اس جہانِ رنگ وبومیں ابتدائے آفرینش ہی سے لوگوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری ہے، یہ سلسلہ اس دارِ فانی کے فناکا منہ بولتاثبوت ہے ،اکثروبیشتر لوگ آتے ہیں اورچلے جاتے ہیں، ان کے نام ونشان مٹ جاتے ہیں، دنیا انھیں بھول جاتی ہے،اس لئے کہ انھوں نے اپنے پیچھے یادوں کاکوئی سلسلہ نہیں چھوڑا۔مگر کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ ان کے محاسن واوصاف حمیدہ کے باعث چلے جانے کے بعدبھی دنیاانھیں یادرکھتی ہے ،وہ دنیائے علم وادب میں تصنیفات وتالیفات، تراجم وتحقیقات ،مضامین ومقالات کے انمٹ نقوش چھوڑجاتی ہیں جن سے ان کی یادیں ذہنوں میں تازہ رہتی ہیں،ان کے بعددرس وتدریس اورتلامذہ کی شکل میں علم ینتفع بہ کی ایسی عملی تفسیر باقی رہ جاتی ہے جوان کے لئے صدقہ جاریہ کا کام کرتی رہتی ہے، انھیں ہستیوں میں سے ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کی بھی ہستی ہے جوبتاریخ ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء ؁ بروزجمعہ داغ مفارقت دے کراس دارفانی سے داربقاکو چل بسے، اللہ تعالیٰ انھیں کروٹ کروٹ جنت عطاکرے ۔(آمین)
مجھے آپ کی سیرت کے ایک خاص گوشے ’’ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کی عربی طرزتحریر‘‘ کواجاگر کرناہے، لیکن اس سے پہلے آپ کے ایک خاص وصف کاذکرکئے بغیرنہیں رہ سکتا کہ میراخود اس سے سابقہ پڑچکا ہے، لکھنے پڑھنے اورمیدانِ تصنیف وتالیف سے منسلک رہنے والوں کی آپ دل کھول کر تشجیع اورہمت افزائی کرتے تھے ،بڑکپن کا احساس اس راہ میں کبھی حائل نہ ہوا، چنانچہ جب میں نے اپنی کتاب’’تیسیرالنحو‘‘ پرتبصرہ لکھنے کی خواہش ظاہرکی، توپورے شرح صدرکے ساتھ آپ نے قبول فرمایا،قارئین حضرات میں سے جن لوگوں نے آپ کا تبصرہ پڑھاہوگا وہ میری رائے سے اختلاف نہیں کریں گے، آپ کی تشجیع وہمت افزائی سے یقیناًعلمی کاموں کے لئے مجھے بے پناہ حوصلہ وتوانائی ملی، اللہ تعالیٰ ہمارے دیگربڑے لوگوں کوبھی اس کی توفیق بخشے ۔(آمین)
ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ کی عربی طرز تحریر:
ادب نام ہے طرزِ ادا وتخیل کی ندرت کا،جس قدران دونوں میں ہم آہنگی ہوگی اتنا ہی ادیب عروج سے قریب ہوتاجائے گا،مواداوراسلوب بیان اس کے زمین وآسمان ہیں، بغیر ان دونوں کے یکجا ہوئے دنیا ئے ادب آبادنہیں ہوسکتی، یہ تو ہوسکتا ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا سہارا لے کرکوئی ادیب میدانِ ادب میں نمایاں ہوجائے، لیکن ثبات ناممکن ہے، ہر دلعزیزی تو ممکن ہے لیکن ہمہ گیری واستحکام نصیب ہونا مشکل ہے۔
ادب کے نمایاں ہونے میں طرز تحریر اورمواد کاتناسب کیاہے؟ اس کا فیصلہ آسان نہیں، لیکن عام طورپر یہ رائے ہے کہ موادکی اہمیت اس سلسلے میں زیادہ ہے، اس لئے کہ جس پایہ کا خیال ہوتاہے، اسی مرتبہ کے الفاظ بھی ساتھ ہی ساتھ دماغ میں ابھرآتے ہیں ،کوئی خیال بغیر الفاظ کا سہارا لئے ہوئے ذہن میں نہیں آتا، مواد کے ذخیرے سے تخیل جب کوئی موضوع چنتاہے تو الفاظ ہی اس کو ہیئت عطاکرتے ہیں، گویا خیال زندگی ہے اورالفاظ پیکر، ظاہر ہے کہ زندگی بغیرپیکرکے آسانی سے نہ دیکھی جاسکتی ہے نہ سمجھی جاسکتی ہے، مگراس کے وجودسے انکارنہیں کیا جاسکتا ،روح بغیر قالب کے ہماری سمجھ میں آئے یانہ آئے مگرماننے والوں کے نزدیک اس کا ہونامسلم ہے، بہرحال روح بغیرجسم کے اورجسم بغیر روح کے بے معنی تونہیں، مگرناقابل فہم ضرورہے، ان دونوں کاساتھ ناگزیرہے، دنیا زیادہ تر ظاہری وجسمانی حسن سے متاثر ہوتی ہے، روح کی رعنائی کا بھی معیار اسی کوسمجھتی ہے ،معنوی وباطنی حسن کو دیکھنا آسان کام نہیں، اسی لئے توکہا گیاہے کہ ؂
عشق کا حسن کہاں دیکھ سکے اہل جہاں
ورنہ یوسف سے زیادہ تھا زلیخا کا جمال
بہ لفظ دیگرعموماًطرزِ تحریر واداکے حسن کا جادو ہی سرچڑھ کربولتاہے، غالب کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ دنیائے شاعری میں ان کے ابتدائی نقوش باوجود تخیل کی ندرت کے کوئی جگہ ادب میں نہ پاسکے، لیکن جب انھوں نے زبان وبیان اورطرزِ ادا کی رعنائی میں معقول اضافہ کرلیا تووہی سب سے بلندجگہ پرنظرآئے،اگروہ ایسانہ کرتے توانھیں یہ بلندی نصیب نہ ہوتی۔
اس تناظر میں جب ہم ازہری صاحب کی عربی تحریروں کاجائزہ لیتے ہیں تووہ طرز تحریرکے اعلی مقام پرفائز نظر آتے ہیں، پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ آپ بے پناہ ذخیرۂ الفاظ کے مالک ہیں، وہ آپ کے ذہن میں اس طرح مستحضراور آپ کے سامنے اس قدردست بستہ کھڑے محسوس ہوتے ہیں کہ موقع ومحل کے اعتبارسے مطلوب الفاظ بے ساختہ خود بخود نوک قلم پر آجاتے ہیں، ان کا ایسا برمحل استعمال کرتے ہیں خصوصاً افعال کے صلات کو ایسی مہارت سے برتتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کہیں سے بھی آپ کے غیرعرب ہونے کا شبہ نہ ہو، جبکہ برصغیرکے دوسرے لکھنے والوں کے یہاں اس سلسلے میں ایسی لغزشیں پائی جاتی ہیں جوان کی عجمیت کی چغلی کھاتی ہیں، آپ کے یہاں مشکل وبھاری بھرکم الفاظ کا بے تکا استعمال نہیں ملتا، جس سے اسلوب اور طرز تحریر کی رونق ورعنائی جاتی رہے، جب کہ دوسرے حضرات اسی کو معیار ادب سمجھ بیٹھے ہیں، ان کی تحریروں میں مشکل ترین اوربھاری بھرکم الفاظ کی ایسی بھرمار ہوتی ہے جس سے وہ نہایت بوجھل اوربھدی ہوجاتی ہیں، اپنا حسن وجمال کھوبیٹھتی ہیں، قارئین کے ذوق پرایسی گراں گذرتی ہیں کہ وہ ان سے متنفرہوجاتے ہیں، کچھ لوگوں کی تحریروں میں بہ تکلف وزبردستی مترادفات کی ایسی کثرت پائی جاتی ہے جس سے شبہ ہونے لگتا ہے کہ لکھنے والا احساس کمتری میں مبتلاہے، اورمترادفات کی بے جاکثرت سے اپنے اس احساس کو مٹانا چاہتاہے، آپ کی تحریروں میں اس طرح کاشائبہ تک نہیں ملتا، آپ کے جملوں میں بلاکی ہم آہنگی، ترکیبوں میں شدید ارتباط، عبارتوں میں دریا کی روانی وسلاست پائی جاتی ہے، اسلوب ایسا جاذب وپرکشش کہ قاری کھنچتا چلاجائے، تحریر اگر مضمون ومقالہ کی صورت میں مختصر ہوتواسے ختم کئے بغیر دم نہ لے، فقروں کی زنجیروں سے ایسی مترنم آواز ابھرتی ہے جوکانوں میں رس گھول دے۔
خشکی مذہبی تحریروں کا ایک لازمی جزء سمجھ لی گئی ہے، آپ کی اکثرعربی تحریروں کا تعلق مذہبی امورسے ہے، لیکن مذکورہ صفات سے متصف آپ کی طرز تحریر کاکمال ہے کہ انھیں بھی گل وگلزار بنادیاہے۔
خلاصہ یہ کہ آپ کی طرز تحریر ایسی عمدہ کہ لطافت وشادابی سطر سطر سے عیاں اورآمد وبے ساختہ پن لفظ لفظ سے نمایاں ہے، اسی طرزِ تحریر کے باعث جب عصرحاضر کے ہندوستانی ادباء کی تاریخ مرتب کی جائے گی توآپ کا شمار صف اول کے ادیبو ں میں ہوگا۔

عربی زبان وادب میں ڈاکٹرحافظ مقتدیٰ حسن ازہری کا مقام apr-jul 2010

مولانامطیع اللہ حقیق اللہ مدنیؔ
استاد مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کرشنانگر
عربی زبان وادب میں
ڈاکٹرحافظ مقتدیٰ حسن ازہری کا مقام
ہندوستان میں جماعتِ اہل حدیث میں بڑے نامی گرامی اہل علم وفن گذرے ہیں اسلامی، شرعی علوم کے جملہ شعبوں میں ایسی باکمال ہستیاں موجود رہی ہیں،جنھوں نے علوم وفنون میں اپنی واضح خدمات اورانمٹ نقوش چھوڑرکھی ہیں۔
ملی اورجماعتی تاریخ میں ضلع اعظم گڈھ کی خاک سے اٹھنے والے ناموران علم وفن کاایک زریں سلسلہ اورعظیم نمایاں سنہری تاریخ سے جس پربجاطورپر نازواافتخار کیاجاسکتاہے۔
ضلع اعظم گڈھ کے مشہورقصبہ مؤناتھ بھنجن کی علمی وادبی خدمات بھی قابل صدافتخار ہیں،یہاں کے اساطین علم وفن مؤلفین ومصنفین اورباکمال ادباء وشعراء وغیرہم أکابررجال اپنے اپنے اختصاص میں ان کی روشن تاریخ ہے۔
اسی شہرعلم وادب مؤناتھ بھنجن کے اکابرعلم وادب میں بالخصوص عربی وادب میں عظیم الشان خدمات انجام دینے والی ایک عظیم ہستی،نابغہ روزگار شخصیت اورمختلف اوصاف حمیدہ سے متصف اور خدمات کثیرہ کی حامل ذات کا نام نامی ،اسم گرامی’’مقتدی حسن بن محمدیاسین بن محمدسعیدہے‘‘ جن کا تعلق اس شہرکے علمی طورپر سب سے زرخیز محلہ ڈومن پورہ سے تھا، ’’جناب مقتدی حسن کے نانا مولانا محمدنعمان صاحب اعظمی شیخ الحدیث مدرسہ دارالسلام عمرآباد مدراس شیخ الکل فی الکل کے تلمیذ تھے۔
ڈاکٹر حافظ مقتدی حسن صاحب ازہری نے انتہائی بھرپوراسلامی وادبی خدمات کی انجام دہی کرتے ہوئے ۳۰؍اکتوبر۲۰۰۹ء ؁ مطابق ۱۰؍ذی قعدہ ۱۴۳۰ھ ؁ کو انتقال کیا،رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃً۔
ان سطورمیں ان کی عربی وادبی خدمات پرروشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ڈاکٹرصاحب نے مؤکی علمی، ادبی، تہذیبی اورثقافتی فضامیں آنکھیں کھولیں، عربی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ عالیہ عربیہ ڈومن پورہ میں حاصل کرنے کے بعدمدرسہ اسلامیہ فیض عام سے عالمیت کی سند حاصل کی، ۱۹۶۱ء ؁ میں مدرسہ اثریہ دارالحدیث سے سندفراغت حاصل کیا، اس شہرکے نابغہ روزگار، جامع المعقول والمنقول شخصیات کے سامنے زانوئے تلمذطے کیا، علم وفن میں نبوغ وکمال حاصل کرنے کے لئے عربی فارسی بورڈ اترپردیش کے مولوی، عالم اورفاضل کے امتحانات پاس کیا۔
عربی زبان وادب سے لگاؤ تھا،اس میں کامل دستگاہ کی خاطر اورعلمی تشنگی بجھانے کے لئے آپ نے عالم اسلام کی سب سے مؤقر درسگاہ جامع ازہر مصرکا رخ کیا وہاں آپ نے عربی زبان وادب میں ایم.اے. کیا ،چندسال تک وہاں قاہرہ ریڈیواسٹیشن سے منسلک رہ کر اردوشعبہ میں مترجم اوراناؤنسرکی حیثیت سے کام کیا۔
قاہرہ کے قیام میں آپ نے عربی زبان وادب کا گہرامطالعہ کیا،اورعربی تحریر اورانشاء پردازی کا ہنرسیکھا، عربی سے اردومیں ترجمہ کرنے کی مہارت حاصل کی، عربی ادب کی تاریخ اورمنظوم ومنشور ادب کاغائرانہ مطالعہ کیا،۱۹۶۸ء ؁ میں وطن کی طرف مراجعت فرمائی۔
دارالحدیث اثریہ سے فارغ التحصیل ہونے کے معاً بعد آپ نے مدرسہ فیض عام میں دوسال تک تدریس کا کام کیا۔
مصرسے واپسی کے بعد آپ کو جامعہ سلفیہ بنارس کے ذمہ داروں نے جامعہ میں تدریس کے لئے طلب کیا، آپ نے ۱۹۶۸ء ؁ سے تادم واپسیں ۲۰۰۹ء ؁ تک جامعہ سلفیہ بنارس سے منسلک رہ کر مختلف مناصب جلیلہ پرفائز ہوکر ہمہ جہت عظیم خدمات انجام دیں۔
جامعہ سلفیہ بنارس سے وابستہ ہوکر آپ نے تحصیل علم کا سفربھی جاری رکھا، ملک کی عظیم یونیورسٹی’’علیگڈھ مسلم یونیورسٹی ‘‘ سے ۱۹۷۲ء ؁ میں ایم.فل. اور ۱۹۷۵ء ؁ میں ڈاکٹریٹ(پی.ایچ.ڈی) کی ڈگری حاصل کیا،آپ کے مقالہ کا عنوان تھا’’تخریج أحادیث بہجۃ المجالس لابن عبدالبر(الجزء الثانی)
ڈاکٹر صاحب موصوف کی علمی ودعوتی، تصنیفی، تحقیقی، تدریسی ،تنظیمی،ملی اورجماعتی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، جامعہ سلفیہ بنارس کے اسٹیج سے آپ ان تمام خدمات کوبحسن وخوبی انجام دیا، اپنے وقت کی قدروقیمت کوپہچانا، اورانھیں عظیم النفع کاموں میں صرف کیا، نیز مطلوب جدوجہد ،انتہک کوشش اورجفاکشی سے کام لے کر متنوع اعمال کوپایۂ تکمیل تک پہونچاکرتاریخ میں اپنا نام روشن کیا۔
جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے مختلف شعبہائے علم وفن میں ان کی شاہکار تصنیفات وتالیفات ہیں:
صحافتی میدان میں بھی جماعت کی خدمات قابل قدر ہیں، تقسیم ملک سے پہلے جماعت کے مختلف جرائد ومجلات شائع ہواکرتے تھے،مگر میرے علم ومطالعہ کی حدتک تقسیم ملک کے بعدپورے ملک ہندوستان میں صرف دیوبند سے الداعی، اورندوۃ العلماء سے’’الضیاء‘‘، ’’البعث الإسلامیاور الرائد نامی عربی مجلات شائع ہوتے تھے جن کی عمریں بھی کچھ زیادہ طویل نہ تھیں۔
جامعہ سلفیہ بنارس کی تاسیس ۱۹۶۳ء ؁ میں عمل میں آئی تھی، تدریس کا آغاز ۱۹۶۶ء ؁ میں ہوا، اساطین علم وفن کو بقدراستطاعت برائے تعلیم وتربیت جامعہ کی علمی خدمات پر مامورکیاگیا تھا، ارباب جامعہ کے عزائم انتہائی بلند تھے، منصوبے بھی عظیم سے عظیم ترتھے،انھیں منصوبوں میں جامعہ کااردوآرگن اورعربی آرگن کی ماہانہ نشرواشاعت بھی تھی۔
اردو ماہنامہ کی اشاعت اوراس کی طباعت وتقسیم کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں دیرنہ لگی تھی۔ مگرعربی ماہنامہ کی اشاعت کسی عربی زبان کے ماہرعالم اورزبان وادب پرمتمکن ادیب وانشاء پرداز کی محتاج تھی۔ عربی ماہنامہ میگزین کی اشاعت کا دیرینہ خواب،شرمندہ تعبیرہونے کے لئے کسی بالغ نظرعربی صحافی، بہترین قادرفن مضمون نگار اوروسیع المطالعہ صاحب قرطاس وقلم کی منتظرتھی۔
۱۹۶۸ء ؁ میں جب ڈاکٹر صاحب جامعہ سلفیہ بنارس سے منسلک ہوئے توعربی مجلہ کی اشاعت کاخواب شرمندہ تعبیرہوا، اور’’صوت الجامعہ‘‘نامی مجلہ کی اشاعت عمل میں آئی، ڈاکٹرصاحب اس کے مدیر مقررہوئے اورآپ کی ادارت میں یہ مجلہ برابر شائع ہوتا رہا۔ صوت الجامعہ پھر مجلہ الجامعہ السلفیہ اورآخیرمیں اب تک صوت الامۃ کے نام سے شائع ہورہاہے ۔
تقریباً چالیس برس تک کسی عربی میگزین کی مسلسل اشاعت اس کے لئے اداریئے تحریر فرمانا۔ نیز دیگرمتعدد مقالات حوالہ قرطاس وقلم کرنا اور اس میں ملک وبیرون ملک کے متعددنامورعلماء ادباء اورمشاہیر قلم کے نگارشات کی پروف ریڈنگ ،تصحیح وترتیب وغیرہ ایک عظیم ادبی وثقافتی خدمت ہے جسے آپ نے بڑی دلجمعی اورلگن سے انجام دیاہے،صرف جامعہ کے اس ماہنامہ میں اشاعت پذیر ادارتی اوردیگر عربی مقالات کی تعداد ۳۵۸ہے:
آپ نے اپنے ان ادارتی مضامین اوردیگرمقالات میں عقیدہ، تاریخ، سیرت وسوانح، زبان وادب، حدیث وفقہ، دعوت وارشاد وغیرہ اورملک وملت اورجماعت نیز حالات حاضرہ کے سلگتے ہوئے اورانہتائی حساس اوراہم ترین مسائل وتاریخی حوادث پرروشنی ڈالنے اور ایک دیدہ ور،بالغ نظر،صحافی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
صرف یہ حجم ہی عربی زبان وادب کی خدمت کے لئے کافی ہے، اس طرح اس مجلہ کے ذریعہ آپ نے اپنی،جامعہ اورجماعت کی فکرسے عالم عرب کو روسناش کرانے کی بھی ایک کامیاب کوشش کی جس کی بوجوہ ضروت بھی تھی اوراس میں افادیت کے بے شمار پہلوبھی پوشیدہ تھے۔
یوں عربی زبان وادب میں اپنابھرپور کردارکرنے کے ساتھ آپ نے جامعہ وجماعت کا صحیح پیغام عالم اسلام خصوصاً عالم عرب تک پہونچانے کی ذمہ داری نبھائی، جس کا بجاطورپر اعتراف کیاگیا،سعودی عرب کی طرف سے آپ کو صوت الامۃ کی بہترین ادارت پر’’سند‘‘ عطاکی گئی تھی جوآپ کے بہترین اعلیٰ پایہ عربی صحافت ہونے کا اعتراف ہے۔
جماعت اہل حدیث کی تاریخ میں خصوصاً آزادی کے بعداس جماعت کا یہ عربی مجلہ پہلا مجلہ تھا، آپ اس کے اول مدیرتھے،یوں آپ نے ایک طویل عرصہ تک عربی مجلہ کے مدیرکی حیثیت سے جماعتی تاریخ میں اپنانام درج کروانے میں کامیابی حاصل کی۔
یہ ایک حقیقت ہے جس کا اعتراف کرناچاہئے کہ ملک کے اندر جماعت میں ہمیشہ بالغ نظراہل علم رہے ہیں جو علوم اسلامیہ عربیہ میں یدطولی رکھتے تھے، قواعد وبلاغت اوردیگرخالص ادبی فن میں بھی نبوغ وکمال رکھتے تھے۔ اردوزبان وادب میں توان کا کوئی ثانی کم ہی نظرآتا ہے۔البتہ عربی زبان وادب میں نطق وتکلم اورتحریر وانشاء پردازی برجستہ طورپرمقالہ نگاری اورمضمون نویسی میں صحیح معنی میں کامل دستگاہ کے حامل اہل قلم کم تھے۔ عربی زبان کی ساری باریکیوں سے واقف ہونے کے باوصف نطق وتکلم کی مہارت نیز کتابت وتحریرکی مہارت میں ضعف کے شکارتھے’’الکلمۃ لفظ وضع لمعنی مفرد‘‘پرہفتوں درس دیتے ہوئے بال کی کھال نکالنے میں جواپناکوئی ثانی نہیں رکھتے تھے، ان میں سے کئی ایک چند صفحات کا مقالہ۔ کسی بھی دینی واسلامی موضوع پر بھی۔ برجستہ حوالہ قلم کرنے میں عجزوضعف کاشکارنظرآتے تھے۔
ایسے ماحول میں ڈاکٹرازہری صاحب کی عربی مقالات، صوت الامہ میں عربی اداریاجات ، المنارمیں عربی مضامین ،نیزادارہ ’’ادارہ البحوث الاسلامی والدعوۃ والافتاء‘‘بنارس کی جانب سے متعدد موضوعات سے متعلق شائع ہونے والی خود ان کی اوردیگر بہت سے اہل علم وفن، ارباب قلم علماء وادباء کی عربی کتابوں پراپنے گوہر بارقلم سے وقیع مقدمات تحریرفرمانا عربی زبان وادب کی وہ شاندار خدمت ہے جس کی نظیرماضی میں ملنی مشکل ہے۔
اگر ان داریوں کے تمام عناوین، صوت الامہ اوردیگر مجلات ورسائل اورجرائد میں شائع مطول ومختصر مقالات کے عناوین اورعربی کتابوں پر ان کے تحریر کردہ مقدمات وتقاریظ کے عناوین جمع کریئے جائیں توپھر آپ کی زبان عربی کی خدمت میں نمایاں کردار اداکرنے کی شہادت کے لئے کافی ہوگا اوربجاطور پرآپ کو عربی زبان کا ایک بہترین ادیب عظیم صحافی اوربلندپایہ انشاء پرداز قراردیا جاسکتاہے۔
عربی زبان وادب میں اپنی خدمات کو صرف صوت الامۃ کی ادارت اورمقالات نویسی اورمقدمہ نگاری تک محدود نہیں رکھابلکہ آپ عربی زبان میں مستقل طورپر کئی کتابیں تالیف وتصنیف کی ہیں،آپ کی عربی کتابوں کے نام یہ ہیں:
۱۔ منصورالفقیہ،حیاتہ وشعرہ۲۔ حقیقۃ الادب وظیفتہ۔۳۔مشکلہ المسجد الباری فی ضوء التأریخ والکتابات المعاصرۃ۔۴۔نظر إلی مواقف المسلمین من أحداث الخلیج۔۵۔القادیانیۃ۔۶۔ قراء ۃ فی کتاب’’الحالۃ الخلیفہ للعالم الإسلامی‘‘۔
ان کتابوں میں اکثرمطبوع ہیں بعض صوت الامۃ میں اولاً قسط واراشاعت پذیرہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض غیر مطبوع بھی ہیں ان کے عناوین سے موضوعات وافکارکے تنوع کا اندازہ کیاجاسکتا ہے جس سے آپ کے علم ومطالعہ کی وسعت وکثرت اورثقافت کے تنوع کاپتہ چلتاہے اورعربی زبان وادب میں تصنیف وتالیف کے میدان میں ایک کامیاب شہ سوار ہونے کے لئے شاہد عدل ہے ۔
*عربی زبان وادب کی خدمات کا ایک اہم شعبہ عربی تالیفات اورعربی مقالات ومضامین کا دنیا کی دوسری زندہ زبانوں میں اس کی ترجمانی ہے تاکہ عربی زبان سے ناواقف حضرات کوان افکار وخیالات سے آگاہ کیاجائے اورعربی زبان میں مدون دینی وثقافتی معلومات سے انھیں روشناس کیاجائے۔
اسی طرح خود عربی کے علاوہ دیگرزبانوں کی تصانیف کو عربی قالب میں ڈھال کر عربوں کوان معانی ومفاہیم سے آگاہی اوران سے استفادہ کاموقع ہپہونچایاجائے اوردیگر زبانوں میں تالیف اسلامی تعلیمات وافکارسے فائدہ اٹھانے کاموقع دیاجائے،اس مجال میں ڈاکٹرصاحب موصوف کی خدمات ازحد نمایاں اورغایت درجہ روشن ہیں۔
ڈاکٹرازہری صاحب اردو اورفارسی زبان وادب سے بخوبی آگاہ تھے۔ اوران زبانوں پرقدرت رکھنے کے ساتھ ان کا عربی ترجمہ کرنے پرکامل عبوررکھتے تھے۔ ترجمہ کے اسرارورموز سے آپ خوب آگاہ وآشناتھے۔ چنانچہ آپ نے متعدد قیمتی علمی،ادبی اوراسلامی کتابوں کاجواردو اورفارسی زبان میں لکھی گئی تھیں۔ بامحاورہ ،رواں عربی زبان میں ترجمہ کیا اورعربی دان حضرات کو ان سے بھرپور استفادہ کاموقع فراہم ہے اسی طرح اہم قیمتی عربی زبان میں لکھی گئی کتب کا اردومیں صاف اورشستہ ترجمہ کرکے اردو زبان جاننے والوں کو ان سے فائدہ اٹھانے کا موقع عنایت کیا،یوں آپ نے عربی زبان وادب کی عظیم نمایاں اورقابل قدر خدمت انجام دی۔
ذیل میں اردواورفارسی سے عربی زبان میں مترجم کتابوں کی فہرست پیش کی جارہی ہے:
*اردوسے عربی تراجم:
۱۔ قضایا کفایۃ التأریخ الإسلامی وحلولھا:للدکتور لیسی مظہرالصدیقی
۲۔رحمۃ للعالمین:للعلامۃ القاضی محمدسلیمان السلمان المنصورفوری.
۳۔النظام الالٰہی للرقی والانحطاط :للعلامۃ محمداسماعیل غجرانوالہ.
۴۔حرکۃ الانطلاق الفکری وجھود الشاہ ولی اللہ فی التجدید.
۵۔مسالۃ حیاۃ النبیﷺ :للعلامۃ محمداسماعیل غجرانوالہ.
۶۔زیارۃ القبور :للعلامۃ محمداسماعیل غجرانوالہ.
۷۔حجیۃ الحدیث النبوی الشریف: :للعلامۃ محمداسماعیل غجرانوالہ.
۸۔النصرانیۃ الحاضرہ فی ضوء التأریخ والبحث العلمی:للعلامۃ مصلح الدین الأعظمی.
۹۔ عصرالالحاد خلیفتہ التأریخیۃ وبدایۃ نھایۃ:للشیخ محمدتقی الأمینی.
۱۰۔بین الانسان الطبیعی والإنسان الصناعی:للشیخ محمدتقی الأمینی.
۱۱۔الإسلام تشکیل جدید للحضارۃ:للشیخ محمدتقی الأمینی.
۱۲۔جماعۃ المجاہدین:للعلامۃ غلام رسول مہر۔
فارسی سے عربی تراجم:
(۱)قرۃ العینین فی تفصیل الشیخین :للشاہ ولی اللہ الدھلوی.
(۲)الاکسیر فی أصول التفسیر:للنواب محمدصدیق حسن البوفالی.
عربی سے اردوتراجم:
۱۔راہ حق کے تقاضے:ترجمہمختصر اقتضاء الصراط المستقیم،للشیخ الإسلام ابن تیمیۃ.
۲۔مختصرزاد المعاد:ترجمہمختصر زادالمعاد لابن قیم الجوزیۃ،للشیخ محمد بن عبدالوہاب.
۳۔اصلاح المساجد:ترجمہ اصلاح المساجد من البدع والعوائدللشیخ محمدجمال الدین القاسمی.
۴۔عظمتِ رفتہ:ترجمہ:سقوط ثلاثین دولۃ ،للشیخ عبدالحلیم عویس.
۵۔رسالت کے سایے میں:ترجمہ:فی ظلال الرسول ﷺ،للشیخ عبدالحلیم عویس.
۶۔خادم الحرمین الشریفین کا حقیقت افروز بیان:ترجمہ:کلمات منتقاۃ من خادم الحرمین الشریفین.
۷۔اسلامی شریعت میں اعضاء کی پیوندکاری:ترجمہمقالات المشائخ العرب .
۸۔آپ بیتی:ترجمہ أنا للعباس محمود العقاد.
اردو فارسی سے عربی اورعربی سے اردوترجمانی بہرحال عربی زبان وادب کی ایک یہ لازوال خدمت ہے۔ اس مذکورہ فہرست سے آپ کی اس عظیم کدوکاوش کا اندازہ لگانابالکل دشوار نہیں ہے جوآپ نے لسانِ عربی مبین کی خدمت میں صرف کیا۔
ان مذکورہ بالاخدمات کے علاوہ دراصل عربی ادب اوراسلامی علوم کی خدمات کا ہی عظیم ترین حصہ آپ کی وہ کتابیں بھی ہیں جوآپ نے مستقلا تالیف فرمائیں ہیں،اس لئے کہ آپ کی ان تالیفات ان کتابوں میں آپ کی وہ شاہکار تصنیف ہے جس کانام ہی ’’تاریخ الادب العربی‘‘ ہے یہ تصنیف پانچ جلدوں پرمشتمل ہے جس میں ادب عربی کی جاہلی، اسلامی اموی عباسی دورکی پوری تاریخ اورعربی زبان کے معروف ادباء ارباب نثراوراصحابِ الدواوین نظماء وشعراء کی تاریخ کو قلمبند کیاگیاہے۔
اس عظیم تالیف کے علاوہ آپ کی تصانیف کے اسماء درج ذیل ہیں:
*خاتون اسلام،مسلم نوجوان اوراسلامی تربیت۔*عصری حاضرمیں مسلمانوں کو سائنس اورٹکنالوجی کی ضرورت۔*قرآن کریم پرغور وتدبر مذہبی فریضہ ہے۔*رمضان اور عیدالفطر تربیتی نقطۂ نظرسے۔*ہم کیاپڑھیں؟:*مسلمان اوراسلامی ثقافت۔*شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود اورمملکت سعودی عرب۔*ہندوستان میں تحریک اہل حدیث اورجدیدتقاضے۔
ان کتب ومقالات ،ومقدمات وتراجم کے علاوہ بھی متعدد جرائد ومجلات ورسائل میں آپ کے تقریباً ۲۶ مقالات شائع ہوئے۔
ملک وبیرون ملک مؤقر کا نفرنسوں اورسمیناروں میں آپ نے چالیس مقالات پیش کئے ان میں سے کئی اہم مقالے عربی زبان میں ہی قلمبند کئے گئے تھے۔
آپ مختلف اوقات وایام میں اہم اعزازات سے نوازے اورجلیل القدر مناصب پر مامورکئے گئے، مختلف دینی اسلامی علم ادبی اورثقافتی اداروں اورتنظیموں کے رکن رکین بھی رہے ان میں بعض کاذکرکیاجارہاہے:
رکن: مسلم یونیورسٹی علیگڈھ۔ رکن: عالمی رابطہ ادب اسلامی۔
رکن:جمعیۃ المثقفین للتوعیۃ الاسلامیہ۔ رکن:دینی تعلیمی کونسل اترپردیش:
رکن: تعلیمی کمیٹی جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں۔
عربی زبان وادب کی نمایاں اورقابل صدافتخار خدمات کی انجام دہی پرآپ کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طورپر ۱۹۹۳ء ؁ میں حکومت ہند نے’’ صدرجمہوریہ ہندایوارڈ‘‘ عطاکیاتھا۔
خلاصہ القول یہ ہے کہ ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری کی عربی زبان وادب کی خدمت میں غایت درجہ قابل قدرحصہ ہے’’این کا راز توآید ومردان چنیں کنند۔
ڈاکٹر صاحب کی عربی زبان وادب کی خدمت کا اہم حصہ یہ بھی ہے کہ آپ کے زیرتربیت آپ کے متعدد تلامذہ نے عربی مضمون نگاری اورعربی صحافت کا ہنرسیکھا اورآپ کی رہنمائی میں اس فن میں کمال پیداکیا آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں ہے جن میں سیکڑوں انتہائی ہونہار ہیں،جوآج مختلف علوم وفنون میں یدطولی رکھنے کے ساتھ عربی زبان وادب کی ہمہ گیر خدمت میں مصروف کارہیں۔
دعا گوں ہوں کہ مولائے کریم توحافظ مقتدی حسن ازہری کی خدمات کو قبول فرماکر ان کی مغفرت فرما اورانھیں جنت الفردوس میں جگہ عطافرما۔(آمین)

ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری اوران کی تعلیمی وفکری تربیت پر مبنی خدمات apr-jul 2010

مولانا محمدصہیب سلفیؔ
استاد جامعہ اسلامیہ خیرالعلوم ڈمریا گنج
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری
اوران کی تعلیمی وفکری تربیت پر مبنی خدمات
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمۃ اللہ علیہ اس دورقحط الرجال میں ایک جامع شخصیت کے حامل، اسلامی نظریات وافکارکے ایک عظیم اسکالر، اسلام کے ہمہ جہت مسائل پر ہروقت گفتگو کرنے والے، ایک کردار ساز، بہترین منتظم، مربی اور مشفق استاد تھے۔
ڈاکٹر صاحب ایک بڑے ہی مشفق استاد تھے، آپ کی تدریسی خدمات عظیم ہیں، تاحیات اس میں لگے رہے، جامعہ کی درسی کتابوں کے نصاب کی تیاری اورحالات کے مطابق اس میں ترمیم آپ ہی کی کاوشوں کا ثمرہ ہے، طلباء کی انجمن’’ندوۃالطلبۃ‘‘ اوراس سے شائع ہونے والے سالانہ میگزین ’’المنار‘‘پر خصوصی توجہ دیتے تھے، ذمہ دارطلباء کی تربیت کرتے تھے اوران کومفید مشوروں سے نوازتے تھے۔
طرق تدریس آپ کا بہت اچھاتھا، کبھی کہیں جھول دیکھنے کونہیں ملا، عبارت خوانی کے دوران کوئی فاش غلطی ہوتی توکبھی کبھارڈانٹتے تھے اکثر درگذرسے کام لیتے ہوئے خود تصحیح کرکے پڑھ دیتے تھے۔
سبعہ معلقہ طلباء کے درمیان ایک مشکل ترین کتاب مانی جاتی ہے آپ کا طریقۂ تدریس اس کے سلسلے میں یہ ہوتاتھا کہ سبق پڑھانے سے پہلے ہی طلباء کو حل لغات لکھا دیتے تھے تاکہ طلباء کوپڑھاتے وقت سمجھنے میں آسانی ہو، یہی وجہ ہے کہ وہ کتاب آسانی سے سمجھ میں آجاتی تھی پھرکسی دوسرے استاد سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔
انشاء پڑھانے کاطریقہ بھی بہت اچھاتھا، کورس کی تمرینات کے ساتھ ساتھ عربی اخبارات کی چھوٹی چھوٹی خبروں کے ترجموں کی تصحیح کرتے تھے اورطلباء اس میں آزاد ہوتے تھے۔
اورفکری طورپر آپ منہج سلف کے مطابق بچوں کی تربیت کرتے تھے، کبھی ضرورت محسوس کی توطلباء کو خطاب کرکے ان کو آگاہ کرتے تھے، آپ’’عالمی مسائل‘‘ اورخاص طورسے ’’مسائل عالم اسلامی‘‘ سے گہری واقفیت رکھتے تھے، جب کویت اورعراق کے مسئلے کولے کرخلیجی بحران پیداہوا تواس وقت جامعہ سلفیہ میں طلباء دوگروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ سعودیہ عربیہ اورکویت کواچھاکہتا تھا اوردوسرا گروہ عراق کو اچھاکہتاتھا، دوسراگروہ یہ کہتا تھا کہ سعودیہ عربیہ نے امریکہ سے دوستی کررکھی ہے اور امریکہ ایک عیسائی ملک ہے اورعیسائیوں اورکافروں سے دوستی حرام ہے کیونکہ قرآن میں اس سے منع کیاگیا ہے، یہ معاملہ طلباء کے درمیان بہت گرم ہوگیا، ایک دن مولانا عابدحسین صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مسجدمیں طلباء سے خطاب کیا اورطلباء کے دوسرے گروہ کے موقف کی حمایت کی اوردلیل کے طورپر سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۵۱(یاایھاالذین آمنوا لاتتخذوا الیھود والنصٰریٰ اولیاء بعضھم اولیاء بعض ومن یتولھم منکم فإنہ منہم إن اللہ لایھدی القوم الظالمین)پڑھ کر سنائی، اوریہ مجلس کسی نماز کے بعدہی منعقد ہوئی تھی اس میں ازہری صاحب بھی موجود تھے،انھوں نے سعودی عرب اورامریکہ کے درمیان موالاۃ ومحبت کے تعلق کودرست بتایا اورکہاکہ شرسے بچنے کے لئے یہ جائز ہے، اللہ نے اس کی اجازت دی ہے اس طرح کی باتیں بتائیں، اورسورہ آل عمران کی آیت نمبر۲۸(لا یتخذ المومنون الکفرین اولیاء من دون المومنین ومن یفعل ذالک فلیس من اللہ فی شیء إلا أن تتقوا منھم تقٰۃویحذرکم اللہ نفسہ وإلی اللہ المصیر)کودلیل کے طورپر پیش کیں اور شاید سورہ ممتحنہ کی آیت نمبر ۷ اور۸ (عسی اللہ أن یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منھم مؤدۃ واللہ قدیر واللہ غفوررحیم )اور(لاینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم أن تبروھم وتقسطوا إلیھم إن اللہ یحب المقسطین)سے بھی استدلال کیا،اس کے بعدطلباء کی ذہنی وفکری تشویش ختم ہوگئی۔
آپ ’’تحریک وہابیت‘‘اور ’’تحریک شہیدین‘‘کے بڑے مداح تھے، تحریر وتقریردونوں میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔
آفس ہویاکلاس روم یاطلباء کی کوئی مجلس اس میں طلباء کی اتنے اچھے ڈھنگ سے تربیت کرتے تھے جیسے لگتا تھاکہ اس پرعمل کرلیاگیا توبڑے سے بڑامعرکہ سرکرلیاجائے گا اورمشکل سے مشکل معاملہ چٹکیوں میں حل کرلیاجائے گا اورایسا تھا بھی، اورکبھی کبھار شریرطلباء کی سرزنش کرتے تھے تولہجہ قدرے بلندہوجاتا تھا اوران کوڈانٹتے بھی تھے اوران پر تنقید بھی کرتے تھے۔
ماحول کوپرسکون بنائے رکھنے کا بڑاخیال تھایہ اوربات ہے کہ کچھ ناعاقبت اندیش طلباء آپ کی علمی وفکری اورانتظامی حیثیت کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔
جب بابری مسجد کامعاملہ بہت تشویشناک حدتک پہونچ چکاتھا اورجگہ جگہ فسادات ہورہے تھے توطلباء کی ایک جماعت آئی اورآپ سے کہاکہ جامعہ میں چھٹی کردیجئے تاکہ طلباء بحفاظت اپنے گھروں کو چلے جائیں، اس وقت ازہری صاحب نے طلباء کو خطاب کیا اورکہاکہ تم لوگوں کی مثال ان منافقین جیسی ہے جنھوں نے غزوۂ احزاب کے موقعہ پر کہاتھا(إن بیوتنا عورۃ وماہی بعورۃ إن یریدون إلا فرارا)۔
ایک دفعہ کی بات ہے کہ مولانا مطیع الرحمن چترویدی (یہاں)جامعہ سلفیہ بنارس میں آنے والے اور بچوں کوخطاب کرنے والے تھے، ان کاخطاب بہت لمباہواکرتا تھا اوروہ خاص طورسے تکوینی امورپر ہی تقریر کرتے تھے اوروہ طلباء میں آکریہی تقریر کرتے، طلباء کی فکری انتشار کے خوف سے ازہری صاحب نے طلباء کوخطاب کیا اورچترویدی صاحب پر ہلکی سی تنقید کی جس سے طلباء کا انتشارکم ہوا اوران کا معاملہ معمول پر آگیا۔
ازہری صاحب چاہتے تھے کہ فراغت سے پہلے پہلے طلباء یکسوئی سے پڑھیں لکھیں اورذہنی وفکری انتشار سے بچتے رہیں اورکسی دوسری تنظیمات وجمعیات کاشکار نہ ہوں، ایک اسلامی تنظیم نے بنارس میں علمی کمپٹیشن کروایا اوراس کے افراد جامعہ سلفیہ میں بھی آئے اورطلباء نے بھی حصہ لیا، ازہری صاحب کو جب معلوم ہوا توطلباء کو خطاب کیا اوراس خطاب میں کہا:’’مال ہم تیار کرتے ہیں اورمہرکوئی اورلگاتا ہے‘‘۔
ایسے ہی کوئی سمینار منعقد ہوتا اورمقالہ نگارحضرات اپنا اپنا مقالہ پڑھتے اگرکوئی مقالہ نگار منہج سے ہٹتا تو طلباء کی موجود گی میں اس مقالہ پر کبھی خود تنقید کرتے یا کسی دوسرے فاضل مقالہ نگار سے تنقیدکرواتے۔
درحقیقت ازہری صاحب بیک وقت ایک عربی ادیب اورعظیم اسکالر تھے مجلہ’’صوت الأمۃ‘‘ اوران کی دیگرعربی اوراردو تصنیفات وتراجم وتالیفات اورمضامین اس کی شہادت دیتے ہیں ،یقیناًانھوں نے طلباء اورعلماء اورعوام سب کے لئے ادبی ،علمی، فکری اور دینی خدمات انجام دی ہیں ،عوام کے لئے دینی خدمات اس طورپر کہ برابر وہ ایک مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے،اورعربی ادیب اورعظیم اسکالر اس طورپر کہ درس وتدریس کے ساتھ ساتھ مختلف کانفرنسوں اورجلسوں میں شرکت کرتے تھے اورحقائق پرمبنی شواہد اوراستقرائی تحریروں سے خواص وعوام کوفائدہ پہونچاتے تھے،جامعہ سلفیہ میں میں نے اپنے چھ سالہ ۱۹۸۸۔۱۹۹۳،دورطالب علمی کے اندر میں نے دیکھاکہ مختلف موضوعات پرمتعدد چھوٹے بڑے سمیناراورکانفرنسیں منعقد کیں، سیرت طیبہ ﷺ اورابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ پرکانفرنسیں اسی دورمیں منعقدہوئیں۔
***

’’ apr-jul 2010خاتون اسلام‘‘ایک نظرمیں

مولانا عُزیراحمدکتاب اللہ سلفیؔ
استاد جامعہ اسلامیہ خیرالعلوم ڈمریا گنج
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری
اوران کی کتاب’’خاتون اسلام‘‘ایک نظرمیں
الحمدللہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم أمابعد!
’’خدابخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں‘‘ کے مصداق ،اللہ جل شانہ نے محترم ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری علیہ الرحمۃ میں بڑی خوبیاں ودیعت فرمائی تھیں، آپ بیک وقت عظیم مدرس ومحقق، معتبرادیب واسکالر، بے باک صحافی ومصنف، کامیاب مترجم وانشاء پرداز اورممتاز مربی ومفکرتھے، عربی واردوزبان پرکامل دسترس اورمکمل مہارت رکھتے تھے، تصنیف وتالیف ، ترجمہ وتحقیق کابڑا صاف وستھرا ذوق تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ کے قلم سیال سے دودرجن سے زائد ترجمے وکتابیں شائع ہوکر مقبول عام وخاص ہوچکی ہیں جبکہ متنوع اداریوں، فکرانگیز مضامین اورتحقیقی نگارشات کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اورمؤلفین ومترجمین کی کتابوں پرمقدمے اورتقریظات کم وبیش پانچ سوہیں۔
*اردوزبان وادب میں آپ نے قرآن وحدیث، مساجد ومدارس، دین ودعوت، توحید وتعلیم، عبادات ومعاملات، حقوق وفرائض، ادب وانشاء، سیاست وسماج وغیرہ جیسے عناوین وموضوعات پربڑی مفید اور انیق مقالات ومضامین قلم بند کئے ہیں جن کے مطالعہ سے آپ کی قلمی لیاقت وصلاحیت اورتحریری سرگرمی وذوق کا پتہ چلتاہے۔
*یوں تو اردوزبان میں آپ کی مستقل تصانیف کی تعداد ترجمے ومقالات سے کم ہیں مگرجوہیں وہ اپنے موضوع پربڑی منفرد، سنجیدہ، تحقیقی اورتاریخی ہیں،چنانچہ زیرتعارف کتاب’’ خاتون اسلام‘‘ اسی سلسلہ کی ایک بہترین کڑی ہے جسے عصرحاضر کے ایک حساس اورزندہ موضوع پرایک شاندار شاہکار اورگرانقدر تالیف کا درجہ حاصل ہے ملاحظہ فرمائیں کتاب کامختصر تعارف وسرسری جائزہ اور اندازہ لگائیں اس کی ضرورت ومقصدیت اورقدروحیثیت کا۔
۱:۔کذب واتہام، تحریف وتلبیس اورتزویر وپروپیگنڈہ بندی کے اس دورمیں اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے اسلام اوراحکام اسلام کے بارے میں نت نئے اعتراضات اورشبہات بڑے زور وشورسے کئے جارہے ہیں، ان میں یہ بات بڑی طاقت سے کہی جاتی ہے کہ اسلام میں ’’عورت‘‘کی کوئی حیثیت نہیں اورنہ ہی اسے کوئی اختیار وحقوق حاصل ہیں۔
مذکورہ کتاب کی دوسری وتیسری فصل اسی باطل پروپیگنڈہ کی تردید اوراسی غلط فہمی کے ازالے کے لئے تحریر کی گئی ہے اورعورت کی انسانی، مذہبی، معاشرتی، معاملاتی اورسیاسی حیثیت وغیرہ عناوین کے ذریعہ بڑے وثوق کے ساتھ یہ بتایاگیا ہے کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورت کواونچا مقام عطاکیاہے اوربحیثیت انسانی جینے کے وہ تمام حقوق دیئے جوفاطرفطرت نے نظام کائنات کے لئے مقررکیاہے، عام انسانی حیثیت، عزت وکرامت اور جملہ معاملاتی امورکے اندرمردوعورت کویکساں درجہ حاصل ہے، چنانچہ ہرانصاف پسند اس بات کو تسلیم کرے گا کہ اسلام نے عزت وشان کا جوبلند مقام عورت کودیاہے وہ اپنی نظیرآپ ہے۔
مصنف علیہ الرحمہ کے الفاظ میں(۱) ’’اسلام نے عورت کو ہرجگہ عزت واحترام کی نظرسے دیکھاہے اورمردکے ساتھ اس کے تعلقات کواستوار بناکر زندگی کوسدھارنے کی راہ بتائی ہے۔
(۲) اسلام کی نظرمیں عورت جس طرح مکمل انسان ہے اسی طرح اسے جملہ شہری وسماجی حقوق حاصل ہیں۔
(۳) اسلام نے عام انسانی، معاشرتی اورمعاملاتی میدان میں عورت کو مناسب مقام پررکھا ہے اوراسے اس کے جائز حقوق سے نوازاہے۔(دیکھئے :زیرتعارف کتاب ص:۴۱)
۲:۔مذہب اسلام سے قبل دیگر ادیان ومذاہب ،مختلف تہذیبوں اورمتعددسماجی مصلحین عورت کو بڑی منحوس، گناہوں کامخزن، مکاریوں کا محل، بدگمانیوں کا ڈیرا، اورہربرائی کاپیش خیمہ تصور کرتے تھے، لوگوں کا عورت کوگری پڑی چیزسمجھنا، اس کی خرید وفروخت کرنا، ان پرظلم وستم کے پہاڑتوڑنا، ان کے ساتھ نارواسلوک کرنا، انھیں کسی طرح کے شہری حق میں شامل نہ کرنا عام بات تھی۔
کتاب ہذا کی پہلی فصل میں درج ذیل عناوین’’عورت:یونانی تہذیب، رومن تہذیب، ہندی تہذیب، چینی ومصری تہذیب، یہودی ونصرانی تہذیب اورمغربی تہذیب میں،عورت بدھ و جین مذہب میں اورعورت جزیرۂ عرب میں‘‘کے حوالہ سے ثابت کیا گیاکہ اسلام سے پہلے عورت اپنے تمام حقوق وواجبات اورشرف وتکریم کے تمام مقامات سے ہمیشہ محروم رہی ہے، یہ صرف دعویٰ ہی نہیں بلکہ اس کا عتراف بہت سے انصاف پسند، تعلیم یافتہ اور غیرمسلم دانشوروں نے بھی کیاہے، جبکہ اسلام نے دیگر مذاہب وقوانین سے کہیں بہتر طورپر اس مسئلہ کاحل پیش کیاہے اورآج سے چودہ سوسال پہلے ہی اس نے عورتوں کو وہ تمام حقوق واختیارات عطا کردیئے ہیں جنھیں عورتوں نے اب جاکر حاصل کیاہے یاابھی بھی ان کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
*فرانس کے ایک اخبار’’ مانیٹر‘‘ کے الفاظ: ’’اسلام نے عورتوں کی معاشرتی حالت میں عظیم الشان اصلاح کی ہے، اس نے عورتوں کو جوقانونی حقوق دیئے ہیں وہ فرانس میں دیئے گئے حقوق سے کہیں زیادہ ہیں‘‘۔(خاتون اسلام ص:۸۱)
اور’’تمدن عرب‘‘ کے حوالے سے:’’اسلام نے عورتوں کے معاملہ کوسب سے زیادہ سدھارا ہے وہ پہلا مذہب ہے جس نے عورت کے درجہ کوبلندکیاہے، مشرق میں عورتوں کااحترام، ان کی تعلیم اورخوش بختی یورپ سے زیادہ ہے‘‘۔(خاتون اسلام:ص:۸۱)
*ان معلوماتی وتاریخی دستاویز کے علاوہ: عورت کی سربراہی، عورت کی ملازمت، ان کی عفت وعصمت، عورت کامثالی کردار، تعددازدواج، طلاق، رشتۂ زوجیت، اولادکی تربیت، زوجین سے متعلق احکام وآداب وغیرہ عناوین وموضوعات پرکتاب وسنت، اسلامی واقعات اورتاریخی حوالوں کی روشنی میں مصنف نے بھرپور مواد جمع کیاہے اوربڑی ذمہ داری سے اس حقیقت کوواضح کیاہے کہ عورتوں کے متعلق اسلامی احکام وقوانین پراعتراض واتہام غلط فہمی یا تعصب کے نتیجے میں وجودمیں آئے ہیں، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ محترم ڈاکٹرصاحب کی یہ کتاب’’ خاتون اسلام‘‘ اپنے موضوع پرایک بہترین معلوماتی وتاریخی ریکارڈ ہے جوعورتوں کے متعلق اسلام دشمن طاقتوں کے تمام الزامات واتہامات اورشکوک وشبہات کی قلعی کھولتی ہے اورساتھ ہی ساتھ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام نے عورت پرآزادی، معاشی استقلال اورمعاشرتی حقوق واختیارات کے باب میں کیا کیا احسانات وانعامات کئے ہیں، کتاب ڈھائی سوسے زائد صفحات اورایک مقدمہ وگیارہ فصلوں پرمشتمل ومحیط ہے، میری نظرمیں کتاب لائق مطالعہ، قابل استفادہ اورآں محترم کی اہم خدمات میں سے ایک عظیم خدمت ہے، اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ الٰہا! ان کی لغزشوں کودرگزر فرمااوراعلیٰ علیین میں مقام بلند عطافرما۔(آمین)
***

فکروفن کا شہسوار ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ apr-june 2010

مولانا محمدنسیم محمدیونس مدنیؔ
رئیس مرکزالسنۃ،ایکلا ،نیپال
فکروفن کا شہسوار ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ
ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ جامعہ سلفیہ کے ایک باکمال استاذ ومربی ووکیل الجامعہ توتھے ہی ساتھ ہی ساتھ تصنیف وتالیف، تراجم وبحوث ومقالہ نگاری میں آپ کو دست گاہ کامل حاصل تھی، آپ بڑی بڑی کانفرنسوں ، سمیناروں، جلسوں میں شریک ہوتے اورعلم وعرفان کے دریا بہاتے تھے گوکہ آپ کے اندرخطیبانہ کروفرنہیں تھالیکن پُرسکون اورسنجیدہ سامعین کے لئے اپنی تقریروں میں اعداد وأرقام میں علم کے موتی لٹاتے تھے اورسمندر کو کوزے میں بند کردینے کا آپ کے اندر خاصا ہنرتھا۔
ڈاکٹرصاحب رحمہ اللہ ایک عظیم دانشور، مفکر اوربالغ نظرصحافی تھے آپ کا رہوار قلم عموماً ملی مسائل پررواں دواں رہتاتھا، ملت کا درد آپ کے رگ وریشہ میں پیوست تھا، آپ بلا تردد اوربلاخوف لومۃ لائم صحیح اورحق بات مدلل سپردقلم فرماتے تھے،ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے ہزاروں مقالات ومضامین لکھنے کے علاوہ دسیوں کتابیں تصنیف کیں اوربعض ناموراہل حدیث مصنفین کی گراں قدر علمی کتابوں کے ترجمے بھی کئے، ذیل میں ان میں سے بعض پر اپنے خیالات کا اظہارکرنے کی کوشش کررہا ہوں۔
(۱)سیرۃ النبیﷺ پرمنفرد، بے نظیرکتاب ’’رحمۃ للعالمین‘‘ جس کے مؤلف علامہ قاضی محمدسلیمان سلمان منصورپوری رحمہ اللہ ہیں،کتاب بے مثال شہرت یافتہ اورمقبول خاص وعام ہے،فاضل مؤلف رحمہ اللہ نے حب رسول ﷺ میں ڈوب کر یہ کتاب تحریرفرمائی ہے کہ بہت سارے افاضل نے اسے سیرت کے موضوع پر اردوزبان میں شاہکار اورموثر ترین کتاب قراردیا اس وقیع اورقیمتی کتاب کو ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے بڑی عرق ریزی اور محنت شاقہ کے بعدعربی کے قالب میں ڈھالاہے، آپ کے پیش نظرصرف یہی بات رہی ہوگی کہ سیرت رسولﷺ سے متعلق اس محقق اورمہتم بالشان کتاب سے اہل عرب بھی خوب خوب استفادہ کرسکیں۔
(۲)اسی طرح علامہ محمداسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی معرکۃ الآراء کتاب ’’تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی‘‘کاعربی زبان میں ترجمہ’’حرکۃ الإنطلاق الفکری وجھودالشاہ ولی اللہ المحدث الدہلوی‘‘کے نام سے ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے کیا ،یہ کتاب اپنی مثال آپ ہے کیونکہ مقلدین امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے حنفی مقلدیت کی تجدید کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ عاملین حدیث اورمتبعین سنت کا جینادشوارتھا وہ آمین بالجہرکی پاداش میں مسجدوں سے گھسیٹ کرنکال دیئے جاتے تھے، تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ اورتحریک کی بنیاد پران کی انگلیاں کاٹ لی جاتی تھیں قال اللہ وقال الرسول ﷺ کے بجائے لوگوں کی زبان وقلم سے قال الإمام الفلانی قال فلانکی ہی ادائیگی ہوتی تھی، ایسے حالات میں تقلیدی جمود سے اوپر اٹھ کر کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ کے لئے راہ ہموار کرنا اوران کی بالادستی کے لئے آواز بلند کرنا محدث دہلوی رحمہ اللہ ہی کی جرأت اورہمت کی بات تھی، اس حقیقت کو نہایت خوبصورت شگفتہ انداز میں امت اسلامیہ کے لئے بطورتحفہ پیش کیاہے علامہ محمداسماعیل سلفی رحمہ اللہ نے اوراہل علم واہل عرب کے استفادہ کے لئے اسے عربی قالب میں ڈھالا ہمارے ممدوح علامہ ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ نے مقصدبالکل عیاں اورواضح ہے کہ ملت اسلامیہ صحیح فکر اوراتباع سنت مصطفی ﷺ کی پابند ہوکرعظمت رفتہ پھرسے حاصل کرے اوربغیر اس کے ؂
ایں خیال است ومحال است وجنون
(۳)ڈاکٹرصاحب کے مقالات مفاد ملت سے وابستہ ہوتے تھے انھیں پڑھ کرآپ کے اندر ملت کے تئیں جودرد تھا محسوس کیاجاسکتا ہے آپ موضوع کا پورا پورا حق اداکرتے تھے اورکسی طرح کی مجاملت سے کام نہ لیتے تھے، آپ کے چند مقالات کے عناوین کچھ اس طرح ہیں:
۱۔حقوق انسانی کا تحفظ اوربڑی طاقتوں کی آویزش۔
۲۔ ملی ترقی کے تقاضے۔
۳۔ عصرحاضر میں اسلام کا تعارف تقاضے اورامکانات۔
۴۔ انسانیت کی بہی خواہی ہمارا فرض ہے۔
۵۔انسانیت کی بے کسی اسلحہ کی عالمی تناظرمیں۔
۶۔ نبی رحمتﷺ اورحقوق نسواں۔
اس آخرالذکر مقالہ میں آپ رقمطراز ہیں کہ ’’یوں تویہ عنوان ملت کی تاریخ میں ہمیشہ ہی زندہ اورمعرکہ آراء بنارہا ہے لیکن آج اس کی اہمیت ومعنویت میں مزید اضافہ ہوگیاہے، شاہ بانوکیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ جب سے صادر ہوا اوراس فیصلہ کے خلاف مسلمانوں نے اپنے رد عمل کا اظہارکیا، اسی وقت سے اس مسئلہ میں دلچسپی رکھنے والے بہت سے وہ لوگ جنھیں اسلامی احکام کی براہ راست واقفیت نہیں ہے اس شبہ میں پڑگئے ہیں کہ کیا عورتوں کے سلسلہ میں اسلام کا موقف منصفانہ ہے؟اوراس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو انسانی ہمدردی وبہی خواہی کے زاویہ سے دیکھاہے، نیز اسلام کے مخالفین نے اس مسئلہ پراظہار کرتے ہوئے لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام عورت کو طلاق کے جس جزئیہ میں انصاف نہ دے سکا تھا اس کی اصلاح سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ہوگئی،کبرت کلمۃ تخرج من أفواہھم۔
اس وقیع اوراہم مقالہ میں ڈاکٹرصاحب نے انتہائی فاضلانہ انداز میں یہ ثابت کیاہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت عورتوں کے حق میں خصوصاً اورہرفرد بشرکے حق میں عموماً منصفانہ اورباعث خیرہے، اسلام میں عورتوں کا مرتبہ کیاہے اسے دلائل سے اجاگرکیا ہے۔
ایک ذیلی عنوان ’’اصل مقصود کیاہے ‘‘اس کے تحت آپ لکھتے ہیں کہ:
’’اسلام نے عورتوں کو جن حقوق سے نوازاہے ان کی اہمیت وافادیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس نقطۂ نظر اورمقصد اصلی کو پیش نظر رکھاجائے جس کے لئے اسلام نے تشریعات واحکام کا یہ وسیع ومحکم نظام قائم کیا ہے کیونکہ اس کے بغیر اسلام کے موقف کو سمجھنا مشکل ہوگا‘‘اس کے بعدآپ نے سماجی زندگی سے متعلق قدیم وجدید زمانوں میں موجود دونظام ذکرفرمایاہے ایک وہ جس میں جنسی زندگی اوراس سے بہرہ اندوزی کو خاندان اورازدواجی رشتہ کے ساتھ مربوط رکھا گیا ہے دوسرا نظام وہ جس میں جنسی عمل اورشہوانی فعل کوازدواجی زندگی سے مربوط نہیں رکھاگیا ہے، اس تفصیل کے بعدآپ رقمطراز ہیں’’اسلام نے اپنے اعلی مقاصد کے پیش نظر اس نظام کو اختیار کیاہے جس میں اخلاقی ضوابط اورعفت وپاکبازی کے اصول کی پابندی کو اہمیت حاصل ہے اوراس نظام کا وہ مخالف ہے جس میں آزاد جنسی تعلقات اورغیر خاندانی بنیادپر زندگی بسرکی جاتی ہے‘‘۔
اس کے بعد آپ نے ان حقوق کا ذکرکیاہے جنھیں اسلام نے عورتوں کودیاہے آپ فرماتے ہیں:
’’عام انسانی حقوق میں آزادی ومساوات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اس لئے ہم انھیں دونوں حقوق پر مختصر روشنی ڈالیں گے‘‘چنانچہ آپ نے دینی آزادی، سیاسی وفکری آزادی، آزادئ عمل، شہری آزادی، انسانیت میں مساوات،حق زندگی میں مساوات، شرعی تکلیف میں مساوات، جزا وسزا میں مساوات، تبلیغ دین میں مساوات، تعلیم وتعلم میں مساوات، مالی حیثیت میں مساوات ان تمام کاذکر بڑے ہی فاضلانہ اورمدلل انداز میں کیاہے، اس کے بعدعورتوں کے بالمقابل مردوں کوجوبعض امتیازات حاصل ہیں انھیں ذکر فرمایاہے اورشروع ہی میں بتادیاہے کہ ان امتیازات کامقصد صرف دونوں کے فطری حالات کی رعایت ہے عورت کی تنقیص یااس کے درجہ کو گھٹانا مقصود نہیں۔
اورآخرمیں ’’بے اطمینانی کا اصل محرک‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت فرماتے ہیں کہ: ’’عورتوں سے متعلق اسلامی موقف پرجولوگ بے اطمینانی کااظہار کرتے ہیں وہ اسلامی شریعت میں مزعومہ اصلاح کی بات کرتے ہیں ان کی ظاہری صورت سے اخلاص وہمدردی کااندازہ ہوتا ہے اورعام طور پران کے سننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ صنف نازک کی حمایت میں اٹھنے والی یہ آواز اخلاص وایمانداری پرمبنی ہے اورآواز اٹھانے والا عورتوں کا مخلص ہے لیکن حقیقت حال ایسی نہیں ہوتی، صنف نازک یا پوری انسانیت کا دم بھرنے والے ایسے افراد اصل میں اپنی اسلام دشمنی کے جذبہ کو تسکین دینے اوراسلام سے انتقام لینے کے لئے یہ لبادہ اوڑھتے ہیں اوراس چال سے وہ مسلمانوں یاسادہ لوحوں کو اسلام سے متنفر کرنا چاہتے ہیں۔
یہ چند باتیں تھیں جوڈاکٹر حافظ علامہ ازہری رحمہ اللہ کے تعلق سے ذکرکی گئیں، آپ کی شخصیت پوری ملت اسلامیہ کے لئے بالعموم اورمسلک اہل حدیث کے لئے بالخصوص سرمایۂ افتخارتھی جواب اس جہانِ رنگ وبومیں باقی نہ رہی لیکن آپ کا علمی سرمایہ۔ تصنیف وتالیف، ترجمہ وتحقیق، مقالات وبحوث ، نامور تلامذہ کی شکل میں ۔بہ طورصدقۂ جاریہ موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کے حسنات کوقبول فرمائے اورلغزشوں اورخطاؤں سے درگذر فرماکر جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔(آمین)
***

Tuesday, June 15, 2010

ا صلاح ا لمساجد من ا لبدع و ا لعوا ئد apr-jul 2010

مولاناوصی اللہ مدنی
استاد کلیہ عائشہ صدیقہ،جھنڈانگر

ا صلاح ا لمساجد من ا لبدع و ا لعوا ئد                    
ایک مختصر تعارف
استاد محترم علامہ ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ ایک بالغ نظر مفکر ومدبر اورعظیم مصنف تھے،تادم واپسیں اسلاف کرام کی گراں قدرکتابوں کی خوشہ چینی اوران کی علمی ودعوتی اور مفید کتابوں کی ترتیب وتدوین ،تہذیب وتلخیص ،نیزعربی زبان کی بعض کتابوں کو اردو زبان میں اوراردو و فارسی کی اہم کتابوں کو عربی زبان میں منتقل کرنا آپ کی حیات مستعار کا محبوب مشغلہ اوراولین فریضہ تھا۔
کئی عربی کتابوں کو آپ نے اردو جامہ پہنایا ہے جو زیورطباعت سے آراستہ ہوکر منصہ شہود پر جلوہ افروز ہوچکی ہیں اورعوام وخواص سے دادتحسین حاصل کرچکی ہیں، انہی کتابوں میں ایک اصلاحی وعلمی کتاب ’’اصلاح المساجد من البدع والعوائد‘‘ ہے جس کا پہلا اردو ترجمہ آپ کے گہربار قلم کا مرہون منت ہے۔
استاد محترم رحمہ اللہ نے عالم اسلام کی مقتدر ومعتبراورجامع اوصاف وکمالات کے حامل مصنفین کرام کے علمی، تحقیقی، اصلاحی اورنفیس کتابوں ہی کا ترجمہ کیاہے جوآپ کے عمدہ حسن انتخاب، وسعت مطالعہ اوردروس نتائج پرگہری نظررکھنے کی روشن دلیل ہے۔
زیرنظر کتاب’’اصلاح المساجد‘‘ عربی کا پہلا ایڈیشن علامہ محب الدین خطیب رحمہ اللہ کے وقیع مقدمہ کے ساتھ غالباًاول رمضان ۱۳۴۱ھ ؁ میں شائع ہواہے، دوسرا ایڈیشن فضیلۃ الشیخ ؍زہیر الشاویش نے اپنے تجارتی مطبع ’’المکتب الاسلامی،بیروت‘‘سے ۵؍۲؍۱۳۹۰ھ میں شائع کیاہے، البتہ اس ایڈیشن میں محدث عصرعلامہ محمدناصرالدین البانی کے قلم سے حدیثوں کی تخریج اوربعض مشکل مقامات پرحاشیہ کا اضافہ ہے اورکہیں کہیں مصنف کتاب کے تسامحات وعلمی فروگذاشتوں پر عالمانہ نقدوجرح شامل کتاب ہے، اس طرح یہ دوسرا یڈیشن پہلے ایڈیشن کے بالمقابل ممتاز اوراصح ہے۔
علامہ ازہری رحمہ اللہ نے اسی ایڈیشن کا من وعن اردوترجمہ کیاہے اوریہ اردوترجمہ کاپہلا ایڈیشن ہے، جسے یکم جنوری ۱۹۸۰ء ؁ میں جماعت کے نامور خطیب اورمعروف عالم دین مولانا مختاراحمد ندوی رحمہ اللہ نے عروس البلاد ممبئی میں واقع اپنے تجارتی مکتبہ’’الدارالسلفیہ‘‘ محمدعلی بلڈنگ، بھنڈی بازارسے شائع کرنے کا شرف حاصل کیاہے،اس کتاب کا یہ اردوترجمہ کل ۳۱۹صفحات پرمشتمل ہے،ابتداء کے تقریباً ۷۴ صفحات پرمختلف ومتنوع قیمتی معلومات جیسے شیخ مختاراحمد ندوی رحمہ اللہ کا’’عرض ناشر‘‘ فہرست مضامین، مؤلف کتاب کا مختصرسوانحی خاکہ‘‘،’’شیخ زہیر الشاویش کامقدمۂ ناشر‘‘ دیباچہ طبع اول بقلم علامہ محب الدین خطیب‘‘ کتاب ہذا کی تالیف اوراس کے مؤلف محترم کا مبسوط ومفصل علمی مقدمہ کے ذکر وبیان پر محیط ہے، صفحہ۷۵ سے اصل کتاب کا آغازہوتا ہے، پھرموضوع سے متعلق سارے مباحث و مسائل کومؤلف مثبت انداز میں بیان کرتے ہیں، زیر تبصرہ کتاب کتنی اہمیت کی حامل ہے؟ اس کا صحیح اندازہ اس کے مشتملات وبیانات اوراندرون صفحات بیان کئے گئے بیش قیمت علمی مواد کا بغور وبنظر انصاف مطالعہ کرنے کے بعدہی کیا جاسکتاہے۔
مجھ جیسے بے بضاعت وکم علم انسان کے بس کی با ت نہیں ہے کہ میں علامۂ شام مصلح وقت شیخ محمد جمال الدین قاسمی کی اس تصنیف انیق کے اسلوب وبیان کی سلاست وروانی یادیگر خوبیوں کوبیان کرنے کے لئے میں اپنے قلم کو مہمیز لگاؤں یا تعارفی کلمات نذرقرطاس کروں تاہم پورے اعتماد ووثوق اورایقان کے ساتھ یہ لکھنے کی جسارت کررہا ہوں کہ یہ اپنے موضوع پرایک انوکھی کتاب ہے جود دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے، اس کی قدرومنزلت ،افادیت واہمیت اس لحاظ سے اوربڑھ گئی ہے کہ اس کے مصنف، مصحح، مخرج ومعلق اورمترجم تینوں علمی واسلامی شخصیتیں اپنے اپنے دورکے ماہرین علوم و فنون،نابغۂ روزگار،اپنے اپنے میدان کے کہنہ مشق شہسوار اور مصلح ملت تھے۔
استاد محترم کی ہمہ جہت علمی خدمات میں سے ایک اہم وقابل رشک خدمت ’’اردوترجمانی‘‘ ہے آج مجھے آپ کے اسی پہلو کواجاگر کرکے انھیں خراج تحسین پیش کرناہے، ازراہ تذکیر عرض ہے کہ میں اپنے مشفق استاد کے طرزترجمانی اورعالمانہ اسلوب وبیان کو اخیر میں زیب قرطاس کرکے اپنے قارئین ومحبان ازہری رحمہ اللہ کوآگاہ کروں گا تاکہ کتابی تسلسل برقراررکھے۔
زیرتبصرہ کتاب کے مصنف ومولف ملک شام کے مشہور سلفی عالم ،نابغہ روزگار علامہ محمد جمال الدین قاسمی ہیں جنھوں نے اسلامی علوم کے مجدد، مصلح امت، شیخ الاسلام ابوالعباس احمدبن عبدالحلیم المعروف بابن تیمیہ جیسی عبقری شخصیت سے کسب علم وفیض کیاہے، مؤلف کتاب کے جدامجد شیخ محمدقاسم بن صالح شام کے امام اورمشہور فقیہ تھے، انہی کی طرف منسوب کرکے مؤلف’’القاسمی‘‘ کہلائے۔
اس کتاب کاموضوع نام ہی سے آشکارا ہے کہ موجودہ دورمیں مساجد میں ہونے والی قدیم وجدید بدعات ومحدثات اورخرافات کوجڑسے اکھاڑ پھینکنے کی دردمندانہ گذارش اوربدعی عقائد واعمال کی اصلاح ہے۔
یہ کتاب کیوں لکھی گئی؟ اس کے اسباب وعوامل کی معرفت کے لئے مصنف کتاب کی تحریر کردہ مختصر سبب تالیف پڑھیں، اس کتاب کے مصنف علامہ قاسمی دمشق کی بعض مسجدوں میں فریضۂ امامت وتدریس انجام دیتے ہوئے بدعات کوپھیلتے ہوئے دیکھ کر کہتے ہیں’’اس طرح مجھے یہ احساس ہواکہ مساجد میں جوبدعات ورسوم پھیل گئی ہیں، ان کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے، کیونکہ زندگی کے ہر شعبہ میں نگراں کا فرض ہے کہ وہ اپنے رفقاء ومتعلقین کو صحیح راہ سے آگاہ کرے جیساکہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ’’کلکم راع وکلکم مسؤل عن رعتیہ‘‘ (متفق علیہ) اسی بنیاد پر میں نے نصرت الٰہی کے بھروسے اس کام کوشروع کیا......‘‘۔
کتاب کی ترتیب وتبویب میں علامہ قاسمی کی عرق ریزی ودیدہ وری طالبان علوم نبوت کے لئے قابل رشک ہے،تفسیر،حدیث ،فقہ اوراصول فقہ وغیرہ پر مشتمل متقدمین علماء کی تقریباً ایک سوبارہ کتابوں کی ورق گردانی کرکے آپ نے اپنی اس تصنیف لطیف کو مرتب کیاہے ،مصنف رحمہ اللہ نے اس بات کی بھرپور کوشش کی ہے کہ مساجد سے متعلق چھوٹی بڑی تمام بدعات ورسومات ،متولیان وائمہ کی پیداکردہ برائیوں کاذکر اس کتاب میں آجائے،انھوں نے اس کتاب کی ترتیب میں جوشروط وضع کئے ہیں میری نگاہ میں وہ اپنے اس مقصدکی تکمیل میں بہت ہی قریب ترہیں،بقول مؤلف اس کتاب کی تسوید سے ۲۴رمضان ۱۳۲۳ھ ؁ کو دمشق میں اپنے گھرپر فراغت ہوئی،پھرمؤلف نے مذکورہ تاریخ کے بعدکتاب میں بہت سے اضافے کئے چنانچہ کہتے ہیں: ’’بحمداللہ تعالیٰ میں نے مسودہ اوراضافہ کامقابلہ متعددمجلسوں میں کیا،آخری مجلس کی تاریخ عیدالاضحٰی ۱۴۳۱ھ ؁ کا چوتھا دن ہے‘‘۔
علامہ قاسمی کاطریقۂ تصنیف:
اس کتاب کی تصنیف میں مصنف نے جومنہج وطریقہ اختیارکیا ہے صراحۃ اس کاذکر انھوں نے کیاہے البتہ میں نے حرف بحرف پڑھ کر ان کے طریقہ تصنیف کو اخذکیاہے جودرج ذیل ہے۔
*یہ کتاب ایک علمی ووقیع مقدمہ، سات ابواب اورہرباب کے تحت چند فصول اورایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔
*قرآنی آیات کریمہ کی تخریج۔
*احادیث نبویہ وآثارسلفیہ کی مختصر عزو کے ساتھ ائمہ اربعہ اوردیگرفقہاء کے ذکرکردہ اقوال وآراء کی نسبت کا اہتمام۔
* بالاختصار احادیث کی صحت وعدم صحت کی وضاحت کا التزام۔
*اگرکوئی حدیث موضوع ہے تواس کی صراحت۔
* لفاظی وچرب زبانی اورغیر ضروری باتوں سے بالکلیہ احتراز کرتے ہوئے بکثرت کبار ائمہ کرام مثل شیخ الاسلام ابن تیمیہ ،امام ابن قیم ،علامہ ابوشامہ، امام ابن الجوزی،علامہ عزبن عبدالسلام، امام نووی، حافظ ابن حجر عسقلانی، امام غزالی،علامہ بدرالدین عینی رحمہم اللہ وغیرہم کی کتابوں کے نصوص کے ذکرکا خصوصی اہتمام۔
* ائمہ محدثین کے فتاویٰ کی روشنی میں بدعات کی تردید کرتے ہوئے اسلام کے صحیح موقف کا اثبات وبیان۔
* مساجد میں ہونے والی تمام بدعات ومحدثات کا مدلل پوسٹ مارٹم نصوص کتاب وسنت اورعلماء جہابذہ کے اقوال کے تناظرمیں ۔
*بعض مسائل میں اختصار کالحاظ کرتے ہوئے ان کتابوں کی جانب احالہ کیاہے، جس میں مفصل طورپر بحث کی گئی ہے جیسے امام ابن قیم کی مشہورکتاب ’’اغاثۃ اللہفان فی مصاید الشیطان‘‘ اور علامہ ابوشامہ کی’’ الباعث علی انکار البدع والحوادث‘‘ وغیرہ۔
*عرب کے مشہور شعراء حافظ ابراہیم،ملک امجد اورشیخ عبدالغنی نابلسی کے اشعارکے ذریعہ فقراء ومساکین کی امداد ومعاونت پرمتمول وصاحب ثروت حضرات کوابھارا گیا ہے۔
*برادران احناف کے بعض کاموں کی تردید خودانہی کے معتبروجید علماء کے اقوال سے کی ہے۔
*امام ومتبوعین کے اقوال وافعال کا ناقدانہ مقارنہ ا ورتقابلی جائزہ۔
* اپنے شیخ محترم امام ابن تیمیہ کے بعض فرمودات وفتاویٰ کومودبانہ اندازمیں نذرقرطاس کیاہے مثلاً ہمارے شیخ ابن تیمیہ کا یہ قول ہے۔
*مصنف نے اپنے سیروسیاحت کے دوران جہاں اورجن مساجد میں خلاف شرع باتیں بچشم دید خوددیکھی ہیں انھیں بھی قلمبند کیاہے۔
مخرِّج ومعلِّق: علامہ محمدناصرالدین البانی
اس کتاب میں وارد آحادیث نبویہ وآثارسلفیہ اورمشہور مسالک ومذاہب کے فقہاء کے اقوال کی تخریج تاجدار اقلیم حدیث محدث زماں علامہ محمدناصرالدین البانی رحمہ اللہ نے کی ہے، جس سے اس کتاب کی افادیت و اہمیت دوچندہوگئی ہے، حق گوئی وبے باکی آپ کی خاص پہچان تھی، آپ کبھی بھی کسی عالم کے منصب اور ڈگری سے مرعوب نہیں ہوئے، دلائل کی روشنی میں آپ نے جس چیز کو حق اورسچ سمجھا اسی پر عمل پیرارہے،اور اپنے مخالفین کی ذرابھی پروانہ کی، اس کتاب کی تخریج وتعلیق میں بھی آپ کی اس خوبی کی جھلک نظر آرہی ہے، تخریج حدیث کے ساتھ جگہ جگہ مفید تعلیق، مذہب ظاہر یہ اوردیگر فقہاء کے آراء کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کئی مقامات پر مؤلف کتاب علامہ قاسمی کے بعض موقف پرشدید تنقید کی ہے اور اس باب میں سلف صالحین کے مسلک ومنہج کو اجاگر کیا ہے۔
شیخ البانی کی تحقیق کے مطابق اس کتاب میں تقریباً چالیس حدیثیں ایسی ہیں جس کی اسناد ضعیف اورمتن ناقابل عمل واستدلال ہیں اس اجمال کی تفصیل یوں ہے:
جوحدیثیں’’ لااصل لہ‘‘ہیں ان کی کل تعداد ۴،موضوع ۲،ضعیف ۱۳، ضعیف جدا۳،مرسل۲، غریب۳،منکر ،معلول اوراسنادہ ضعیف ۷ہے۔
اس کتاب پرتعلیق اوراحادیث کی مختصر تخریج سے شیخ البانی رحمہ اللہ ۲۳؍ربیع الاول ۱۳۸۲ھ ؁ کو مکتبہ ظاہریہ دمشق میں فارغ ہوئے۔
علامہ البانی کا طریقۂ تخریج:۔
اس کتاب میں ذکرکردہ احادیث کی تخریج میں شیخ البانی نے جوطریقہ اورمنہج اختیارکیا ہے وہ درج ذیل ہے:
*غیرصحیحین روایتوں کی مختصر تخریج اورحکم کا التزام۔
*ہرحدیث کی سند ومتن پر حکم لگانے کے بعد تفصیلی معرفت کے لئے اپنی محقق ومخرج کتابوں کی طرف احالہ۔ رواۃ حدیث پرجرح ونقد اورائمہ جرح وتعدیل کے سہوونسیان پرتنبیہ۔
*احادیث میں تحریف کلمات کی تصحیح وتصویب۔
* کہیں کہیں علامہ قاسمی کی تخریج حدیث اور بیان الفاظ کی عدم رعایت پرتنبیہ ۔
*فقہی مسائل میں بعض فقہاء کی موشگافیوں اورائمہ کی طرف بعض منسوب اقوال کی علمی تردید۔
*امام غزالی کے بعض فتاویٰ پرتنقید۔
* مصنف کتاب نے جن اقتباس کو مبہم رکھا یا قائل کا نام ذکرنہیں کیاہے، آپ نے اس کی صراحت کی ہے۔
* ہمہ دانی کے دعوی کی بجائے تواضع، اپنی کم علمی یا عدم معرفت کا برملا اقرار بایں الفاظ کرتے ہیں :’’ مجھے اس کا علم نہیں ہوپایا ہے یا یہ حدیث یا یہ مسئلہ مجھے ائمہ کی کتابوں میں نہیں ملا‘‘۔
*جن حدیثوں کی معرفت نہ ہوسکی اس کی بابت بڑی صراحت سے ’’لم اجدہ‘‘ لکھنا۔
*مصنف کتاب کے کٹرسلفیت کے اعتراف کے ساتھ ان کے بعض ذاتی آراء وافکار کی تردید اورعدم موافقت کااظہار۔
*مؤلف کی بعض خامیوں وکوتاہیوں پرمعقول عذرکی تلاش اور حسن ظن کا اظہار۔
مترجم :علا مہ ڈاکٹرحا فظ مقتدیٰ حسن ازہری
عربی،اردو یا اس روئے زمین پرہربولی اورسمجھی جانے والی زبانوں پرمشتمل لٹریچر، کتب اورمقالوں کی ترجمانی کرنا، خوش اسلوبی کے ساتھ اس کے مافی الضمیر کواداکرنا اور اصل کتاب کی عبارتوں کے کتربیوت کے بغیر اس کی پرسوز آواز کو دوسرے لوگوں کے سینے میں منتقل کرنا ایک مشکل ترین فن ہے،اس میدان میں وہی شخص کامیابی سے ہمکنار ہوسکتاہے جس پراللہ کا خاص فضل اورانعام ہو،عبارت فہمی، زبان دانی اورعمدہ تعبیر پر قدرت رکھتا ہو، علامہ قاسمی کی عربی تصنیف ’’اصلاح المساجد من البدع والعوائد‘‘ کااردوترجمہ استاد جلیل علامہ ازہری نے کیا ہے، آپ نے اس کتاب کا ترجمہ کرتے وقت عربی واردوتراجم کے علمی اصول وآداب کا بایں طور ملحوظ رکھاہے کہ کتاب کی روح باقی رہے اور اس کے زبان وبیان کا جوعلمی معیار ہے وہ بھی بعینہٖ برقراررہے مجھ جیسے طالب علم اورہیچمداں شخص کویہ قطعا زیب نہیں دیتا ہے کہ میں استاد محترم کے اردوترجمانی کے اسلوب ومعیارپر کوئی تبصرہ کروں بس میں اپنے لئے اتناہی کہناکافی سمجھتا ہوں اورمیرے خیال میں یہی سچ اورحقیقت بھی ہے کہ آپ نے اس کا ترجمہ ایسے دلنشیں انداز میں کیا ہے کہ باذوق قارئین باتمکین ومستفیدین حضرات ہرہرورق پڑھتے جائیں گے انھیں اکتاہٹ نہیں ہوگی اورنہ ہی ترجمہ کا احساس ہوگابلکہ ایسے لگے گاکہ یہ ان کی مستقل تصنیف ہے۔
عربی ایڈیشن میں علامہ قاسمی کی سوانح حیات شامل کتاب نہ تھی محترم مترجم رحمہ اللہ نے اردوداں طبقہ کوآپ کے حالات زندگی سے آگاہ کرنے کے لئے بالاختصار آپ کی حیات وخدمات کا اضافہ کیاہے جو آپ کی اصول حدیث کی معرکۃ الآراء کتاب’’قواعد التحدیث‘‘ سے ماخوذ ہے ۔
آپ باعتراف اہل علم ادیب اورقلم کے دھنی تھے لیکن ایسے پرتکلف جملے اورمسجع ومقفع عبارتوں کے استعمال سے گریز کرتے تھے جوسامعین وقارئین پرشاق گزریں اوران کی سمجھ سے بالاترہوں، چنانچہ آپ نے اس کتاب کے ترجمہ میں نہایت ہی فصیح وسلیس، عام فہم اورآسان زبان استعمال کی ہے، تاکہ یہ کتاب جس مقصد کو بروئے کارلانے کے لئے منصہ شہود پرجلوہ گر ہوئی ہے وہ حاصل ہوجائے اورجس پاکیزہ نیت سے اس اہم علمی ودعوتی کتاب کو اردوقالب میں ڈھالاگیا ہے اس کی افادیت عام ہو اوربکثرت استفادہ کی جاسکے اورمصنف کوتاقیامت اس کا ثمرہ بھی ملتا رہے۔
یہ کتاب اپنے موضوع پرکامل وشامل ہے نیز مسجدوں اور متولیوں کے ہاتھوں نت نئے پیداہونے اورپنپنے والے بدعات ومحدثات کی نشاندہی اورعالمانہ اسلوب وانداز میں تردید کرنے میں اپنی مثال آپ ہے،طالبان علوم نبوت وشیدائیان کتاب وسنت اورمتلاشیانِ حق کو ایک باراس کتاب کا مطالعہ ضرور کرناچاہئے۔
***

ڈاکٹرازہری اوران کی کتاب تاریخ ادب عربی apr-jul 2010

مولاناشفیع اللہ عبدالحکیم مدنی
استادجامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر
ڈاکٹرازہری اوران کی کتاب تاریخ ادب عربی

ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ علم وفضل کا گنجینہ تھے، قدرت کی طرف سے ان کو انشاء پردازی ومضمون آفرینی کا بہترین حصہ ملاتھا، ان کا قلم بڑا سیال اورحقیقت نگارتھا، انھوں نے اپنی اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کیا اورتصنیف وتالیف، ترجمہ، مضامین ومقالات، اداریئے اورکتابوں پر مقدمے تحریرفرماکرفراست علمی خدمت انجام دی ،چنانچہ انھوں نے بتیس مستقل قلمی یادگاریں چھوڑیں کتابوں کے مقدمات واداریئے ان کے علاوہ ہیں جوہزار ہا صفحات پر پھیلے ہیں۔
موصوف کی قیمتی تالیفات میں سے ایک اہم تالیف’’تاریخ ادب عربی‘‘ ہے جوپانچ جلدوں پرمحیط ہے جس پر آپ کو صدرجمہوریہ ایوارڈ سے نوازاگیا تھا، اس تحریر کے ذریعہ اس اہم کتاب کا مختصرتعارف مقصود ہے۔
عربی ادب کی تاریخ ایک وسیع زمانہ پرمحیط ہے یعنی جب عربی زبان انسانی مافی الضمیر کی ادائیگی اورانسانوں کے درمیان باہم رابطہ وہم کلامی کا ذریعہ بنی ہے اس وقت سے لے کرموجودہ دورتک یہ محیط ہے، اس طویل دورکی تاریخ مرتب کرنا اس زبان کی وجود پذیری وظہور اس کے اصلی گہوارہ اورجائے نشوونماکا پتہ لگانا پھربتدریج اس کی ترقی اوراس میں نظم ونثرکے حالات کاجائزہ لینا، ایک دقیق اور مشکل کام ہے، اسی طرح اس دورکے ماحول ومزاج اورجغرافیائی لحاظ سے اس وقت کے کلام پر تبصرہ کرنا اورہرخطیب یا شاعرکے رجحانات اوراس کے کلام پرتنقید کرناپھر زمرہ بندی کرکے شعراء کو زمروں میں رکھنا بڑی بصیرت چاہتا ہے، بعدکے ادوار میں عربی نظم ونثر کی غیرعربی زبانوں بالخصوص ادب فارسی سے اثرپذیری اورمختلف اثرات کے مظاہرکی نشاندہی کرنا ژرف نگاہی کے ساتھ ساتھ دونوں زبانوں سے پوری واقفیت اورزبانوں کے محاورات شعراء کے ادبی خیالات اورتعبیرات پراظہار کرنے کے لئے بڑی گہری واقفیت چاہتاہے ایسے اہم موضوع پر کوئی تالیف کرنا یقیناًڈاکٹر ازہری جیسے قابل ادیب لوگ ہی کرسکتے ہیں۔
اردوزبان کی وسعت پذیری وترقی کا سفرجاری ہے، دن بدن اس میں نئی نئی کتابیں منظرعام پہ آرہی ہیں، تاریخ ادب عربی کے موضوع پراردو میں شاید کوئی مستقل جامع تالیف موجود نہیں تھی جس سے عربی ادب اوراس کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے طلبہ، بالخصوص اترپردیش عربی فارسی بورڈ لکھنؤ سے فاضل کا کورس کرنے یا کالج ویونیورسٹیز میں عربی کورس کرنے والے طلبہ استفادہ کرسکیں ،البتہ مصری ادیب احمدحسن زیات کی ’’تاریخ الادب العربی‘‘ کا اردوترجمہ کسی زمانہ میں ہواتھا ، لیکن ترجمہ ترجمہ ہی ہوتاہے،بہرحال اس اہم علمی موضوع پرکسی مستقل اورجامع تالیف ضرورت تھی، چنانچہ اس کتاب کے سبب تالیف پرڈاکٹرصاحب روشنی ڈالتے ہوئے تمہید میں رقمطراز ہیں :۔
’’عربی ادب کی تاریخ کے موضوع پر عرب اورمستشرقین اہل قلم کی متعددمفید کتابیں شائع ہوچکی ہیں بروکلمن، مصطفی صادق الرافعی، جرجی زید ان اوراحمد حسن الزیات کی کتابوں کوخاص مقبولیت وشہرت حاصل ہے، پھربھی یہ موضوع مزید تفصیل وتشریح کا محتاج ہے، دورجاہلیت سے لے کر آج تک کی طویل مدت میں ہردورکے ادبی مظاہر، شخصیات کا علمی، تاریخی وتنقیدی تجزیہ اورفنی وثقافتی خدمات وتاثرات وغیرہ جزئیات میں سے ہرایک پہلو پرروشنی ڈالتے ہوئے عربی ادب کی تاریخ مرتب کرنے کا احساس آج کے علمی دورمیں زیادہ شدید ہوچکا ہے۔
قاہرہ یونیورسٹی میں عربی ادب کے استاذ ڈاکٹر شوقی ضیف نے عربی ادب کی تاریخ کے موضوع پربیش قیمت کام کیاہے، مذکورہ خطوط کی رعایت کرتے ہوئے عربی ادب کی تاریخ کے موضوع پر ان کی کتاب منفردہے ،کتاب کو انھوں نے ’’تاریخ الادب العربی‘‘ کے نام سے موسوم کیاہے پھرہر دورکے لئے ایک مستقل حصہ مخصوص کرکے اس کو اسی دورکانام دیاہے، ’’مثلاً‘‘ العصر الجا ھلی‘‘ اور’’العصر الاسلامی‘‘وغیرہ اردو زبان میں عربی ادب کی تاریخ پرکتابوں کی بیحد کمی ہے حالانکہ عربی زبان وادب سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد میں برابراضافہ ہورہا ہے، اردو میں اس موضوع پر جوچند کتابیں دستیاب ہیں ان سے عربی ادب اورادباء کا سرسری تعارف توضرور ہوجاتا ہے لیکن حالات وشخصیات کاتجزیہ اورہردور کی فنی خصوصیات وتاثرات کے بارے میں واقفیت نہیں ہوتی‘‘ ۔
ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ نے تاریخ عربی ادب کے ہردور اور اس کے شعراء ونثر نگاروں کے حالات پرکافی مواد جمع کیاہے اورسیرحاصل بحث کی ہے جس سے قاری کو موضوع سے متعلق اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
اگرہم’’ تاریخ ادب عربی‘‘ کی پانچوں جلدوں کا جائزہ پیش کریں توتحریر خاصی طویل ہوجائے گی اس لئے ہم صرف جلد اول ہی پراکتفاء کررہے ہیں۔
جلد اول:’’دورجاہلی‘‘ پرمشتمل ہے اس میں ایک تمہید ہے جس میں لفظ ادب کی لغوی واصطلاحی تحقیق ہے، اس کے بعد تاریخ ادب اوراس کی تاریخ کے مختلف ادوار کا تعارف ہے، پھرکتاب کل آٹھ فصلوں پرمشتمل ہے جس میں سے پہلی فصل میں جزیرہ عرب کی تاریخ، دوسری فصل میں ’’دورجاہلی‘‘ کا بیان، تیسری فصل میں جاہلی زندگی کے حالات ،چوتھی فصل میں عربی زبان ،پانچویں فصل میں جاہلی شاعری کی روایت وتدوین، چھٹی فصل میں جاہلی شاعری کی خصوصیات پرروشنی ڈالی گئی ہے، ساتویں فصل میں امرء القیس، نابغہ ذبیانی، زہیربن ابی سلمیٰ، الأعشیٰ، اورکچھ دوسرے شعراء کے تذکرے ہیں اور آٹھویں فصل میں جاہلی دورکی نثرپر گفتگو ہے۔
اس کتاب کی زبان ششتہ وشگفتہ ہے، تاریخ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ادباء کے اقوال کی مختصر تصویب یاتردید بھی، توآئیے صرف ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔
امرء القیس کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے ص:۱۷۲ پرلکھتے ہیں ’’طہ حسین نے امرء القیس کے جملہ اشعار کاانکارکرنے کی کوشش کی ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ امرء القیس کا تعلق قبیلہ کندہ سے ہے جویمنی قبیلہ ہے اوراس کے اشعارکی زبان قریش کی زبان ہے، ا سلئے یہ اشعار موضوع ہیں اور انھیں غلط طورپرامرء القیس کی جانب منسوب کیاگیا ہے، لیکن ہم پہلے یہ واضح کرچکے ہیں کہ قبیلہ کندہ اگرچہ یمنی تھا لیکن اس کی زبان عدنانی تھی، اورقریش کی زبان ہی کو ان میں رواج وبرتری حاصل تھی، شمال کے جملہ شعراء خواہ ان کا تعلق عدنانی قبائلی سے ہویایمنی قبائل سے اسی زبان کو استعمال کرسکتے تھے،ہم نے پہلے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیاہے کہ ’’’امرء القیس سے متعلق اخبار اورروایات اوراس کے اشعارمیں وضع وانتحال کاضروردخل ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مفہوم نہیں لیاجاسکتا کہ اس کے تمام اشعار مشکوک وناقابل اعتبارہیں، البتہ یہ ہمیں بھی تسلیم ہے کہ امرء القیس کی جانب منسوب اشعارمیں بہت تھوڑے اشعار ایسے ہیں جن کی امرؤ القیس کی جانب نسبت پراعتماد کیاجاسکتا ہے‘‘۔
اس مذکورہ عبارت سے سمجھا جاسکتا ہے کہ موصوف طہ حسین جیسے بڑے ادیب سے مرعوب نہیں ہوئے اورنہ آنکھ بند کرکے آگے گذرگئے بلکہ اس کے قول کی کمزوری کو ظاہرکیا اورجوبات حق سے قریب ترتھی اسے قبول کیا، اورامرء القیس کے بارے میں کہتے ہیں کہ صرف جاہلی نہیں بلکہ پوری عربی شاعری کابابائے آدم ہے، اسی کے ہاتھوں عربی شعروشاعری کا حسین ڈھانچہ تکمیل پذیرہوا، اس نے ایک طرف بہت سے اصناف کو وجودبخشا اوردوسری طرف وصف وتشبیہ میں کمال بہم پہونچایا، الفاظ،معانی، تخیلات اوردوسری چیزوں پرپوری توجہ دی اورلفظی ومعنوی محسنات کے استعمال کے لئے راستہ ہموارکیا، تاریخ ادب عربی سے اردو زبان میں ایک شاندار اضافہ ہواہے اوریہ طلبہ وتحقیق کرنے والوں پر ان کا بڑا احسان ہے۔
***

ڈاکٹرازہریؔ اورمولانا منظر apr-jul 2010

مولانا عبدالباقی مظہرؔ
منظراکادمی، سمرا، سدھارتھ نگر

ڈاکٹرازہریؔ اورمولانا منظر

استاذمحترم ڈاکٹر علامہ مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ گونا گوں اوصاف وکمالات سے متصف تھے، منجملہ دیگرخوبیوں کے ان کا یہ وصف بھی بڑانمایاں تھاکہ موصوف اکابرعلماء اورجماعت کی مقتدرشخصیتوں کابھرپور احترام کرتے اوران کی خدمات کا اعتراف کرنے میں کبھی کمی نہ آنے دیتے، مولاناعبدالمبین منظررحمہ اللہ جماعت کے نامورعالم دین، مشفق مدرس ومربی، شعلہ بار مقرروخطیب، متعددعلمی واصلاحی کتابوں کے مصنف و مؤلف، کامیاب مناظر اور اسلامی شاعرتھے اور اپنے مدرسہ شمس العلوم سمراکی خدمت کے ساتھ جمعیت وجماعت کے پلیٹ فارم سے بھی دعوتی وتنظیمی خدمات آخری سانس تک انجام دیتے رہے، ذیل کے مختصرمضمون میں مولانامنظرؔ رحمہ اللہ کے فرزند مولانا عبدالباقی مظہرنے اپنے والدمحترم اورڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ کے درمیان خوشگوار علمی ودعوتی تعلقات پرروشنی ڈالی ہے اورمیرے اس دعویٰ کو بہ طورمثال ثابت کیاہے کہ ازہری رحمہ اللہ کے یہاں اپنے اکابر علماء وافاضل اورہم عصروں کے لئے کس قدراحترام کے جذبات پائے جاتے تھے۔(ادارہ
محترم ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ جماعت اہل حدیث کے عظیم مفکر، اردووعربی ادب پریکساں عبوررکھنے والے بہترین اسکالر اورجامعہ سلفیہ بنارس کے روح رواں تھے، آپ کے سانحۂ ارتحال سے جماعت اہل حدیث ہی نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ سوگوارہے۔
اکتوبر ۱۹۸۹ء ؁ میں والد مکرم مولانا عبدالمبین منظررحمہ اللہ کی وفات کے بعدڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ سے میری بارہا ملاقات ومراسلت رہی بحمداللہ میں نے آپ کو خوردنوازی اوراخلاق فاضلہ میں یکتا اورلائق محمود پایا، والد رحمہ اللہ کی حیات وخدمات پر مشتمل کتاب’’نقوش منظرؔ ‘‘ کی اشاعت کا موقع رہا ہو یا آپ کی دوسری کتابوں کی اشاعت کا مرحلہ آپ نے ہمیں مفید مشورہ دیا اورکلمات خیرکے ساتھ ہماری کوششوں کوسراہا۔
والد مکرم مولانا عبدالمبین منظرؔ رحمہ اللہ اورڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے باہمی تعلقات بہت ہی خوشگوار تھے اوردونوں بزرگ ایک دوسرے کی قدرکرتے اورملتے جلتے رہتے تھے جس کا اظہار ڈاکٹرصاحب رحمہ اللہ نے یوں کیا ہے:
’’مولانا عبدالمبین منظر ؔ کانام زمانۂ طالب علمی میں سناتھا لیکن بات چیت اورتبادلۂ خیالات کاموقع بنارس میں قیام کے دوران میسرہوا‘‘۔(نقوش منظر:ص:۹)
’’منظرصاحب جامع کمالات شخصیت کے مالک تھے، علم وفضل کی جس بلندی پروہ فائز تھے اس کے بعدتواضع وخاکساری مشکل ہوتی ہے لیکن مرحوم کی ذات میں یہ جوہربے حدنمایاں تھا، جامعہ سلفیہ میں جب بھی وہ آتے اساتذہ وطلباء کے ساتھ بے حد محبت کے ساتھ ملتے کسی تکلف کے بغیرخندہ پیشانی سے بات کرتے اور اپنی علمی زندگی کے سبق آموز واقعات سناکرطلبہ کے حوصلے بلند کرتے، اسپتال میں آخری بارچند اساتذہ کے ساتھ جب ان سے ملاقات ہوئی تووہاں بھی اپنے علمی مباحثوں کے احوال سناکرہم لوگوں کو محظوظ کیا‘‘۔
’’بعض دینی جلسوں میں ان کے ساتھ شرکت کااتفاق ہوا یہ جمعیت میں ان کی نظامت کازمانہ تھا دوسرے مقررین کے ساتھ میں نے بھی حاضرین کی سمع خراشی کی بعدمیں انھوں نے اصرارکیا کہ ان منتشرخیالات کومرتب کردوں تاکہ وہ جمعیت کی طرف سے شائع ہوجائیں، یہ مرحوم کی ذرہ نوازی اورحوصلہ افزائی تھی ورنہ جوکچھ میں نے کہاتھا اس میں اتنی جان نہ تھی‘‘۔(نقوش منظر:ص۱۰،۱۱)
مندرجہ بالا اقتباس سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ دونوں شخصیتیں ایک دوسرے کی قدردان تھیں، والد رحمہ اللہ کی زندگی میں کوئی ایسا موقعہ نہ آیا کہ وہ ڈاکٹرصاحب پرکچھ لکھتے مگرڈاکٹرصاحب رحمہ اللہ کووالد صاحب پرلکھنے کابارہا موقع ملااورآپ نے پوری فراخدلی کے ساتھ والدصاحب کے کارناموں کوقوم وملت کے سامنے واضح کیا۔
۱۴۱۹ھ ؁ میں ڈاکٹر صاحب والد صاحب کی کتاب’’عقائد اسلام‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’تحقیق وتصنیف پرموصوف کی قدرت اوراس باب میں ان کے مفید ووقیع کارناموں کودیکھ کردل میں خیال آتا ہے کہ اس بالغ نظر عالم،توحید وسنت کے شیدائی، اصلاح وتبلیغ کے رمزشناس اورسادہ ومخلص اہل قلم کے تئیں جماعت کافرض تھا کہ ہرطرح کی مصروفیات وتفکرات سے انھیں آزاد کرکے قلمی جہادپرلگادیا جاتا اوراس میدان میں ڈوب کر وہ علوم کتاب وسنت کی خدمت میں مصروف رہتے لیکنتجری الریاح بمالاتشتھی السفن۔(مقدمہ عقائد اسلام)
والد رحمہ اللہ نے درس وتدریس اوردعوت وتبلیغ کے ساتھ ساتھ بریلویوں، دیوبندیوں ، مرزائیوں اورعیسائیوں سے کئی مناظرے بھی کئے ہیں اوراللہ کے فضل سے اس میدان میں وہ ہرجگہ کامیاب بھی رہے،چنانچہ آپ کی اس خدمت کے حوالہ سے ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ یوں لکھتے ہیں:
’’مولانا عبدالمبین منظررحمہ اللہ کے حالات زندگی اورعلمی مشاغل سے آگاہی رکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ موصوف کو مناظرہ پر قدرت حاصل تھی، حق بات کی توضیح اورتوحید وسنت کے موضوع پر پیداہونے والے شکوک وشبہات کے ازالہ کے لئے موصوف ہمہ وقت تیار رہتے تھے اورمخاطب کے مشکل کو سمجھتے تھے اوراسی وجہ سے انھیں کامیابی حاصل ہوتی تھی‘‘۔(الظفرالمبین: جمادی الاولیٰ ۱۴۱۵ھ ؁)
اوروالد رحمہ اللہ کی تصنیف ’’سبیل الرشاد‘‘ کی اشاعت کے موقع پر ڈاکٹرصاحب رحمہ اللہ انھیں باتوں کویوں لکھتے ہیں:
’’منظر صاحب کاعلم وسیع اورنظر گہری تھی آپ تعبیر وبیان کی نزاکتوں سے بھی بخوبی واقف تھے اس لئے مسائل پربحث میں آپ کا انداز بہت دل نشین ہے اپنے دعویٰ کے اثبات اورمخالف کی تردیدمیں آپ ایسا اندازاختیار کرتے ہیں کہ بات دل میں اترجاتی ہے‘‘۔(سبیل الرشاد :۱۴۱۴ھ ؁)
والدصاحب رحمہ اللہ نے شعروشاعری کے ذریعہ بھی دین اسلام کی خدمت کی ہے آپ کی شاعری پر ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے یوں لکھاہے:
’’جماعت اہل حدیث کے ناموررکن اوربابصیرت عالم مولانا عبدالمبین منظرؔ رحمہ اللہ کاشمارایسے ہی شعراء میں ہے جن کاکلام کتاب وسنت کی صحیح ترجمانی اوراس کی تبلیغ واشاعت کے باب میں ممتاز ہے ‘‘۔ (زمزمہ حق:۶ذی الحجہ ۱۴۱۷ھ ؁)
اوروالد محترم رحمہ اللہ کی شاعری کے حوالہ سے ایک دوسری تحریر میںیوں رقم طرازہیں:
’’مولانا عبدالمبین منظررحمہ اللہ کی شاعری کابیشترحصہ مذہبی شاعری کے ذیل میں آتاہے لیکن اس میں فنی محاسن کی کثرت ہے، منظرؔ صاحب اسلامی تعلیم کے ماہراورفن شاعری کے استاد تھے لہذا مذہبی طبقہ کی نفسیات پران کی نظرتھی ،جہاں کہیں انھوں نے اسلام پر عمل کی دعوت پیش کی ہے یامسلمانوں کے اندر پھیلے ہوئے غلط عقائد واعمال کی تردید کی ہے وہاں ان کے کلام میں معنویت وتاثیر اورتعبیر کاحسن موجود ہے‘‘۔(نغمۂ حیات آفریں:جمادی الاولیٰ ۱۴۲۹ھ ؁)
اوراسی موقع پر جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر اورجامعہ سلفیہ کے متعلق والد رحمہ اللہ کی نظم کاذکرڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ یوں کرتے ہیں:
جھنڈانگر کامدرسہ نعمۃ العلوم جواب سراج العلوم ہے اپنی خدمات کے لئے مشہورہے منظر صاحب کی نظم میں مدرسہ کے لئے ان کا تاثر سنئے:


۱۹۸۰ء ؁ میں جامعہ سلفیہ مرکزی دارالعلوم بنارس نے موتمرالدعوۃ والتعلیم منعقد کی تھی اس میں حرم مکی کے امام شیخ محمد بن عبداللہ السبیل ؍حفظہ اللہ پہلی بار ہندوستان تشریف لائے تھے بہت سے دوسرے عرب مشائخ بھی موجودتھے پوراماحول حجازوعرب کے رنگ میں ڈوباہوا تھا،منظرؔ صاحب اسی موقع پر اپنی نظم میں کیاخوب کہتے ہیں:
حجازی مے پلایئے، حجازی لے سنایئے
خوش آمدید و مرحبا، بعزو ناز آیئے

(نغمۂ حیات آفریں جمادی الاولیٰ ۱۴۲۹ھ ؁)
محترم قارئین یہ ہے ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ اوروالد صاحب رحمہ اللہ کی باہمی ملاقات اورایک دوسرے کی قدردانی اورعلمی ودینی محبت کی مختصر سرگذشت آج یہ دونوں شخصیتیں اللہ کوپیاری ہوچکی ہیں اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ دونوں کے حسنات کوقبول فرمائے اورجوبھی علمی فیوض وہ چھوڑگئے ہیں انھیں جاری رکھنے کی سبیل پیدا کرے اوران کے لئے صدقۂ جاریہ بنائے اورہم کم علموں کو بھی دینی خدمت کی توفیق دے ۔(آمین)
***

منظوم خراج عقيدت Apr-jul 2010 Dr. Muqtada Hasan Azhari number






Apr-jul 2010جامعہ کے روز و شب

جامعہ کے روز و شب
عبدالمنان سلفیؔ 
ثقافتی پروگرام:۔جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈانگر کے طلبہ میں تعلیمی ذوق پیدا کرنے اور انھیں بلا جھجھک اپنے ما فی الضمیر کی ادائیگی پر قادر بنانے کے مقصد سے ناظم جامعہ محترم جناب مولانا شمیم احمد ندویؔ ؍ حفظہ اللہ کے حسب ہدایت اس سال جامعہ میں چند ثقافتی پروگرامس منعقد ہوئے ، اس سلسلہ کا آخری پرگرام بتاریخ یکم اپریل ۲۰۱۰ء ؁بروزجمعرات۱۰؍ بجے صبح تا اذان ظہرمحترم ناظم صاحب کی صدارت میں جامعہ کی جامع مسجد میں منعقد ہوا جس میں طلبہ نے قرأۃ قرآن کریم ،حمدونعت، عالمی ومقامی خبروں، معلوماتی فیچرز سمیت کئی مفید اورعلمی پروگرام پیش کئے جن سے تمام شریک طالب علموں نے دلچسپی کے ساتھ استفادہ کیا اوراساتذہ کرام نے پروگرام کی افادیت محسوس کرتے ہوئے اسے سراہا۔
پروگرام کے اختتام پر صدرمجلس مولاناشیم احمد ندوی؍حفظہ اللہ ناظم جامعہ نے طلبہ کو گراں قدر اورمفید نصیحتوں سے نوازا اورانھیں محنت اوردلجمعی کے ساتھ حصول علم کی تلقین کی۔
سالانہ تقریری مسابقے:۔ جمعیۃ الطلبہ کے زیراہتمام ۲؍مئی تا ۶ مئی ۲۰۱۰ء ؁ مختلف زمروں کے طلبہ کے تقریری مسابقے ہوئے، افتتاحی اورپہلی نشست ۳؍مئی بعدنماز عشاء منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا عبدالرشید مدنی (نائب شیخ الجامعہ) نے فرمائی اور فضیلت وعالمیت کے طلبہ نے مقررہ موضوعات پر تقریریں پیش کیں، فضیلت کے طلبہ کے لئے ’’ہوحلقۂ یاراں توبہ ریشم کی طرح نرم‘‘ عنوان متعین کیاگیا تھا جب کہ عالمیت کے طلبہ کو ’’عظمت قرآن‘‘ کے موضوع پر خطابت کی دعوت دی گئی تھی، فضیلت کے مرحلہ میں کوثرعالم (ف.اول) نے پہلی ،جنیداحمد(ف.۲) نے دوسری اورانظارالاسلام (ف.۱) نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔
اورعالمیت کے مرحلہ میں پہلی پوزیشن خالد رشید (ع.۲) اورعبدالحسیب (ع.۱)نے مشترک طورپر حاصل کی جب کہ دوسری پوزیشن نورعالم(ع.۲)نے اورتیسری پوزیشن محمد اسحاق (ع.۱) وارشاد عالم(ع.۲)نے مشترک طورپر حاصل کی۔
دوسری نشست ۴؍مئی بروزمنگل صبح ۹؍بجے تا ۱۲؍بجے جاری رہی، اس کی صدارت شیخ الجامعہ مولانا خورشیداحمد سلفی نے کی اورباذوق طلبہ نے عربی میں تقریریں کیں، عربی پروگرام میں پوزیشن لانے والے طلبہ کے نام یہ ہیں:(اول)حافظ نورعالم ع.۲ (دوم)حافظ خالد رشیدع.۲(سوم)حافظ حمید حسن ع.۲۔
تیسری نشست ۴؍مئی بروزمنگل بعدنماز عصرتا مغرب جاری رہی، جس میں طلبہ نے انگریزی میں تقریریں کیں، اس کی صدارت ماسٹرشمس الحق صاحب نے کی، پوزیشن لانے والے طلبہ کے نام یہ ہیں:
(اول) نورعالم ع.۲،(دوم)اختر عالم ع.۲ ،(سوم) عبدالحکیم ع.۲
چوتھی نشست:۔ ۴؍مئی کو بعدنماز عشاء منعقد ہوئی جوشب کو ایک بجے تک چلتی رہی، اس کی صدارت ناظم جامعہ مولاناشمیم احمدندوی ؍حفظہ اللہ نے فرمائی اورثانویہ کے طلبہ نے اردوزبان میں بعنوان: ’’صحابۂ کرام اورمحبت رسول‘‘ تقریریں پیش کیں، پروگرام کے دوران صدر مجلس و ناظم جامعہ مولانا شمیم احمد ندویؔ نے اپنے صدارتی خطاب میں تقریر و خطابت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے طلبہ کو اس میدان میں محنت و مزاولت پر ابھارا اور جماعت کے اچھے مقرروں سے استفادہ کا مشورہ دیا۔
پانچویں نشست:۔ ۵؍مئی بروزبدھ صبح ۹؍بجے تا ۱۲؍بجے جاری رہی جس کی صدارت جناب محمودعالم خاں صاحب سابق ڈائرکٹر محکمۂ تعلیم نیپال نے فرمائی اورطلبہ نے نیپالی زبان میں تقریریں کیں اورمندرجہ ذیل طلبہ نے پوزیشن حاصل کی۔
(اول)رضوان احمد(ث.۱) (دوم) امیراللہ (ف.۲) (سوم)حافظ نورعالم(ع.۲)
چھٹی نشست:۔ ۵؍مئی کو بعدنماز عشاء تا ۱؍بجے شب تقریری سلسلہ جاری رہا، متوسطہ کے طلبہ نے شرکت کی اور مقررہ موضوع:’’صحابۂ کرام کا عدل وانصاف‘‘ پرتقریریں کیں،صدرکافریضہ مولانا مختاراحمد مدنی ؔ نے انجام دیا ۔
ساتویں نشست:۔ساتویں اوراختتامی نشست کا انعقاد ۶؍مئی بروزجمعرات ۹؍بجے صبح منعقدہوا، جس کی صدارت جناب الحاج عبدالرشید خاں ؍حفظہ اللہ ناظم کلیہ عائشہ نے فرمائی، اس نشست میں مختلف زمروں میں پوزیشن لانے والے طلبہ نے نمونہ کی تقریریں پیش کیں، اس کے بعدنتائج کا اعلان جناب مولانا مختار احمد مدنیؔ مربئی انجمن نے فرمایا اورکامیاب طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے طلبہ کو مزید محنت کی نصیحت فرمائی ،اس کے بعد صدر مجلس جناب الحاج عبدالرشید خاں صاحب، ناظم کلیہ عائشہ صدیقہ جھنڈانگر اورشیخ الجامعہ مولانا خورشیداحمد سلفی وغیرہما نے طلبہ کو اپنے قیمتی پند ونصائح سے نوازا، اورسب سے آخرمیں پوزیشن لانے والے طلبہ کو کتابوں کی شکل میں قیمتی انعامات دئے گئے جب کہ تمام شرکاء کو تشجیعی انعامات سے نوازاگیا۔
امتحان سالانہ وتعطیل موسم گرما:۔ جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر میں امتحان سالانہ ۱۶؍مئی ۲۰۱۰ء ؁ بروز اتوارشروع ہوکر ۲۶؍مئی ۲۰۱۰ء ؁ بروزبدھ اختتام پذیر ہورہا ہے، ان شاء اللہ، اس کے بعدیکم جولائی تک تعطیل رہے گی اور نیاتعلیمی سال ۲؍جولائی سے شروع ہوگا ان شاء اللہ۔
***