Monday, October 4, 2010

رمضان المبارک کے بعض احکام ومسائل Aug- Sep 2010

وصی اللہ عبدالحکیم مدنیؔ
استادکلیہ عائشہ صدیقہ جھنڈانگر
رمضان المبارک کے بعض احکام ومسائل
چاندکے احکام:
*چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھو اورچاند دیکھ کرہی روزہ چھوڑو اگرانتیس شعبان کو آسمان ابرآلود ہواورچاند نظرنہ آئے توشعبان کے تیس دن پوری کرلو۔(متفق علیہ)
*رمضان کے چاند کے لئے موحد مسلمان کی شہادت ورویت کاہی اعتبار کیاجائے گا۔ (صحیح؍ سنن ابی داؤد)
*چاند دیکھنے کی دعا:’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ! اَللَّھُمَّ اَھِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْأَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالْاِسْلَامِ وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ رَبَّنَا وَتَرْضٰی رَبِّیْ وَرَبُّکَ اللّٰہُ‘‘۔(حسن بشواہدہ؍سنن دارمی)
ترجمہ:اللہ بہت بڑا ہے، اے اللہ! اس کو ہم پرامن وایمان سلامتی واسلام اوراس چیز کی توفیق کے ساتھ ظاہر فرماجسے توپسند فرماتا ہے اورجس سے توخوش ہوتاہے، اے چاند میرا اورتیرا رب اللہ ہے۔
*رمضان کے چاندکی بابت ایک مسلمان کی شہادت کافی ہے جب کہ عید کے چاند کے بارے میں کم ازکم دومسلمانوں کی شہادت ہونی چاہئے۔(صحیح ؍سنن أبی داؤد)
*جو علاقے مطلع کے اعتبارسے قریب قریب ہیں ان علاقوں میں ایک علاقہ کی رؤیت دوسرے علاقوں کے لئے کافی ہے۔
صوم کامعنیٰ ومفہوم:
صوم اور صیام یہ صَام یصوم کامصدرہے اورصوم کا لغوی معنی رکنا اورشرعی معنی صبح صادق سے لے کرغروب آفتاب تک روزہ کی نیت سے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کھانے پینے، بیوی سے ہم بستری کرنے اور سارے مفطرات صوم سے رکے رہناہے۔
رمضان کا روزہ کن لوگوں پر فرض ہے؟:
رمضان کاروزہ ہر عاقل، بالغ، روزہ رکھنے پر قادر اورمقیم مسلمان مرد وعورت (جوحیض ونفاس سے پاک ہو)پر فرض ہے جسے کوئی شرعی عذرلاحق نہ ہو جیساکہ ارشاد ربانی ہے(یٰا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَاکُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ)( البقرۃ:۱۸۳)
ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پرفرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
رمضان کا روزہ کن لوگوں پر فرض نہیں ہے؟
رمضان کا روزہ نابالغ بچہ تاوقتیکہ بالغ نہ ہوجائے، مجنون، مریض، مسافر، حیض ونفاس والی عورت، بوڑھے مردیا بوڑھی عورت ،حاملہ اوردودھ پلانے والی عورت پر فرض نہیں ہے، ان میں بعض وہ ہیں جن پر روزہ فرض نہیں ہے لیکن ان کے لئے روزہ رکھنا مستحب ہے، بعض کوروزہ چھوڑنا اوراس کی قضاء ضروری ہے، بعض کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے ،لیکن اس کی قضاء یا فدیہ ضروری ہے ہر ایک کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
رمضان کے روزوں کی فرضیت:
(۱)ماہ رمضان کے روزوں کی فرضیت کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ (المغنی:۴؍۳۲۴)
(۲)ماہ رمضان کا روزہ ۲ھ ؁میں فرض ہوا۔(نیل ا لأوطار؍۳؍۱۵۱)
رمضان کے روزوں کاحکم:
*رمضان کے روزوں کی فرضیت کاانکارکرنے والا انسان کافر اوربغیر کسی عذرشرعی اس کا چھوڑنے والا سخت گنہگار اورفاسق ہے۔
رمضان کاروزہ رکھناکب واجب ہوتاہے؟
*رمضان کا چاند دیکھنے سے یا شعبان کا مہینہ تیس دن پوراہوجانے پر رمضان کا روزہ رکھنا واجب ہوتاہے۔
ماہ رمضان کی فضیلت:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’جب رمضان کا مہینہ آتاہے توجنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں اور شیطانوں کوباندھ دیاجاتاہے‘‘۔(بخاری ومسلم)
رزوں کی فضیلت:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ انسان کا ہرعمل اس کے لئے ہے سوائے روزہ کے، اس لئے کہ روزہ میرے لئے ہے اوراس کا بدلہ میں ہی دوں گا‘‘۔(متفق علیہ)
نیت:
*رمضان کے فرض روزے کی نیت رات ہی میں طلوع فجر سے پہلے کرنا واجب ہے۔(صحیح ؍سنن ابی داؤد)
*نفلی روزوں کی نیت طلوع فجرکے بعدظہر سے پہلے بھی کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ طلوع فجر کے بعد کچھ کھایا پیانہ ہو یا جماع نہ کیا ہو۔
*ہرشرعی کام کے لئے نیت ضروری ہے۔(صحیح بخاری)
* زبان سے نیت کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے لئے دل میں ارادہ کرلینا کافی ہے۔(امام ابن تیمیہ)
*نیت اورروزہ رکھنے کے لئے کوئی مخصوص دعا آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔
*رمضان کا روزہ رکھنے والے کے لئے رمضان کی ہرشب میں نیت کرنے کی حاجت نہیں ہے جبکہ امام شوکانی کے بقول ہردن کے لئے نیت کرنی چاہئے۔
*ہر وہ روزہ جو واجب ہے جیسے قضاء وکفارہ اس کے لئے نیت بھی شرط ہے۔
افطار:
*غروب آفتاب کے بعد فوراً افطار کرلینا چاہئے تاخیر درست نہیں ہے(متفق علیہ)
*تاخیر سے افطارکرنا یہود ونصاریٰ کی مشابہت ہے۔(حسن ؍سنن أبی داؤد)
*نفلی روزہ انسان جب چاہے افطار کرسکتاہے۔(صحیح مسلم)
* افطار کرتے وقت ’’بسم اللہ‘‘ کہے اورکھانا کھاچکے تو ’’الحمدللہ‘‘ کہے اوریہ دعا پڑھے’’ذَھَبَ الظَّمَاءُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُاِنْ شَآءَ اللّٰہُ ‘‘۔
(حسن ؍سنن أبی داؤد،سنن دارقطنی)
کس چیز سے افطار کیاجائے؟
*تازہ طاق کھجوروں سے افطار کرناافضل ہے اگریہ میسرنہ ہوں توپانی سے افطار بہترہے ویسے کسی بھی حلال اورپاکیزہ چیز کو کھاپی کرروزہ افطار کیاجاسکتا ہے اوراگرکبھی کھانے پینے کی کوئی چیز نہ مل سکے توصرف افطارکی نیت کرلینے سے افطار ہوجائے گا۔
سحری:
*سحری کھانا باعث برکت اورہمارے نبی ﷺ کی سنت ہے۔(متفق علیہ)
* اگر کھانے کی خواہش کم ہو توتھوڑا سامیٹھاکھالے اگربالکل خواہش نہ ہو تودوچارگھونٹ پانی ہی پی لے۔
*اگررات کوسوجانے کی وجہ سے سحری نہ کھاسکے تب بھی روزہ رکھناچاہئے۔
*بغیرسحری کھائے ہوئے بھی روزہ رکھنا درست ہے البتہ سنت کی پیروی افضل ہے۔
*عہد نبوی میں سحری کی اذان حضرت بلال رضی اللہ عنہ اورفجر کی اذان عبداللہ بن ام مکتوم دیتے تھے۔(متفق علیہ)
*سحری کی اذان کی جگہ سائرن بجانا، نقاروں، پٹاخوں، توپوں اورہری بتیوں کااستعمال بدعت اورخلافِ سنت ہے۔
*حالتِ جنابت میں سحری کھانا درست ہے۔(متفق علیہ)
*سحری بالکل آخر وقت میں کھاناافضل اورسنت نبوی ہے ۔(بخاری ومسلم،الفتح الربانی)
*سحری دیرسے کھانا انبیاء کی خصلت اورایمان کی علامت ہے۔
*جوشخص فجرکی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہوتووہ کھاپی لے۔(حسن صحیح؍سنن ابی داؤد)
نمازتراویح(قیام رمضان)
*رمضان المبارک کاچاند دیکھتے ہی ہرمسلمان مردوعورت کے لئے عشاء کی نماز کے بعدآٹھ رکعت تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔
*صلاۃ تراویح کے بعد یا ہردورکعت کے بعدکوئی مخصوص دعا آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے۔
*قیام اللیل یاصلاۃ تراویح وِترسمیت گیارہ رکعت ہی پڑھنا مسنون ہے، آٹھ رکعت تراویح اورتین رکعت وتر۔(صحیحین)
*ایک ہی رات میں نماز تراویح وتہجد پڑھنا درست ہے بایں طور اول شب میں تراویح اورآخری رات میں نماز تہجد لیکن ایک ہی رات میں دوبار وتراداکرناجائز نہیں ہے۔
*تراویح کے ائمہ کرام قرأت ٹھہر ٹھہر کر کریں اورصاف صاف پڑھیں، قرآن پاک ختم کرنے کے لئے جلد بازی ہرگز درست نہیں ۔
* تراویح کی نماز تنہا پڑھنی بھی جائز ہے مگراسے باجماعت اداکرنا افضل ہے۔
*شرعی حجاب اوراسلامی آداب واخلاق کالحاظ کرتے ہوئے عورتیں بھی مردوں کے ساتھ تراویح کی نماز باجماعت میں شریک ہوسکتی ہیں، بشرطیکہ ان کے لئے نماز کا علیحدہ انتظام ہو۔
*کوئی پڑھی لکھی عورت علیحدہ عورتوں کی امامت بھی کراسکتی ہے۔
مفسدات صوم:
رمضان کے دن میں قصداً کھاناپینا ،قصداً بیڑی سگریٹ پینا یا کسی اورطرح سے دھواں منہ میں لینا،عمداً قے کرنا، حیض ونفاس کے خون کا آنا، مرتد ہوجانا،( یعنی اسلام سے پھرجانا )رمضان کے دن میں مقوی انجکشن لینا، روزہ توڑنے کی نیت کرنا، منھ کے راستے سے دواؤں کا نگلنا، خون چڑھانا،بیداری کی حالت میں منی کانکلنا چاہے وہ مباشرت سے ہو یا بوسہ لینے سے یا ویسے ہی نکل جائے اوررمضان کے دن میں بیوی سے جماع کرنا اس میں قضاء کفارہ دونوں لازم ہے۔
مکروھاتِ صوم:
روزہ دار کے لئے کلّی کرنا ،ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنا، بغیر ضرورت کھانا چکھنا اوراگر پچھنا لگوانے سے کمزوری آئے توپچھنا لگوانابھی مکروہ ہے۔
مباحات صوم:
درج ذیل امورسے روزہ فاسد نہیں ہوتاہے۔
سرمہ لگانا، غیر مقوی انجکشن لگوانا، آدمی کے پیشاب کے سوراخ میں دواٹپکانا،زخموں کی مرہم پٹی کرنا، خوشبو سونگھنا،تیل لگانا، دھونی دینا، ہاتھ وپیرمیں مہندی لگانا، آنکھ ،کان اور ناک میں دواکا قطرہ ڈالنا،قے ہونا، سینگی (پچھنا)لگوانا،(اس مسئلے میں علماء کے مابین شدید اختلاف ہے اس لئے احتیاط ہی برتنا بہترہے) رِگ کھلوانا، خون نکلوانا، نکسیر پھوٹنا، زخموں سے خون نکلنا،شدید درد کی وجہ سے دانت نکلوانا،دانت میں دوالگانا، مذی اورودی کانکلنا ،دمہ میں اسپرے(spray)کااستعمال کرنا،خشک وتر میٹھی وکڑوی مسواک کرنا،ہروہ ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنا جس میں ممنوع اشیاء شامل نہ ہوں، طلوع فجرکے بعد غسلِ جنابت کرنا، بیوی سے بوس وکنارہونا اورپردے کے اوپرسے مباشرت کرناگرچہ اس کی شہوت حرکت میں آئے، کلی کرنا اورناک میں پانی ڈالنا، استحاضہ کاخون آنا، وقتِ ضرورت کسی چیز کا چکھنا، بھول کر کھاپی لینا،گرمی یاپیاس کی وجہ سے سرپر پانی ڈالنا،نہانا،چیک اپ کروانا،غرغرہ کی دواستعمال کرنا ،محتلم ہونا، بھول کر بیوی سے جماع کرنا، وکس یا دوسری سونگھنے والی دواؤں کا استعمال کرنا،تھوک اورگردوغبار حلق کے اندرجانا، صائم کا اپنا تھوک نگلنا،کڈنی اورگردہ کی دھلائی کرنا۔
قضاء وکفارہ:
*بحالت روزہ قصداً اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اوراس حالت میں قضاء اورکفارہ دونوں ضروری ہے اورکفارہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے اگر اس کی استطاعت نہ ہو تودومہینے کا مسلسل روزہ رکھے اوراگر اس کی بھی طاقت نہ ہو توساٹھ مسکینوں کوکھانا کھلائے۔
*جمہورائمہ کے نزدیک یہ کفارہ مردوعورت دونوں پر ضروری ہے، لیکن اگرمرد نے عورت کو اپنے ساتھ زبردستی شریک کیا تو اس کا کفارہ بھی مرد کے ذمہ ہوگا۔(الفتح الربانی)
*جمہورائمہ کے نزدیک کفارہ میں ترتیب ضروری ہے۔(الفتح الربانی)
*اگرکسی شخص نے روزہ توڑنے کی نیت کرلی تواس کا روزہ ٹوٹ جائے اوراس پرقضاء ہے۔(فقہ السنۃ)
*جمہورعلماء کے نزدیک اگرکسی کو طلو ع فجرکے بعد رمضان کے آنے کی اطلاع ملے تواس پر واجب ہے کہ دن کا باقی حصہ روزہ کی حالت میں گزارے اوربعدمیں اس دن کی قضاء کرے۔
*جس شخص نے رمضان کے دن میں اپنی حائضہ بیوی سے جماع کرلیا تواس پر کفارہ اورقضا دونوں ضروری ہے۔
*اگرروزہ دارمنی نکالے تووہ گنہگار ہوگا لیکن نہ اس پر کفارہ ہے اورنہ ہی قضاء۔
*اگرکسی شخص نے رمضان کے دن میں اپنی بیوی سے ایک ہی دن میں کئی بار جماع کیا توایک ہی کفارہ اوراس کی قضا ہے۔
*اگرکسی نے نفلی روزہ یانذر کاروزہ رکھا یاکوئی روزہ قضاء کررہا تھا اوراسی بیچ میں اپنی بیوی سے جماع کربیٹھا تواس پرقضاء ہے کفارہ نہیں ۔
*رمضان کے روزوں کی قضاء تاخیر سے بھی درست ہے(صحیح ؍سنن أبی داؤد) ویسے امام البانی کے بقول اگراستطاعت ہو توجلدی قضا ء کرنا واجب ہے۔(تمام المنۃ)
*رمضان کے روزوں کی قضاء مسلسل اورالگ الگ کی جائے دونوں طریقہ درست ہے۔
*جوشخص قصداً بلاعذر روزہ نہ رکھے تواس کے لئے قضا ء مشروع نہیں اوراس کا قضا ء کرنا درست نہ ہوگا۔(البانی)
*اگرکسی شخص کو روزہ رکھنے کی وجہ سے اپنی جان جانے کا خطرہ لاحق ہوتووہ روزہ توڑدے بعدمیں اس کی قضاء کرے۔
*اگر کسی شخص نے کسی ڈوبنے والے کو بچانے کے لئے یا آگ بجھانے کے لئے روزہ توڑدیا تو اس کے لئے قضاء ہے۔
*دائم المریض شخص پر روزہ کی قضاء نہیں ہے بلکہ اس کے ذمہ فدیہ ہے۔
*اگرکسی شخص کو جماع کرنے پر مجبور کیاگیا اوروہ مسئلہ نہیں جانتا تھا یا بھول کرجماع کرلیا تواس کا روزہ صحیح ہوگا اوراس پر قضاء اورکفارہ عائد نہیں ہوگا۔
*اگرکوئی شحص اپنی بیوی کی رضامندی سے جماع کرتاہے تواس عورت کوبھی فدیہ، قضاء اورکفارہ دیناپڑے گا۔
*اگرکسی آدمی نے رات سمجھ کر کچھ کھاپی لیا یااپنی بیوی سے مباشرت کربیٹھا پھرمعلوم ہواکہ فجرہوچکی ہے تواس کا روزہ صحیح ہوگا اوراس پر کوئی کفارہ عائد نہیں ہوگا۔
*اگرکسی شخص کو روزے کی حالت میں خودبخود قے آجائے تواس پر قضاء نہیں ہے۔(صحیح؍سنن أبی داؤد)
*اگرکوئی حاملہ عورت حمل کے پانی آنے کے دوران روزہ رکھتی ہے تواس کے روزے صحیح ہیں اس پرقضا ء نہیں۔
*اگرحاملہ اوردودھ پلانے والی عورتیں اپنے نفس پر، جنین یا اپنے نومولود کی صحت کے بارے میں خوف محسوس کریں تورمضان میں روزے نہ رکھیں بعدمیں قضاء کرلیں اس صورت میں صرف قضاء لازم ہے صدقہ نہیں ۔
*حائضہ اورنفاس والی عورتوں کے لئے روزہ رکھنا منع ہے، یہ روزہ نہ رکھیں، بلکہ بعدمیں قضاء کریں۔
*اگرحائضہ اورنفاس والی عورتیں دن میں پاک ہوجائیں توان کے لئے اس دن کا کھانا پینا درست ہے۔
* منہ کے علاوہ کسی اورذریعے سے قصداً معدہ یا دماغ میں کوئی غذا پہونچا دی جائے توروزہ ٹوٹ جائے گا قضا ء واجب ہوگی۔
*نفلی روزوں کی قضاء لازمی نہیں ہے۔
*قضاء روزے نفلی روزوں کے قائم مقام نہ ہوں گے۔
*جوشخص مرجائے اوراس پر رمضان کے روزے ہوں اگروہ مرض کی وجہ سے معذور ہے تواس کی طرف سے قضاء ضروری نہیں اورنہ کھانا کھلانا ضروری ہے اوراگروہ قضاء پرقادرتھا لیکن غفلت کی بنا پرقضاء نہیں کیایہاں تک کہ مرگیا تواس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھ لے۔
*کوئی عورت اپنے شوہرکی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھے البتہ رمضان کے روزے اوررمضان کی قضا ء بغیر شوہرکی اجازت سے کرلے۔
*اگرکوئی مسلمان رمضان کے دن میں بھول کرکھالے یاپی لے یا اپنی بیوی سے جماع کرلے تواس کا روزہ صحیح ہوگا بشرطیکہ یاد آتے ہی فوراً اس کام کو چھوڑ دے ایسے روزوں کی نہ قضا ہے نہ کفارہ۔
*اگرکسی شخص نے یہ سمجھا کہ سورج غروب ہوگیا اورافطارکرلیا اس کے بعدسورج نمودارہوگیا تواسے اس دن کی قضاء کرنی ہوگی۔(صحیح؍سنن ابی داؤد)
نفلی روزہ:
*غیرشادی شدہ عورت بغیراجازت نفلی روزہ رکھ سکتی ہے۔
*مرد کا اپنی بیوی کو نفلی روزہ سے منع کرنا درست ہے۔
*اگرکسی عورت کا شوہر اس کے پاس موجودنہ ہو تواس کے لئے نفلی روزہ رکھنا مستحب ہے۔
میت کا روزہ:
*میت کی طرف سے میت کا ولی اس کے رمضان اورنذرکے روزے رکھ سکتاہے اور اس میں نیابت درست ہے کیونکہ صحیح حدیث اس پر شاہد ہے۔(متفق علیہ)
*جولوگ کسی ایسے ملک میں مقیم ہوں جہاں چھ مہینے دن اورچھ مہینے رات ہو تووہ نماز اورروزہ اپنے قریبی ملک کے مطابق اداکریں۔
خواتین کے لئے دواؤں کا استعمال:
*عورت روزہ رکھنے اورحج کرنے کے لئے وہ دواستعمال کرسکتی ہے جو حیض کوبند کردے۔
غسل:۔اگرکسی مسلمان مردوعورت کوروزہ کی حالت میں احتلام ہوجائے تواس کا روزہ صحیح ہوگا اوراس پر غسل واجب ہے اوراس پر کوئی گناہ نہیں۔
*گرمی اورپیاس کی شدت کم کرنے کے لئے روزہ دار غسل کرسکتاہے۔
*اگرکسی عورت نے حیض کی وجہ سے روزہ چھوڑدیا اوررات کے وقت اس کا خون بندہوگیا تواس کو فوراً روزہ کی نیت کرلینی چاہئے اگراس وقت غسل نہ کرسکے تودن میں غسل کرلے۔
*اگرغسل جنابت یاغسل حیض ونفاس کو روزہ دارطلوع فجرتک مؤخر کردے توجائز ہے اوراس کا روزہ صحیح ہے لیکن مسلمان کے لئے بہتر ہے کہ وہ ہمیشہ پاک رہے۔
*نفاس والی عورت کو اگرچالیس دن کے بعدبھی خون آتا ہے تو وہ غسل کرے گی اورروزہ رکھے گی اورنماز پڑھے گی اوراپنے آپ کو مستحاضہ تصورکرے گی۔
مسافرکاروزہ:
*مسافرکے لئے سفرمیں مطلقاً روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔(متفق علیہ)
* اگرمسافر کوسفرمیں روزہ رکھنا سخت دشوار ہو تواس کے لئے روزہ نہ رکھنا واجب ہے البتہ اگرروزہ رکھنے میں کوئی تکلیف نہ ہو تو روزہ رکھنا بھی جائز ہے۔
*دوران سفرروزہ رکھنا اورچھوڑنا دونوں طرح جائز ودرست ہے۔(متفق علیہ)
*اگرمسافر روزہ نہ رکھ کر اپنے شہرمیں اس دن پہونچے جس دن اس کی بیوی حیض یا نفاس سے پاک ہورہی ہو تواس سے جماع کرسکتاہے۔
*اگرمسافردن میں روزہ نہ رکھ کر اپنے شہرمیں داخل ہو تواس کے لئے کھانا پینا مباح اورجائز ہے ۔
فدیہ:
ہرمرد وعورت جوبڑھاپے کی وجہ سے یاایسے مرض کی وجہ سے۔ جس سے شفاء پانے کی امید نہ ہو۔ روزہ نہ رکھ سکتا ہوخواہ وہ مقیم ہو یامسافراسے روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے البتہ ہردن کے بدلے(فدیہ) ایک مسکین کوکھانا کھلاناضروری ہے۔(مسند امام احمد، نیل الاوطار)
*وہ بوڑھا شخص جو نہ ہی روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہے اورنہ ہی فدیہ دینے کی تواس سے روزہ اورفدیہ دونوں معاف ہیں ۔(فتاویٰ علمائے اہل حدیث)
جن ایام کا روزہ رکھنا حرام ہے:
عیدین،ایام تشریق اوررمضان کے استقبال کے لئے ایک یا دودن پہلے روزہ رکھنا حرام ہے۔(متفق علیہ، مسنداحمد)
روزہ نہ رکھنے کی اجازت:
مریض، مسافر، حاملہ، مرضعہ اورحیض ونفاس والی عورتوں کوروزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے لیکن بعدمیں فوت شدہ روزوں کی قضاء لازمی ہے ۔(کتب ستہ)
شب قدر:
*رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں یہ بابرکت رات آتی ہے صرف ستائیسویں رات شب بیداری اورخصوصی پکوان کا اہتمام کرنا درست نہیں ہے۔
*(اِنا انزلنا ہ فی لیلۃ مبارکۃ)میں’’ لیلۃ مبارکۃ‘‘سے مراد شب قدرہے نہ کہ شب برأت۔
*شب قدر کی مخصوص دعا’’اللھم! إِنَّکَ عَفُوٌ کَرِیْمٌ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّی‘‘کو بکثرت پڑھنی چاہئے۔(صحیح؍ سنن ترمذی)
خطبۃ الوداع:
*رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو الوداعی خطبہ پڑھنا بدعت ہے۔
مسائل اعتکاف:
*اعتکاف سنت ہے لیکن اگرکوئی شخص اسے نذرکے ذریعے اپنے اوپرلازم کرلے توپھریہ واجب ہوجائے گا۔
*اعتکاف خواہ مرد کرے یا عورت اس کا مسجد میں ہوناضروری ہے۔(المغنی، الفتح الربانی)
*روزے کے بغیراعتکاف جائز ہے لیکن روزے کے ساتھ افضل ہے ۔(صحیح بخاری، زادالمعاد)
*اعتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں ہے کیونکہ رات کو روزہ نہیں رکھا جاتاہے۔
*اعتکاف بیٹھنے والا شخص کسی سخت حاجت ناگزیر انسانی ضرورت کے وقت ہی باہرنکل سکتاہے۔(متفق علیہ)
*اعتکاف کرنے والا شخص بغیر شہوت کے اپنی بیوی کوچھوسکتاہے۔(متفق علیہ)
*اعتکاف کرنے والے کے لئے مریض کی عیادت اورجنازے میں شرکت جائز نہیں ہے۔(صحیح؍سنن أبی داؤد)
*اعتکاف کی جگہ میں چارپائی اوربستر بھی رکھا جاسکتا ہے بشرطیکہ دوسرے نمازیوں کو تکلیف نہ ہو۔(سنن ابن ماجہ)
*خواتین بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں اس میں شادی شدہ اورکنواری کی تفریق نہیں ہے۔(الفتح الربانی)
*عورتوں کے لئے گھروں میں اعتکاف بیٹھنا درست نہیں ہے۔
*عورت اپنے شوہرکے بغیراجازت اعتکاف نہیں بیٹھ سکتی ہے۔
*حائضہ عورتوں کے لئے اعتکاف بیٹھنا درست نہیں ہے۔
*مستحاضہ عورت اعتکاف کرسکتی ہے۔صحیح بخاری)
*بیوی کا اپنے معتکف شوہرکی زیارت کے لئے مسجد آنا، اس کے بالوں میں کنگھی کرنا اوراس کا سردھلناجائز ہے۔(متفق علیہ)
*معتکف اپنی بیوی کو رخصت کرنے کے لئے اپنی جائے اعتکاف سے نکل سکتا ہے(صحیح؍ سنن أبی داؤد)
صدقۂ فطر:
*صدقۂ فطر عیدکے ایک یادودن پہلے نکالنا ہی عین سنت ہے۔(صحیح بخاری)
*صدقہ فطر جنس طعام سے ہی اداکرنا چاہئے۔(بخاری ومسلم)
*صدقہ فطر میں قیمت اداکرنے کا ثبوت احادیث نبوی میں نہیں ہے۔
*بعض علماء کے نزدیک بدرجہ مجبوری اورکسی معقول عذرکی وجہ سے صدقۂ فطر میں قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔(مرعاۃ المفاتیح،تحفۂ رمضان المبارک)
*صدقۂ فطر کے وجوب کے لئے نصاب شرط نہیں ہے،کیونکہ یہ ایک بدنی صدقہ ہے مالی صدقہ نہیں ۔(نیل الاوطار)
*صدقہ فطرکا پیشگی جمع کرنا جائز ہے۔(بخاری ،تحفۃ الأحوذی)
*جنین کی طرف سے صدقۂ فطر نکالنے کے سلسلے میں اللہ کے رسول ﷺ سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں ہے اوررہی یہ حدیث’’عن عثمان رضی اللہ عنہ انہ کان یعطی صدقۃ الفطرۃ عن الحبلٰی‘‘تواس کی سند ضعیف ہے سویہ حدیث ضعیف ہے۔
*صدقۂ فطرکافرکی طرف سے نہیں نکالاجائے گا کیونکہ حدیث میں’’..من المسلمین‘‘ کی قید ہے ۔
احکام وآداب عیدین:
*عید کی رات اوریوم عید کی صبح کو تکبیرات پڑھنے کا خاص اہتمام کرناچاہئے۔
*نماز عید سے پہلے غسل کرنا ،عمدہ لباس زیب تن کرکے خوشبولگاکر گھرسے نکلناچاہئے۔ (مؤطاء)
*عید الفطر میں گھرسے نکلنے سے پہلے طاق عددمیں کھجوریں کھانا مسنون ہے۔(بخاری)
*عیدگاہ پیدل جانا اوروہاں سے پیدل آنا مسنون ہے۔(حسن؍سنن ابن ماجہ)
*مرد اورعورت سب کو صلاۃ عیدین عیدگاہ ہی میں اداکرنا چاہئے کیونکہ یہی ہمارے نبی ﷺ کی سنت ہے۔(متفق علیہ)
*تکبیرات عیدین یہ ہیں’’اَللّٰہُ اَکبَرُ، اَللّٰہُ اَکبَرُ، لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ،وَاللّٰہُ اَکبَرُ ،اَللّٰہُ اَکبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ‘‘۔(اسنادہ صحیح؍ مصنف ابن ابی شیبہ)
*صلاۃ عید سے پہلے اوراس کے بعد کوئی سنت اورنفل نماز نہیں ہے۔(متفق علیہ)
*صلاۃ عیدین میں نہ تواذان ہے اورنہ ہی اقامت۔(مسلم)
*اگرامام تکبیرزوائد میں سے کوئی تکبیر بھول جائے اورقرأت شروع کردے تووہ تکبیر ساقط ہوجائے گی اس لئے کہ وہ سنت ہے اوراس کا موقع ومحل فوت ہوچکاہے۔
*عیدگاہ میں منبر نہیں لے جانا چاہئے کیونکہ اس باب میں وارد حدیث منکرہے۔ *صلاۃ عید ین کے بعدخطبہ دینا مشروع ہے۔
*عیدین میں جمعہ کی طرح دوخطبے نہیں ہیں صرف ایک ہی خطبہ مسنون ہے۔
*اگربغیر عذرشرعی عورتیں مسجد میں اورمرد عیدگاہ میں عید کی نماز اداکرتے ہیں تویہ خلاف سنت ہے اوریہ تفریق شرعی نہیں من مانی ہے۔
*ماہ شوال کے چھ روزے سنت ہیں فرض نہیں۔
*شوال کے چھ روزے پے درپے اورمتفرق دونوں طریقے پر رکھے جاسکتے ہیں کیونکہ حدیث کے الفاظ ’’من صام رمضان ثم اتبعہ ستاً من شوال کان کصیام الدھر‘‘مطلق ہے۔
*جس پررمضان کی قضاء ہو اسے چاہئے کہ پہلے رمضان کے روزوں کی قضا ء کرے پھرشوال کے چھ روزے رکھے۔(فتویٰ شیخ ابن عثیمین؍رحمہ اللہ)
*شوال کے چھ روزوں کی قضا ماہ شوال ختم ہوجانے کے بعدمشروع نہیں ہے خواہ وہ کسی عذر کی بنا پر چھوڑے گئے ہوں یابغیر کسی عذر کے۔

تفسیر،زمانۂ تدوین میں aug-sep 2010

مولاناعبدالصبورندویؔ
مدیر’’ترجمان السنۃ‘‘ رچھا
تفسیر،زمانۂ تدوین میں
تفسیر عہدرسول ﷺ ،عہدصحابہؓ اورتابعین کے زمانے میں روایت اورتلقین کے ذریعے رائج تھی، یہ علم سینہ بہ سینہ منتقل ہوتارہا لیکن اسے کاغذی پیراہن عطانہیں کیاگیا، یابہت کم تدوین عمل میں آئی، پہلی صدی ہجری کے اواخرمیں تفسیرنے رفتہ رفتہ تدوینی شکل اختیار کرنا شروع کیا، یہ وہ زمانہ تھا جب احادیث نبویہ کے مختلف ابواب وموضوعات کی ترتیب وتدوین کا کام ہورہاتھا، تفسیر کی تدوین متعددمراحل سے گذرتے ہوئے کتابی رنگ حاصل کیا، آیئے ان مراحل پرایک نظر ڈالتے ہیں:
پہلا مرحلہ:۔ اس مرحلے میں تفسیر کی تدوین احادیث کے مجموعے میں ایک باب کی حیثیت سے ہوئی، جیسے باب الطہارۃ، باب الصلاۃ، باب الزکاۃ، باب الحج وغیرہ ،تفسیر کی علیحدہ مستقل تالیف سامنے نہیں آتی جس میں اول قرآن سے لے کر اخیر تک ہرآیت کی تفسیر وتوضیح کی گئی ہو، جن علماء نے تفسیر کی تدوین حدیث کے ایک باب کی حیثیت سے کی، ان کے نام درج ذیل ہیں:
*یزید بن ہارون السلمی (وفات:۱۱۷ھ)
*شعبہ بن حجاج (وفات:۱۶۰ھ)
*وکیع بن الجراح (وفات:۱۹۷ھ)
*عبدبن حمید (وفات:۲۴۹ھ)وغیرہم
یہ مرحلہ کچھ خصوصیات بھی رکھتا ہے ،ملاحظہ ہو:
۱۔سندوں کا غایت درجہ اہتمام تھا۔
۲۔ تفسیرکومستقل فن کی حیثیت نہیں ملی، صرف مجموعۂ احادیث کا ایک جزء بن کرشامل رہی۔
۳۔ رسول اکرمﷺ کے علاوہ صحابہ اورتابعین کی تفسیریں شامل کتاب رہیں۔
دوسرامرحلہ:۔ اس مرحلے میں تفسیر نے مستقل علم وفن کی حیثیت اختیار کرلی، جہاں قرآن کی تمام آیتوں کی تفسیر مرتب تھی مصحف کی ترتیب پر۔
علامہ ابن تیمیہؒ اورابن خلکان کاکہنا ہے کہ تفسیر کے باب میں جو پہلی باضابطہ تصنیف سامنے آئی، وہ عبدالملک بن جریج(۸۰۔۱۴۰ھ) کی تفسیر ہے۔(مجموع الفتاوی۲۰؍۳۲۲،وفیات الأعیان۲؍۳۳۸)
اس مرحلے میں جومشہور تفسیریں(تالیفی شکل میں) منظرعام پرآئیں، ان کے مؤلفین علماء کے نام درج ذیل ہیں۔
*ابن ماجہ (وفات،۲۷۳ھ)
*ابن جریر الطبری (وفات:۳۱۰ھ)
*ابوبکرالمنذر النیسابوری (وفات:۳۱۸ھ)
*ابن ابی حاتم (وفات:۳۲۷ھ)
*ابن حبان (وفات:۳۶۹ھ)
*الحاکم (وفات:۴۰۵ھ)
*ابن مردویہ (وفات:۴۱۰ھ)وغیرہم
دوسرے مرحلے کی خصوصیات درج ذیل ہیں:
۱۔تفسیر بالماثورکا اہتمام، جورسول اکرمﷺ ،صحابہ اورتابعین سے منقول ہے۔
۲۔سندوں کا اہتمام، ہرصاحب تفسیر تک متصل سندبیان کی گئی۔
۳۔روایت احادیث میں جرح وتعدیل کا عدم اہتمام، تفسیری مرویات میں صحت وضعف کا خاص خیال نہیں رکھاگیا، صرف سند بیان کرکے آگے بڑھتے گئے، جیسے ابن جریج نے محض سندوں کے ذکرپراکتفاء کیا، راوی کے معیار اوردرجے کی فکرنہ رہی، اورلگتا ہے کہ اس قول پرعمل کیا، جس میں کہاگیا ہے ’’من أسند فقد أبرأذمتہ‘‘جس نے سند بیان کردی وہ بری الذمہ ہوگیا۔
تیسرا مرحلہ:تفسیر کی تاریخ کا یہ المناک مرحلہ رہا ہے جب بعض مفسرین نے سندوں کا اہتمام ترک کردیا یا اختصارسے کام لیا، سلف سے منقول آثار کو لاپروائی کے ساتھ بیان کرتے چلے گئے، قائل کانام اوراس کی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، صحیح، ضعیف اورموضوع اس طرح باہم مل گئے کہ اس وقت ان کی تمیز مشکل ہوگئی، دشمنان اسلام اس تاک میں تھے کہ دین اسلام کی بنیادوں کو متزلزل کیاجائے اور اس کے مبادیات میں خطرناک ہفوات داخل کردئے جائیں جومسلمانوں کو تعلیمات حقہ سے دستبردار کردیں،مگراللہ کا بہت بڑا کرم اس دین اوران کے متبعین پررہا، جس نے علمائے اسلام کی ایک جماعت کو اسی کام کے لئے تیارکیا، جنھوں نے دسیسہ کاروں اورفتنہ پردازوں کی ایک نہ چلنے دی، من گھڑنت روایتوں کے ایک بڑے ڈھیر کا انکشاف کیا، صحیح اورضعیف کا فرق واضح کیا، اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دین کو امت محمدیہ کے لئے شفافیت کے ساتھ محفوظ کردیا۔
اسی دور میں رائے اورعقل کا خوب سہارالیا گیا، کبھی وہ رائے محمود ہوجاتی اورکبھی مذموم،بعض مفسرین نے بغیر علم کے تفسیر کرنا شروع کردیا، خواہشات نفسانی کا ایک طومار کھڑا کردیا، اورپھر ایک ہی آیت کے تحت بلاوجہ کثرت کے ساتھ اقوال کا ذکر کرنا پھراس کے مرجع کی عدم تحقیق نے بعدوالوں کے لئے مسئلہ کھڑا کردیا، بعدوالوں نے مفسرکے احترام میں سند وصحت وضعف سے لاپرواہوکر کامل اعتماد کرنے لگے۔(الاتقان للسیوطی۲؍۱۹۰)
اس دورمیں اسرائیلی روایات نے بھی خوب ترقی کی، اورمفسرین کامیلان بھی بڑھا کہ اسرائیلیات کو وسعت دی جائے اوراس کے اندر غوروخوض کیاجائے، حالانکہ انھوں نے بے فائدہ چیزوں کی معرفت میں اپنا بے پناہ وقت بربادکیا، اورافسوس کہ انھوں نے یہ ساری محنت دینی کام سمجھ کرکیا، انا للہ واناالیہ راجعون۔
چوتھامرحلہ:۔ گذشتہ مرحلے میں جوکچھ ہوا، اس کا حتمی نتیجہ لے کریہ مرحلہ آیا، تفسیر کا دروازہ کھل چکاتھا، جس کی جومرضی تھی اس کے مطابق قرآن کی تفسیر کرتا رہا، صحت وعلت کی تمیز نہ رہی، جس کے مَن میں جوآتا لکھ ڈالتا، کبھی موضوع روایتوں کوبالائی اورمکھن لگاکرتفسیری سرمائے کو نقصانات پہونچایا گیا، توکبھی مسلکی حمیت وتعصب میں قرآن کے معانی ومفاہیم کو مروڑدیاگیا، انسانی رائے اورعقل نے اسلامی عقیدے کی دھجیاں اڑادیں، تفسیر بالرأی نے تومتعدد فرقوں ومسالک کو جنم دے ڈالا، اب ہرشخص تقلیدی مذاہب ومسالک کا پیروکاربن کر، تعصب کا لبادہ اوڑھ کر، سنت سے ہٹ کر مسلکی حمایت میں قرآنی آیتوں کی بے جاتاویل کرنے لگا۔
اسی طرح ارباب علم وفن جس علم میں ماہر ہوتے، تفسیر کرتے وقت ان کا فن تفسیر پرغالب آجاتا، فقہ کا متخصص اگرتفسیر کو ہاتھ لگاتا توموضوع سے ہٹنا اورفروع کے دلائل پیش کرنا نیز مخالفین پرنقدوردّ اس کاشیوہ بن جاتا ہے، جیسے قرطبی ، جصاص اور اخباری کی تفسیریں گواہ ہیں، ثعلبی ونحوی کی تفسیر کو دیکھیں تواعراب اوروجوہ اعراب سے پوری تفسیربھری ہے، علوم عقلیہ اورحکماء وفلاسفہ کے اقوال، شبہات اوران کے ازالے کے لئے تفسیر دیکھنی ہے توفخرالدین رازی کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔(الإتقان للسیوطی۲؍۱۹۰)
زمانۂ تدون جاری وساری ہے اورآج بھی ہرصاحب فن یا صاحب مسلک قرآن کی تفسیر اپنے فن یا مسلک کے مطابق کررہا ہے، قرآن کے عظیم ترین مقاصد سے آنکھیں موند کراس الیکٹرانک دورمیں جبکہ دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی الگ ہوچکا ہے ،تعصب کی دبیزچادروں کے سائے میں سنت صحیحہ کا گلا گھونٹا جارہا ہے۔
یہ وہ مراحل ہیں، جن سے مل کر یہ تدوینی زمانہ وجودمیں آتا ہے ،خیال رہے یہ مراحل ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں ہیں، بلکہ ایسا بہت ممکن ہے کہ جس مرحلے کی ہم بات کررہے ہوں اس کی بنیاد سابقہ مرحلے میں پڑچکی تھی۔
زمانۂ تدوین میں اہم تالیفات:
یہ کسی کے لئے بھی آسان نہ ہوگا کہ زمانۂ تدوین ۔جوپہلی صدی ہجری کے اواخر سے عہد حاضرتک محیط ہے۔ ہرلکھی گئی تفسیر کا ذکر ممکن ہوسکے، اس کا شمار یقیناًمشکل امرہے، یہاں اجمالی طورپہ مشہور تفاسیر کاذکر کررہے ہیں۔
تفسیر بالماثور:
۱۔جامع البیان فی تفسیر القرآن(تفسیر طبری)للطبری،۲۔بحرالعلوم ابواللیث سمرقندی،۳۔الکشف والبیان عن تفسیر القرآن ثعلبی،۴۔معالم التنزیل بغوی،۵۔المحررا لوجیزفی تفسیر الکتاب العزیزابن عطیہ،۶۔الدرالمنثور فی التفسیر بالماثورسیوطی،۷۔تفسیر القرآن العظیم(تفسیر ابن کثیر)ابن کثیر، ۸۔الجواھر الحسان فی تفسیر القرآن الثعالبی،۹۔فتح القدیر الشوکانی،۱۰۔أضواء البیان فی ایضاح القرآن بالقرآن الشنقیطی۔
تفسیر بالرأی:
۱۔الکشاف،الزمخشری،
۲۔مفاتیح الغیب،الرازی
۳۔مدارک التنزیل وحقائق التأویل، النسفی
۴۔لباب التأویل فی معانی التنزیل،الخازن
۵۔البحر المحیط، ابوحیان
۶۔انوارالتنزیل وأسرار التأویل، البیضاوی
۷۔تفسیر الجلالین، جلال الدین المحلی وجلال الدین السیوطی
۸۔ إرشاد العقل السلیم إلی مزایا الکتاب الکریم، أبو السعود
۹۔روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی،الآلوسی
۱۰۔تفسیر المنار، محمد رشید رضا
۱۱۔فی ظلال القرآن، سید قطب ***

دعوت دین میں اقتدار کی حیثیت Aug-Sep 2010

محمدانور محمدقاسم سلفیؔ

دعوت دین میں اقتدار کی حیثیت
حکومت اوراقتدار کی طلب ہرزمانے میں بڑی ہی پُرکشش چیز رہی ہے ،دنیائے حرب وضرب کی تاریخ اقتدار چھیننے والوں اوراقتدارکھونے والوں سے بھری پڑی ہے، اس سے قطع نظردعوت دین میں اقتدار کی کیا حیثیت ہے؟ اگراس پرغورکیا جائے توپتہ چلتا ہے کہ انبیاء کی دعوت حکومت واقتدار کی طلب اورعہدوں کی ہوس سے پاک دعوت ہے، جوگمراہ انسانیت کو رب سے جوڑنے اورانھیں شرک کی گندگی سے پاک کرکے جنتی بنانے والی ہے، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ربانی تعلیمات میں سب سے اہم چیز توحیدِ الوہیت ہے، یہی چیز پیغمبروں اوران کے دشمنوں کے درمیان معرکہ کا باعث بنی اوراس مقدس گروہ نے باطل اورضلال کے ہر معرکہ پرمشرکو ں اورکافرں سے چومکھی جنگ لڑی اورمشرکین نے انبیاء علیہم السلام سے جس باطل دین کے دفاع کے لئے ٹکرلیا وہ قبرپرستی، بت پرستی، انبیاء اورصالحین کی پرستش، ان کے لئے نیاز، چڑھاوے، ان سے خوف اورامید ،اللہ کے پاس ان کی شفاعت کی امید اوراپنی مرادوں کے پوری ہونے کے لالچ پرمشتمل تھی، یہی وہ شرکِ اکبرہے جو کبھی بخشانہیں جائے گا ، اسی کے خلاف تمام پیغمبر تادمِ زیست کمربستہ رہے۔
لیکن کچھ دینی جماعتو ں نے دعوت دین کے نام پر طلب اقتدار کواپنا مقصود بنالیا او رکچھ اسی لیلٰی کے فراق آہیں بھررہے ہیں اوراس کے لئے وہی سارے حربے اورگُرکچھ زیادہ ہی استعمال کرنے لگے جودنیا داروں کا خاصہ رہے ہیں، اوربقول علامہ اقبال عالم یہ ہوگیا ہے ؂
خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھرجائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری
جس کی وجہ سے ان کی دعوت میں وہ خیروبرکت نہیں رہی جو انبیاء علیہم السلام اور بالخصوص رسول کائنات جناب محمدﷺ کی دعوت میں تھی، آیئے سیرت رسول میں جھانک کردیکھیں کہ کیا انبیاء علیہم السلام کی دعوت اوران کی ساری تگ وتاز حصول اقتدارکے لئے تھی؟
آپ ﷺ کو حکومت کی پیشکش:
اللہ کے رسول ﷺ پرمکہ کی بادشاہت پیش کی گئی ،لیکن آپ نے اسے ٹھکرادیا ،توحید کی دعوت اورشرک کی مخالفت برابرجاری رکھی، جب قریش آپ کے معاملے میں پریشان ہوگئے تو انھوں نے عتبہ کو آپ کی خدمت میں بھیجا، جس نے آپ سے اس طرح گفتگوکی۔
’’بھتیجے !ہماری قوم میں جوتمہارا مقام ومرتبہ اوربلند پایہ نسب ہے وہ تمہیں معلوم ہی ہے، اب تم اپنی قوم میں ایک بڑا معاملہ لے کر آئے ہو ،جس کی وجہ سے تم نے ان کی جماعت میں پھوٹ ڈال دیا، ان کی عقلوں کو حماقت سے دوچار بتلایا، ان کے معبودوں اوران کے دین کی عیب چینی کی اورجوان کے آباء واجداد گذرچکے ہیں انھیں کافرٹھہرایا، لہذا میری بات سنو، میں تم پرچند باتیں پیش کرتاہوں ان پر غورکرو شاید کہ کوئی بات قبول کرلو‘‘،رسول اللہﷺ نے فرمایا:ابوالولید!کہومیں سنوں گا۔
ابوالولید نے کہا:’’بھتیجے!یہ معاملہ جسے تم لے کرآئے ہو اگراس سے مال حاصل کرناچاہتے ہو توہم تمہارے لئے اتنامال جمع کئے دیتے ہیں کہ تم ہم میں سب سے زیادہ مالداربن جاؤ، اگرتم یہ چاہتے ہوکہ اعزاز ومرتبہ حاصل کرو توہم تمہیں اپنا سردار بنائے لیتے ہیں یہاں تک کہ تمہارے بغیر کسی معاملہ کا فیصلہ نہ کریں گے، اوراگرتم یہ چاہتے ہو کہ بادشاہ بن جاؤ توہم تمہیں اپنا بادشاہ بنائے لیتے ہیں اوراگریہ جو تمہارے پاس آتا ہے کوئی جن بھوت ہے، جسے تم دیکھتے ہو لیکن اپنے آپ سے دفع نہیں کرسکتے، توہم تمہارے لئے اس کاعلاج تلاش کئے دیتے ہیں اوراس سلسلے میں ہم اتنامال خرچ کرنے کے لئے تیارہیں کہ تم شفایاب ہوجاؤ، کیونکہ کبھی کبھی ایساہوتا ہے کہ جن بھوت انسان پرغالب آجاتا ہے اوراس کاعلاج کرواناپڑتاہے‘‘۔
عتبہ یہ باتیں کہتا رہا اوررسول اللہﷺ خاموشی سے سنتے رہے، جب وہ فارغ ہوچکا توآپ نے فرمایا:’’ابوالولید تم فارغ ہوگئے؟ ‘‘ اس نے کہا:’’ہاں ‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:’’اچھا! اب میری سنو‘‘ کہا:’’ ٹھیک ہے سنوں گا‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:بسم اللہ الرحمن الرحیم :پھرآپ نے سورہ حٰم السجدۃ کی کچھ آیتیں تلاوت فرمائیں۔
رسول اللہﷺ آگے پڑھتے جارہے تھے اورعتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے چُپ چاپ سنتاجارہا تھا، جب آپ سجدہ کی آیت پر پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا،پھرفرمایا :’’ابوالولید! تمہیں جوکچھ سنناتھا سن چکے، اب تم جانو اورتمہارا کام جانے‘‘، عتبہ اٹھا اورسیدھے اپنے ساتھیوں کے پاس آیا ،تولوگوں نے پوچھا:’’ابوالولید!پیچھے کی کیاخبرہے‘‘اس نے کہا:’’پیچھے کی خبریہ ہے کہ میں نے ایسا کلام سناہے کہ ویساکلام واللہ میں نے کبھی نہیں سنا، اللہ کی قسم! وہ نہ شعرہے نہ جادواورنہ کہانت ،قریش کے لوگو!میری بات مانو اوراس معاملے کو مجھ پر چھوڑدو ،میری رائے یہ ہے کہ اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ کرالگ تھلگ بیٹھے رہو ،اللہ کی قسم! میں نے جوقول سناہے اس سے کوئی زبردست واقعہ رونما ہوکررہے گا، پھراگر اس شخص کو عرب نے مارڈالا توتمہارا کام دوسروں کے ذریعے انجام پاجائے گا اور اگریہ شخص عرب پرغالب آگیا تواس کی بادشاہت تمہاری بادشاہت اوراس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور اس کا وجود تمہارے لئے سب سے بڑھ کرسعادت کا باعث ہوگا ‘‘لوگوں نے کہا:’’اس شخص کے بارے میں میری رائے یہی ہے، اب تمہیں جو ٹھیک معلوم ہوکرو‘‘۔(سیرت ابن ہشام:۱؍۲۹۴)
ابن اسحاق حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ: ’’قریش کے کچھ لوگ رسول الٹہﷺ کے پاس آئے تقریباً وہی پیش کش کی جو عتبہ آپ ﷺ کو کرچکا تھا، آپ ﷺ نے انھیں جواب دیتے ہوئے فرمایا:
’’تمہاری اس پیش کش کی مجھے کوئی ضرورت نہیں، میں تم سے نہ مال مانگنے آیا ہوں اورنہ عزت طلب کرنے اورنہ ہی مجھے تم پر اپنی بادشاہت قائم کرنے میں کوئی دلچسپی ہے، بلکہ اللہ نے مجھے پیغمبر بناکر بھیجا ہے ،مجھ پر کتاب اتاری ہے، مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں خوشخبری دوں اورڈراؤں ،میں نے تمہیں میرے رب کے احکامات پہنچادئے ہیں ،تمہاری خیرخواہی کی ہے، اگرتم نے میرے دین کو قبول کرلیا تویہ تمہاری دنیوی اوراخروی سعادت ہے ،اگرتم نے ٹھکرادیا تومیں اللہ کا حکم آجانے تک انتظار کروں گا یہاں تک کہ وہ میرے اورتمہاری درمیان فیصلہ کردے‘‘۔(سیرت ابن ہشام :۱؍۲۹۵،۲۹۶)
طالبینِ اقتدار کے لئے کوئی جگہ نہیں:
رسول اللہﷺ نے بعض قبائل کی اس طلب کو ٹھکرادیا کہ آپ کی وفات کے بعدحکومت انھیں سونپی جائے، ابن اسحاق کہتے ہیں:
’’مجھ سے زہری نے بیان کیا: اللہ کے رسول ﷺ بنوعامربن صعصعہ کے پاس گئے اورانھیں اللہ کی طرف بلایا اوران پراپنے آپ کو پیش کیا، ان میں سے ایک شخص بحیرہ بن فراس نے کہا:اگراس جوان کو میں قریش سے حاصل کرلوں تواس کے ذریعے سارے عرب کو نگل جاؤں گا‘‘ اس نے آپ سے کہا: ’’اگرہم آپ کے ہاتھ پربیعت کرتے ہیں اورآپ کو اللہ اپنے مخالفین پرغلبہ عطاکرے توکیا آپ کے بعدحکومت ہماری ہوگی‘‘؟ آپ نے فرمایا:’’حکومت اورسلطنت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے گا عطاکرے گا‘‘، اس نے یہ کہتے ہوئے آپ کی دعوت ٹھکرادی کہ’’ہم سارے عرب کے مقابلے میں اپنے سینوں کوآپ کے لئے سپربنائیں، پھرجب اللہ آپ کو غلبہ عطاکرے گا توکیا اقتدار ہمارا نہیں دوسروں کا ہوگا؟ پھرہمیں اس دین کی کوئی ضرورت نہیں‘‘۔(سیرت ابن ہشام: ۱؍۴۲۴، ۴۲۵، السیرۃ النبویۃ للذھبی:۱۸۹؍۱۹۰)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کسی حکومت کوگرانے اوراس کی جگہ کسی نئی حکومت کو قائم کرنے کے لئے نہیں آئے ہیں اورنہ ہی انھوں نے بادشاہت کی خواہش کی اورنہ اس کے حصول کے لئے پارٹیاں بنائیں، بلکہ وہ انسانیت کو گمراہی سے بچانے، اندھیرے سے روشنی کی طرف لانے اوراللہ کی پکڑسے ڈرانے کے لئے آئے تھے، اگرکبھی انھیں بادشاہت کی پیشکش بھی ہوئی توانھوں نے ٹھکرادیا، اپنی دعوت کے راستے پرگامزن رہے، قریش نے آپ کو بادشاہ بناناچاہا لیکن آپ نے ردکردیا ،اللہ نے آپ کو بادشاہ نبی، یا، بندہ رسول، دونوں میں سے کسی ایک کوپسند کرلینے کا اختیار عطاکیا، لیکن آپ ﷺ نے بندہ رسول بننا ہی پسند کیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ :حضرت جبریل علیہ السلام نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے پھرآپ نے آسمان کی طرف دیکھا تو ایک فرشتہ اتررہا تھا، جبریل نے کہا: اے محمد! یہ فرشتہ جب سے پیداہوا ہے آج تک زمین پرنہیں اترا اور نہ ہی قیامت تک اترے گا‘‘جب وہ آیا توکہنے لگا: اے محمد !آپ کے پروردگار نے مجھے یہ پیغام دیاہے کہ وہ آپ کو بادشاہ نبی بنائے یا بندہ رسول بنائے؟ جبریل نے کہا: ’’اے محمدﷺ ! آپ اپنے رب کے لئے تواضع اختیار کیجئے‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:’’میں توبندہ اوررسول ہی رہوں گا‘‘۔(مسند احمد:۲؍۲۳۱)
اقتدارکے بجائے جنت:
رسول اللہﷺ نے انصار سے صرف جنت کے وعدہ پر بیعت لی ،حالانکہ انصارنے بڑے ہی سخت اورنازک حالات میں بیعت کی تھی ،آپ نے ان سے عہدوں،بادشاہت، مال، حکومت یا اس جیسی دنیوی مرغوبات کا وعدہ نہیں کیا، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:’’میں ان نقیبوں میں سے ایک تھا جنھوں نے رسول اللہﷺ کے دستِ مبارک پربیعت کی تھی، ہم نے جن باتوں پربیعت کی تھی وہ یہ تھیں:اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے، چوری زنا کاری نہیں کریں گے، نہ کسی کو ناحق قتل کریں گے، نہ ڈاکہ ڈالیں گے نہ ہی اللہ اوراس کے رسول کی نافرمانی کریں گے، اس کے عوض ہمیں جنت ملے گی۔
حضرت ابومسعودانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہﷺ اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیعتِ عقبہ کے وقت درخت کے نیچے تشریف لائے ،آپ نے فرمایا: تمہاری جانب سے ایک آدمی بات کرے اوربات کو طول نہ دے، کیونکہ مشرکین نے تم پرجاسوس چھوڑرکھا ہے، اگروہ جان لیں گے توتم کو تنگ کریں گے ،انصار کی جانب سے ابوامامہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اورکہا:’’اے محمدﷺ !آپ اپنے رب کے لئے اپنی ذات کے لئے اور اپنے ساتھیوں کے لئے جو کچھ مانگنا ہومانگیں، پھر ہمیں بتائیں کہ اس کا ثواب اللہ کی جانب سے ہمیں کیاملے گا؟آپ نے فرمایا:’’میں اپنے رب کے لئے تم سے یہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم صرف اسی کی عبادت کروگے اوراس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروگے، میں اپنی ذات اوراپنے اصحاب کے لئے تم سے یہ مانگتا ہوں کہ تم ہم کو پناہ دوگے، مدد کروگے اورہماری ہراس چیز سے حفاظت کروگے جس سے تم اپنے آپ کی حفاظت کرتے ہو‘‘انصار نے کہا:’’اگرہم نے یہ کیا توہمارے لئے کیاثواب ہے؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’تمہارے لئے جنت ہے‘‘انصارنے کہا:’’جب توہم تیار ہیں‘‘۔(مسند احمد:۴؍۱۱۹،۱۲۰)
حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہماکہتے ہیں:’’رسول اللہﷺ مکہ میں نبوت کے بعدتیرہ سال رہے،آپ عکاظ اور مجنّہ کے میلوں میں اورحج کے موقع پر منیٰ کے میدان میں لوگوں کے خیموں میں جاتے اور فرماتے: ’’ کون ہے جو مجھے ٹھکانہ دے اور میری مددکرے؟ میں اپنے رب کا پیغام عام کرسکوں اور اس کے بدلہ میں اس کے لئے جنت ہے‘‘ یہاں تک کہ یمن کا مضری آدمی آتا توآپ کی قوم کے لوگ اس کے پاس آکرکہتے:’’ذرا اس قریش زادے سے بچنا، کہیں وہ تمہیں بھی فتنہ میں نہ ڈالے‘‘ آپ بازارمیں نکلتے تولوگ اپنی انگلیاں آپ پراٹھاتے ،یہاں تک کہ اللہ نے یثرب سے ہمیں آپ کی خدمت میں بھیجا، ہم نے آپ کو پناہ دی اورآپ کو سچا جانا، ہماراکوئی آدمی آپ کے پاس مکہ جاتا اورآپ پرایمان لاتا، آپ اسے قرآن سکھاتے، وہ اپنے گھر واپس لوٹتا اوراس کے گھر والے اس کی وجہ سے مسلمان بن جاتے، یہاں تک کہ انصارکے گھروں میں کوئی بھی ایساگھر نہیں بچا جس میں اسلام پرعلانیہ عمل نہ ہوتاہو، پھرہم نے آپس میں یہ طے کیا کہ ہم کب تک رسول اللہﷺ کومکہ کے پہاڑوں میں چکر کاٹتے، ٹھوکریں کھاتے اورخوف زدہ کئے جاتے ہوئے چھوڑ رکھیں گے؟(اس لئے آپ کو یثرب آنے کی دعوت دیں گے )ہم ستر آدمی موسمِ حج میںآپ کے پاس گئے، ہم عقبہ(گھاٹی) میں وعدہ کے مطابق جمع ہوئے ،آپ ایک یادوآدمیوں کے ساتھ تشریف لائے، ہم نے آپ سے کہا :’’اے اللہ کے رسول ﷺ !ہم آپ سے بیعت کریں گے‘‘ آپ نے فرمایا:’’تم مجھ سے اس بات پربیعت کروکہ چستی اورسستی ہرحال میں سنوگے اورمانوگے ،تنگی اورخوشحالی ہرحال میں خرچ کروگے، بھلائی کاحکم دوگے اوربرائی سے روکوگے، اللہ کے بارے میں اٹھ کھڑے رہوگے اوراس کے بارے میں کسی ملامت گرکی ملامت کی پرواہ نہ کروگے اورجب میں تمہارے پاس آجاؤں تومیری مدد کروگے اورجس چیز سے اپنی جان اوراپنے بال بچوں کی حفاظت کرتے ہواس سے میری حفاظت کروگے اورتمہارے لئے جنت ہے‘‘۔
ہم آپ ﷺ سے بیعت کے لئے لپکے، مگرعین اسی وقت حضرت اسعدبن زرارہ رضی اللہ عنہ۔ جوہم تمام میں کم عمرتھے نے آپ علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ لیا اورکہا:’’اے اہلِ یثرب! ذرا ٹھہرجاؤ! ہم آپ کی خدمت میں اونٹنیوں کا کلیجہ مارکر(یعنی لمبافاصلہ طے کرکے) اس یقین کے ساتھ حاضر ہوئے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں،آج آپ کو یہاں سے لے جانے کا کیا معنی ہے؟ سارے عرب سے دشمنی، اپنے چیدہ سرداروں کاقتل اورتلواروں کی مار، اب اگرآپ لوگ یہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں توانھیں لے لیں اورآپ کا اجراللہ پرہے اوراگرآپ لوگ اپنے متعلق کوئی اندیشہ رکھتے ہیں توانھیں ابھی سے چھوڑدیں ،یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قابلِ عذر ہوگا‘‘۔
لوگوں نے کہا: ’’اسعد! اپناہاتھ ہٹاؤ، واللہ ہم اس بیعت کو نہ چھوڑسکتے ہیں اورنہ توڑسکتے ہیں‘‘۔ اس کے بعدایک ایک آدمی نے اٹھ کربیعت کی۔(مسند احمد:۳؍۳۲۲،صحیح ابن حبّان) (جاری)

خواصِ امت اورہماراسماج agu-sep 2010

نا خالد سیف اللہ رحمانیؔ
خواصِ امت اورہماراسماج

گنّے کی پہچان اس کی مٹھاس اورمرچ کی شناخت اس کی تیزی ہے، اگرگنا مٹھاس سے اورمرچ تیزی سے خالی ہوجائے توبجاطورپر انسان کو حیرت ہوتی ہے ،اسی طرح علماء، حفاظ، مذہبی قائدین، دعوتی کارکنان دینی اعتبارسے امت کے خواص ہیں، لوگ بجاطورپرتوقع رکھتے ہیں کہ ان کی دینی سطح عام لوگوں سے بہترہوگی، دینداری ہی سے ان کی شناخت ہوتی ہے اوراسی نظرسے لوگ انھیں دیکھتے ہیں، ایسے لوگ اگرکھلے عام احکام شریعت کو پامال کریں اورسنتِ نبوی کوقابلِ اعتناء نہ سمجھیں ،توبجا طور پر لوگوں کو حیرت ہوتی ہے اوروہ حیرت کرنے میں حق بجانب بھی ہیں، انسان چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کیسی بھی ہو، لیکن اس کے مقتداکی زندگی بہترہو، کیوں کہ عام افراد سے صرف اس کا عمل متعلق ہوتا ہے اورجولوگ قوم کے رہنما اوررہبرہوتے ہیں، ان سے پوری قوم کی زندگی متعلق ہوتی ہے،ان کی حیثیت قبلہ نماکی ہے، انھیں دیکھ کرلوگ اپنی دینی زندگی کے لئے نقشہ بناتے ہیں، رسول اللہﷺ نے مقتدیوں کے لئے کوئی معیارنہیں فرمایاکہ نمازکامقتدی وہی ہوسکتا ہے، جوسنت کا عالم ہو، بہترطورپرقرآن پڑھ سکتاہو، اس کے اندرورع وتقوی ہو، وغیرہ، لیکن امام کے لئے آپ ﷺ نے ضروری معیارات مقررکئے، آپ ﷺ نے فرمایاکہ امامت کا سب سے زیادہ مستحق وہ ہے جو قرآن سے زیادہ واقف ہو،پھروہ ہے،جوورع وتقویٰ میں بڑھا ہوا ہو....۔(صحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب من أحق بالإمامۃ ،حدیث نمبر:۲۹۰؍۶۷۳)
افسوس کہ معاشرہ کی عام سطح توگرتی ہی جارہی ہے، خواصِ امت کاحال بھی بہترنہیں ہے ،بلکہ ان کے اندرجواخلاقی انحطاط پیدا ہورہاہے، وہ معاشرہ کے انحطاط کاایک اہم سبب ہے، اس وقت مسلم سماج کاایک سلگتا ہوا مسئلہ نکاح کی تقریبات میں فضول خرچی ہے، قرآن مجید میں باربارفضول خرچی سے منع کیاگیاہے، بلکہ یہاں تک فرمایا گیا کہ فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں:(إن المبذرین کانوا إخوان الشیاطین)۔(الإسراء:۲۷)
یوں توپوری زندگی میں سادگی ہونی چاہئے ،رسول اللہﷺ نے خود اس کا عملی نمونہ امت کے سامنے رکھ دیا، لیکن نکاح کے بارے میں خاص طورپرارشاد ہوا کہ اس میں جس قدرسادگی ہوگی اورجتناکم خرچ کیاجائے گا ،اتنی ہی برکت ہوگی:’’إن اعظم النکاح برکۃ أیسرہ مؤنۃ‘‘۔(احمد بن حنبل،حدیث نمبر:۲۴۵۷۳)
لیکن اس وقت اسراف ،فضول خرچی ،نمائش اوراس میں مسابقت کاسب سے بڑا موقع نکاح بن گیاہے، عام لوگوں کا اس موقعہ پرجورویہ ہوتا ہے، وہ مخفی نہیں ہے،لیکن مذہبی شخصیتیں بھی اب بعض اوقات عوام ہی کی سطح پر آجاتی ہیں، یہ بہت افسوس ناک اورقابلِ فکرمسئلہ ہے ،مجھے اورمجھ جیسے کئی لوگوں کوچند سال پہلے ایک ایسی تقریب میں شرکت کا موقع ملا ،جس میں شہر کی کئی اہم مذہبی شخصیتیں اسی مسئلہ پرغورکرنے کے لئے بیٹھی تھیں،ایک معروف شخصیت جن سے بہت سے لوگ ارادت کا تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے نکاح کے بارے میں بڑاعمدہ خطاب فرمایا اوراس بات پرزوردیاکہ جن تقریبات نکاح میں فضول خرچی سے کام لیاجارہا ہو، علماء ومشائخ کا فریضہ ہے کہ وہ ہرگزاس نکاح میں شریک نہ ہوں، اس کے چندہی دنوں کے بعدان کی صاحبزادی کا عقدتھا، یہ حقیربھی ان کی دعوت پرشریک ہوا، وہاں مذہبی، سیاسی وسماجی قائدین، معززین شہراورعلماء ومشائخ کی بڑی تعدادا شریک تھی، لیکن افسوسناک بات ہے کہ فضول خرچی کا جومظاہرہ وہاں دیکھنے میں آیا، کم ہی اس درجہ تزک واحتشام اوراسراف دیکھنے میں آیاہوگا، ظاہرہے کہ جب رہبروں کا یہ حال ہواوران کا عمل ان کی زبان کا رفیق نہ ہو، توبیچارے عوام کوکیا قصوروارٹھہرایئے؟
ابھی چند دنوں پہلے روزنامہ منصف حیدرآباد میں ایک حافظِ قرآن کی تقریب نکاح کی داستان آئی ہے،مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس حد تک مبنی برحقیقت ہے؟خداکرے کہ یہ افسانہ ہونہ کہ حقیقی داستان، لیکن اس مضمون کے مطابق مضمون نگارنے آنکھوں دیکھاحال لکھاہے اورنہ صرف الفاظ کے ذریعہ واقعہ کی عکاسی کی ہے، بلکہ اسٹیج کی تصویربھی دے دی ہے، جس میں لڑکے اورلڑکیاں ایک دوسرے سے چھیڑچھاڑ کررہے ہیں، بیان کے مطابق ایک حافظِ قرآن نے اپنی شادی میں اپنے والد کے منع کرنے کے باوجود چاررقاصاؤں کو مدعوکیا ،دومرد اوردوخاتون گلوکار بھی بلائے گئے، یہ سب ایسے مختصرلباس میں تھے کہ گویا ان کے لئے کپڑے کابوجھ اٹھانا مشکل ہورہا ہو، نوشہ کی خواہش پرگلوگارنے پہلے حمد، پھرنعت، پھرتہنیتی نظم پڑھی، اس کے بعدبیہودہ نغموں کا دوراوراس پررقص کاسلسلہ شروع ہوگیا، جوس اورکھانے کی سپلائی کے لئے بھی بطورویٹرنوجوان لڑکیوں کوبلایا گیا تھا، غرض کہ زیادہ سے زیادہ بے حیائی اوربے ہودگی جوایسی تقریبات میں کی جاسکتی ہے، ان سب کا سروسامان کیاگیا تھا، ان نوشہ صاحب نے پہلے حفظِ قرآن کریم کی تکمیل کی، پھرتجارت شروع کی، ایسالگتا ہے کہ انھوں نے اس تجارت میں اسباب دنیا ہی کونہیں بیچا، بلکہ متاع دین، غیرتِ علم اورحمیتِ ایمانی کوبھی فروخت کردیا، فیاعجباہ ویااسفاہ!!
غورکیاجائے کہ جب علماء، مشائخ، حفاظ اوردینی کام کرنے والے لوگ اس سطح پر آجائیں توعوام سے کیاشکایت ہو؟ بعض علماء نے نقل کیاہے کہ اگرعلماء مستحبات وآداب پرعمل کرنے لگیں توعوام اپنے آپ کوجائز اورمباح پرقائم رکھے گی اور حرام سے بچ سکے گی، اوراگرعلماء مباح اور جائز پر قناعت کرلیں گے توعوام مکروہ اور حرام میں پڑ جائے گی ،کیوں کہ اقتدارکرنے والوں کی سطح بہرحال ان لوگوں سے کم ترہوتی ہے، جن کی اقتداکی جاتی ہے ،اب اگرخواص حرام میں پڑجائیں توعوام کا جوحال ہوگا، وہ ظاہرہے غرض کہ خواص امت کی حیثیت امت کے لئے آئینہ کی ہے، جن زندگی میں جھانک کرعوام اپنے لئے زندگی کا نقشہ بناتی ہے اوراگرآئینہ ہی غبار آلود ہوتواس کوسامنے رکھ کر کیسے چہرے کے خط وخال درست کئے جاسکتے ہیں؟
رسول اللہﷺ نے علماء کا بڑا اونچادرجہ بیان فرمایا ہے،آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ علماء کی زمین پر وہی حیثیت ہے، جوآسمان پر ستاروں کی، ’’إن مثل العلماء فی الأرض کمثل النجوم فی السماء، یھتدی بھا فی ظلمات البر والبحر، فإذا انطمست النجوم أوشک أن تضل الھداۃ‘‘۔(مسندأحمد بن حنبل، حدیث نمبر:۱۲۶۲۱)
قرآن مجید نے ستاروں کے تین کرداربتائے ہیں:
ایک یہ کہ ستارے رات کی تاریکیوں میں راستے بتاتے ہیں:(وَعَلٰمٰتٍ وَبِالنَّجْمِ ھُمْ یَہْتَدُوْنَ)
دوسرے:ستارے آسمان کے لئے زینت وآرائش کا ذریعہ ہیں:(إنَّا زَیَّنَّاالسَّمَاءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِنِ الْکَوَاکِبِ)(الصافات:۶)
تیسرے:یہ ستارے شیاطین کو بھگاتے ہیں، اوران کے شروفتنہ سے دنیاکوبچاتے ہیں:
(وَلَقَدْزَیَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَجَعَلْنٰھَا رُجُوْماً للشَّیَاطِیْنِ...)(الملک:۵)
اس سے معلوم ہواکہ علماء وخواص کی تین بنیادی ذمہ داریاں ہیں، ایک یہ کہ وہ امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں، دوسرے وہ امت کے لئے دین کے اعتبارسے زینت کا درجہ رکھتے ہیں، یعنی ان کی زندگی اس قدرپاکیزہ ،صاف ستھری اورشریعت کے مطابق ہوکہ مذہبی پہلوسے وہ اعلیٰ ترین معیار پرہوں، تیسرے:وہ شیطانی فتنوں کامقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں خواہ یہ فتنہ فکروعقیدہ کے راستہ سے آیا ہو یاعمل کے راستہ سے غورکیجئے کہ قول وفعل کے تضاد کے ساتھ ان ذمہ داریوں کوانجام دیاجاسکتاہے؟
امام ابوحنیفہ کے بعض تذکرہ نگاروں نے لکھاہے کہ کوئی بوڑھی عورت پھسل رہی تھی اوراس کے گرجانے کااندیشہ تھا، امام صاحب نے توجہ دلائی تواس مردم شناس عورت نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے کہا: تم میری فکر نہ کرو،میں پھسلوں گی توایک شخص پھسلے گا اورآپ پھسلیں گے توایک دنیا پھسل جائے گی، اسی حقیقت کو بعض اہل علم نے کہاہے کہ ’’عالم کی لغزش پورے عالم کی لغزش ہے‘‘’’زلّۃ العالِم زلّۃ العَالَم‘‘۔(رفع الأستار:۱؍۴۷،المستقصی فی أمثال العرب۲؍۱۱۰)
خواصِ امت کویہ حقیقت پیش نظررکھنی چاہئے، روایات میں علماء کا لفظ علامتی لفظ ہے، اس حکم میں وہ تمام لوگ شامل ہیں، جو امت میں مقتداکادرجہ رکھتے ہیں ،جودینی کاموں کے ذمہ دارہوں، جومذہبی اداروں، جماعتوں اورتحریکوں کے رہنماہوں، لوگوں کی مذہبی قیادت جن کے ہاتھوں میں ہو، جواصحابِ نظر اوراصحابِ قلم ہو،جن کی شرکت کوپروگراموں کی کامیابی سمجھاجاتا ہو،جن کے وجود سے اسٹیجوں کی زینت ہو، وہ عبادت وبندگی میں اوروں سے ممتاز ہوں، معاملات کی صفائی میں ان کی مثال دی جاتی ہو، ان کے اخلاق کی شیرینی مخاطب کی کڑواہٹوں کوبھی کافورکردیتی ہو، لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں میں اورخاص کرمال ودولت اور عزت وجاہ کی طلب اورمادیت کے مظاہرہ میں عوام وخواص کے درمیان سرحدیں بنتی جارہی ہیں اورفرق کم یاختم ہوتاجارہا ،اگرخواصِ امت کا رویہ یہ رہے توصرف وعظ وتقریر اورمضامین ومقالات سے سماج میں کوئی بہترتبدیلی نہیں آسکتی۔
خواصِ امت کونہ صرف اپنی زندگی کوشریعت کے سانچے میں ڈھالنا چاہئے، بلکہ ایسا طرزعمل اختیار کرنا چاہئے کہ لوگ سمجھ سکیں کہ یہی بہترطریقۂ زندگی کامعیارہے، وہ ایسی تقریبات میں شرکت سے گریز کریں، جوشریعت کے دھارے سے ہٹی ہوئی ہو ان کے رویہ سے لوگ محسوس کرنے لگیں کہ جولوگ ایسی فضول خرچیاں کرتے ہیں، وہ ناپسند یدہ لوگ ہیں، وہ توقیرکے مستحق نہیں ہیں، بلکہ نظرانداز کئے جانے کے لائق ہیں، جب تک یہ طبقہ اپنے مزاج اورطرز عمل میں تبدیلی نہیں لائے گا، اس وقت تک سماج میں کوئی صالح انقلاب نہیں آسکتا، کیوں کہ اگرکھانے کاذائقہ خراب ہوتونمک کے ذریعہ اسے درست کیاجاتاہے، لیکن اگرنمک ہی خراب ہوتوکیوں کراس کا علاج ہوسکتاہے؟؟۔(بشکریہ روزنامہ منصف حیدررآباد)

عظمتِ صحیح بخاری Aug-sep 2010

شفیع اللہ عبدالحکیم مدنیؔ
استاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر
عظمتِ صحیح بخاری

نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں اورصحابہ وتابعین کے زمانہ میں احادیث کتابوں میں جمع نہیں کی گئی تھیں، البتہ بعض صحابہ نے متفرق طورپر کچھ حدیثیں لکھ رکھی تھیں، اس کے کئی وجوہات بتائے جاتے ہیں:
۱۔ ایک وجہ یہ ہے کہ شروع میں حدیث لکھنے سے نبی اکرمﷺ نے منع فرمادیا تھا تاکہ قرآن کریم کے ساتھ بعض حدیث کا اختلاط نہ ہوجائے۔
۲۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام قوت حافظہ میں اپنی مثال آپ تھے، ان کے اندر تمام اقوال وواقعات کو جن کو انھوں نے آپ ﷺ سے بالمشافہ یا کسی اورذریعے سے سناتھا یا دیکھا تھا پوری طرح حفظ کرنے کی صلاحیت موجودتھی، لکھنے کی ضرورت نہ تھی۔
۳۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں اکثرلوگ لکھنا نہیں جانتے تھے۔
جب دنیا میں اسلام پھیلا اورعلماء دوردراز شہروں میں منتشر ہوگئے اور صحابہ مختلف اطراف میں متفرق ہوگئے اوراکثرصحابہ کی وفات ہوگئی اورلوگوں کی قوت حافظہ کچھ کمزور ہوگئی، ضبط حدیث میں کمی آگئی اورخارجی ورافضی اورتقدیر کے منکرین نے بدعات کو رواج دینا شروع کردیا تب علماء نے احادیث کو کتابوں میں جمع کرنے کی ضرورت محسوس کی اورتابعین کے اخیرزمانہ میں تدوین حدیث کا کام شروع ہوگیا، چنانچہ اس سلسلے میں سب سے پہلی کامیاب کوشش ربیع بن صبیح نے کی( ایک صالح مجاہد تھے اور۱۶۰ھ میں بحر سندھ میں لڑتے لڑتے شہید ہوگئے) اوردوسری شخصیت سعید بن ابی عروبہ (ت۱۵۶ھ) کی تھی جنھوں نے رسول اکرمﷺ کے آثار واحادیث کو جمع کرنے کی کامیاب کوشش فرمائی، پھردوسری صدی کے وسط میں امام مالک (ت ۱۷۹ھ) تشریف لائے اورانھوں نے مدینہ منورہ میں مؤطا لکھی، انھوں نے اس کتاب میں صرف اہل حجاز کی روایت کردہ احادیث جمع فرمائے مگراحادیث نبویہ کے ساتھ ساتھ انھوں نے اقوال صحابہ وتابعین بھی جمع فرمائے۔
امام مالک رحمہ اللہ کے بعدجن علماء نے تدوین حدیث میں اپنی خدمات کوپیش کیا ان میں چندقابلِ قدرشخصیات مندرجہ ذیل ہیں۔
(۱) ابومحمد عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج(ت۱۵۰ھ) مکہ مکرمہ میں۔
(۲) ابوعمرعبدالرحمن بن عمرو اوزاعی (ت۱۵۷ھ) شام میں۔
(۳)ابوعبداللہ سفیان بن سعید ثوری(ت۱۶۱ھ) کوفہ میں۔
(۴)ابو سلمہ حماد بن سلمہ بن دینار(ت۱۶۷ھ) بصرہ میں۔
دوسری صدی ہجری کے آخرمیں انہی کے نقش قدم پرچلتے ہوئے بعض ائمہ نے احادیث نبویہ کو انفرادی مقام دینا چاہا اورانھوں نے الگ الگ مسانید وجودمیں لائیں، ان برگزیدہ شخصیات میں سے چندشخصیات ایسی ہیں جنھوں نے اس سلسلے میں پہل کی ان کے اسماء گرامی یہ ہیں:
*عبیداللہ بن موسی الکوفی ،مسدد بن مسرہد البصری، اسدبن موسی الأموی، نعیم بن حمادالخزاعی نزیل مصر، امام احمد بن حنبل نے اپنی مشہور زمانہ کتاب مسنداحمد بن حنبل ترتیب دی، ان کی یہ کتاب فن حدیث میں بہت جامع اور بہترین کتاب ہے ساڑھے سات لاکھ حدیثوں سے انتخاب کرکے لکھا ہے۔
*امام المحدثین ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری نے مذکورہ بالا تصانیف ومسانید کا بنظرغائر مطالعہ کیا تومجموعی اعبارسے انھوں نے ان مجموعات کو مفید پایا، لیکن انھوں نے بعض احادیث کو صحیح، بعض کو حسن اوربیشتر احادیث کو ضعیف پایا، یہ دیکھ کر انھوں نے ایک جرأت مندانہ قدم اٹھایا اورصرف صحیح احادیث کو جمع کرنے کا عزم مصمم کیا، اس سلسلے میں انھوں نے اپنے استاد امیرالمؤمنین فی الحدیث اسحاق بن راہویہ سے جوکچھ سنا تھا اس سے ان کے ارادے میں مزید پختگی پیداہوئی، علامہ ابن حجرالعسقلانی فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن معقل النسفی نے کہا کہ میں نے امام محمد بن اسماعیل البخاری سے سناہے کہ ہم لوگ اپنے استاد اسحاق بن راہویہ کے پاس بیٹھے تھے توایک مرتبہ انھوں نے ہماری طرف توجہ فرماکرکہا:’’لوجمعتم کتاباً مختصراً لصحیح سنۃ رسول اللہﷺ ،قال فوقع ذلک فی قلبی فأخذت فی جمع الجامع الصحیح‘‘۔
اگرتم لوگ رسول اکرمﷺ کی صحیح سنتوں کو ایک مختصرکتاب میں جمع کرتے ،امام بخاری نے فرمایا کہ یہ بات میرے دل میں اسی وقت اثرکرگئی اوراسی وقت سے میں نے الجامع الصحیح کو جمع کرنا شروع کردیا۔
*علامہ ابن حجرالعسقلانی، محمد بن سلیمان بن فارس کا قول نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے امام بخاری سے سناہے کہ ایک مرتبہ میں نے خواب دیکھا کہ میں کھڑا ہوں میرے ہاتھ میں پنکھا ہے اورمیں رسول پاک ﷺ کی ذات مبارک سے مکھیوں کو اڑاتاہوں میں نے کسی تعبیر جاننے والے سے خواب کی تعبیر کے متعلق استفسار کیا، جواب ملا کہ تم رسول اکرمﷺ کی طرف منسوب جھوٹی احادیث کو مٹاؤ گے، پس اسی خواب نے مجھے الجامع الصحیح کی ترتیب وتدوین کے لئے ابھارا۔
امام محمد بن اسماعیل البخاری نے صحیح احادیث کی چھانٹ کرنے کے بعدانتہائی احترام سے احادیث کی تدوین شروع کی، محمد بن یوسف فربری روایت کرتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل بخاری نے فرمایا:’’ماکتبت فی کتاب الصحیح حدیثاً إلا اغتسلت قبل ذلک وصلیت رکعتین‘‘یعنی صحیح بخاری میں کوئی بھی حدیث لکھنے سے قبل میں ضرور غسل کرتا تھا اوردورکعتیں نماز اداکرتاتھا۔
*ابوعلی غسانی کہتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل بخاری سے منقول ہے ’’خرجت الصحیح من ستماءۃ الف حدیث‘‘ یعنی میں نے ’’الجامع الصحیح‘‘کو چھہ لاکھ احادیث سے منتخب کیا یعنی یوں سمجھئے کہ امام بخاری نے چھ لاکھ احادیث کا نچوڑ امتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لئے لکھ چھوڑاہے ۔
دوسری جگہ امام بخاری فرماتے ہیں:’’لم اخرج فی ھذا الکتاب إلا صحیحا وماترکت من الصحیح اکثر‘‘میں نے اس کتاب میں صرف صحیح احادیث کی تخریج کی ہے اورصحیح احادیث میں سے بھی بہت زیادہ چھوڑچکا ہوں، تمام صحیح احادیث کو ایک کتاب میں جمع کرنا ایک دشوار سی بات تھی کیونکہ اس طرح سے کتاب کا حجم اور بڑھ جاتا، اس قول سے معلوم ہوتاہے کہ صحیح بخاری میں درج شدہ احادیث کے علاوہ امام بخاری کے شروط کے مطابق اوربھی صحیح احادیث موجود ہیں، جن کو امام صاحب نے طوالت کے خوف سے نہیں لائے ہیں بعدمیں ایسی ہی احادیث کا استدراک امام حاکم نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’المستدرک علی الصحیحین‘‘میں کیا ہے۔
محمد بن یوسف فربری کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن ابوحاتم (کاتب البخاری) الوراق سے یہ کہتے ہیں سنا ہے کہ میں نے محمد بن اسماعیل البخاری کو خواب میں دیکھاکہ نبی پاک ﷺ کے پیچھے چل رہے ہیں اور نبی پاک ﷺ آگے تشریف لے جارہے ہیں جہاں نبی پاک ﷺ اپنا قدم مبارک رکھتے ہیں وہیں محمد بن اسماعیل بخاری بھی اپنا قدم رکھتے ہیں۔(ھدی الساری مقدمۃ فتح الباری ص:۹،۸)
صحیح بخاری کے عظیم مؤلف کا سلسلہ نسب یوں ہے: ابوعبداللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بَردِ زبہ جعفی۔(مقدمہ فتح الباری ص:۵۰۱ تذکرۃ الحفاظ ۴؍۵۵۵)
آپ کے جد امجد بَردِ زبہ مسلمان نہیں ہوسکے تھے، یہ مجوسی المسلک تھے امام بخاری اصلاً عربی نہیں بلکہ عجمی تھے کتب سۃ کے تمام مصنفین عجمی ہیں سوائے امام مسلم کے۔
امام بخاری کے پردادا مغیرہ سب سے پہلے حاکم بخارا یمان بن اخنس جعفی کے ہاتھ پر اسلام لائے پھران کے بیٹے ابراہیم مسلمان ہوئے۔
حافظ ابن حجر ہدی الساری ص:۵۰۱ میں فرماتے ہیں کہ مجھے ابراہیم کے حالات کا علم نہ ہوسکا، ان کے بیٹے کانام اسماعیل ہے جواپنے وقت کے عظیم محدث ہیں آپ امام مالک اورحماد بن سلمہ کے شاگردوں میں سے تھے، اوربہت سے عراقیوں نے آپ سے سماع کیاہے، امام بخاری کو یہ شرف حاصل ہے کہ آپ نجیب الطرفین ہیں ان کے والد بھی محدث اوروالدہ بھی عابدہ زاہدہ اورشب بیدارتھیں، امام بخاری ابھی صغر سنی میں تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اورانھوں نے یتیمی کی حالت میں والدہ کی گود میں پرورش پائی، امام بخاری جُعفی کی کنیت ابوعبداللہ اورلقب سیدالفقہاء والمحدثین ہے۔(ہدی الساری ص:۵۰۷)
حافظ ابن حجرنے تقریب التہذیب میں امام بخاری کو ان القاب میں یادکیاہے، ’’جبل الحفظ وإمام الدنیا، ثقۃ الحدیث‘‘قوت حافظہ کے پہاڑدنیا بھرکے امام اورحدیث میں پختہ کار۔
ابتدائی علم انھوں نے اپنے علاقہ سے ہی حاصل کیا ،آپ کے مشہور اساتذہ میں یحيٰ بن معین، امام احمد بن حنبل، مکی بن ابراہیم البلخی، محمد بن یوسف بیکندی، علی بن المدینی، ابوبکرالحمیدی وغیرہ ہیں۔
عبداللہ بن محمد مسندی امام بخاری کے استاد بھی ہیں اورشاگرد بھی کیونکہ آپ کا مشہور مقولہ ہے کہ ’’کوئی انسان اس وقت تک محدث کامل نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے سے بڑے اورچھوٹے سے علم حاصل نہ کرلے۔
علی بن مدینی امام بخاری کے عظیم شیخ ہیں جن کے بارے میں امام بخاری فرماتے ہیں: ’’مااستصغرت بعمری عنداحدإلاعند علی بن المدینی‘‘میں نے کبھی اپنے آپ کو کسی کے سامنے چھوٹا نہیں سمجھا لیکن جب علی بن مدینی کے سامنے بیٹھتا ہوں تومیں اپنے آپ کو بچہ ہی سمجھتا ہوں، جب علی بن مدینی کو یہ بات پہونچی توانھوں نے کہا’’بخاری کی بات چھوڑیئے اس جیسا تودنیا جہاں میں کوئی موجود نہیں اوریہ دعا دی’’جعلک اللہ زینۃ ھذہ الأمۃ‘‘کہ اللہ تجھے اس دنیا کی زینت بنائے اوریہ دعا بارگاہ الٰہی میں قبول ہوئی۔(ہدی الساری ص:۵۰۸)
صحیح بخاری !محمد بن اسماعیل البخاری نے اپنی عظیم تالیف صحیح بخاری کو ۱۷۔۲۱۶ھ میں لکھنا شروع کیا اوراس کا اختتام ۱۶ سال کے عرصہ میں ہوا، تالیف کے بعدامام بخاری نے اس عظیم کتاب کو اپنے ان کبار شیوخ پرپیش کیا، امام احمد بن حنبل ، علی بن مدینی اوریحيٰ بن معین۔
امام احمد کا انتقال ۲۴۱ھ میں ہواہے جبکہ علی بن مدینی اوریحيٰ بن معین کاانتقال ۲۳۴ھ میں ہوا، یہ اس امرکی دلیل ہے کہ۲۳۴ھ ؁ سے پہلے صحیح بخاری مکمل ہوچکی تھی، آپ نے اپنے ان شیوخ پر جب صحیح بخاری کوپیش کیا تو’’فاستحسنوہ‘‘ان تمام محدثین نے اس عظیم کتاب کو بنظراستحسان دیکھا۔
کوئی شئی قابل اعتراض نہ تھی ماسوائے چاراحادیث کے لیکن عقیلی فرماتے ہیں کہ ان چاراحادیث میں بھی امام بخاری کا موقف مضبوط تھا یہی کتاب عرفِ عام میں’’بخاری شریف‘‘ کے نام سے مشہورہے۔(ہدی الساری ص:۹،تقریب التہذیب ابن حجر)
کتاب کا مکمل نام: ’’الجامع الصحیح المسند من حدیث رسول اللہﷺ وسننہ وأیامہ‘‘یہ نام ابن حجرنے الہدی الساری ص:۱۰ میں ذکرکیاہے، اردوزبان میں اس کا ترجمہ یوں سمجھئے کہ’’صورت اورسیرت کے اعتبارسے عکس نبوی‘‘ کانام صحیح بخاری ہے، یہ ایسی عظیم کتاب ہے کہ اس کتاب کے بعددنیا میں اس جیسی کوئی کتاب تالیف نہ کرسکا اور نہ قیامت تک ایسی کتاب کی تالیف ہوگی کیونکہ اس کی صحت پرامت کا اجماع ہوچکاہے کہ کتاب اللہ کے بعدصحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے۔
مضت الدھور وماأتین بمثلہٖ ولقد أتی فعجزن عن نظراۂ
زمانہ گزرچکے ہیں لیکن آج تک صحیح بخاری جیسی تالیف معرضِ وجودمیں نہیں آسکی، صحیح بخاری کی اسناد ایسی ہیں کہ ان پربحث کی ضرورت نہیں، امام شوکانی بعض ائمہ سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ’’فکل رواتہ قد جاز وا القنطرۃ وارتفعوا قیل وقال وصاروا أکبر من أن یتکلم فیھم بکلام أو بطعن طاعن أو توھین موھن‘‘بخاری کے راوی تمام پر کھ کے تمام پُل پارکرچکے ہیں اب ان میں طعن وتشنیع کی کوئی گنجائش نہیں ۔
شاہ ولی اللہ حجۃ اللہ البالغۃ ص: ۱۳۴ میں فرماتے ہیں:’’جوشخص بخاری اورمسلم کے راویوں میں کیڑے نکالتا ہے وہ شخص بدعتی اورمسلمانوں کے طریقہ سے خارج ہے، مشہورمؤلف ومؤرخ امام ابن خلدون ص:۱۰۴۲ میں فرماتے ہیں کہ :’’شرح صحیح البخاری دین علی ھذہ الأمۃ‘‘صحیح بخاری کی شرح امت کے ذمہ قرض ہے۔
ابوالخیر نے اپنی کتاب’’التبرالمسبوق فی ذیل السلوک‘‘میں لکھا ہے کہ ابن خلدون فتح الباری کی تالیف سے پہلے وفات پاگئے تھے، فتح الباری کی تالیف کے بعدآج اگر وہ دنیا میں زندہ ہوتے تو’’لقرت عینہ بالوفاء والإسیفاء‘‘توفتح الباری کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیں اوروہ خوش ہوجاتے، کیونکہ اس کتاب کے ذریعے امت نے اس کی شرح کا حق اداکردیاہے۔
حافظ عبداللہ غازی پوری فرماتے ہیں کہ عین ممکن ہے کہ ابن خلدون کا مقصد یہ ہوکہ ’’یزیدک وجھہ حسنا اذا ما زادتہ نظراً‘‘بخاری ایسی کتاب ہے جتنی دفعہ آپ اس کا مطالعہ کریں گے نئے نئے نکات سامنے آئیں گے۔
وہ استاد جس کی زندگی صحیح بخاری کی تدریس کرتے ہوئے گزرگئی جب وہ صحیح بخاری کو پڑھتا ہے توہرسال نئی نئی چیزیں اس کے سامنے آتی ہیں، اس عظیم کتاب میں ۹۷ کتابیں اورچار ہزارسے زائد ابواب ہیں جبکہ مختلف ابواب سے ثابت ہونے والے مسائل تین ہزار سے زیادہ ہیں۔
جس ماحول میں امام صاحب پیداہوئے تھے اس میں طرح طرح کے فتنے موجودتھے، اہل رائے کے اقوال پورے ماحول میں منتشرتھے اس کا سبب یہ تھا کہ قاضی ابویوسف کوقرب سلطانی حاصل تھا چنانچہ جتنے بھی قاضی مقررہوتے تھے وہ فقہ حنفی کے پیروکار ہوتے تھے کسی مذہب کی اشاعت کا یہ سب سے بڑا ذریعہ ہے اسی بناپر ابن حجر نے کہا ہے’’مذہبان فی مبدء أمرھا انتشربالدولۃ والسلطان الحنفیۃ فی المشرق والمالکیۃ فی المغرب‘‘دومذاہب ایسے ہیں جو ابتداء میں حکومت اوراختیارات کے ذریعے پھیلے مشرق میں حنفی مذہب اورمغرب میں مالکی مذہب۔
اسی زمانہ میں منکرین تقدیر، منکرین صفات الٰہی اورمنکرین عذاب قبر، معتزلہ، مجسمہ، رافضہ، امامیہ اورخوارج اپنے اپنے غلط نظریات کی اشاعت میں کمربستہ تھے، اسی ماحول میں امام بخاری نے ۱۶سال کے عرصہ میں اپنی یہ تالیف مکمل فرمائی اورجملہ فتنوں کا توڑکتاب وسنت کی روشنی میں پیش کیا ،اور کمال کی بات یہ ہے کہ مخالف کانام لے کرصحیح بخاری میں اس کی تردید نہیں کی اورایساکمال بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتاہے۔
مثال کے طورپر کتاب الایمان میں ستر دلائل کے ساتھ آپ نے مخالفین کی تردید فرمائی ہے (۱) باب المعاصی من أمرالجاھلیۃ لایکفرصاحبھا بارتکابھا إلا الشرک لقول النبیﷺ لأبی ذر!إنک امرء فیک جاھلیۃ وقول اللہ تعالیٰ (إن اللہ لایغفرأن یشرک بہ ویغفرمادون ذلک لمن یشاء) یعنی باب اس کا کہ گناہیں جاہلیت کی چیز ہیں لیکن ان کا مرتکب کافرنہیں کہاجاسکتا جب تک شرک نہ کرے، نبی کریمﷺ کا ایک صحابی کو فرمانا کہ تم ایسے آدمی ہوکہ تم میں اب تک جاہلیت کی بات باقی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ اللہ سب گناہیں معاف کرے گا لیکن شرک نہیں معاف کرے گا(ان دونوں باتوں سے معلوم ہواکہ گناہوں کے ارتکاب سے آدمی کا فر نہیں ہوسکتا)
اس باب سے امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصود ان لوگوں کی تردید کرنا ہے جو مرتکب کبیرہ کوکافر قراردیتے ہیں، اوروہ ہیں خوارج جبکہ انجام کار کے اعتبارسے معتزلہ بھی ان کے ساتھ شریک ہیں۔
دوسراباب:’’الکفر دون الکفر‘‘اسی طرح ’’الظلم دون الظلم‘‘اس باب سے مقصود یہ ہے کہ اطاعت کے ذریعے ایمان میں اضافہ اورمعاصی کے ذریعہ اس میں کمی ہوتی ہے، یہاں ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جوکہتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ معصیت نقصان دہ نہیں ہے اوروہ ہیں مرجۂ۔
اسی طرح باب ہے:’’وإن طائفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما‘‘فسماھم المؤمنین‘‘ یعنی اگردوجماعت ایمان والوں کی لڑپڑیں توان میں صلح کرادو تواللہ تعالیٰ نے باوجود لڑنے کے مومن کہا۔
اس سے معلوم ہواکہ گناہ سے آدمی کافرنہیں ہوتا،اس باب سے ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جومرتکب کبیرہ کی تکفیر کے قائل ہیں، ان تمام باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ صحیح بخاری ایک عظیم خزانہ ہے جس میں تقریباً پچپن علوم کو سمودیاگیا ہے، اس سے امام بخاری کی ذہانت وفطانت کااظہار ہوتا ہے اوراسی بناپر ان کی اس عظیم تالیف کو امت میں عظیم ترین مقام ومرتبہ حاصل ہے۔
بخاری کامروجہ نسخہ امام فربری کی روایت سے ہے، محمد بن یوسف بن مطر بن صالح بن بشرالفربری نسبت ہے مقام فربرکی طرف جوکہ بخار ا میں دریائے جیحون کے کنارے واقع ہے۔
امام فربری کا سن ولادت ۲۳۱ھ ؁ اوروفات ۳۳۰ھ ؁ ہے انھوں نے امام بخاری سے صحیح بخاری دوبار پڑھی ہے ایک دفعہ ۲۴۸ھ ؁ میں فربر میں اوردوبارہ بخارا میں ۲۵۲ھ ؁ میں اوراس کے چارسال بعدامام صاحب کا انتقال ہوگیا۔
امام فربری نے کہا کہ اس وقت بخاری کے شاگردوں میں سے روئے زمین پرمیرے سواکوئی نہیں تھا، لیکن انکایہ کہنا درست نہیں۔
حافظ ابن حجر ہدی الساری مقدمہ فتح الباری ص:۵۱۶ میں فرمایا کہ ابوطلحہ منصور کا انتقال فربری کے ۹؍سال بعدہوا ہے۔
امام المحدثین کے تلامذہ کاسلسلہ غیرمحدود ہے، دنیائے اسلام کاکوئی حصہ ایسانہیں ہے جہاں آپ کے تلامذہ کا اثرسلسلہ بہ سلسلہ نہ پہونچاہو،امام فربری کہتے ہیں کہ امام المحدثین سے بلاواسطہ نوے ہزار محدثین نے صرف صحیح بخاری سنی (مقدمہ فتح الباری ص:۵۱۶) اور ان کے اساتذہ کی تعداد ایک ہزار اسی ہے ،حافظ ابن حجر عسقلانی نے خود امام صاحب کا قول نقل کیا ہے ’’کتبت عن الف وثمانین نفساً‘‘یعنی میں نے ایک ہزاراسی شیوخ سے روایتیں لکھی ہیں اور صرف انھیں شیوخ سے حدیثیں لکھی ہیں جوایمان کے گھٹنے بڑھنے کے قائل تھے اوراعمال کوجزء ایمان کہتے تھے۔(مقدمۃ فتح الباری ص:۵۰۳)

Tuesday, September 28, 2010

حضرت زیدبن ثابت aug-sep 2010

محمود احمد غضنفر

حضرت زیدبن ثابت

سنہ۲ ہجری ہے،مدینہ منورہ میں چہل پہل دکھائے دے رہی ہے، مجاہدین غزوۂ بدرکی تیاری میں ہمہ تن مصروف ہیں، نبی کریمﷺ اپنی قیادت میں جہاد کے لئے روانہ ہونے والے پہلے لشکر پرطائرانہ نگاہ ڈال رہے ہیں کہ اچانک ایک تیرہ سالہ لڑکا جس کے چہرے پرذہانت ،متانت، شرافت اورخودداری کے نقوش نمایاں نظر آرہے تھے ہاتھ میں اپنے قدسے بھی لمبی تلوار پکڑے رسول اللہﷺ کے قریب آیا اورعرض کی یا رسول اللہﷺ میں آپ پہ قربان جاؤں، مجھے اپنے ساتھ لے لیجئے تاکہ میں آپ کے جھنڈے تلے جہاد کی سعادت حاصل کرسکوں۔

رسول اکرم ﷺ نے اسے خوشی اورتعجب سے دیکھا اوراس کے کندھے پرمحبت وشفقت بھرے انداز میں تھپکی دی، اس کے دل کو خوش کیا اورکم عمری کی بناپراسے واپس لوٹادیا۔

یہ نوعمرلڑکا اپنی تلوار زمین پرگھسیٹتا ہواغم واندوہ کی تصویر بناہوا واپس لوٹاکیونکہ وہ پہلے غزوے میں رسول کریمﷺ کی رفاقت حاصل کرنے سے محروم ہوگیاتھا، اس کے پیچھے ان کی والدہ محترمہ نواربنت مالک غم واندوہ سے نڈھال واپس لوٹیں، کیونکہ ان کے دل کی یہ تمنا تھی کہ میرالخت جگر رسول کریمﷺ کے جھنڈے تلے مجاہدین کے شانہ بشانہ دادِ شجاعت دے اور مجھے یہ منظردیکھ کرآنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہو، کاش کہ آج اس کا باپ زندہ ہوتا توضروررسول کریمﷺ کی قیادت میں اس غزوے میں شمولیت کی سعادت حاصل کرتا۔

لیکن جب اس انصاری بچے نے اپنی نوعمری کی بناپر میدان جہاد میں رسول اقدس ﷺ سے قرب حاصل کرنے میں اپنی ناکامی دیکھی تواس کے ذہن رسا میں نبی کریمﷺ کا تقرب حاصل کرنے کا ایک اورطریقہ آیا جس کا عمرکے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا، بلکہ اس کا تعلق علم اورقرآن مجیدکے حفظ سے تھا، جب اس نے اپنی والدہ سے اس کا تذکرہ کیا تووہ بہت خوش ہوئیں اوریہ طریقہ آزمانے کے لئے مستعد وچوکس ہوگئیں۔

والدہ محترمہ نے اپنی قوم کے چیدہ افرادسے اپنے لختِ جگرکی رائے اوراندازِ فکر کاتذکرہ کیا تووہ اسے اپنے ہمراہ رسول کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں لے گئے، اورعرض کی:یا رسول اللہ ﷺ ہمارے بیٹے زید بن ثابت کوقرآن مجید کی سترہ سورتیں زبانی یادہیں اوریہ اس طرح درست پڑھتاہے جس طرح آپ کے قلب مبارک پہ نازل کی گئی تھیں، علاوہ ٓمیں یہ بڑاذہین ہے اورلکھناپڑھنا بڑی اچھی طرح جانتا ہے، ان خوبیوں کی وجہ سے وہ آپ کا قرب اورآپ کے دامن سے لپٹناچاہتاہے، آپ چاہیں تو اس سے سن لیں،رسول اکرمﷺ نے اس ہونہارلڑکے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کچھ سورتیں سنیں توالفاظ کی عمدہ ودرست ادائیگی اورخندہ پیشانی ،شیریں کلامی سے آپ بہت متاثر ہوئے اس کے ہونٹوں پرقرآنی کلمات اس طرح چمکتے تھے جس طرح آسمان پر تارے چمکتے ہیں،اس کی تلاوت اپنے اندربے پناہ جاذبیت رکھتی تھی، تلاوت کا ٹھہراؤاس کے تروتازہ حافظے اورفہم وفراست پر دلالت کرتا تھا،رسول کریمﷺ اس ہونہار بَروے میں یہ خوبیاں دیکھ کربہت خوش ہوئے اورآپ کو زیادہ خوشی اس سے ہوئی کہ وہ عربی زبان عمدہ انداز میں لکھنا بھی جانتا ہے، نبی کریمﷺ نے اس کی طرف محبت بھرے انداز سے دیکھا اور ارشاد فرمایا:’’اے زید! میرے لئے یہودکی زبان عبرانی لکھنا بھی سیکھو،مجھے ان پر اعتماد نہیں‘‘۔

انھوں نے کہا: حاضریارسول اللہﷺفوراً عبرانی زبان سیکھنا شروع کردی اورتھوڑے ہی عرصہ میں اس زبان میں مہارت پیداکرلی، رسول اللہ ﷺ یہودکی طرف کوئی پیغام لکھ کربھیجنا چاہتے تو توجناب زید بن ثابت تحریر کرتے اورجب وہ کوئی خط بھیجتے تویہ آپ کو پڑھ کرسناتے۔

پھررسول اللہﷺ کے حکم کے مطابق عبرانی کی طرح سریانی زبان بھی سیکھ لی، اوریہ نوجوان زید بن ثابت رضی اللہ عنہ،رسول اقدس ﷺ کا ترجمان بن گیا اوراس طرح انھیں آپ کا قرب حاصل ہوا۔

جب نبی کریمﷺ کوحضرت زید کی متانت، دیانت، امانت اورمعاملہ فہمی پرمکمل اعتماد ہوگیا تو انھیں خدائی پیغام ضبط تحری رمیں لانے کے لئے ’’کاتب وحی‘‘کے اہم منصب پرفائز کردیاگیا، جب قرآن مجیدکی کوئی آیت آپ کے قلب مبارک پرنازل ہوتی توحضرت زید کوبلاتے اوراسے لکھنے کا حکم دیتے، تووہ اسے لکھ دیتے، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ،وقتا فوقتا رسول کریمﷺ سے قرآنی تعلیمات حاصل کرتے اوراس طرح دن بدن ان کی دینی معلومات میں اضافہ ہونے لگا اوروہ آپ کے ذہن مبارک سے تازہ ترین دینی احکامات سنتے، ان کے اسبابِ نزول معلوم کرتے جن سے ان کے دل میں انوارِ ہدایت سے چمک پیداہونے لگی، اوران کی عقل اسرارشریعت سے منورہونے لگی یہاں تک کہ یہ نوجوان قرآن مجیدکا ماہراوروصال رسول علیہ السلام کے بعدامت محمدیہ کے لئے مرجع اوّل بنا، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ،کے دورِ خلافت میں جن صحابہ کرام کو قرآن مجید جمع کرنے کا فرض سونپاگیاان میں یہ سرفہرست تھے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جن صحابہ کرام نے قرآن مجید کے متعددنسخوں کویکجا کیا ان میں بھی ان کی حیثیت نمایاں تھی، کیا اس سے بڑھ کربھی کوئی مرتبہ ہوسکتا ہے جس کی کسی کوتمناہو؟۔

قرآن مجید کی برکت سے حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کے لئے ایسے کٹھن مراحل میں صحیح سمت اختیار کرنے کے راستے روشن ہوجاتے جب کہ بڑے بڑے عقل مندحیران وپریشان ہوجایاکرتے تھے۔

مہاجرین نے کہا: رسول اقدس ﷺ کی خلافت کاحق ہمارا ہے،انصارمیں سے چندایک نے کہا: خلافت کے حقدار ہم ہیں،اوربعض انصارکہنے لگے کہ ایک خلیفہ ہم میں سے ہواورایک مہاجرین میں سے ہو، کیونکہ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی علاقے میں مہاجرین میں سے اپناکوئی نمائندہ بناکربھیجتے تواس کے تعاون کے لئے ایک انصاری کوساتھ ملادیا کرتے تھے، قریب تھاکہ یہ فتنہ سنگین صورت اختیار کرجاتا، حالانکہ اللہ کے نبیﷺ کفن میں ملبوس ان کے سامنے تھے ابھی آپ کے جسداطہر کودفن نہیں کیاگیا تھا،ایسے نازک ترین موقع پرضروری تھاکہ قرآن مجید کی برکت سے کوئی ایسی اچھوتی، حیرت انگیز اورمحتاط بات سامنے آئے جس سے یہ فتنہ فوری طورپردب جائے، یہ بات حضرت زیبد بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ،کی زبان مبارک سے نکلی جب انھوں نے اپنی قوم کی طرف دیکھا توارشاد فرمایا اے خاندان انصار! رسول کریمﷺ مہاجرین میں سے تھے، آپ کا خلیفہ بھی مہاجر ہوگا۔

ہم جس طرح رسول اللہ ﷺ کے انصارومددگار تھے اسی طرح ان کے خلیفہ کے بھی انصارومددگار ہوں گے،پھراپناہاتھ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ ، کی طرف بڑھایا بیعت کی اورفرمایا یہ تمہارے خلیفہ ہیں ان کی بیعت کرو۔

حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ ،قرآن مجید کی برکت اورطویل زمانہ رسول کریمﷺ کی صحبت کی بناپر مسلمانوں کے لئے مینارۂ نور اوران کے ہادی ومرشدبن گئے۔

خلفائے عظام مشکل ترین مسائل کے حل کرنے میں ان سے مشورہ لیتے، عوام الناس فقہی مسائل میں ان سے فتویٰ لیتے، خاص طورپروراثت کی تقسیم کے سلسلہ میں ان سے زیادہ ماہراورکوئی نہ تھا، فتح دمشق کے موقع پر خلیفۃ المسلمین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جابیہ نامی بستی میں مجاہدین سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’لوگو!جو تم میں سے قرآن مجید کی متعلق معلومات حاصل کرناچاہے، وہ زیدبن ثابت کے پاس جائے ،جوتم میں سے کوئی فقہی مسئلہ پوچھنا چاہے وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف رجوع کرے اورجس کسی کو مال چاہئے وہ میرے پاس آئے کیونکہ مجھے مسلمانوں کے مال کی نگرانی اوراس کی تقسیم کا اختیاردیا گیاہے۔

صحابۂ کرام اورتابعین ذی وقارمیں سے علم حاصل کرنے والوں نے حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ، کی صحیح معنوں میں قدرپہچانی، اورعلمی مرتبہ اورفضل وشرف کی بناپر ان کی تعظیم بجالائے۔

وہ حیرت انگیز منظر کا مشاہدہ کروکہ علم کابحربے کنار حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی تعظیماً سواری کی لگام پکڑے کھڑے ہیں، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: رسولِ اقدس ﷺ کے چچازاد بھائی گھوڑے کی لگام چھوڑیئے مجھے شرمندہ نہ کیجئے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ،نے ارشاد فرمایا: اسی طرح اپنے علماء کی عزّت کرنے کاحکم دیا گیاہے۔

حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے اپناہاتھ دکھلایئے انھوں نے اپناہاتھ ان کی طرف کیا، توانھوں نے اسے پکڑکر چوم لیااورفرمایا: ہمیں اپنے پیارے نبیﷺ کے اہل بیت کے ساتھ اسی طرح محبت کرنے کاحکم دیاگیاہے۔

حضرت زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ، اپنے رب کو پیارے ہوئے تومسلمان زاروقطار روئے کہ آج علم کا خزانہ مٹی میں دفن ہوجائے گا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نے فرمایا: آج اس امت کامتبحرعالم دنیا سے کوچ کرگیا، کاش اللہ تعالیٰ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کواس کا نعم البدل بنادے۔

***

Saturday, September 4, 2010

علمی خیانت اورتحریری سرقہ کی بدترین مثال

عبد المنان سلفیؔ
علمی خیانت اورتحریری سرقہ کی بدترین مثال
اورنام نہاد مؤلف محمد عمارسلفی(مؤ) کی مزعومہ کتاب
’’تحفۂ رمضان المبارک ‘‘کی حقیقت

علمی خیانت اور تحریری سرقہ کا معاملہ کوئی نیا نہیں، ہردورمیں سستی شہرت کے دلدادہ اورمصنف ومؤلف کہلانے کے ایسے شوقین پائے جاتے رہے ہیں جنھوں نے دوسروں کی تالیفات وتصنیفات اورتحریروں کو معمولی ردوبدل کے بعد اپنے نام سے شائع کراکے علمی دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکنے کی ناپاک جسارت کی ہے اورراتوں رات محقق، مصنف، مؤلف اورمترجم بن کر شہرت کی بلندیوں کو چھونے کی لاحاصل سعی کی ہے، مگر شاید ایسا کم ہوا ہوگا کہ نام سمیت پوری کی پوری کتاب کسی نے اپنے نام سے شائع کرلی ہو، مگر اس ترقی یافتہ اور علمی دورمیں یہ انہونی بھی ہوگئی اور ایک نام نہاد مولف نے ۴۱؍موضوعات پرمشتمل اپنی خودساختہ کتاب میں میری کتاب ’’تحفۂ رمضان المبارک‘‘ کے تیس عناوین مکمل اور من وعن نقل کرکے دنیا کو حیرت زدہ کر دیاہے ۔
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے تقریباً دس برس قبل ’’تحفۂ رمضان المبارک ‘‘کے نام سے رمضان المبارک کے تیس دروس واسباق مرتب کرکے اس مقصدسے شائع کرائے تھے کہ ماہِ رمضان المبارک میں ائمہ مساجددروس کے سلسلہ میں اس کتاب سے استفادہ کرسکیں اور جو ائمہ کرام خود سے درس نہیں دے سکتے وہ کم از کم روزانہ اس کا ایک درس مصلیوں کو پڑھ کرسنادیاکریں، اللہ کے فضل و کرم سے کتاب دعوتی وعلمی حلقوں میں مقبول ہوئی، اوردیکھتے دیکھتے چند مہینوں میں اس کے نسخے ختم ہوگئے میں ،دوسرے ایڈیشن کے لئے تیاری کرہی رہا تھا کہ خبرملی کہ مکتبہ الفہیم، مؤنے اس کتاب کو چھاپ کر فروخت کرنا شروع کردیاہے، تعجب توضرور ہوا کہ بغیراجازت ایک ذمہ دار ناشرنے یہ حرکت کیسے کی مگریہ سوچ کرخاموش رہا کہ چلو دعوت کاکام جس طریقہ سے بھی ہوجائے بہتر ہے ،تاہم مذکورہ مکتبہ نے کتاب میرے ہی نام سے چھاپی اور اس میں کوئی تحریف نہ کی، پھرمیں نے کتاب کا تیسرا اورچوتھا ایڈیشن اپنے تجارتی مکتبہ ’’رحمانی کتاب گھر‘‘بڑھنی ، ضلع سدھارتھ نگر سے شائع کیا، میری یہ مختصرکتاب دس برسوں سے اہل علم کے درمیان جانی جاتی ہے۔
گذشتہ سال ماہنامہ’’ نوائے اسلام ‘‘دہلی کے رمضان والے شمارہ میں ’’تحفۂ رمضان المبارک‘‘ نام کی ایک کتاب کا اشتہار دیکھ کر چونکا کہ میرے کرم فرماؤں نے بغیر کچھ کہے اورلکھے اشتہار کیسے دے دیا؟ مگرجب یہ دیکھا کہ اس کے مؤلف مؤ کے عمارسلفی ہیں توقدرے استعجاب دورہوا، مگراسی شمارہ میں جب مشتہرکتاب تحفۂ رمضان المبارک کے حوالہ سے ایک مضمون پر نظر پڑی تو یہ دیکھ کر میں دنگ رہ گیاکہ پورا مضمون میری کتاب’’ تحفۂ رمضان المبارک‘‘ ہی سے من وعن منقول تھا۔میں نے اس کا ذکر بعض احباب سے کیا اوراس کتاب کے حصول کے لئے مؤ کے بعض دوستوں سے رابطہ بھی کیا مگر یہ مل نہ سکی اورمیرے ذہن سے یہ موضوع نکل گیا۔ پھر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی عظمتِ صحابہ کانفرنس، دہلی، منعقدہ ۱۰؍۱۱؍ اکتوبر ۲۰۱۰ء ؁ کے موقعہ پر رام لیلاگراؤنڈ میں لگے بک اسٹالوں سے گذرتے ہوئے مکتبہ نعیمیہ مؤ کے اسٹال پر اچانک یہ کتاب نظر آگئی تواسے دیگر کتابوں کے ساتھ خرید لیا اورمکتبہ نعیمیہ کے ذمہ دار ارشدجمال صاحب سے دبی زبان میں شکایت بھی کردی کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ وہ جواب کیا دیتے، منہ بنا کے خاموش رہ گئے۔
کتاب کے ٹائٹل کی تحریر کے مطابق اس کتاب پرنظرثانی جماعت کے ایک معتبر صاحب قلم اوربزرگ عالم دین مولانا عزیز الحق عمری ؔ صاحب نے فرمائی ہے اورکتاب مکتبہ نعیمیہ جیسے ذمہ داراور معروف اشاعتی ادارہ کی جانب سے طبع ہوئی ہے،مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ کسی کی نظرمیں یہ بات نہ آئی کہ پوری کتاب چربہ نہیں سرقہ ہے اورصرف مصنف کا نام تبدیل کرکے اسے شائع کردیاگیا ہے۔
مولانا عمری ؔ کے سلسلہ میں مجھے حسن ظن رہا کہ اگرسچ مچ مولانا کی نظرسے یہ کتاب گذری ہوتی توشاید وہ اس کی طباعت کی اجازت نہ دیتے، مگربعدمیں پتہ چلا کہ محمدعمارسلفی مولانا عمریؔ صاحب ہی کے فرزند ہیں، اصل حقیقت کیا ہے؟ اللہ ہی کو معلوم ہے ،مگراب بھی مجھے یہی لگتا ہے کہ مولانا عمری کو حقیقت حال کا شایدپتہ نہیں اور’فرزندگرامی‘ نے والد بزرگوار کانام استعمال کرکے ان کے وقار واعتبار کو ٹھیس پہونچانے اور ان کے نام پر بٹہ لگانے کی حماقت کر ڈالی ہے،البتہ ’’مکتبہ نعیمیہ‘‘ کو اس علمی خیانت سے بری کرنے میں مجھے تامل ہے بلکہ لگتا ہے کہ یہ کام مکتبہ کے ذمہ دار کے اشارہ ہی پر ہوا ہوگاجنھوں نے مکتبہ الفہیم ۔ جس کے ذمہ داران میری یہ کتاب کئی سالوں سے چھاپ کر فروخت کرہے ہیں۔ کے مقابلہ میں اس قسم کی کتاب ترتیب دینے کی فرمائش محمد عمار صاحب سے کی ہوگی اور میری کتاب بھی انھیں نمونہ اوررہنمائی کے لئے دی ہوگی، واللہ اعلم۔
بہر حال محمدعمارسلفی کے نام سے منسوب یہ پوری کتاب علمی خیانت اورتحریری سرقہ کا بدترین نمونہ ہے، عرض مؤلف سے لے کرآخرکتاب تک شایدہی کوئی جملہ نام نہاد مؤلف کے قلم سے ہو، ۴۱عناوین میں سے ۳۰؍تو میری کتاب’’ تحفۂ رمضان المبارک‘‘ سے من وعن منقول ہیں جنھیں میں نے رمضان المبارک کے تیس دنوں کی مناسبت سے مختلف موضوعات پر لکھے تھے،نقل میں صحت کا اس قدر خیال رکھا گیا ہے کہ میں نے ہردرس کے شروع میں حمد وصلاۃ کے جوصیغے استعمال کئے تھے اورآخر میں درس کی مناسبت سے جو دعائیہ جملے تحریر کئے تھے ان میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔۴۱؍عناوین میں سے ایک توعرض مؤلف ہے، وہ بھی کسی صاحب قلم کی تحریر کا مکمل سرقہ ہے، اس لئے کہ اس میں موضوع اورکتاب کے تعلق سے کوئی بات ذکرنہیں ماہ رمضان المبارک کے اندر حرم شریف کے پُرکیف مناظر کا ذکرہے ، باقی ۱۰؍عناوین معروف اہل حدیث مصنف شیخ اقبال کیلانی کی ’’کتاب الصوم‘‘ سے من وعن منقول ہیں۔
بدقسمتی سے اس کتاب کے ساتھ علمی خیانت اورسرقہ کا ایک سانحہ اس سے قبل بھی پیش آچکا ہے جب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے فاضل اورمرکز توعیۃ الجالیات، دمام (سعودی عرب) سے وابستہ ایک داعی۔جن کے مضامین جماعت کے اخبار وجرائد میں کبھی کبھار چھپتے رہے ہیں۔ نے میری اس کتاب کے کئی دروس ایک نقطہ کی تبدیلی کئے بغیر بلا حوالہ من وعن اپنے ایک مضمون میں نقل کیا اوراسے ماہنامہ ’’ صراط مستقیم‘‘ برمنگھم، لندن بھیج کر شائع کرادیا، پھراسی مضمون کو اگلے سال ماہنامہ ’’الفرقان‘‘، ڈمریا گنج، سدھارتھ نگر (بھارت) نے شائع کیا، اس موقعہ پر برادر عزیز شیخ وصی اللہ عبدالحکیم مدنی نے میری اجازت سے اس پرماہنامہ ’’السراج‘‘ ماہ ستمبر ۲۰۰۸ء کی اشاعت میں نوٹس لیا، اوربات آئی گئی ہوگئی۔
۱۶۰؍صفحات پرمشتمل اس نام نہاد تالیف کے آغاز میں عرض مؤلف کے بعد ’’روزہ کی فرضیت‘‘ اورچاند کے مسائل کے تحت ۵صفحات کے مواد معروف اہل حدیث مصنف شیخ اقبال کیلانی کی کتاب الصیام ے نقل کئے گئے ہیں ،اور عناوین وغیرہ لکھنے کا انداز بالکل وہی ہے جو شیخ کی کتابوں کے سلسلہ میں اہل علم کے مابین معروف ہے کہ موصوف عناوین عربی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں پھر موضوع کی مناسبت مختلف عناوین کے تحت حدیثوں کا متن نقل کرکے نیچے ان کا ترجمہ تحریر فرماتے ہیں۔
محمد عمار سلفی نے اپنی اس نام نہاد کتاب میں ایک اورعجیب گل کھلایا ہے اور خودہی اپنے’کارنامہ‘کا پول اہل نظر کے سامنے کھول کر خود کو بالکل ہی برہنہ کردیاہے ، چاند کی رؤیت کے سلسلہ میں شیخ کیلانی صاحب نے حدیثیں نقل کرنے کے بعد آخر میں ایک عنوان قائم کیاہے کہ: ’’ابرکی وجہ سے شوال کا چاند دکھائی نہ دے اورروزہ رکھ لینے کے بعد معلوم ہوجائے کہ چاند نظر آچکاہے توروزہ کھول دیناچاہئے‘‘ اس عنوان کے نیچے کیلانی صاحب نے حسب معمول حدیثیں ذکر نہیں کیں بلکہ یہ وضاحت تحریر فرمادی کہ: ’’حدیث مسئلہ نمبر ۱۷۷ کے تحت ملاحظہ فرمائیں‘‘ عمار صاحب نے اپنی کتاب کے صفحہ نمبر(۱۳) پراسے بھی نقل کرلیا اور انھیں اتنی بات بھی نہ سوجھی کہ اس نوٹ کو یا توحذف کردیں یا کم ازکم اصل کتاب کھول کر مسئلہ نمبر ۱۷۷ کے تحت ذکرکی گئی حدیث ہی نقل کردیں، العیاذ باللہ۔
’’روزہ کی فرضیت‘‘ اورچاند کے مسائل‘‘ کے عنوان سے مسروقہ مواد نقل کرنے کے بعد کتاب کے صفحہ ۱۴؍ سے مسلسل میری کتاب کے ۲۳دروس من وعن منقول ہیں، اور جیسا کہ پہلے میں لکھ چکاہوں کہ ہردرس کومیں نے مختصر حمدوصلاۃ سے شروع کیا ہے اورموضوع کی مناسبت سے دعاؤں پر ختم کیا ہے، محمدعمارسلفی نے اس میں بھی کسی تبدیلی کی زحمت نہ فرمائی، ہاں صرف درس نمبر حذف کردیا ہے ۔
میرے ۲۳؍دروس من وعن نقل کرنے کے بعد محمدعمار سلفی نے پھرشیخ اقبال کیلانی کی کتاب کو کھول کررکھ لیا ہے اورنفلی روزہ کے احکام نقل کرنے کے بعد زکاۃ کے مختلف مسائل ان کی مذکورہ کتاب سے نقل کردئے ہیں۔
پھرصفحہ نمبر۱۳۷ سے آخرکتاب تک میری کتاب کے باقی ۷؍دروس بالترتیب نقل کردیئے ہیں، اور میرے تیسویں درس ’’ماہ صیام کا پیام اہل ایمان کے نام‘‘پر کتاب کو ختم کردیا ہے۔
اس طرح گویا تقریباً ۱۶۰ ؍صفحات پر مشتمل اس نام نہاد تالیف میں دوتہائی سے زائد مواد میری کتاب ’’تحفۂ رمضان المبارک ‘‘سے چوری کرکے نقل کئے گئے ہیں اورباقی ایک تہائی شیخ اقبال کیلانی کی ’’کتاب الصیام‘‘ سے سرقہ کئے گئے ہیں۔
غیر ذمہ دار اشاعتی ادارہ مکتبہ نعیمیہ ،مؤاورنام نہاد مؤلف محمد عمار سلفی کے خلاف قانونی کارروائی کا مشورہ متعدد احباب نے دیاہے، مگراحباب کے مشورہ پر عمل کرنے سے قبل میں اپنامقدمہ ذمہ داران جمعیت وجماعت خصوصاً مؤ اوربنارس کے علماء کی عدالت میں پیش کررہا ہوں کہ وہ اس گھناؤنی حرکت پر ناشر اور مولف دونوں کا مواخذہ کرکے انھیں قرارواقعی سزادیں تاکہ حقیقی مؤلفین،مصنفین ومحققین کی علمی کاوشیں اس قسم کی سازشوں سے محفوظ رہ سکیں ورنہ کچھ دنوں بعد یہی جھوٹے مولفین اصل مؤلف جانے جائیں گے اورحقیقی مصنفین کو لوگ خائن تصور کربیٹھیں گے۔

بعض احباب کوصدمات

عبد المنان سلفیؔ
بعض احباب کوصدمات
مولانا شہاب الدین مدنی کی والدہ کی رحلت:
صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی کے امیر جناب مولانا شہاب الدین مدنی ؍حفظہ اللہ کی والدہ محترمہ کا قدے طویل علالت کے بعد ۸؍جولائی ۲۰۱۰ء ؁ بروزجمعرات بوقت فجرانتقال ہوگیا،انا للہ واناالیہ راجعون۔
والدہ محترمہ رحمہا اللہ مومنہ، موحدہ ، متبعہ کتاب وسنت اورپابند صوم وصلاۃ خاتون تھیں، تقریباً ایک سال قبل ایک موذی مرض میں مبتلاہوئیں، جملہ اہل خاندان خصوصاً صاحبزادگان وبالاخص مولاناشہاب الدین مدنی نے علاج اورخدمت میں کوئی کسرنہ اٹھائی، نماز جنازہ آبائی وطن بتنار ضلع سدھارتھ نگرمیں موصوفہ کے صاحبزادے مولانا شہاب الدین مدنی کی امامت میں پڑھی گئی، جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر سے ایک وفدشریک جنازہ ہوا، جس میں راقم کے علاوہ جامعہ کے متعدد اساتذہ وکارکنان و منتسبین مولانا وصی اللہ مدنیؔ ،مولانا خیراللہ اثریؔ ،مولانا قمر اعظم سراجیؔ ،ماسٹر عبد الحسیب دفتری،عزیزم مولوی سعود اختر سلفیؔ اور عزیزم حمود سلمہ شامل تھے ، اللہ تعالیٰ والدہ محترمہ کی مغفرت فرمائے اورپسماندگان کوصبرجمیل کی توفیق بخشے۔(آمین)
جناب فضل الباری صاحب پسرشیخ الحدیث مبارکپوری کا انتقال:
یہ خبربڑے دکھ کے ساتھ سنی گئی کہ شیخ الحدیث علامہ عبیداللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے جناب فضل الباری صاحب تقریباً ۸۸ ؍برس کی عمرمیں ۱۵؍جولائی بروزجمعرات بوقت فجر مبارکپور میں انتقال فرماگئے، اناللہ واناالیہ راجعون۔
جناب فضل الباری صاحب محترم شیخ الحدیث رحمہ اللہ کے سب سے بڑے فرزندتھے، تعلیم توزیادہ نہ تھی تاہم شیخ الحدیث رحمہ اللہ کی حسن تربیت کے سبب تقوی، خشیت الٰہی،عبادات میں ذوق وشوق اوراعلیٰ اخلاق جیسے اوصاف سے متصف تھے، آپ کی وفات سے خانوادۂ شیخ الحدیث کا ایک ستون گرگیا، اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان کو صبرکی توفیق بخشے،آمین۔
شیخ الحدیث علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ کے دوسرے صاحب زادے بقیۃ السلف جناب مولانا عبدالرحمن رحمانی مبارکپوری ؍حفظہ اللہ بھی مختلف عوارض وامراض کے سبب بیحد ضعیف ہوچکے ہیں، قارئین سے موصوف کی صحت کے لئے دعاء کی درخواست ہے۔
قاری عبدالخالق صاحب کے والد کی وفات:
جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر، میں شعبۂ حفظ کے استاد قاری و حافظ عبدالخالق شنکرنگری کے والدبزرگوار جناب عثمان غنی صاحب کا اچانک ۲۰؍جولائی ۲۰۰۲ء ؁ کو ان کے آبائی وطن شنکرنگر میں انتقال ہوگیا، انا للہ و انا إلیہ راجعون۔
موصوف صوم وصلاۃ اور تلاوت قرآن کریم نیز شریعت کے دیگر احکام کے سخت پابند اور نہایت سیدھے سادے انسان تھے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اورپسماندگان کو صبرجمیل کی توفیق بخشے۔(آمین)
مولانا محمدنسیم مدنی کی والدہ کی رحلت:
مرکز السنۃ ایکلا، روپندیہی، نیپال کے رئیس جناب مولانا محمدنسیم مدنی؍حفظہ اللہ کی والدۂ محترمہ ۲۲؍جولائی ۲۰۱۰ء ؁ کو صبح انتقال کرگئیں، اناللہ واناالیہ راجعون،موصوفہ پابندصوم وصلاۃ اوردین پسند خاتون تھیں، تقریباً ایک سال قبل مولانا محمدنسیم مدنیؔ کے والد محترم رحمہ اللہ کا بھی انتقال ہوچکاہے، والدہ کی انتقال سے مولانامدنیؔ اوران کے خانوادہ کو زبردست صدمہ پہونچاہے، اللہ تعالیٰ سب کو صبرکی توفیق بخشے،اور والدہ کی مغفرت فرمائے۔
مولانا وصی اللہ مدنی کے خسر محترم کا انتقال:
کلیہ عائشہ صدیقہ جھنڈانگر کے استاد براد رعزیز مولاناو صی اللہ عبدالحکیم مدنیؔ کے خسر محترم جناب مولانامحمد حسن قاسمی کا ایک طویل علالت کے بعد حیدرآباد (آندھراپردیس) میں ۲۲؍جولائی ۲۰۱۰ء ؁ کو بعدنماز مغرب انتقال ہوگیا،اناللہ وانا الیہ راجعون ،موصوف ایک اچھے عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے اورعرصہ سے حیدرآباد کے دارالعلوم الرحمانیہ میں تدریسی فریضہ انجام دے رہے تھے ،شوگر اوربلڈپریشرکے عارضہ میں عرصہ سے مبتلا تھے، تقریباً ایک سال قبل وہ بالکل صاحب فراش ہوگئے اور جسم کی حس وحرکت ختم ہوگئی ،مسلسل علاج چلتارہا مگروقت موعود آپہونچا ،اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات قبول فرمائے اوربال بال مغفرت کرے نیز جملہ پسماندگان خصوصاً ان کے صاحبزادے حافظ محمدنعمان صاحب وغیرہ اوران کی والدہ کو صبرجمیل کی توفیق بخشے۔(آمین)
قارئین کرام سے جملہ متو فیان کے لئے دعاء مغفرت کی درخواست ہے۔، اللہم اغفر لہم و ارحمہم و عافہم و اعف عنہم ۔ ***

جامعہ کے روزوشب

جامعہ کے روزوشب
  عبدالمنان سلفی

نئے تعلیمی سال کا آغاز: ۔الحمدللہ جامعہ کے نئے تعلیمی سال کا آغاز اعلان شدہ پروگرام کے مطابق ۳؍جولائی ۲۰۱۰ء ؁ بروز سنیچر ہوگیا، پہلا مکمل ہفتہ قدیم وجدید طلبہ کے داخلہ کی کارروائی ، ضمنی امتحان ،تقسیم اسباق اورلائبریری سے درسی کتب جاری کرنے جیسے امورمیں صرف ہوا ، اور۱۰؍ جولائی ۲۰۱۰ء ؁ سنیچر سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوگیا اور جامعہ کے دروبام قال اللہ و قال الرسول کی صدائے دلنواز سے گونجنے لگے، فالحمدللہ علی ذلک۔
تقسیم کارکی نشست:۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز پر بتاریخ ۲۵؍جولائی ناظم جامعہ مولانا شمیم احمدندوی؍حفظہ اللہ کی صدارت میں اساتذۂ کرام کی ایک میٹنگ ہوئی جس میں تعلیم وتربیت کے نظام کو مزید بہتربنانے کے مقصد سے طلبہ کی تعلیم وتربیت سے متعلق مختلف اضافی ذمہ داریاں متعدد اساتذۂ کرام کوتفویض کی گئیں، اس موقعہ پر ناظم جامعہ نے اساتذہ کرام کوان کے فرائض کی یاددہانی کے ساتھ انھیں جامعہ کے تعلیمی وتربیتی نظام کو مزید فعال بنانے کی تاکید فرمائی، اللہ تعالیٰ سب کو اپنے فرائض اخلاص واحساس ذمہ داری کے ساتھ انجام دینے کی توفیق بخشے۔(آمین)
کلیہ عائشہ صدیقہ میں امتحان سالانہ وتعطیل کلاں:۔کلیہ عائشہ صدیقہ جھنڈانگر میں سالانہ امتحان مورخہ۱۸؍جولائی ۲۰۱۰ء ؁ شروع ہوکر بتاریخ ۲۷؍جولائی۲۰۱۰ء ؁کو اختتام پذیر ہوا،فالحمدللہ علی ذلک۔امتحان ختم ہونے کے بعد تعطیل کلاں کا اعلان کیاگیا، ان شاء اللہ کلیہ کا نیا تعلیمی سال ۱۰؍شوال ۱۴۳۱ھ ؁ سے شروع ہوگا۔
کلیہ عائشہ صدیقہ میں جلسۂ تقسیم اسناد وردائے فضیلت:۔ الحمدللہ اس سال کلیہ عائشہ صدیقہ سے ۳۷؍طالبات نے فضیلت کا کورس مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی،چنانچہ امتحان سالانہ کے نتائج تیارہونے کے بعدانھیں سند فضیلت دینے کے مقصد سے مورخہ ۳۱؍جولائی ۲۰۱۰ء ؁ بروزہفتہ ایک سادہ تقریب منعقدکی گئی جس میں جامعہ سراج العلوم اورکلیہ عائشہ صدیقہ کے سینئر اساتذۂ کرام کے ہاتھوں فارغ ہونے والی ۳۷؍خوش نصیب طالبات کو سند فضیلت، ردائے فضیلت اورکتابوں کی شکل میں یادگار قیمتی انعامات دے گئے، اس موقعہ پر شیخ الجامعہ مولاناخورشید احمدسلفی،راقم عبدالمنان سلفی، مولانا مختاراحمد مدنی، مولاناعبدالرشید مدنی( اساتذۂ جامعہ) اورمولانا مطیع اللہ مدنی استاد مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کرشنانگر، نے فارغات کو گراں قدر پندونصائح سے نوازا، اورآخر میں کلیہ کے بزرگ استاد مولانا عبدالغنی سلفی کے کلمات نصائح ودعاپر پروگرام کا اختتام ہوا، پروگرام کی نظامت کلیہ کے استاد مولانااحسان اللہ رحمانی نے فرمائی۔
***

تقویمِ جامعہ برائے تعلیمی سال11-2010

تقویمِ جامعہ برائے تعلیمی سال11-2010


تعطیل رمضان المبارک و عید: ۲۸؍شعبان ۱۴۳۱ھ مطابق ۱۰؍اگست ۲۰۱۰ء تا

آغاز تعلیم بعد تعطیل رمضان : ۸؍شوال ۱۴۳۱ھ مطابق ۱۸؍ستمبر ۲۰۱۰ء
تعطیل عید الأضحی : ۸؍ ذی الحجہ ۱۴۳۱ھ مطابق ۱۵؍نومبر ۲۰۱۰ء تا

وقفہ برائے تیاری امتحان : ۱۰؍محرم الحرام ۱۴۳۲ھ مطابق ۱۷؍نومبر ۲۰۱۰ء تا

امتحان ششماہی : ۱۳؍محرم الحرام۱۴۳۲ھ مطابق ۲۰؍ دسمبر۲۰۱۰ء تا

تعطیل موسم سرما : ۳۱؍دسمبر ۲۰۱۰ء تا ۱۴؍جنوری ۲۰۱۱ء
آغاز تعلیم بعدتعطیل : ۱۵؍جنوری ۲۰۱۱ء بروز سنیچر
وقفہ برائے تیاری امتحان : ۵؍مئی۲۰۱۱ء تا ۸؍مئی ۲۰۱۱ء
امتحان سالانہ : ۹؍مئی ۲۰۱۱ء تا ۱۹؍مئی ۲۰۱۱ء
تعطیل سالانہ : ۲۰؍مئی ۲۰۱۱ء تا ۱۰؍جون ۲۰۱۱ء
آغاز تعلیمی سال ۱۲۔۲۰۱۱ء : ۱۱؍جون ۲۰۱۱ء
داخلہ وغیرہ کی کارروائی : ۱۱؍جون ۲۰۱۱ء تا ۱۶؍جون۲۰۱۱ء
آغاز تعلیم : ۱۸؍جون ۲۰۱۱ء
۳۲۔۱۴۳۱ھ مطابق ۱۱۔۲۰۱۰ء ۷؍شوال ۱۴۳۱ھ مطابق ۱۷؍ستمبر ۲۰۱۰ء ۱۹؍ذی الحجہ ۱۴۳۱ھ مطابق ۲۶؍نومبر ۲۰۱۰ء ۱۲؍محرم الحرام ۱۴۳۲ھ مطابق ۱۹؍نومبر ۲۰۱۰ء ۲۳؍ محرم الحرام۱۴۳۲ھ مطابق ۳۰؍دسمبر۲۰۱۰ء