Wednesday, November 24, 2010

NOVEMBER-2010 ایک مشفق استاد کی رحلت

راشد حسن فضل حق مبارکپوری

طالب جامعہ سلفیہ بنارس
ایک مشفق استاد کی رحلت

رمضان المبارک کی چھٹی گذارنے کے بعد جب مادر علمی جامعہ سلفیہ واپس پہونچا توقدرے تاخیرسے’’سراجی اخوان‘‘ نے استاد محترم مولانا خیراللہ اثری رحمہ اللہ کے سانحۂ ارتحال کی خبردی، یہ خبراہل علم وفضل کے لئے عموماً اوروابستگان دامن جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر کے لئے خصوصاً بڑی المناک اورہوش رباتھی، بہت ساری آنکھوں کو رُلاگئی اوربہت سے دلوں کو تڑپاگئی، کچھ دیرتک یقین کرنامشکل تھا کہ ایک شخص جس نے ابھی جوانی کی دہلیز سے پوری طرح قدم بھی نہیں نکالاتھا کیونکر اس نے اپنی جان جان آفریں کے حوالہ کردی، پھراس خبر کو بھی اسی طرح قبول کرنا پڑا جس طرح آج سے تقریبا ایک سال قبل استادالاساتذہ علامہ ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کے سلسلے میں یقین کرچکے تھے، پرانے بادہ کشوں کا یہ سلسلۂ سفر آخرت جمعیت وجماعت بلکہ امت مسلمہ کے لئے افسوسناک والم انگیز بھی ہے اورناقابل تلافی بھی، ساتھ ہی ساتھ قرب قیامت کی نشانی بھی۔موت کی حقیقت سے انکارنہیں کیاجاسکتا ،لیکن ناگہانی اوراچانک کی اموات‘ وہ بھی ایسے لوگوں کی جو دین کی خدمت میں لگے ہوئے ہوں، جن سے امت کی توقعات وابستہ ہوں، اور جن سے کوئی انسان قریب ہوتا ہے تواس کا اثرانسان کے قلب وضمیرپرپڑنا یقینی اور فطری ہے، مولاناخیراللہ اثری رحمہ اللہ جامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ کے فارغ التحصیل تھے، اورجامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر کے باوقار، بااخلاق اورباصلاحیت استاد تھے، جامعہ کے انتظامی امورسے بھی دلچسپی رکھتے تھے، مجلہ’’السراج‘‘ کے آفس سکریٹری،پروف ریڈر اور سرکولیشن مینیجر بھی تھے، دہلی میں ’’عظمت صحابہ‘‘کے موضوع پر منعقدہ آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس میں آپ سے آخری ملاقات ہوئی تھی، خودہی بڑھ کر آپ نے مصافحہ کیا، کیا معلوم تھا یہ آخری دیدار وملاقات ہے، انسان قضاء وقدر کے سامنے کس قدر بے بس ولاچار ہے کہ اسے کچھ نہیں معلوم کل کیا ہونے والا ہے ،کچھ دیرگفتگو ہوتی رہی، پھرہم جدا ہوگئے، شاید ہمیشہ کے لئے۔
مجھے آپ کا ایک ادنی شاگرد ہونے کا فخر حاصل ہے، آپ اساتذہ وطلبہ دونوں کے مابین مقبول و محترم تھے، پر مزاح بھی تھے اورشفیق ومہربان بھی، ان کی شفقت وعنایت تمام طلبہ کے لئے عام تھی، انداز تدریس ممتاز تھا، مشکل مسائل کو طلبہ کے ذہن میں آسانی سے اتارنے کا سلیقہ تھا، ایک بات کو تکرارکے ساتھ سمجھاتے تاکہ ذہن کے نہاں خانوں میں محفوظ ہوجائے، مجھے یادہے کہ آپ نے ہمیں ابتدائی کتابوں میں، تقویۃ الایمان،کتاب الصرف، اوردیگر صرف ونحو کی کتابیں پڑھائی ہیں، صرف ونحو اردو وفارسی ادب کا خاصامذاق رکھتے تھے، طلبہ انھیں صرفی اورفارسی ادب کا ماہرکہتے تھے، پڑھاتے وقت طلبہ کی لیاقت وطبیعت کا خاص لحاظ رکھتے تھے، کبھی کبھی مسائل کو دیہاتی زبان میں سمجھاکر ماحول کو پُرلطف وخوشگوار بنادیتے،دوران درس مختلف قسم کے لطیفوں کے ذریعہ طبیعت میں انبساط پیداکرنے کا گُرانھیں معلوم تھا، راقم ان کا ایک قریبی شاگرد ہونے کی حیثیت سے کہہ سکتا ہے کہ اس وقت عربی زبان میں ترکیبی حیثیت سے جوآسانی محسوس ہورہی ہے وہ اسی تخم اول کا نتیجہ وثمرہ ہے، ’’متوسطہ ثانیہ‘‘ میں جب میراپہلا مضمون مجلہ’’السراج‘‘ میں شائع ہوا، اس وقت خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، اس کی تصحیح آپ ہی نے کی تھی، اس کے بعدآپ رحمہ اللہ کا اعتماد مجھ پربہت بڑھ گیا، سایۂ شفقت بھی دوسروں کے مقابلے میں درازہوگیا، اعتماد ویقین کی دیوار اس قدراونچی کہ اگرکبھی کسی دفتری اور انتظامی مصروفیت کی وجہ سے خود کلاس میں نہ آتے توکہہ دیتے کہ راشد لویہ نوٹ طلبہ کو لکھوادینا ،اورکچھ غموض ہوگا تواس کو سمجھادینا، یہ ایک چھوٹے طالب علم کے لئے بہت بڑی بات تھی، ایک مرتبہ میں مولاناابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی کوئی کتاب پڑھ رہا تھا ،اس میں فارسی کا ایک شعر گذرا، میں اسے لے کر شیخ کے پاس گیا، توانھوں نے شفقت سے بٹھاکر سمجھایا، وہ کوئی بھی بات سمجھاتے جب تک انھیں یقین نہ ہوجاتا کہ میں سمجھ گیا تب تک وہ سمجھاتے رہتے، سوالات پربہت خوش ہوتے ،مخاطب کرتے تواس سے پہلے بیٹا ضرور لگاتے۔
مادرعلمی جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر کے اکثراساتذہ کا ذہن اسی طرح سلجھا ہوا سنجیدہ تھا، سب کے اندرابھی بھی بہت زیادہ سادگی ،تواضع، عاجزی وانکساری پائی جاتی ہے، آج کے دورمیں علم کے ساتھ ساتھ عمل بہت ہی اہم اورغیرمعمولی ہے، صلاحیت کے ساتھ صالحیت کا درجہ بہت بلند ہے، ساتھ ہی ساتھ اخلاق واطوار اگرمشفقانہ وکریمانہ ہوں توپھر کیاکہنا، افسوس کہ آج جہاں مدارس میں اساتذہ وطلبہ میں بہت ساری برائیاں وخرابیاں جنم لے رہی ہیں،وہیں غیبت وچغل خوری، حسد وعداوت ،نفرت وتعصب جیسی خبیث بیماریاں ان کے شجرہائے اخلاق وکردار کو دیمک کی طرح کھاکر کھوکھلا کررہی ہیں، مگرشاید ہی کسی کو اس کا احساس ہو، اللہ کا شکر ہے کہ جامعہ کے اساتذہ ’’ولاازکی علی اللہ أحدا‘‘ کافی حد تک ان سب چیزوں سے محفوظ ہیں، دوران درس یاتقریر ہم نے متعدد کبار اساتذہ کی آنکھوں میں آنسو د یکھے ہیں ،وہاں کے اساتذہ رحیم وشفیق بھی تھے، ہماری بہت ساری طفلانہ شرارتوں سے صرف نظر کیاہے، درس وغیرہ میں بیجاسوالات کوبہت انگیز کیاہے، یہ سب باتیں جب یاد آتی ہیں تواپنی نادانی پر افسوس ہوتا ہے اوران تمام مخلص اساتذۂ کرام کے لئے دل کی گہرائیوں سے دعائیں نکلتی ہیں، اس تحریر کے ذریعہ ہم ان تمام سے اپنے روشن مستقبل کے لئے دعاکی درخواست کرتے ہیں،بہرکیف ذہن کے اوراق پریادوں کے بہت سارے نقوش مرتسم ہیں ،جن کے تذکرے کایہاں موقع نہیں، کسی اورمناسبت سے ان کاتذکرہ کیاجائے گا ،ان شاء اللہ۔
اخیرمیں ہم اپنے مرحوم استاد محترم کے لئے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی بشری کوتاہیوں اور انسانی لغزشوں کو درگذر کرکے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے، پسماندگان کو صبرجمیل عطاکرکے اورمادرعلمی کوہمیشہ قائم ،دائم اورسرسبز وشاداب رکھے۔(آمین)

NOVEMBER-2010چندنورانی ایام

عبدالمنان سلفی


چندنورانی ایام
جامعہ میں سہ روزہ ریفریشرکورس کا انعقاد

جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر بلا استشنانیپال کا قدیم ترین مرکزی تعلیمی ودعوتی ادارہ ہے جوکم وبیش ایک سوسال سے نیپال میں اپنی تعلیمی ودعوتی ذمہ داری موثر اندازمیں انجام دے رہاہے، پرائمری سے لے کر درجات عالمیت وفضیلت تک طلبہ وطالبات کی تعلیم وتربیت کے اہتمام کے ساتھ دعوتی اوررفاہی میدانوں میں بھی اس کی اپنی علیحدہ پہچان ہے اوراپنے محدود وسائل کے مطابق اپنی خدمات نہایت خاموشی کے ساتھ جاری رکھے ہے، انہی تعلیمی و تربیتی مقاصد کو بروئے کار لاتے ہوئے جامعہ کے موجودہ ناظم اعلیٰ مولانا شمیم احمدندوی حفظہ اللہ وقتاً فوقتاً علمی ودعوتی پروگرام منعقد کرتے رہے ہیں، چنانچہ ماضی قریب میں جامعہ کے اندرمدارس اسلامیہ کے اساتذہ ومعلمین کے لئے متعددریفریشر کورسز کے انعقاد کے ساتھ کل نیپال پیمانہ پرحفظ قرآن اورحفظ احادیث نبویہ کے مسابقوں کااہتمام کیا گیاہے۔
چنانچہ نیپال کے مرکزی تعلیمی ادارہ کی حیثیت سے جامعہ کے ذمہ داران خصوصاً ناظم اعلیٰ مولانا شمیم احمدندوی حفظہ اللہ نے ۲۴تا ۲۶؍اکتوبر ۲۰۱۰ء ؁ پورے نیپال کے مدارس اسلامیہ کے اساتذہ ومعلمین کے لئے ایک ریفریشرکوس کااہتمام جامعہ کی نوتعمیر بلڈنگ ’’رحمانی کمپلیکس‘‘ کے وسیع وعریض ہال میں کیاجس میں نیپال کے ہرخطہ اورعلاقہ کے ایک سوچاراساتذہ نے شرکت کی اوراس پروگرام سے بھر پور استفادہ کیا۔
ریفریشرکورس کے انعقاد کا مقصدیہ تھا کہ مدارس میں تعلیم وتربیت کافریضہ انجام دینے والے اساتذۂ کرام کوان کی اہم ذمہ داری کا احساس دلایاجائے اورحالات حاضرہ کے تقاضوں کے پیش نظر انھیں تعلیم وتربیت کے اصولوں سے بھی واقف کرایاجائے تاکہ وہ اپنے مفوضہ فرائض زیادہ بہتراندازمیں انجام دے سکیں، الحمدللہ یہ تعلیمی وتربیتی پروگرام اپنے مقصدمیں پوری طرح کامیاب رہا اورتینوں دن کی مختلف نشستوں میں تعلیم، تربیت اوردعوت واصلاح کے مختلف گوشوں پرمدعومحاضرین کرام نے لیکچرز پیش کئے یامقالات پڑھے۔
ریفریشرکورس کی افتتاحی نشست کا آغاز ۲۴؍اکتوبر ۲۰۱۰ء ؁ بروزاتوار صبح ۳۰۔۸ بجے ہوا، جس کی صدارت جامعہ کے ناظم اعلیٰ مولاناشمیم احمدندوی حفظہ اللہ نے فرمائی،تلاوت قرآن کریم کے بعد ناظم جامعہ نے اپناصدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے مہمانان گرامی اورتمام شرکاء کی خدمت میں سپاس نامہ بھی پیش کیا جس میں آپ نے ریفریشرکورس کے انعقاد کی غرض وغایت بتاتے ہوئے تمام لوگوں کاوالہانہ استقبال کیا اورجامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر کی تعلیمی سرگرمیوں کامختصر ذکربھی فرمایا، اس کے بعدکو یت سے تشریف لانے والے مہمان خصوصی جناب ڈاکٹرعبدالسلام فیلکاوی حفظہ اللہ نے افتتاحی خطاب فرمایا اوراس پروگرام کے تئیں اپنی نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہوئے دعوت واصلاح کی اہمیت وضرورت پرروشنی ڈالی،اس کے بعدبعض مہمانوں اورشرکاء نے اس پروگرام کے سلسلہ میں اپنے تاثرات پیش کئے اورجامعہ کی تعلیمی خدمات کوسراہا، افتتاحی پروگرام تقریباً ۴۵۔۱۰بجے ختم ہوگیا، اس کے بعد۱۱؍بجے سے ایک بجے(اذان ظہر) تک محاضرات کا سلسلہ جاری رہا۔
اس سہ روزہ ریفریشرکورس میں اوسطاً ہر دن ۴؍محاضرات پیش ہوئے، ہرمحاضرہ کے بعد ۱۵؍منٹ سوال وجواب کے لئے رکھے گئے تھے، ڈاکٹر فیلکاوی کے کل چھ محاضرات عربی میں ہوئے جن کی تلخیص وترجمانی جامعہ کے سینئراساتذۂ کرام نے کی۔
اختتامی پروگرام ۲۶؍اکتوبر ۲۰۱۰ء ؁ بروزمنگل بعدنماز مغرب منعقدکیاگیا جس کی صدارت جامعہ کے ناظم مولاناشمیم احمدندوی حفظہ اللہ نے فرمائی، تلاوت قرآن کریم اورحمد کے بعدصدرمجلس نے اس پروگرام کے کامیاب اختتام پر اللہ کا شکراداکیا اورتمام شرکاء ،محاضرین اورکارکنان کومبارکباد دیتے ہوئے ان کا بھی شکریہ اداکیا، اس کے بعد مہمان خصوصی سمیت بعض دیگر علماء واساتذہ نے اس پروگرام کے سلسلہ میں اپنے تاثرات پیش فرمائے، آخرمیں مہمان خصوصی جناب ڈاکٹرعبدالسلام فیلکاوی ،ناظم جامعہ مولاناشمیم احمدندوی اورکلیہ عائشہ صدیقہ کے ناظم جناب بھیہ الحاج عبدالرشید خاں صاحب خلف الصدق خطیب الإسلام علامہ عبد الرؤوف رحمانی رحمہ اللہ اور جامعہ کے سینئراساتذۂ کرام کے ہاتھوں شرکاء کو توصیفی اسناد اوریادگار تحائف دئے گئے۔
ریفریشرکورس کے دوران چارپانچ دنوں تک ’’رحمانی کمپلیکس‘‘ میں بڑی رونق ور چہل پہل رہی اوراس کی نوتعمیر عمارتیں اورمسجد پورے طورپر آبادرہی، جلد ہی جامعہ کا شعبۂ عربی (کلّیۃ الشریعۃ) جامعہ کے اس مقرجدید پرمنتقل ہونے والا ہے،پھروہاں کے دروبام قال اللہ وقال الرسول ﷺ کی صدائے دلنواز سے گونجنے لگیں گے،ان شاء اللہ،اللہ آسانی پیدافرمائے۔(آمین)

***

OCTOBER-2010بابری مسجد ملکیت مقدمہ کافیصلہ عدالتی روایات اورقانونِ انصاف کی شکست

شمیم احمدندویؔ


بابری مسجد ملکیت مقدمہ کافیصلہ
عدالتی روایات اورقانونِ انصاف کی شکست

۶۰؍سال کی طویل عدالتی کاروائیوں، اکتادینے والے انتظار، ثبوت وشواہد کے نام پر ہونے والی دھاندلیوں، تضییع اوقات پرمبنی فضول سماعتوں اوردو دو بارکے التواء کے بعدآخرکاربابری مسجد ملکیت مقدمہ کا فیصلہ ۳۰؍ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ہزاروں میڈیا اہل کاروں اورمشتاقان دیدوشنیدکی موجودگی میں سخت حفاظتی بندوبست کے درمیان سنادیا، یہ مقدمہ جس پر ملک کے ایک ارب ۲۵ کروڑافراد کی نگاہیں مرکوز تھیں ملک کا سب سے تاریخی مقدمہ ، سب سے دوررس نتائج کا حامل اورنہ صرف موجودہ بلکہ آئندہ کئی نسلوں کو متاثرکرنے والا قضیہ ثابت ہوسکتا ہے،آئندہ کئی مہینوں بلکہ برسوں تک اس پرتبصرے ہوں گے، اس فیصلہ کے ہرپہلو کا تجزیہ کیاجائے گا، ٹی وی ٹاک شو منعقد کرکے ماہرین قانون اورارباب سیاست کی رائیں لی جائیں گی، اوراس فیصلہ سے متاثرہ فریق آئندہ کا لائحہ عمل اورحکمت عملی طے کرے گا، غرض کہ وہ سب کچھ ہوگا جواس فیصلہ کے مضمرات سے متعلق ہوگا۔
سماعتوں کی روداد ۱۴؍ہزارصفحات میں بند ہے توفیصلہ کی تفصیلات بھی ہزاروں صفحات پرمشتمل ہے، ۳۰؍ستمبر کو پورا ملک گوش برآواز تھا،بازاروں میں موت کا سکوت طاری تھا، دونوں فریقوں کے جذبات میں ہلچل تھی توفیصلہ کے تئیں امید وبیم کی کیفیات حاوی تھیں، تین فاضل ججوں کی بنچ نے فیصلہ میڈیا کے حوالہ کیا، اورپھران کے واسطہ سے پورے ملک تک آنافانا پہونچ گیا، مسلمانوں کواس فیصلہ سے بے حد مایوسی ہوئی اور وہ قلق واضطراب اورحزن وملال کے شکار ہوئے تودوسرا فریق خلاف توقع ملنے والی خوشی سے سرشاراور احساس فتح وکامرانی سے ہمکنار ہوا، یہ فیصلہ قوم مسلم کی امیدوں کے خلاف اوران کے مذہبی جذبات پرایک کاری وارتھا اوران کے قلب وجگر پرایسا زخم لگایاگیا جو شاید برسوں مندمل نہ ہو۔
مسلمانان ہند کو اس ملک میں طرح طرح کے مسائل ومشکلات کاسامنا کرناپڑتا ہے،فرقہ وارانہ منافرت وتشددکاشکار ہونا پڑتا ہے، حکومتوں کی جانبداری اور دوہرے معیار کا تماشا دیکھنا پڑتا ہے، دہشت گردی وانتہا پسندی کا بے سروپا الزام سہنا پڑتاہے، قدم قدم پر حب الوطنی کا سارٹیفکٹ پیش کرنا پڑتا ہے، پھربھی غداروطن کہلائے جانے کا حقدار چاروناچار بننا پڑتا ہے، اوروقتاً فوقتاً یہاں کی سرزمین کو ان بے گناہ مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کا گواہ بننا پڑتا ہے، جن کے خلاف ’’تہمتوں کے تراشے جانے کاعمل‘‘ اور ’’ان کے سروں پرآرے چلائے جانے‘‘کا فعل روز کامعمول ہے لیکن مسلمانوں کو ان سب زیادتیوں کو نظرانداز کرکے صبر کاتلخ گھونٹ بھی پیناپڑتا ہے۔

ملک کی ریاستی ومرکزی حکومتیں، اضلاع کی انتظامیہ وپولیس ،ملک وریاستوں کی سیکورٹی فورسز، ہردوجگہوں کی تفتیشی ایجنسیاں، اکثریتی طبقہ کی نمائندگی کرنے والا ذرائع ابلاغ، الیکٹرانک وہندی انگریزی پرنٹ میڈیا، ملک کی فضاؤں کواپنے زہرآلود بیانات سے مسموم کردینے والے لیڈران، فرقہ پرست پارٹیاں اورفسطائی طاقتیں، اشتعال انگیزحرکتیں کرنے والے اوراشتعال انگیز عزائم رکھنے والے مٹھی بھروہ لوگ جنھیں اکثریتی طبقہ کی نمائندگی کاجھوٹا دعوی ہے اورملک میں انتہا پسندانہ اوردہشت گردانہ کا روائیاں انجام دے کر یہاں کی فرقہ وارانہ یکجہتی کے ماحول کو سبوتاژکرنے والی بعض تنظیمیں وافراد اورتمام ثبوت وشواہد کو نظرانداز کرکے آنکھ بند کرکے مسلمانوں کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے والی سرکاری وغیرسرکاری ایجنسیاں، مسلمانوں کی بدقسمتی پرمہرثبت کرنے والے مذکورہ بالا کردار اوریہاں کی بساط سیاست پرکھیلی جانے والے شطرنج کے یہ مہرے ایسے تھے جن سے مسلمانوں نے کبھی بھی خیرکی امید نہیں کی اوراپنے دگرگوں حالات میں تبدیلی کے لئے کبھی آس نہیں لگائی، لیکن مذکورہ بالا ساری زیادتیوں وناانصافیوں کے بعدمسلمانوں کی آخری امیدیہاں کی عدلیہ سے وابستہ تھی اورعدلیہ پر جانب داری اورحق تلفی کا انھوں نے کبھی الزام نہیں عائد کیا، کتنے ہی معاملات کا تصفیہ ان کی توقعات کے مطابق ہوا اورکتنے مقدمات کا فیصلہ ان کے حق میں ہوا، کتنے ہی بے قصورنوجوانوں کی بے گناہی ثابت ہوئی اورکتنوں کوانہی عدالتوں نے باعزت بری کیا اورکتنے جھوٹے مقدمات کو اپنے سخت ریمارکس کے ساتھ خارج کیا، کتنی آراضی کافیصلہ ان کے حق میں ہوا اورفریق مخالف کا دعوی مسترد ہوا، مسلمانوں کے قاتلوں ،ان کے خلاف فسادبرپا کرنے والوں، ان کے خون کی ہولی کھیلنے والوں ،ان کی املاک کوتباہ وبرباد کرنے والوں اورفرضی انکاؤنٹروں میں انھیں ہلاک کرنے والوں کوسلاخوں کے پیچھے پہونچایا گیا اور کتنی ہی اونچی شخصیتوں اوراونچی کرسیوں کے مالکوں کوکٹہروں میں کھڑا کیاگیا، غرض کہ نچلی واونچی عدالتوں نے بارہا اپنا فرض غیر جانبدارانہ طریقہ سے اداکیا اورملک کی جمہوریت کی لاج رکھی اور جمہوری قدروں اورآئین ودستور کو پامال ہونے سے بچایا، اورآج اگراس ملک میں جمہوریت زندہ ہے توجیوڈیشری کی اسی آزادی کی بدولت۔
عدلیہ کے اس منصفانہ کردار کا اعتراف کرلینے کے بعد ہم اپنے کو اس کا اہل نہیں پاتے کہ بابری مسجد رام جنم بھومی ملکیت مقدمہ میں الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بنچ کی جانب سے آئے ہوئے اس فیصلہ پر حرف گیری یانکتہ چینی یہ کہہ کر کریں کہ اس فیصلہ سے دانستہ طورپر انصاف کا خون ہواہے، لیکن حالات کا منصفانہ وغیر جانبدارانہ تجزیہ ہمیں اس نتیجہ پر پہونچنے میں ضرورمدد دے سکتا ہے کہ اس معاملہ میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے، اورملک وبیرون ملک کے مسلمانوں کو اس سے بڑی مایوسی ہوئی ہے ، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس فیصلہ سے متعلق دوپہلوؤں کا ذکر اختصار کے ساتھ کردیاجائے تاکہ ماہنامہ ’’السراج‘‘ کے ان صفحات میں محفوظ ہوکرآئندہ کبھی بوقت ضرورت بطور سند کام آسکے۔
ایک تو معززعدالت نے یہ فیصلہ’’آستھا‘‘ اورعقیدت کو بنیاد بناکر کیاہے یااکثریتی طبقہ کی ’’آستھا‘‘ اوران کے جذبات کا اس فیصلہ میں احترام کیاہے، جوتمام دنیا کے عدالتی نظام اورآئینی تقاضوں کے خلاف ہے، عدالتوں کا کام ثبوت و شواہد اورگواہوں وبیانات کی بنیاد پرفیصلہ کرناہے نہ کہ خود اپنے دل یا کسی فریق کے دل کی گواہی کی روشنی میں ،معزز جیوری کا دل کیا کہتا ہے یا اکثریت کے جذبات کا احترام ان سے کس فیصلہ کا مطالبہ کرتا ہے؟ اس کو قطعاً نہ زیربحث لایاجانا چاہئے اورنہ فیصلوں پرجذبات کو اثرانداز ہونے دینا چاہئے، اس سے عدالت کی غیرجانبداری بھی مجروح ہوگی اورآئین کا احترام بھی مشکوک ہوگا، عقیدت واحترام یاذاتی رائے وخیال کا عدالتی فیصلوں میں کس حد تک دخل ہونا چاہئے اس سے متعلق اسلامی تاریخ سے صرف ایک مثال پیش ہے جو اسلامی قانون انصاف کو بخوبی واضح کرتا ہے اورجسے دنیا کے نظام عدالت کے لئے مشعل راہ بنایا جانا چاہئے۔
واقعہ نہایت معروف ہے لیکن اس موقع پراس کا پیش کیاجانا معقول ہے، چوتھے خلیفۂ راشد، داماد رسول اللہﷺ ،یکے ازعشرۂ مبشرہ ،سابقین اولین میں بھی اسبق ترین ،جن کی شجاعت اورصداقت ضرب المثل اورجن کی شرافت وامانت کا دوست دشمن سب کو اعتراف ،یہ ذات گرامی تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی، انھیں کا زمانۂ خلافت تھا،خودان کی زرہ گم ہوجاتی ہے، تلاش بسیار کے بعدایک یہودی کے پاس سے برآمد ہوتی ہے، یہ طلب کرتے ہیں ،وہ انکارکرتا ہے ،حکومت وسلطنت کے یہ مالک ہیں ،طاقت واختیارات کا سارا وزن ان کے پلڑے میں ہے، اس یہودی سے اپنی زرہ زبردستی چھین لینے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، لیکن ایک ادنیٰ شخص کی طرح قانون کے سبھی تقاضے یہ پورے کرتے ہیں، اپنی زرہ کی ملکیت کا دعویٰ قاضی شریح رحمہ اللہ کی عدالت میں دائر کرتے ہیں، قاضی صاحب اپنی ’’آستھا‘‘ اور اس عقیدت واحترام کی بنیاد پرکوئی فیصلہ نہیں کرتے ہیں جو ان کو خلیفۂ رابع کی ذات سے تھی اورنہ ہی خلیفۂ وقت کی حکومت اوروسیع اختیارات کے مالک ہونے کی فکر اورپرواہ کرتے ہیں، اسلامی قانون انصاف کی ایک شق ہے: ’’البیّنۃ علیٰ من ادَّعی والیمین علی من انکر‘‘یعنی ثبوت مدعی کے ذمہ ہے اورمدعاعلیہ کے اوپرصرف قسم ہے، قاضی صاحب نے اس زریں اصول عدل وانصاف کے تحت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ثبوت وگواہ طلب کیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک گواہ نواسۂ رسول اوراپنے لخت جگرحضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پیش کیا اوردوسرا اپنے غلام قنبررضی اللہ عنہ کو ،قاضی صاحب نے دونوں کی گواہی مسترد کردی یہ کہہ کرکہ میرے نزدیک باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی اورآقا کے حق میں غلام کی شہادت قابل قبول نہیں اوراسی کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقدمہ خارج کردیا، یہ تھا اسلام کاقانونِ انصاف جس میں قاضی شریح نے انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے اوراپنے دلی جذبات اورذاتی رائے کوانصاف کے آڑے نہیں آنے دیا ،ورنہ وہ بخوبی جانتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسی مہتم بالشان شخصیت جواتنی بڑی حکومت وسلطنت کے مالک، عدالت وصداقت کا پیکر اورامانت ودیانت کا جیتا جاگتا نمونہ تھے، ایک حقیرسی زرہ کے لئے جھوٹ نہیں بول سکتے تھے، لیکن پھربھی انھوں نے ثبوت وشواہد کی بنیادپر ان کے خلاف فیصلہ صادرکرنے میں ذرابھی تذبذب وہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا ،گرچہ ثبوت بھی اپنی جگہ مکمل ودرست تھے لیکن اسلام کا نظام عدل کچھ اورکہتا تھا، فیصلہ ضرورحضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوا لیکن دنیا میں اسلامی نظام عدل کا بول بالا ہوگیا اوراس جرأت مندانہ فیصلہ کو دیکھ کر یہودی اسیراسلام ہوکرمشرف بہ اسلام ہوگیا، اب بھی اسلام کا نظام عدل عالم انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے اورابھی بھی دنیا کواسلام کے عالمگیر مساوات اورعادلانہ نظام حیات سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔
تاریخ اسلام کے روشن صفحات میں ثبت اس منصفانہ فیصلہ کے ذکرسے یہاں محض اسلام کے نظام عدل کا بیان اوراسلام کی برتری کا بکھان مقصودنہیں ہے ،بلکہ دوباتیں بتانا چاہتاہوں اوّل توعدالتوں کے فیصلے اگرآستھا اورعقیدت کی بنیادپر ہونے لگیں تودنیا کا سارا عدالتی نظام چرمراجائے گا اورہندوستان کے ایک ہائی کورٹ کے ذریعہ دئے گئے اس تاریخی فیصلہ کو اگرمن وعن باقی رکھاجائے گا تواقلیتوں کا عدالتوں پرسے بھی بھروسہ اٹھ جائے گا اوردنیا کے لئے ایک ایسی غلط نظیرقائم ہوگی جوثبوت وشواہد کے سارے عمل کو دفتربے معنی بناکر چھوڑے گی اورہندوستانی عدلیہ کی ایک ایسی تصویر سامنے آئے گی جواسے مضحکہ خیز بنادے گی۔
آستھا کی بنیاد پرکیا گیا یہ فصیلہ ایسانہیں ہے جسے صرف مسلمانوں نے ہدف تنقید بنایا ہو بلکہ جہاں تک میں نے سمجھا ہے مسلمانوں سے زیادہ سیکولرمزاج اورانصاف پسند ہندوؤں نے ہی اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا ہے، اورمیرے علم واطلاع کے مطابق سب سے پہلے سماج وادی پارٹی کے صدرملائم سنگھ یادو نے اس پر اپنا احتجاجی بیان درج کرایا اوریہ انھیں کو زیب بھی دیتا تھا کہ مسلمانوں میں ان کی شہرت ومقبولیت اسی بابری مسجد کی حفاظت کی وجہ سے ہوئی اوران کی طرف سے عتاب کا نشانہ بھی وہ اسی مسئلہ پر بنے جب بابری مسجد کے قاتل کلیان سنگھ کو گلے لگایا ،لیکن موجودہ حقیقت پسندانہ بیان دے کر انھوں نے اس غفلت وکوتاہی اوراس جرم عظیم کی تلافی کردی جوانھوں نے بابری مسجد کے قاتلوں سے تعلقات استوار کرکے کی تھی، مسلمانوں میں ان کے اس بیان کی عمومی پذیرائی بھی ہوئی اوراستقبال بھی ،یہ بتانے کی مطلق ضرورت نہیں کہ یہ قضیہ ۶۰سال سے زائد عرصہ سے عدالتوں میں زیرسماعت تھا اور’’متنازعہ عمارت‘‘ جسے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت ’’ووادت ڈھانچہ‘‘ مشہور کیاگیا ہمیشہ سے متنازعہ نہیں تھی اورصرف ہندوستان ہی نہیں بیرونی دنیا میں بھی اسے ’’بابری مسجد‘‘کے نام سے جاناجاتا تھا، اس کے لئے کسی گواہ اورثبوت کی ضرورت نہیں تھی، اوریہ بحث بھی بالکل فضول وبے معنیٰ تھی کہ اسے مغل حکومت کے بانی ’’ظہیر الدین بابر‘‘نے بنایا یا اس کے حکم پر اس کے سپہ سالار یاوزیر’’ میر باقی‘‘نے، اوراسے ۱۵۲۵ء ؁ میں تعمیر کیا گیا یا ۱۵۲۸ء ؁ میں، معمار کانام اورسن تعمیر میں اختلاف سے نفس مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا جب کہ معزز عدالتوں نے اپنے قیمتی وقت کا ایک بڑا حصہ اس ’’عقدہ‘‘ کوسلجھانے میں صرف کیا ،جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ عدالتِ عالیہ نے اپنے فیصلۂ حالیہ میں اس نکتہ پر بلاضرورت کافی زوردیا کہ سنی وقف بورڈ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس مسجدکو بابر نے ۱۵۲۸ء ؁ میں تعمیرکیا تھا، تعمیرکسی نے بھی کی ہو اور کسی بھی سن میں کی ہو لیکن اس مسئلہ میں کوئی اختلاف کبھی نہیں رہا کہ وہ مسجد تھی اورمسلمان اس میں ۱۹۴۹ء ؁ کی ۲۲؍دسمبر تک باقاعدہ وباضابطہ اور باجماعت نمازپڑھتے رہے ہیں، یعنی اس وقت تک جب تک رات کی تاریکی اور خاموشی میں اس میں بت رکھ کر’’ رام للا‘‘ کے ’’پرکٹ‘‘ ہونے کا ڈرامہ نہیں رچایا گیا تھا، اس کا اعتراف ہندوؤں کوبھی ہے اورسرکاری کاغذات بھی اس کی گواہی دیتے ہیں، عدالتی تفصیلات سے قطع نظریکم جولائی ۱۹۵۱ء ؁ کو ڈپٹی کمشنرفیض آباد نے جوجواب دعوی داخل کیاتھا اس میں اس نے صاف لکھا تھاکہ’’یہ جائداد نزاعی’ بابری مسجد‘کے نام سے مشہور ہے اور۱۵۲۸ء ؁ سے ۱۹۴۹ء ؁ تک اس مسجد میں مسلمان پنج وقتہ نمازپڑھتے آئے ہیں، اس کا استعمال ’’رام چندرجی‘‘ کے مندر کی حیثیت سے کبھی نہیں ہوا،جب کہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۴۹ء ؁ میں ’’رام چندرجی ‘‘کی مورتی چوری اورغلط ڈھنگ سے مسجد میں رکھی گئی ہے جوکہ ایک غلط اورغیرقانونی واقعہ ہے جس سے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے اورنقض امن کاخطرہ ہے‘‘ ایس.پی. فیض آباد’’ کرپال سنگھ‘‘ نے بھی دفعہ 145کے جواب میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا’’یہ زمانۂ قدیم سے’ بابری مسجد‘ہے اوریہاں مسلمان ہمیشہ نماز پڑھتے آئے ہیں، ہندوؤں کا اس سے کوئی واسطہ یاسروکارنہیں‘‘۔
میں نے یہاں بطورمثال صرف دوہندوآفیسران کے بیانات درج کئے ہیں ورنہ مسلمانوں کے دعوی کے حق میں ثبوت وشواہد کی کمی نہیں ہے، عدالتی کا روائی کے ۱۵؍ہزار صفحات میں ان کی تفصیلات مل جائے گی اوریہاں ہمیں ان تفصیلات سے اس وقت غرض بھی نہیں، بلکہ اس کے برعکس میں جوبات یہاں کہنا چاہتا ہوں اس کا لب لباب یہ ہے کہ یہ ثابت کرنا مسلمانوں یا سنی وقف بورڈ کاکام اصولی طورپرہے کہاں کہ وہ زمین جہاں بابری مسجد قائم تھی ان کی ملکیت ہے ؟اگر’’متنازعہ عمارت‘‘ بابری مسجد نہیں تھی تو اسے ہندو جنونیوں نے منہدم کیوں کیا؟ پوری دنیا اس عمارت کو بابری مسجدہی کے نام سے جانتی تھی اور وہ مکمل طورپر مسلمانوں کے قبضہ میں اورانھیں کے زیراستعمال تھی ،تواگراچانک ہندوؤں نے اس پراپنا دعوی پیش کردیا تو عدالتی اصولوں کے مطابق اس کا ثبوت بھی توانھیں کے ذمہ ہے، یہ توپوری دنیا کا قانون کہتا ہے اورہندوستان تواس معاملہ میں ایک قدم اورآگے ہے کہ کسی کے ذاتی مکان ودوکان پراگرکوئی کرایہ دار چندسال تک قبضہ جماکر بیٹھ جائے تومالک مکان کو اسے خالی کرانے اوراپنا ثابت کرنے میں ناکوں چنے چبانے پڑجاتے ہیں ،جب کہ بابری مسجد پر ۴۲۱ ؍سال تک مسلمانوں کا قبضہ رہا جنھیں بیک جنبش قلم بے دخل کردیا گیا اورپھر انھیں سے یہ مطالبہ کیاجانا کہ اسے ثابت کریں کہ وہ زمین ان کی تھی، کہاں کا انصاف ہے ؟بابری مسجد کی زمین مسلمانوں کی تھی یاہندوؤں کے دعوؤں کے مطابق رام جنم بھومی تھی یہ مسئلہ ایک تفصیلی مضمون کا طالب ہے اوران صفحات میں یہاں اب اتنی گنجائش نہیں ہے اس لئے ان شاء اللہ اگلے شمارہ میں کسی مستقل مضمون میں اس پر اظہار خیال کیاجائے گا، فی الحال یہ موضوع یہیں چھوڑتے ہوئے اسی سے متعلق دوسرے پہلوپر چند امور کی طرف آتے ہیں۔
استخلاص وطن کے لئے عدیم المثال قربانیاں دینے، ملک کے لئے اپناسب کچھ لٹادینے، سرحدوں کی حفاظت کے لئے سردھڑکی بازی لگادینے اورملک کی تعمیروترقی کے لئے بیش بہا خدمات انجام دینے کے باوجود مسلمان ہمیشہ شک وشبہ کی نظرسے دیکھاجاتا رہا اوراس کی حب الوطنی پرسوالیہ نشان لگایاجاتا رہا ،خاص طورسے حالیہ برسوں میں بے دریغ اس کا رشتہ دہشت گردی اورتشددپسندی اورجارحانہ رجحانات سے جوڑا جاتا رہا ،لیکن حقیقت کیا ہے اس کوجاننے کے لئے حقیقت کو سننے کا حوصلہ بھی چاہئے۔
بابری مسجد ملکیت مقدمہ کا فیصلہ آنے کے بعد اوراس فیصلہ کی روسے سنی وقف بورڈ کا دعوۘ? ملکیت خارج کئے جانے کے بعدپورے ملک کا مسلمان غم واندوہ کے اتھاہ سمندرمیں ڈوب گیا، اس پر رنج والم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ،اس پرحزن وملال کے بادل چھاگئے، اس کے آرزوؤں کا کمل مرجھاگیا، اس کی تمناؤں کا گلاگھونٹ دیاگیا اوروہ خوداپنی شکست کی آوازبن گیا ،لیکن یہ سب کچھ صرف اس کے دلی جذبات کی عکاسی تھی، اس نے کھل کر اپنے غموں کا اظہار بھی نہیں کیا اورذہنی صدمات سے نڈھال ہونے کے باوجود اس فیصلہ پرعلانیہ تبصرہ سے بھی گریز کیا کہ کہیں اس پرتوہین عدالت یاملک کے آئین سے بغاوت کا الزام نہ لگ جائے، مسلمان نہ توجذباتی ہوا،نہ سڑکوں پرنکلا، نہ احتجاجی نعرے لگائے اورنہ کسی توڑپھوڑ کا حصہ بنا،نہ تشددپرآمادہ ہوا،نہ احتجاج کی کوئی بے ضررسی بھی صورت اپنائی ،غرض کہ پوری طرح ملک کا امن پسند شہری ہونے کا ثبوت دیا، اور اپنے ملی قائدین اورمذہبی رہنماؤں کی اپیلوں کاہرطرح احترام کیا، پھربھی ان پر بدامنی پھیلانے اوردہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں، اس کے دل نے آستھا کی بنیادپر کیا گیا یہ فیصلہ توقبول نہیں کیا لیکن اس کی زبان پر تالے پڑے رہے ، وہ حسرت ویاس کی تصویر توبنا لیکن حیران وششدراورمہربہ لب بنارہا، اس کے دماغ میں ہلچل لیکن ہونٹوں پرقفل ،اوراس نے اپنے ایک ایک عمل سے ثابت کردیاکہ وہ عدلیہ کا احترام اورملک کے آئین ودستور کا اکرام کرنا جانتا ہے، ورنہ آستھا اور عقیدت واحترام صرف ہندوؤں کی میراث نہیں، مسجد کے تئیں اس کے جذبات اوراس کے احساسات بھی کسی سے کم نہیں تھے جس کا لحاظ نہیں رکھا گیا، ملک کے مسلمانوں کی تصویر مسخ کرکے انھیں امن وامان کا دشمن قرار دینے کی سازشیں اورسرکاری وغیرسرکاری سطح پر کوششیں ہوتی رہی ہیں لیکن اس حساس ونازک موقع پر انھوں نے صبروتحمل کا مظاہرہ کرکے یہ تصویر پھاڑ کر پھینک دی اور اس تصورکو پیروں کے نیچے پامال کردیا جوان کے بارے میں غلط طورسے قائم کرلیا گیا، انھوں نے ہمیشہ پہلے بھی کہا تھاکہ وہ عدالت کے ہرفیصلہ کا احترام کریں گے اوربعدمیں علانیہ احتجاج نہ کرکے انھوں نے دنیا کو دکھادیا کہ ان کے دل میں عدلیہ کاکیا مقام ہے ، اپنی اس امن پسندی کے لئے وہ اجتماعی طورپر امن کے نوبل پرائز کے حقدار ہیں ،لیکن خیریہ توبہت بڑاعالمی تمغۂ امن ہے، خود ملک نے سرکاری یاغیرسرکاری سطح پر ان کی اس امن پسندی کی کوئی ستائش نہیں کی اوران کی اس خوبی کا کسی طورپراعتراف نہیں کیا، حالانکہ ملک نے شہروں وقصبات، گاؤں ودیہات، چھوٹے بڑے مواضعات اورملک کے حساس مقامات کے لئے غیرمعمولی سیکورٹی اقدامات اورحفاظتی انتظامات کئے تھے اوران پر خطیررقم کے مصارف بھی یقیناًہوئے ہوں گے پورا ملک خدشات اوراندیشہ ہائے فسادات کا شکار بھی اس عرصہ میں رہا ،جس کا ثبوت اسکولوں کالجوں میں چھٹیوں کے اعلانات اورلوگوں کا اسفار میں احتیاط وریزوریشن ٹکٹوں کی بڑے پیمانہ پر واپسی میں دیکھا جاسکتا ہے، اس عرصہ میں پوراملک دہشت زدہ اور غیر یقینی کیفیات کا شکار رہا اورکاروباری حلقوں میں بے چینی واضطراب کا اثرصاف محسوس ہوتا تھا، لیکن داد دینا ہوگا مسلمانوں کی امن پسندی کو اورسارٹیفکٹ دینا چاہئے انھیں محب وطن اور پرامن شہری ہونے کا کہ انھوں نے سارے خدشات کو بے معنی ثابت کردیا اورپورے ملک میں کسی ایک خطہ یامقام پر فساد اور اشتعال انگیزی کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا،اس موقع پرکہاجاسکتا ہے کہ اگرملک میں فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے تواس کا کریڈٹ یک طرفہ طورپر صرف مسلمانوں کو کیوں ملے؟ توعرض ہے کہ یہاں پران دونوں کے دوبنیادی فرق کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا، اولا تو فساد یا انتشار یامسلح وپرتشدد احتجاج کا اندیشہ مسلمانوں کی طرف سے ہی ہونا چاہئے تھا کہ فیصلہ ان کے خلاف اورغیرمنصفانہ ڈھنگ سے آیا تھا اوردوسرے فریق کو اپنی توقعات سے بڑھ کر مل گیا تو اسے خاموشی میں ہی عافیت نظرآئی، دوسرے ہندوؤں کے ایک طبقہ نے عدالتی فیصلہ کوماننے سے انکارکیاتھا بلکہ اس جذباتی ایشومیں عدالت کے فیصلہ دینے کے حق کوبھی مستردکردیاتھا، لیکن جب فیصلہ ان کے حق میں آیا تو وہ کون سا احتجاج کرنے کا حق رکھتے تھے، اب کیاحکومت یاپروپیگنڈہ کی دنیا مسلمانوں کی امن پسندی کو خراج تحسین پیش کرے گی اوراس کی خوبیوں کا اعتراف کرے گی ؟آثار وامکانات تونہیں،اسی عدالتی فیصلہ کے بعد بعض اخبارات نے سرخی جمائی’’نہ کسی کی ہارنہ کسی کی جیت‘‘ میں اس میں صرف اتنا اضافہ کرناچاہتا ہوں کہ ہاروجیت کا تجزیہ توپھرکیا جاسکتا ہے لیکن فوری طورپرعام آدمی کے جواحساسات ہیں وہ یہ ہیں کہ عدالتی روایات سے ہٹ کرجویہ فیصلہ کیاگیا اس میں شکست صرف آئین ودستور اورقانونِ انصاف کی ہوئی ہے اوریہی میرے اس اداریہ کا عنوان ہے۔ ***

مولاناابوالبرکات رحمانی کا سانحۂ ارتحال

زیرنظرشمارہ مرتب ہوکر پریس میں جانے کے لئے تیار تھاکہ خانوادۂ میاں محمدزکریا رحمہ اللہ کے گل سرسبد ،عظیم مصلح، بے لوث داعی اور معلم ‘عم گرامی مولاناابوالبرکات رحمانی رحمہ اللہ علم و عمل سے بھر پور ایک طویل اور قابل رشک زندگی گذار کرکم وبیش ۹۰؍برس کی عمرمیں مختصرعلالت کے بعد۶؍اور ۷؍ اکتوبرکی درمیانی شب میں تقریبا سوا گیارہ بجے انتقا ل فرماگئے، اناللہ واناالیہ راجعون۔
عم محترم مولانا ابوالبرکات رحمانی رحمہ اللہ جھنڈانگر کے ایک معروف علمی و دعوتی خانوادہ کے چشم و چراغ اوریہاں کے ولی صفت بزرگ اورمصلح و مربی میاں محمد زکریا رحمہ اللہ کے سب سے بڑے فرزند تھے، شرافت، تقوی، خلوص، للہیت، خود داری،خلق حسن،مہمان نوازی اورذوق عبادت و ریاضت والد بزرگوار سے وراثت میں پائی تھی، پوری زندگی تعلیم و تربیت اور دعوت و اصلاح میں گذار دی، جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر میں طویل المدت خدمت کا ریکارڈ قائم کیا اور پورے تسلسل کے ساتھ کم و بیش ۵۲؍ برسوں تک اس سے وابستہ رہ کر تدریس کے ساتھ انتظام و انصرام کی ذمہ داری بھی نبھائی، بڑھاپے کی منزل میں قدم رکھنے کے بعد تقریبا دس برسوں تک مدرسہ خدیجۃ الکبری جھنڈانگر میں بھی بچیوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کرتے رہے۔ یقیناًآپ کے انتقال سے جھنڈانگر اور مضافات سے ایک طرح برکت اٹھ گئی اور یہاں کے مسلمان ایک ولی صفت بزرگ سے محرو م ہوگئے، اللہم اغفر لہ و ارحمہ و عافہ و اعف عنہ ۔
وفات کی خبر بجلی کی طرح علاقہ میں پھیل گئی اور بڑی تعداد میں آپ کے شاگردوں اور عقیدت مندوں نے نمازجنازہ اور تدفین میں شرکت کی سعادت حاصل کی، ۷؍اکتوبر کو بعد نماز ظہر آپ کی نماز جنازہ آپ کے بھتیجے اور مرکز التوحید کے صدر جناب مولانا عبد اللہ مدنیؔ کی امامت میں جامعہ کی جامع مسجد میں ادا کی گئی جسے آپ نے کم و بیش ۸۰؍ برسوں تک اپنے سجدوں سے آباد رکھا تھا، جنازہ میں ایک ہزار سے زائد فرزندان توحید نے شرکت کی، اس کے بعد مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کی مسجد میں دوبارہ آپ کی نمازجنازہ پڑھی گئی اور آپ کے بھائی جناب مولانا عبد الوہاب ریاضی ؔ صاحب کی امامت میں سیکڑوں طالبات و معلمات سمیت عامۃالمسلمین نے شرکت کی ۔اللہ تعالیٰ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے ،آپ کی خدمات کو رفع درجات کا ذریعہ بنائے اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ آمین۔
نوٹ: مولانا رحمانی کی حیات و خدمات پر تفصیلی مضمون آئندہ شمارہ میں ملاحظہ فرمائیں، ان شاء اللہ۔

غم زدہ: عبد المنان سلفی

OCTOBER-2010کیا مسجد نبوی کی فضیلت قبرمبارک کی وجہ سے ہے؟

ڈاکٹر سید سعید عابدی


صدرشعبۂ اردو، جدہ ریڈیو، سعودی عرب

کیا مسجد نبوی کی فضیلت قبرمبارک کی وجہ سے ہے؟

مسئلہ: ایک صاحب اپنے خط میں تحریرفرماتے ہیں:

میں نے بعض بزرگوں سے سناہے اورکتابوں میں پڑھا ہے کہ احادیث میں مسجدنبوی شریف کے جوفضائل بیان ہوئے ہیں ان کا سبب اس میں رسول اکرمﷺ کی قبرمبارک کا وجودہے، اسی طرح میں نے قصص الانبیاء میں یہ بھی پڑھا ہے کہ ’’حِجر‘‘میں حضرت اسماعیل اوران کی والدہ ماجدہ حضرت ہاجرہ علیہما السلام مدفون ہیں،لوگوں کاکہنا ہے کہ ’’اگرقبروں پر مسجد یا عمارت بنانا اورمسجد میں کسی کو دفن کرنا حرام ہوتا تومسجد نبوی میں نبی اکرمﷺ کواورآپ سے قبل مسجد حرام میں حضرت اسماعیل، حضرت ہاجرہ اوردوسرے انبیاء اوررسولوں علیہم الصلاۃ والسلام کودفن نہ کیاجاتا؟

جواب: ایک شرعی قاعدہ اوراصول ہے کہ جوچیز باطل پر مبنی اورقائم ہو وہ باطل ہے، اوپرجن باتوں کو بنیاد بناکر مسجدوں میں قبروں کے وجود کو شرعی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے وہ سب بے بنیاد اورلوگوں کے ذہنوں کی پیداوار ہیں، لہذا ان سے استدلال بھی غلط اورناقابل اعتبارہے۔

رسول اکرمﷺنے اپنی مسجد کے جوفضائل بیان فرمائے ہیں وہ اپنی حیات پاک میں بیان فرمائے ہیں اس دنیا سے رحلت فرمانے کے بعدنہیں، کیونکہ وفات پاجانے کے بعدآپ کے لئے ایساکرنا ممکن نہ تھا، اوروفات پاجانے کے بعدآپ کی تدفین بھی مسجد میں نہیں ہوئی کہ اس کے فضائل کو قبرمبارک سے جوڑا جائے ، بلکہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں ہوئی، اس کے بعدجب حضرت عمر اورپھرحضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے عہدخلافت میں مسجد نبوی شریف میں توسیع ہوئی تواس وقت بھی قبرمبارک مسجد سے باہررہی اوریہ سلسلہ ۸۸ھ ؁ مطابق ۷۰۶ء ؁ تک جاری رہا یہاں تک کہ ربیع الاول ۸۸ھ ؁ میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک نے مدینہ کے گورنر حضرت عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کولکھاکہ امہات المؤمنین کے حجروں کو گراکر ان کی زمین مسجد میں شامل کردی جائے ۔(البدایۃ والنہایۃ ص۴۴۳،ج ۶)اس طرح رسول اللہﷺ کی وفات پر ۷۸؍ برس گزرنے کے بعدآپ کی قبرمسجد کے اندرآگئی، ایسی صورت میں مسجد نبوی کے فضائل قبر کا نتیجہ کیونکر ہوسکتے ہیں؟

یہاں یہ سوال کیاجاسکتا ہے کہ اگرولید بن عبدالملک کا یہ عمل غلط تھا تواس وقت کے علماء نے اس کو ایسا کرنے سے منع کیوں نہ کیا؟ توجہاں تک اس عمل کے غلط ہونے کا مسئلہ ہے تویہ سوفیصد غلط اوررسول اللہﷺ کے ان ارشادات کے خلاف تھا جن میں آپ نے قبروں کو سجدہ گاہیں بنانے سے منع فرمایا ہے، رہی یہ بات کہ اس وقت کے علماء نے اس کو ایسا کرنے سے منع کیوں نہیں کیا؟ تواس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ تاریخ میں صحیح سند سے کوئی ایسا واقعہ مذکورنہیں ہے کہ کسی عالم نے ولید کو امہات المؤمنین کے حجروں کی جانب سے مسجد میں توسیع سے منع کیاہو، لیکن اس وقت کے علماء میں حق کے اظہار واعلان اورباطل کے انکار کی جوبے مثال جرأت موجود تھی اس کی روشنی میں قرین عقل یہی ہے کہ اس وقت کے علماء نے ولید کو ایسا کرنے سے ضرور روکاہوگا، جیساکہ سیدالتابعین حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے بارے میں بیان کیاجاتا ہے کہ انھوں نے اس پراعتراض کیاتھا، واضح رہے کہ۸۸ھ ؁ میں بعض صحابۂ کرام توزندہ تھے لیکن مدینہ میں کوئی صحابی نہیں تھا اوراگر ہوتا بھی توولید جیسے حکمراں کو اس کے فیصلہ سے باز رکھناممکن نہیں تھا۔

ولید کا یہ عمل کہ اس نے رسول اکرمﷺ کی قبرمبارک کو مسجد نبوی میں شامل کردیا اسلام کے توحیدی مزاج اوررسول اللہﷺ کے واضح اورصریح ارشادات کے خلاف تھا، ذیل میں نبی ﷺ کے بعض ارشادات کاترجمہ پیش کیاجارہا ہے:

*’’اللہ لعنت فرمائے یہودیوں پرجنھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا‘‘،ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں: اگریہ اندیشہ نہ ہوتا توآپ کی قبرکھلی جگہ بنائی جاتی اورنمایاں رکھی جاتی، لیکن ڈرہواکہ اس کو سجدہ گاہ نہ بنالیا جائے ۔

(صحیح بخاری: ۴۴۴۱، صحیح مسلم :۵۳۱، نسائی: ۲۰۴۶،مسند امام احمد: ۲۵۴۰۷،۲۶۷۰۸)

*’’وہ ایسے لوگ تھے کہ اگران میں کوئی صالح اورنیک مردہوتا اورمرتاتو وہ اس کی قبرپر مسجدبنادیتے اوراس میں تصویربناتے، قیامت کے روز یہ بدترین مخلوق ہوں گے‘‘۔(صحیح بخاری: ۴۲۷،صحیح مسلم: ۵۲۸، نسائی: ۷۰۳، مسند امام احمدج ۶ص۲۴۷۵)

*حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا ہے: ’’خبردار!تم سے پہلے کے لوگ اپنے انبیاء اورصالحین کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا کرتے تھے، خبردار! قبروں کو سجدہ گاہیں مت بنانا، میں تم کو اس سے منع کرتا ہوں ‘’۔(صحیح مسلم: ۵۳۲)

*’’میری قبر کوجشن گاہ اوراپنے گھروں کو قبریں مت بنانا اورمجھ پر درود پڑھتے رہنا، تم جہاں کہیں بھی رہوگے تمہارا سلام مجھے پہنچ جائے گا‘‘۔(سنن ابوداؤد: ۲۰۴۲)

*’’اے اللہ! میری قبرکو بت مت بننے دیجیو، اللہ کی لعنت ہو ان لوگوں پرجنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا‘‘ ۔(مسند امام احمد: ۷۳۵۲، طبقات ابن سعد ص:۲۴۱، ۲۴۲،ج ۲،فضائل المدینۃ ص ۶۶،ج ۱، مسند ابویعلی ص:۳۱۲،ج ۱، مسند الحمیدی: ۱۰۲۵،حلیۃ الأولیاء ص :۲۸۲،ج۶ حدیث نمبر:۳۱۷)

اگرمسجد نبوی کی فضیلت اس میں قبرمبارک کے نتیجے میں ہوتی تورسول اللہﷺ اس کو صراحتاً نہ سہی اشارۃ ہی بیان فرمادیتے کیونکہ ایسا کرنا آپ کے فرائض منصبی میں داخل تھا، یا جن حدیثوں میں آپ نے عام قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے اوراس زیارت کامقصد یہ بتایا ہے کہ اس سے موت اورآخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے ان میں یہ واضح فرمادیتے کہ’’میری قبر کی زیارت کرتے رہنا اس سے یہ اوریہ برکت حاصل ہوگی اوریہ اوریہ اجروثواب ملے گا‘‘مگر آپ نے ایسانہیں کیا ،بلکہ اس کے برعکس اپنی قبرکوجشن گاہ بنانے اوراس کے پاس جم گھٹالگانے سے منع فرمایا ہے اوراللہ تعالیٰ سے یہ دعاء کی ہے ’’وہ آپ کی قبرکو بت نہ بننے دے‘‘۔

یہاں یہ بتانا تحصیل حاصل ہے کہ رسول اللہﷺ نے ہجرت کے موقع پر مدینہ تشریف لانے کے بعدجوپہلا کام کیا وہ مسجد نبوی کی تعمیر کاکام تھا، دوسرے لفظوں میں اس کی تعمیرہجرت کے بالکل آغاز میں ہوئی ،اس تناظرمیں اگر اس کی فضیلت قبرمبارک سے ماخوذ ہے تواس کامطلب یہ ہواکہ مکمل ۸۸؍برس تک یہ مسجد عام مسجدوں کی طرح رہی اوراس میں اداکی جانے والی نمازیں عام مسجدوں میں اداکی جانے والی نمازوں کی طرح رہیں، اورنبی اکرمﷺ نے جویہ فرمایاہے:’’میری اس مسجد میں ایک نماز مسجد حرام کے سوادوسری مسجدوں میں اداکی جانے والی ایک ہزار نمازوں سے بہترہے‘‘(صحیح بخاری: ۱۱۹،صحیح مسلم: ۱۲۹۴)اس فضیلت کا آغاز ۸۸؍برس بعدہوا، جب ولید نے اس میں قبرمبارک کو داخل کردیا، اس طرح اس ثواب سے رسول اللہﷺ اورانبیاء کے بعدسب سے مقدس جماعت صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نعوذ باللہ محروم رہے!!

اوپرکی وضاحتوں کی روشنی میں جن علمائے کرام نے مسجد نبوی کی زیارت کرنے والوں کے لئے نبی اکرمﷺ کی قبرکی زیارت اوراس کی طرف رخ کرکے سلام پڑھنے کو مستحب قرار دیاہے، ان کی یہ بات اپنے پیچھے کوئی شرعی دلیل نہیں رکھتی، ’’مستحب‘‘ ایک شرعی اصطلاح ہے جس سے مراد ایسا عمل ہے جس کے کرنے پرثواب اورنہ کرنے پرکوئی گناہ نہیں ہوتا، اورکسی عمل کومستحب قراردینے کا مجاز اللہ اوررسول کے سواکوئی بھی نہیں ہے، اوررسول اللہﷺ نے کبھی اشارۃً بھی یہ نہیں فرمایا ہے کہ آپ کی وفات کے بعدآپ کی قبر کی زیارت کی جائے اوراس کی طرف رخ کرکے آپ پرسلام پڑھاجائے بلکہ اس کے برعکس احادیث میں یہ صراحت ہے کہ نبی ﷺ پرجہاں کہیں سے بھی درودوسلام پڑھاجائے وہ مخصوص فرشتوں کے ذریعہ آپ کو پہونچادیاجاتا ہے اس مقصد کے لئے آپ کی قبر کی زیارت کے لئے مدینہ طیبہ جانا اورمسجد نبوی میں حاضری دینا ضروری نہیں ہے، البتہ مسجد نبوی کی زیارت اور اس میں نماز پڑھنے کے ارادے سے مدینہ طیبہ کا سفر مشروع ہے، کیونکہ صحیح حدیث میں اس کی صراحت ہے لہذا مسجد نبوی کی زیارت کرنے والوں کے لئے قبر کی زیارت اوراس کے پاس سلام پڑھنا صرف جائز ہے مستحب نہیں ہے۔

چنانچہ اگرایسا کرنا مستحب اورعنداللہ پسندیدہ عمل ہوتا توصحابۂ کرام کے عمل سے اس کا متواترثبوت ملتا جو بہت بڑی تعداد میں مسجد نبوی میں پنجوقتہ نمازیں اداکرتے تھے، جب کہ صرف عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل سے اس کا ثبوت ملتا ہے کہ جب وہ باہرسے مدینہ منورہ آتے اورمسجد نبوی شریف میں حاضری دیتے توپہلے دورکعتیں تحیۃ المسجد کی اداکرتے پھرقبرنبوی کے پاس جاکر نبی ﷺ پرسلام پڑھتے اس کے بعد ’’السلام علیک یاأبابکر اورالسلام علیک یا ابتا‘‘کہہ کر وہاں سے چلے جاتے ۔ (الصارم المنکی ص: ۸۱)

رہا یہ دعوی کہ حضرت اسماعیل اوران کی والدہ ماجدہ حضرت ہاجرہ علیہما السلام ’’حجر‘‘میں مدفون ہیں تویہ دعویٰ مردودہے، کیونکہ جہاں یہ کسی دلیل پرمبنی نہیں ہے وہیں اس توحید کے منافی ہے جس کے داعی ابوالانبیاء حضرت ابراہیم اوران کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہما السلام تھے اورجس توحید کا سب سے پہلا مرکز اللہ تعالیٰ کا گھر کعبۂ مشرفہ ہے۔

واضح رہے کہ ’’حجر ‘‘’’کعبہ مشرفہ‘‘ کے اس گوشے کوکہتے ہیں جوحطیم میں داخل ہے یعنی موجود وقت میں خانہ کعبہ کا جوحصہ عمارت سے باہر ہے اوراس کو مختصردیوار سے گھیردیاگیا ہے اورجس کے باہرسے طواف کیاجاتا ہے اس کانام حطیم ہے اوراسی کے اندر’’حجر‘‘داخل ہے ،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کردہ عمارت میں یہ حصہ شامل تھا، لیکن نبی ﷺ کی بعثت سے قبل جب قریش نے خانہ کعبہ کی مخدوش اورسیلاب زدہ عمارت گراکراس کی دوبارہ تعمیرکی تومصارف میں کمی کی وجہ سے اتناحصہ تعمیرنہیں کیا جس کو حطیم کہتے ہیں۔

اس وضاحت کی روشنی میں اگرنعوذ باللہ ’’حجر‘‘میں حضرت اسماعیل اورحضرت ہاجرہ علیہما السلام مدفون ہیں تواس کا مطلب ہے کہ جب ان کی وفات ہوئی توان کولے جاکر کعبہ کے اندردفن کیاگیا،کیاجس انسان کے اندرمعمولی سی بھی ایمانی حس ہوگی وہ یہ تسلیم کرے گا کہ جس عظیم ہستی نے اپنے عظیم باپ کے ساتھ مل کر مرکز توحید ’’کعبہ‘‘تعمیرکیا تھا اسی نے سب سے پہلے اس توحید کے منافی عمل کا ارتکاب کرڈالا۔

درحقیقت جنھوں نے’’ حجر‘‘ میں اورخانہ کعبہ کے صحن میں حضرت اسماعیل ،حضرت ہاجرہ اور متعدد دوسرے انبیاء اوررسولوں کے مدفون ہونے کے واقعات لکھے ہیں وہ مکہ مکرمہ کی سب سے پہلی تاریخ کے مصنف ابوالولید ازرقی احمد بن محمد بن ولید بن عقبہ بن ازرق ہیں ان کی کتاب’’تاریخ مکہ‘‘کی تہذیب وتنقیح ان کے پوتے ابوالولید محمد بن عبداللہ بن احمد ازرقی متوفی ۲۵۰ھ مطابق ۸۶۴ء نے کی ہے۔

ازرقی نے اپنی اس کتاب میں جہاں مسجد حرام اورمنی کی مسجد ’’خیف‘‘ کوقبرستان بنادیا ہے اورمعروف وغیرمعروف تابعین سے مقطوع ،موضوع اورمن گھڑت سندوں سے ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن میں ان دونوں مسجدوں میں کثیر تعداد میں انبیاء اوررسولوں کی قبروں کادعویٰ کیا گیا ہے وہیں مکہ مکرمہ کے فضائل سے متعلق بے بنیاد اورمن گھڑت روایات سے اس کو بھردیا ہے، ایک جگہ لکھا ہے:

’’رکن یعنی حجر اسود سے مقام ابراہیم تک اوریہاں سے حجرتک کے درمیانی رقبہ میں ۹۹؍نبیوں کی قبریں ہیں یہ سب حج کے لئے آتے تھے، یہیں ان کی وفات ہوئی اوریہیں وہ مدفون ہوئے‘‘۔(ص:۵۱۵،ج: ۲)

حضرت اسماعیل اورحضرت ہاجرہ علیہما السلام کے بارے میں لکھاہے: ’’جب اسماعیل علیہ السلام کی وفات ہوئی تووہ ’’حجر‘‘میں اپنی ماں کے ساتھ دفن کئے گئے‘‘۔(ص: ۱۰۸،ج: ۱)

دوسری جگہ لکھتے ہیں :’’جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کعبہ کی تعمیر نوکی غرض سے حجر میں کھدائی کی توان کو بیت اللہ کی بنیاد میں سرخ پتھر ملے.....اوراس میں ان کو ایک قبرکی جگہ ملی توانھوں نے کہا: یہ اسماعیل علیہ السلام کی قبرہے اورانھوں نے قریش کوجمع کرکے ان سے فرمایا: تم سب گواہ رہو‘‘۔(ص:۲۳۲،۲۳۳،ج: ۱)

یہ تمام روایتیں متن اورمضمون کے اعتبارسے باطل ہونے کے ساتھ ساتھ سند کے اعتبارسے بھی باطل اورمردود ہیں، ان میں سے کوئی بھی روایت مرفوع نہیں ہے یعنی کوئی بھی روایت رسول اللہﷺ کاارشاد نہیں ہے، حتی کہ ان میں سے کسی بھی روایت کی سند تابعین تک قابل اعتبار نہیں ہے، بعض روایتیں توسند سے عاری ہیں اورجن کی سندیں تابعین تک بیان ہوئی ہیں، ان میں سے بعض تابعین مجہول ہیں اورجوسچے اورثقہ ہیں انھوں نے یہ صراحت نہیں کی ہے کہ وہ جوکچھ بیان کررہے ہیں وہ کسی صحابی سے سن کر بیان کررہے ہیں، مزید یہ کہ ان میں سے کوئی بھی حدیث کسی مستند کتاب میں نقل نہیں ہوئی ہے۔

رہا مذکورہ روایتوں کا متن اورمضمون تواس کے باطل ہونے کے دلائل درج ذیل ہیں :

۱۔یہ روایتیں اسلام کے توحیدی مزاج اورروح کے خلاف اوررسول اکرمﷺ کے ان ارشادات سے براہ راست ٹکراتی ہیں جن میں قبروں کو عبادت گاہ اورسجدہ گاہ بنانے سے منع فرمایاگیا ہے۔

۲۔ایک روایت میں حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہما کے ہاتھوں کعبۂ مشرفہ کی تعمیرنو کے موقع پر کھدائی کے دوران ’’حجر‘‘میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبرپانے کا دعوی کیاگیا ہے جب کہ صحیحین اورحدیث کی دوسری مستند کتابوں میں اس واقعہ سے متعلق جوروایات منقول ہیں ‘ان میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قبرکاکوئی ذکرنہیں ہے،چنانچہ جلیل القدر تابعی حضرت یزید بن رومان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

’’میں اس وقت وہاں موجود تھا جب ابن زبیر نے کعبہ کی دیواریں گرائیں، اس کی دوبارہ تعمیر کی اوراس میں ’’حجر‘‘ کو شامل کیا، میں نے بنیادوں میں آپس میں جڑے ہوئے پتھروں کی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادیں دیکھی ہیں جوآپس میں ملے ہوئے اونٹوں کے کوہان کی مانند تھیں‘‘۔(صحیح بخاری: ۱۵۸۶، صحیح مسلم: ۳۲۴۵، ۳۲۴۶،نسائی: ۲۹۰۳)

۳۔رسول اللہﷺ کاارشاد ہے:’’اللہ نے زمین پریہ حرام کردیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کوکھائے‘‘۔

(ابوداؤد: ۱۰۴۷، ۱۵۳۱، نسائی: ۱۳۷۳، ابن ماجہ: ۱۰۸۵، ۱۶۳۶، صحیح ابن خزیمہ : ۳۳۳۴)

اس حدیث پاک کی روسے تمام انبیاء اوررسولوں کے جسم اطہر ان کی قبروں میں بالکل صحیح سالم موجود ہیں، ایسی صورت میں کیا یہ ممکن ہے کہ حجراسود سے مقام ابراہیم تک اوروہاں سے حجرتک ۹۹؍نبیوں کی تدفین ہوئی ہو؟ ظاہر سی بات ہے کہ نہ وہ ایک وقت میں فوت ہوئے ہوں گے اورنہ ان کی ایک ساتھ تدفین ہوئی ہوگی، ایسی صورت میں جب کسی نبی کی وفات پران کی تدفین کے لئے زمین کھودی گئی ہوگی توپہلے مدفون نبی کی لاش ملنی چاہئے، ایسی صورت میں اتنے مختصر سے رقبہ میں اتنے سارے نبیوں کوایک دوسرے کے اوپردفن کیاگیا ہوگا، بلکہ طرفہ تماشا یہ ہے کہ محمد طاہر کردی نے تو’’التارخ القدیم لمکۃ‘‘ میں یہاں تک دعوی کیاہے کہ ’’رکن یمانی‘‘سے ’’حجر اسود‘‘کے درمیانی حصے میں ۶۳ ؍نبیوں کی قبریں ہیں اورمسجد حرام کے پورے صحن میں ۳۰۰؍نبی مدفون ہیں ۔(ص:۵۰۰ج :۱)

سوال یہ ہے کہ رسول اکرمﷺ کی صحیح حدیث یہ کہہ رہی ہے کہ انبیاء کی لاشیں ان کی قبروں میں محفوظ ہیں، جب کہ تجربات یہ کہہ رہے ہیں کہ مطاف اورحرم کے صحن میں اندرکوئی لاش نہیں ہے، کیونکہ عہدعثمانی اورپھرعہد سعودی میں مسجد حرام کی متعدد بارتعمیر ہوئی ہے، متعددبار حرم کے پورے صحن اورمطاف میں کافی گہرائی تک کھدائی ہوئی ہے اورنئی سعودی توسیع کے موقع پرپورے مطاف کو کافی گہرائی تک کھود کرنیچے خاص قسم کے پائپ ڈالے گئے ہیں اورپورے مطاف میں جدید طرز کے ٹائلس بچھائے گئے ہیں، مگرایساکبھی نہیں ہواکہ کھدائی کے دوران کہیں کسی قبرکا سراغ ہو یا کسی نبی کی لاش ظاہر ہوگئی ہو ورنہ کہرام مچ جاتا، آخرسیکڑوں کی تعداد میں انبیائے کرام کی لاشیں کہاں غائب ہوگئیں؟

کہیں غائب نہیں ہوئیں بلکہ وہ عالی مقام انبیاء اوراللہ کے برگزیدہ بندے وہاں دفن ہی نہیں ہوئے،کیونکہ اگردفن ہوئے ہوتے توزمین کھودتے ہی ان کی لاشیں ظاہر ہوجاتیں ،دراصل یہ روایتیں ان لوگوں کے ذہنوں کی پیداوار ہیں جوانبیاء اورصلحائے امت کی عقیدت میں اس غلو کے شکار ہیں جس غلو میں مبتلاہو کرنصاری نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نعوذ باللہ اللہ کابیٹا اورالوہیت میں اس کاشریک بنالیا۔

ذیل میں میں دوصحیح واقعات نقل کررہا ہوں جن سے میری اس بات کی مکمل تائید ہوتی ہے کہ’’ حجر ‘‘ میں حضرت اسماعیل اورحضرت ہاجرہ علیہما السلام اورمطاف اورحرم پاک کے دوسرے حصوں میں دوسرے انبیاء علیہم السلام کے مدفون ہونے کا واقعہ جھوٹ ہے ۔

۱۔ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے حکم سے مسجد نبوی شریف کی توسیع اوراس میں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کے حجروں کوشامل کرنے کے لئے جب قدیم عمارت گرائی گئی اورام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کی مشرقی دیوارگرائی گئی اوروہاں کھدائی شروع ہوئی توایک ’’پاؤں‘‘ ظاہرہوگیا، لوگ خوف زدہ ہوگئے کہ کہیں رسول اکرمﷺ فداہ ابی وامی ﷺ کامبارک پاؤں نہ ہو، مگرتحقیق سے معلوم ہواکہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پاؤں ہے، صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے وہاں پہنچ کراورپاؤں دیکھ کرفرمایا: ’’اللہ کی قسم یہ نبیﷺکا پاؤں مبارک نہیں بلکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پاؤں ہے‘‘۔

(صحیح بخاری: ۱۳۹۰،البدایۃ والنہایۃ ص:۴۴۴۳،ج :۶)

۲۔ امام مالک مؤطامیں تحریرفرماتے ہیں:

*حضرت عمروبن جموح اورحضرت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہما کی قبرکو سیلاب نے کھول دیاتھا، یہ دونوں غزوۂ احدمیں شریک ہوئے تھے اور اسی میں شہادت سے سرفراز ہوئے تھے اوررسول اللہﷺ کے حکم سے دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیاگیا تھا، کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے قرابتداری رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے شدید محبت رکھتے تھے، ان کی لاشوں کو سیلاب زدہ قبر سے نکال کردوسری جگہ دفن کرنے کے لئے جب قبرکھودی گئی توان کی لاشیں بالکل تازہ تھیں جیسے کل ہی ان کی وفات ہوئی ہو،ان دونوں میں سے ایک جنگ کے دوران زخمی ہوگئے تھے اورزخم پراپناہاتھ رکھ لیاتھا تاکہ خون بندہوجائے اوراسی حال میں ان کی وفات ہوگئی تھی اوراسی حالت میں ان کی تدفین بھی ہوئی تھی، کھدائی کے بعدجب ان کا ہاتھ زخم سے ہٹاکر چھوڑدیا گیا تووہ دوبارہ زخم پر چلاگیا‘‘ ان دونوں کی قبرکھودنے کے واقعہ اورغزوۛ?احدکے درمیان ۴۶ ؍برس کا فاصلہ تھا۔(مؤطا امام مالک ،کتاب الجہاد ،باب الدفن فی قبرواحد ص ۴۰۶،حدیث نمبر:۴۹)

یہاں یہ سوال کہاجاسکتا ہے کہ رسول اللہﷺ کی حدیث میں صرف انبیاء کی جسموں کے محفوظ رہنے کی خبردی گئی ہے اورحضرت عمر، عمروبن جموح اورعبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہم نبی نہیں تھے، پھران کی لاشیں ان کی قبروں میں اتنی طویل مدت تک کیوں محفوظ رہیں؟ تواس کا جواب ہے کہ قبروں میں انبیاء اوررسولوں کے جسموں کا محفوظ رہنا تویقینی ہے کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی خبردی ہے، رہے شہداء اوردوسرے صالحین تو اللہ تعالیٰ ان میں سے جن کے جسموں کوچاہے محفوظ رکھ سکتا ہے، کیونکہ جتنے انبیاء اوررسولوں کے ناموں کی کتاب وسنت میں صراحت ہے ان کی رسالت پرایمان عقیدے کی صحت کے لئے شرط ہے، لیکن اسلامی غزوات میں قتل ہونے والے تمام لوگوں کوشہید کہنے کے ہم مجاز نہیں ہیں سوائے ان کے جن کے شہید ہونے کی رسول اللہﷺ نے صراحت کردی ہے، البتہ عمومی طورپرنام لئے بغیر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’اللہ کے دین کی سربلندی کے لئے اس کی راہ میں مارے جانے والے شہید ہیں‘‘۔

ان دونوں واقعات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی ختم ہوجانے اوروفات پاجانے کے بعد ہرانسان کارشتہ اس دنیا سے کٹ جاتا ہے، نہ وہ اپنے آپ کو کوئی نفع یانقصان پہنچاسکتا ہے نہ دوسروں کو، اورنہ ہی کسی دنیوی آفت کے موقع پر اپنے آپ کو بچاسکتا ہے ،انبیاء اورشہداء کوجوزندگی حاصل ہے وہ برزخی زندگی ہے جس کی حقیقت تک رسائی عقل انسانی کی قدرت سے باہرہے۔

***



OCTOBER-2010دارالعلوم ندوۃ العلماء فکرونظر میں تبدیلی کا سفر (پہلی قسط)

شمیم احمدندویؔ


دارالعلوم ندوۃ العلماء

فکرونظر میں تبدیلی کا سفر

(پہلی قسط)

دارالعلوم ندوۃ العلماء عالمی شہرت کا حامل ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک دبستان فکر، ایک مکتب خیال اورایک تعلیمی تحریک کانام ہے، اس نے اپنے یوم تاسیس کے صرف چندبرسوں بعدنہ صرف غیر منقسم ہندوستان اوربرصغیر میں بلکہ عالمی سطح پراپنی اہمیت وافادیت منوالی تھی اوراس کے نامور فضلاء اورباکمال فارغین نے زبان وقلم، تقریر وتحریر ،امامت وخطابت، علم وادب ،فکروفن اور اردوعربی صحافت کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہامنوالیاتھا اورپوری قوم وملت سے خراج تحسین حاصل کیا تھا، انھوں نے اپنی ذہانت وفطانت اورخداداد صلاحیت سے زیادہ ندوۃ العلماء کے ذریعہ مرتب کردہ جدید نصاب درس اور نظام تعلیم وتربیت کی بدولت وہ ذہنی استعداد اورفکری بلندی حاصل کرلی تھی کہ احساس مرعوبیت سے بالاتر ہوکر جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکتے تھے اورہرزمانہ کے فتنوں وچیلنجوں کا اپنی غزارت علم اوروسعت مطالعہ کے ذریعہ نہ صرف مقابلہ کرسکتے تھے بلکہ ہرمحاذ پر باطل افکار وخیالات کو شکست فاش سے دوچارکرسکتے تھے، الحاد وتشکیک واستشراق اورفتنہ دہریت وارتداد کو انھوں نے اپنے بلوں میں پناہ لینے پر بارہا مجبورکیا اوراسلام کی حقانیت اوربرتری کو ثابت کیا، انھوں نے اسلام کی حفاظت کے لئے دفاعی انداز اختیار کرنے کے بجائے باطل نظریات کی اساس وبنیاد پر ضرب لگاکر خود انھیں دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کیا، فرزندان ندوہ نے اسلامی کتب خانوں کو اپنی وقیع علمی وتحقیقی کتابوں کے گراں قدر ذخائر سے مالا مال کیا تواسلامی مدارس ودرسگاہوں کو عربی ادب وانشاء ،صرف ونحو، اورلغت وبلاغت کاقابل قدرنصاب تیار کرکے انھیں دوسری طرف دیکھنے سے بڑی حد تک بے نیاز کردیا، اردوصحافت میں گراں قدر اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ عربی صحافت میں بھی اپنے منفرد معیار کے ذریعہ عالم عربی میں بھی ایک ممتاز مقام حاصل کیا اوربرصغیر کو پہلی بارعربی صحافت کے اعلیٰ نمونہ سے روشناس کرایا، غرض کہ اس کے ممتاز فارغین کی گراں قدر خدمات کی فہرست بہت طویل ہے جس کا احاطہ نہ توممکن ہے اورنہ مقصود، لیکن دارالعلوم ندوۃ العلماء کی یہی علمی وادبی خدمات تھیں جن کی وجہ سے حکیم امت اورنباض فطرت شاعر مشرق علامہ اقبال نے جہاں علیگڈھ کو ایک’’معزز پیٹ‘‘قرار دیا تھا وہیں ندوہ کو ’’زبانِ ہوشمند‘‘ سے تعبیر کیا تھا۔

راقم سطور اس ناچیز کو یہ فخرحاصل ہے کہ یہ مایہ ناز ادارہ اس کا مادرعلمی ہے جہاں کی عطربیز فضاؤں اورمشک بار ہواؤں میں اس نے زندگی کے بیش قیمت ماہ وسال گزارے ہیں اورکم وبیش ۱۱؍سال تک یہاں کے علمی وتربیتی ماحول سے استفادہ کیا ہے اوریہاں کے مسند درس پرمتمکن نامور اساتذہ اورعلم وفن کی بلندیوں پرفائز باکمال مدرسین کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل کیاہے، اسے یہاں کی ’’بزمِ سلیمانی‘‘ نے قلم پکڑنے کا سلیقہ سکھایا تویہاں کی ’’بزم خطابت‘‘ نے قوت گویائی عطا کی اوروہاں کے تعلیمی وتربیتی ماحول نے اس ناچیز کی شخصیت کی تعمیرمیں مثبت کردار اداکیا، اس کے لئے میں اپنے مادرعلمی اوراپنے مخلص ومشفق اساتذہ اورنگراں ومربیان کے احسانات سے کبھی سبکدوش نہیں ہوسکتا۔

اس اعتراف حقیقت اوراظہار تشکر وامتنان کے ساتھ بعض ایسے تلخ حقائق پرسے پردہ اٹھانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے جن کو دیکھتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ ندوہ کہیں نہ کہیں اپنے اساسی اہداف سے روگردانی کررہا ہے اوربتدریج اپنی منزل سے بھٹکتا جارہا ہے اورجن وسیع تراغراض ومقاصدکے حصول کے لئے اس کا قیام عمل میں آیا تھا وہ کہیں نہ کہیں وقت کے بے رحم فیصلوں کی بھینٹ چڑھتے جارہے ہیں، اور ندوہ کے موجودہ ذمہ داران اوراصحاب بست وکشاد خود اس کے بانیان کے مطمح نظر اورمقاصد سے انحراف کرکے ندوہ کے لئے نئی پالیسیاں وضع کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو اس کو دارالعلوم دیوبند کاایک ذیلی ادارہ بناکر اس کی انفرادی حیثیت اورامتیازی شناخت کو بتدریج ختم کرنے کی طرف لے جارہی ہیں اورجس فکر نے ندوہ کو نہ صرف ہندوستان میں بلکہ عالم اسلام میں بہت جلد مقبولیت عطاکردی تھی اس فکر پر گردکی دبیز تہ چڑھ چکی ہے ،حتی کہ آج کی نئی نسل ندوہ ودیوبند کے بنیادی فرق کو سمجھنے سے قاصر ہے طلبائے ندوہ اپنے وضع قطع، اپنی عالمانہ شان، اپنے علمی وقار، اپنی نشست وبرخاست، اپنی وسعت معلومات، اپنے انداز تکلم اوراپنے فکرکی بلندی کی بدولت سینکڑوں اداروں کے طلباء کے درمیان سے پہچانے جاتے تھے،آج زمانہ کے بے رحم ہاتھوں یا ذمہ دارانہ عہدوں پر فائزارباب دانش کے غلط فیصلوں اورناعاقبت اندیشیوں کی بدولت یہ امتیاز ’’من وتو‘‘ مٹ چکاہے، یعنی بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہاجاسکتا ہے کہ آج ندوہ کا ایک فارغ التحصیل بھی اسی قدرکنویں کا مینڈک اورہرعلم وفن میں کوراہوتا ہے جوکبھی دیوبند کی پہچان ہواکرتی تھی، جس ندوہ نے مولاناسید سلیمان ندوی، مولانا عبدالسلام ندوی، مولانا مسعودعالم ندوی،مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا محمدرئیس ندوی(رئیس الاحرار)مولانا سید ابوالحسن علی ندوی ،مولانا سعیدالرحمن اعظمی ندوی اورمولانا سید محمد رابع حسنی ندوی جیسے علماء وفضلاء، ماہرین فن اوراصحاب طرز ادباء پیدا کئے آج وہ کوئی ایسا جوہر قابل اورنایاب ہیرا پیداکرنے سے کیوں قاصر ہے جس کی چمک دمک سے ماضی کی طرح عالم اسلام کی آنکھیں خیرہ ہوں اور جوعالمگیر سطح پراپنی غیر معمولی قابلیت اورلیاقت سے پہچانا جائے، اس نکتہ پر غورکرنے کی ضرورت ہے، میں اپناذاتی تجربہ احاطۂ تحریر میں لاتے ہوئے حیرت کے جھٹکوں سے ابھرنہیں پاتا ہوں کہ ایک ندوی عالم۔ بڑے کرب کے ساتھ بیان کرناچاہتا ہوں ۔نے میرے ادارہ جامعہ سراج العلوم کی شاخ الہلال پبلک اسکول میں اردومدرس کی حیثیت سے تقرری کی درخواست دی، واضح ہوکہ اس عصری تعلیم کے ادارہ میں اردو بالکل ابتدائی درجات کے مکتب کے معیارکی ہے، اس ۴؍سطری درخواست میں مجھے املاء اورتذکیر وتانیث کی کم ازکم ۸؍غلطیاں نظرآئیں تومجھے ان صاحب کے ندوی ہونے کے دعوی میں شبہ ہوا ،لیکن جب سند کو بطور ثبوت پیش کیاگیا تومجھے اپنی آنکھوں اورندوہ کے گرتے ہوئے معیار پریقین نہیں آیا،جوادارہ محض اس لئے قائم کیاگیا تھاکہ روشن خیال اورزمانہ شناس علماء پیدا کرے، ملت کو مخلص اوربیدار مغز قیادت عطاکرے، باطل تحریکات ونظریات کا پردہ چاک کرے ،اسلام کے خلاف ہونے والی سازشوں اور ریشہ دو انیوں کاپردہ فاش کرے، جوعلم کے قدیم وجدید ہتھیاروں سے لیس ہو، جومذہبی عصبیت اورمسلکی منافرت سے پاک ہو، جس کے فارغین وسیع النظری، ژرف نگاہی اوراتحاد واتفاق کی صفات سے مالامال ہوں، جواپنی تعلیمات سے مختلف فرقہ ہائے اسلامیہ میں باہمی رواداری پیداکرے اور کسی فرقہ اور مکتب فکر کے عقائد واعمال میں رخنہ اندازی کے بغیر سب کو مشترک ملی مفادات کے لئے ایک وسیع پلیٹ فارم مہیاکرے،اس ادارہ میں تنگ نظری وتعصب ،مسلکی منافرت اورمختلف اسلامی فرقوں کے درمیان نزاع وتصادم کے جذبات کی شعوری وغیرشعوری طورپر پرورش کی جارہی ہے جس سے مختلف فرقوں کے درمیان مغایرت ومنافرت کی خلیج روز بروز وسیع ہوتی جارہی ہے اوریہ صورت حال براہ راست ندوہ کے بنیادی اہداف اوراغراض ومقاصد سے متصادم ہے۔

امت مسلمہ کی جس نسل نے بعدکے آنے والے ادوار میں شعوری آنکھیں کھولی ہیں یا ندوہ کے وہ طلباء جو قیام ندوہ کے اسباب ومحرکات اور اس کے تاریخی پس منظرسے واقف نہیں ہیں شاید انھیں یہ ماننے میں بھی آج تامل ہو کہ ذمہ داران ندوہ آج جس طبقاتی کشمکش کے شکار ہیں اوردوسرے فرقوں اورمسلکی رجحانات سے ایک محتاط دوری اورفاصلہ بنائے رکھنے کی روش پرگامزن ہیں وہ اس کے بانیان کی فکرسے میل نہیں کھاتا، جن کے سامنے تاسیس ندوہ کے صرف دومقاصد تھے، بعد کے ادوارمیں حالات وزمانہ کی ضروریات کالحاظ کرتے ہوئے کچھ اورکااضافہ توکیاگیا لیکن یہ دونوں مقاصدہمیشہ سب پرحاوی رہے، اوروہ تھے: (۱)اصلاح نصاب اورنظام تعلیم وتربیت کی جدید کاری(۲) اوردوسرا رفع نزاع باہمی، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں مقاصد کی ضرورت واہمیت پر مختصر روشنی ڈال دی جائے،میں ابتداء ثانی الذکرسے کرتا ہوں۔

تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کی ترقیات اوراس کی شہرت ونیک نامی کو جس قدر نقصانات باہمی اختلافات سے پہونچے ہیں اس قدرنقصان کوئی بڑے سے بڑا دشمن نہیں پہونچاسکا، ان اختلافات کی بنیاد چاہے سیاسی ہو چاہے مسلکی ومذہبی، اورچاہے نسلی ولسانی ہواورچاہے مسلمان کسی سازش کا شکار ہوکر یابے سبب ہی باہم دست وگریباں ہوئے ہوں، لیکن اس کا نتیجہ ہمیشہ انتہائی ہولناک نکلاہے ،پوری تاریخ اسلام اس کی مثالوں سے پرہے،خواہ سبائیوں کی سازش کے نتیجہ میں خلیفہ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کاسانحہ ہو،خواہ حضرت علی وامیرمعاویہ رضی اللہ عنہماکی معرکہ آرائیاں ہوں، یاپھر تاج وتخت کے لئے امویوں اورعباسیوں کی یاعلویوں وعباسیوں کی خوں ریزیاں ہوں ،سب کے نتیجہ میں نقصان صرف امت مسلمہ کاہوا ہے، سلطنت عباسیہ کی بنیادوں کو تاتاریوں کی یلغار اورچنگیز وہلاکو کی افواج ہلانہیں سکتی تھیں ،لیکن شیعہ سنی اختلافات اورحنبلی وشافعی مسلک کے پیروؤں کی خانہ جنگیوں نے ان کاکام آسان کردیا، اسی طرح سے عثمانی فرماں رواؤں کی ترک تازیوں اورمجاہدین اسلام کے تلاطم خیز حملوں کے سامنے جب پورا یورپ بیدمجنوں کی طرح کانپ رہا تھا، اوراس طوفان کا رخ موڑنے کی یورپ کی متحدہ طاقت کے پاس بھی کوئی تدبیرنہ تھی اس وقت مسلم فرماں رواؤں کے باہمی اختلافات اوراسلامی حکومتوں کے آپسی تصادم وٹکراؤ نے ان کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کردیا، ایک انگریز مفکرنے یورپ کی بے بسی اور مسلمانوں کی بے حسی پر اس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا جس کا مشاہدہ ایک ناقابل تردید حقیقت کی شکل میں پورے عالم اسلام میں ہورہا تھا، اس نے لکھا’’اسلام کی بڑھتی ہوئی فتوحات کوکسی نے نہیں روکا، لیکن ان کے اندرونی اختلافات کی بناپر یورپ کو نجات ملی، ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی کو منتشر کرنے اوراس کی قوت کو کمزور کرنے کا جس قدر موقع ان کے باہمی اختلافات نے دیا اتنا بیرونی حملوں نے نہیں‘‘۔

طرفہ تماشا تویہ تھا کہ لوگوں نے اللہ کے گھروں کوبھی اکھاڑا بنادیا تھا ،مسجدوں پرلکھاجانے لگا تھا کہ’’یہ حنفیو ں کی مسجد ہے ،یہ شافعیوں کی ،یہ حنبلیوں کی‘‘ حدتویہ کہ دوسرے مسلک کی مسجدوں میں غلاظت تک پھینکنے کی وارداتیں بکثرت ہونے لگی تھیں۔

اٹھارویں وانیسویں صدی میں پورے عالم اسلام میں یہ اختلافات نقطۂ عروج پر پہونچ گئے تھے جبکہ شیعہ سنی اختلافات اورباہمی تصادم ونزاعات کے چھوٹے بڑے واقعات تواسلام کے ابتدائی عہد سے ہی موجودتھے، لیکن ۱۹ویں صدی عیسوی کاہندوستان مسلکی اختلافات اورمذہبی نزاعات کی جوتصویر پیش کررہا تھا وہ بڑی ہی روح فرساتھی اوراس ملک سے اسلام کا ہی قلع قمع کرنے کی تدابیر کے مترادف تھی۔

ندوہ کے ناظم اول مولاناسید محمدعلی مونگیری رحمہ اللہ کی سیرت پرمولانا محمدالحسنی رحمہ اللہ نے ایک کتاب’’تذکرہ مولانامحمد علی مونگیری ‘‘کے نام سے لکھی ہے، اس کتاب میں اس وقت کے حالات کاکچھ نقشہ اورنزاع باہمی کی کچھ تصویر ان الفاظ میں کھینچی ہے’’لوگوں نے ان فقہی مسائل کو جوہمیشہ رہیں گے‘ کفرواسلام کا معرکہ بنادیا تھا اوراس میں وہ شدت اختیار کرلی تھی جوایک مسلمان کو کسی کافریا مرتد کے مقابلہ میں ہونی چاہئے‘‘، اس صورت حال کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے سب سے زیادہ قیمتی دستاویز وہ خط ہے جومولانا ابوالقاسم ہنسوی نے اس طوفانی مخالفت سے متاثر ہوکر مولانا سید نذیر حسین(محدث دہلوی) کولکھاتھا، وہ بڑی دلسوزی اورقلق کے ساتھ خط میں ایک جگہ لکھتے ہیں:’’مسائل فروعی میں اس قدر لاونعم، ردوکد اورسب وشتم نے زورپکڑاہے کہ جس کا پایاں نہیں، جنگ وجدل فیما بین شعار اسلام ہوگیا ہے، مسائل اصول ایمانی کہ جس پر بنائے اسلام وایمان ہے‘ مفقود ہیں، ایک زمانہ تھا کہ اہل اسلام کفار واشرار سے مجادلہ ومقاتلہ کرتے تھے اورآمادۛ? ہدم بنائے کفار ومشرکین رہتے تھے ،اب یہ زمانہ ہے کہ باہم مسلمانوں میں خانہ جنگی ہے مسلمان اپنے ہی ہاتھوں اپنی ملت ومذہب اوربنائے اسلام کو گرارہے ہیں، اورباہم ایک دوسرے کو سب وشتم کرتے ہیں‘‘ (تذکرہ مولانا محمد علی مونگیری، مولفہ: مولانا محمد الحسنی)

’’حالت تویہ تھی کہ مناظروں ودشنام طرازی سے آگے بڑھ کر بات مقدمہ بازی اورفوجداری تک جاپہونچی تھی اورمسلمانوں کے مقدمات غیرمسلموں کی عدالتوں میں پیش ہونے لگے تھے جس پر غیرمسلموں کو ہنسنے کاموقع ملتا تھا، دہلی میں کوٹلہ والی مسجد میں صرف آمین بالجہر پرجھگڑا اتنا بڑھا کہ دوالگ پارٹیاں بن گئیں ایک پارٹی چاہتی تھی کہ آمین زورسے کہاجائے اوردوسری چاہتی تھی کہ چپکے سے، اس پرسخت لڑائی ہوئی، متعدد آدمی زخمی ہوئے، پھرمقدمہ چلا اوراس پر ہزاروں روپیہ برباد ہو،ا جس کانتیجہ یہ ہواکہ دونوں پارٹیوں میں ہمیشہ نفرت وعداوت پیداہوگئی جوآج تک ختم نہ ہوئی، اس طرح میرٹھ میں مقلدین وغیرمقلدین کی کشمکش اتنی بڑھ گئی کہ ہائی کورٹ تک مقدمہ پہونچا، اس کے علاوہ علیگڈھ کامشہور مقدمہ زہرخورانی ‘اسی افسوسناک صورت حال کی ایک اورمثال ہے ،مولانا لطف اللہ صاحب کو زہردیاگیا ،مگروہ تکلیفیں اٹھاکر بچ گئے، لاٹھیاں چلیں ،مقدمہ بازی ہوئی ،اوروہ سب کچھ ہوا جومسلمانوں کا سرشرم سے جھکانے کے لئے کافی ہے اورہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ کا ایک بدنما داغ ہے‘‘۔ (تاریخ ندوۃ العلماء جلد اول مرتبہ مولانا محمداسحٰق جلیس ندوی رحمہ اللہ)

مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان اجنبیت ومغائرت بلکہ دشمنی وعداوت اوردوسرے مسالک کے ساتھ استہزا وحقارت کارویہ اپنا نے کی ہی مثال ہے کہ آج بھی بعض دیوبندی مسلک کی مساجد میں آمین بالجہر یارفع یدین کرنے اور بسااوقات ننگے سرنماز پڑھنے پرمساجد سے نکالاجاتا ہے، اور نماز باجماعت کی ادائیگی کے حق سے ایک خاص مسلک کے لوگوں کومحروم کردیاجاتا ہے، اس کاتجربہ خودراقم الحروف کوبھی متعدد بارہوچکاہے، جب کہ بریلوی مکتب فکر کی تنگ نظری اور مذہبی عصبیت کا توحال یہ ہے کہ اب بھی ہندوستان وپاکستان میں ۔خال خال ہی سہی۔ ایسی مثالیں سامنے آتی ہیں کہ کسی اہل حدیث کی نماز کی ادائیگی کے بعدمسجدوں کودھل کر پاک کیاجاتا ہے اورحد تویہ ہے کہ بعض مساجد پر لکھاہوا ہے کہ ’’مسجد کے اندرکتوں اوروہابیوں کاداخلہ ممنوع ہے‘‘ وہابیوں سے سلام وکلام نہ کرنا، ان سے مصافحہ کرنے سے نکاح ٹوٹ جانا، ان کاذبیحہ حرام سمجھنا اوران سے تجارتی تعلقات تک رکھنے کے حرام ہونے کا فتویٰ ان مفتیان بے توفیق کی جانب سے جاری کرنے کی مثالیں کم یاب ضرورہیں لیکن نایاب نہیں۔

۱۸۵۷ء ؁ کی ناکام بغاوت کے بعدغیر منقسم ہندوستان پوری طرح انگریزوں کے زیرتسلط آچکاتھا اورجہاں انگریز فتح کے نشہ میں چوراورہندوستان پرقبضہ سے مسرور تھے وہیں مسلمان اپنی حکومت وسلطنت کے چھن جانے سے رنجوراوراحساس شکست وندامت سے دوچارتھے، پھر فتنۛ? ارتدادنے بھی ان کے حواس گم کئے اورشُدھی سنگھٹن نے بھی بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے دامِ تزویر میں پھانسنا شروع کیا، عیسائی مشنریاں بھی ملک میں سرگرم ہوئیں جو جدید فلسفہ اورجدید علم کلام سے لیس اور نئے نظام تعلیم کی پروردہ تھیں، ان تحریکات کا جواب محض قدیم نصاب تعلیم اورعلم کے قدیم ہتھیاروں سے لیس ہوکردینا ممکن نہ تھا ،ایسے میں اولا توسب سے زیادہ ضرورت اس بات کی تھی کہ مسلمان آپس میں اتحاد واتفاق پیداکریں اورمشترک ملی مفادات کے لئے ایک پلیٹ فارم پرآئیں، دوسرے اپنے علم میں وسعت، اپنے طرز فکرمیں جدت اوراپنے مطالعہ میں گہرائی پیداکریں اورعلم وعرفان کے نئے ہتھیاروں سے لیس ہوں ،ورنہ کئی محاذوں پرچھڑی ہوئی لڑائی کا مقابلہ وہ اپنے فرسودہ علم ،دقیانوسی خیالات اورآپسی اختلافات کی بدولت کبھی نہیں کرسکتے، دارالعلوم ندوۃ العلماء کاقیام اسی ضرورت کا احساس اوروقت کے انھیں تقاضوں کاجواب تھا۔ (جاری)

***





OCTOBER-2010کشمکش موت وحیات کے درمیان چند ناقابل فراموش ایام

شمیم احمدندویؔ


کشمکش موت وحیات کے درمیان

چند ناقابل فراموش ایام

اس کائنات میں ربِّ ذوالجلال کی جانب سے عطاکردہ نعمتوں میں سے صحت وتندرستی ایک عظیم نعمت ہے، لیکن انسان اس قدرناشکرا واقع ہواہے کہ جب تک اس نعمت سے متمتع ہوتارہتا ہے اس وقت تک اس کی قدروقیمت کا اسے احساس تک نہیں ہوتا ہے ،وہ اپنی صحت وجوانی پراتراتا رہتا ہے اور کفران نعمت سے بازنہیں آتا، اس کی انہی حرکتوں کی وجہ سے اللہ نے اسے ظالم وناشکرے کے طورپر یاد کیاہے اوراس کی اس فطرت کوقرآن نے بایں الفاظ اجاگر کیاہے (....اِنَّ الإنْسَانَ لَظَلُوْمٌ کَفَّارٌ)(ابراہیم:۳۴)(بیشک انسان انتہائی ظالم وبڑا ہی ناشکراہے) اس نعمت عظمیٰ کا احساس اسے اس وقت ہوتا ہے جب یہ عارضی ووقتی طورپریا مستقلاً اس سے چھن جاتی ہے اوروہ صحت جیسی قابل قدر نعمت سے محروم ہوکر معاشرہ واہل خانہ پربوجھ بن جاتا ہے، کیونکہ صحت وتندرستی کے بغیر آدمی نہ تواپنے دنیاوی معمولات اورروزمرہ کے اعمال انجام دے سکتا ہے اورنہ ہی اس دنیا سے اپنے رزق حلال کا متعین حصہ حاصل کرسکتا ہے اوراپنے بچوں کی بہترپرورش ونگہداشت کا فریضہ انجام دے سکتا ہے ،اسی طرح وہ اس قابل نہیں رہتا کہ عبادت وریاضت کاحق اداکرسکے جب کہ وہ حج وعمرہ جیسی دیگرکئی فرائض وسعادتوں کے حصول سے محرم رہ جاتا ہے۔
انسان اس دنیا میں آیا ہے تومختلف طرح کے امراض وعوارض کا وقتاً فوقتاً وہ شکار ہوتا رہتا ہے اوریہ سب اس کی خوردونوش کی بے اعتدالیوں اورحفظان صحت کے اصولوں کو نظرانداز کرنے کی بناپر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جہاں قرآن کریم کی ایک آیت میں زندگی وموت اور صحت وشفایابی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے وہیں بیماری کی نسبت خوداپنی ذات کی طرف کی ہے(وَالَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنَ، وَاِذَامَرِضْتُ فَھُوَ یَشْفِیْنِ)(الشعراء:۷۹،۸۰)
راقم الحروف ایک طویل عرصہ سے ہائی بلڈپریشر جیسے موذی مرض کا شکارتھا جسے اطباء کی اصطلاح میں’’خاموش قاتل‘‘ کہاجاتا ہے اور جس کے نتیجہ میں کئی خطرناک بیماریاں پیداہوجاتی ہیں، جن میں آنکھوں کی بینائی کا متاثرہونا، فالج کا حملہ ہونا، اوربسااوقات برین ہیمریج جیسے جان لیواحملوں کاہوناشامل ہے جس میں مریض کا کومامیں چلے جانا یافوری موت واقع ہوناعام بات ہے، لیکن بلڈپریشرکے ساتھ ساتھ عارضۂ قلب کا لاحق ہوناسب سے زیادہ عام ہے جوتقریباً لازم ملزوم ہے، اورطویل عرصہ تک بلڈپریشرکی شکایت کا حتمی نتیجہ دل کی مختلف بیماریوں کی شکل میں ظاہرہوتا ہے جب کہ بلڈپریشرکا کوئی مستقل حل نہیں ہے ،دواؤں کے برابراستعمال اورپرہیزی غذاؤں سے اسے کنٹرول توکیاجاتا ہے لیکن ختم نہیں کیاجاسکتا، اس کی دوائیں تا حیات استعمال کرناپڑتی ہیں، چنانچہ بلڈپریشرکی شکایت کے کچھ عرصہ بعد دل کی تکالیف کاآغاز ہوا، کئی بار انجائنا کاحملہ ہوا، تیز چلنے پر سانس پھولنے کی شکایت دن میں کئی بارہوتی تھی، بسااوقات سینہ میں شدید درد کااحساس ہوتا تھا، زیادہ دیرتک بولنے یاتقریرکرنے سے تکلیف میں اضافہ ہوتاتھا، غرض کہ ساری علامات عارضۂ قلب کی تھیں، پھرمختلف طرح کے ٹیسٹوں سے اس کی تصدیق ہوگئی، اسی دوران ۸؍سال قبل ۲۰۰۲ء ؁ میں ایک بار ہارٹ اٹیک بھی ہوا،میرے عزیزوں اورکرم فرماؤں نے بروقت گورکھپور پہونچاکر اسپتال میں داخل کیا اورفوری طبی مدد مل جانے سے خطرہ ٹل گیا، جب کہ اللہ کا کرم ہی تھاکہ یہ اٹیک جھنڈانگر میں یہاں کے ایک مشہور معالج ڈاکٹر انواراحمد خاں صاحب کی کلینک میں ہوا، جنھوں نے اپنے پاس دستیاب دواؤں کو استعمال کرانے کے ساتھ بلاتاخیر گورکھپور پہونچانے کامشورہ دیا،چنانچہ ہمارے اقرباء اورجامعہ کے بعض کارکنان کی چابکدستی سے بیہوشی کی حالت میں مجھے گورکھ پورر بعجلت تمام پہونچایا گیا، جہاں گرچہ خطرہ توٹل گیا لیکن آئندہ کے لئے خطرہ کی گھنٹی بج گئی، میں نے اعزہ کے مشورہ سے کسی مشہورماہر امراض قلب کو دکھاکر جدید سہولیات سے آراستہ کسی بڑے اسپتال میں جاکر مکمل چیک اپ کا فیصلہ کیا، چنانچہ دہلی میں جاکر مولانا عبدالحمید رحمانی؍ حفظہ اللہ کے مشورہ سے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے ہیڈ آف دی کارڈیالوجی ڈاکٹر منچندا کودکھایا جنھوں نے اسکارٹ ہارٹ سنٹرمیں کچھ جدید قسم کے ٹیسٹ کرائے اورمرض کی نوعیت کی تشخیص کی اورباقاعدہ علاج شروع ہوا، پھردہلی میں آمد ورفت کی پریشانیوں کے مدنظر میں نے لکھنؤکے معروف ماہرامراض قلب ڈاکٹر منصور حسن صاحب کے زیرعلاج رہنازیادہ مناسب سمجھا اورکبھی کبھی ان کی عدم موجودگی یا سفرکے موقع پرڈاکٹر اکھل مہروتراسے طبی مشورے اور دوائیں لے کر استعمال کرتا رہا جس کا مشورہ خود ڈاکٹرمنصور حسن صاحب نے دیا تھا، اوریہ وہی ڈاکٹر ہیں جن کے زیرعلاج اخیرعمر تک خطیب الاسلام مولانا عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ تھے اوران کے علاج سے کافی فائدہ محسوس کرتے تھے اوران کی تشخیص کے قائل اورعلاج کے معترف ومداح تھے۔
غرض کہ دوائیں چلتی رہیں اورمرض میں افاقہ بھی رہا کہ اسی دوران ایک دوسری موذی بیماری جوآج کل بہت عام ہے اورتقریباً ہرتیسرا فرد اس کاشکارہے یعنی ذیابیطس کابھی آغاز ہوگیا، اب گویاکہ ایک نہ شد دوشد کا معاملہ تھا، اوراس کی وجہ سے جہاں آنکھ، جگر اورگردوں کے متاثرہونے کا خدشہ تھا وہیں قلب توبراہ راست اس کی زدمیں تھا ،اب مستقل احتیاطی تدابیراختیار کرنے اوردواؤں وپرہیز میں مستقل مزاجی دکھانے کی ضرورت تھی جوبسااوقات سفروغیرہ میں ممکن نہ ہوتا تھا اوراحتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا تھا، پھربھی میں نے غیر ضروری اسفار اورعام جلسوں میں بکثرت شرکت سے بڑی حد تک گریز کیا، لیکن اس دورانِ علاج بھی ایک بارانجائنا کا شدید حملہ ہوا، لیکن ذات باری تعالیٰ کی مہربانی اوربروقت طبی امداد مل جانے سے یہ تکالیف رفع ہوئیں اورکسی بڑی آزمائش میں پڑنے سے محفوظ رہا۔
ماہ مئی میں چیک اپ کی غرض سے پھرلکھنؤ کا سفرکیا ،بعض ٹیسٹوں کی رپورٹوں کا معائنہ کرنے کے بعد میرے معالج ڈاکٹر منصورحسن صاحب نے مرض میں اضافہ کاخدشہ ظاہرکیا اوران کی اپنی تشخیص کے مطابق معاملہ دواؤں کے ذریعہ علاج کے حدود سے باہرنکل چکا تھا اوراب ضروت بائی پاس آپریشن کی تھی، چونکہ یہ بات انھوں نے انجیوگرافی کے بغیرکہی تھی اس لئے ان کے خدشات کوقبول کرنے میں مجھے تامل تھا، چنانچہ ان کی تجویز کے مطابق میں نے کمپیوٹرائز ڈکورنئری انجیوگرافی کرانا منظورکیا جس میں دل کے شریانوں کے تنگ ہونے کی تصدیق ہوئی ،پھردیگرکئی اورٹیسٹوں کے بعد’’ سہارا ہاسپٹل لکھنؤ ‘‘میں ایڈمٹ ہوکرباقاعدہ انجیوگرافی کرائی جس سے ڈاکٹروں کے بدترین خدشات کی تصدیق ہوگئی کہ دل کی شریانیں کئی جگہ کولیسٹرول کے انجماد کی بناپر تنگ ہوگئیں ہیں یا اس حد تک سکڑگئی ہیں کہ دوران خون میں رکاوٹ ہورہی ہے اورتمام تکالیف اسی بناپرہیں، میرے دونوں معالجین اورسہارا ہاسپٹل کے دوسرجن اس بات پر متفق تھے کہ اب بائی پاس سرجری کے علاوہ کوئی اور متبادل ممکن نہیں ہے اورجان لیوا ہارٹ اٹیک کاخطرہ سرپرمنڈلارہا ہے، اسی دوران مرکز التوحید، جھنڈانگر ،نیپال کے رئیس مولانا عبداللہ مدنی کے ادارہ کی جانب سے ایک فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام حنبل ہوٹل میں کیاگیا، میں نے اپنی رپورٹیں ’میدانتا میڈی سٹی ہاسپٹل‘ گڑگاؤں کی طبی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر الحاج فرحان احمدصاحب کو دکھائیں توانھوں نے بھی جتنی جلد ممکن ہوبائی پاس سرجری کا مشورہ دیا بصورت دیگرخطرات کی سنگینی کا احساس دلایا، اب اتنا سب کچھ ہونے کے بعدان خطرات کو نظرانداز کرناممکن نہ تھاجب کہ میں بائی پاس کے اس جان لیوا عمل سے بچناچاہتا تھا، کیونکہ آپریشن کوئی بھی ہوبہرحال اس میں خطرات ہوتے ہیں، اوریہ آپریشن تویوں بھی انسانی جسم کے لئے کئے جانے والے عمل جراحی میں خطرناک ترین اورنازک ترین ماناجاتا ہے ،لیکن ڈاکٹروں کی تجاویز اوراحباب کے مشوروں سے میں نے سارے خدشات کو بالائے طاق رکھ دیا اوراللہ کی مدد اورمشیت پربھروسہ کرکے اس عمل کے لئے ذہنی طورپر تیار ہوگیا، آپریشن کے لئے ہاسپٹل اورجگہ کے انتخاب کا مسئلہ ڈاکٹر اکھل مہروترا نے یہ کہہ کرحل کیا کہ آپ کے لئے گڑگاؤں(ہریانہ) میں واقع میدانتا میڈی سٹی سب سے زیادہ مناسب ہے کیونکہ اسپتال کی جدید طبی سہولیات، ماڈرن میڈیکل آلات اورتجربہ کار ڈاکٹروں کی ٹیم کے معاملہ میں اس وقت ہندوستان میں اس کا جواب نہیں ،پھرہمارے یہاں کرشنانگرمیں حسن اتفاق سے اسی اسپتال کی جانب سے مرکزالتوحید کے تعاون واشتراک سے لگائے گئے مفت طبی کیمپ کی وجہ سے اس فیصلہ کو مزید تقویت ملی اوراس کیمپ میں آئے ڈاکٹروں بالخصوص ڈاکٹرفرحان سے اچھاتعارف ہوجانے کی وجہ سے خصوصی نگہداشت کی امیدہوئی اورمیری یہ توقعات وہاں پہونچ کرپوری بھی ہوئیں۔
’’میدانتا میڈی سٹی‘‘ اپنی جدید ترین سہولیات ،صفائی ستھرائی کے نظام ،مثالی نظم وضبط ،ماہر ڈاکٹروں اورتجربہ کارعملہ کی وجہ سے ہندوستان میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اوربیرونی دنیامیں بھی اس کی شہرت ہے جہاں سے بڑی تعداد میں مریضان قلب وجگریہاں کاسفرکرتے ہیں اورفائدہ اٹھاتے ہیں اور صحت یاب ہوکرجاتے ہیں ان بیرونی ممالک کے مریضوں میں ایک معتد بہ تعداد خلیجی ملکوں کے شہریوں کی ہوتی ہے۔
ملک کے مشہوراورمایہ ناز سرجن اورماہر امراض قلب ڈاکٹر نریش تریہن نے ملک کے کچھ بڑے سرمایہ داروں کے اشتراک سے دس ہزارکروڑ کی خطیررقم کی لاگت سے بڑے ہی اہتمام سے اسے قائم کیا ہے اورہریانہ سرکارنے تقریباً 200ایکڑ زمین اسے الاٹ کی ہے ،ڈاکٹر تریہن کاشمارجہاں ملک کے چوٹی کے سرجنوں میں ہوتا ہے وہیں دنیائے طب میں یہ ایک جاناپہچانا نام ہے اورانھوں نے پورے ملک کے ماہرین اورسرجنوں وفزیشنوں کی ایک قابل اعتماد ٹیم کو یہاں جمع کردیا ہے اوراس اسپتال کوکچھ اس طرح جدید مشینوں وآلات اورماڈرن طبی سہولیات سے آراستہ کردیا ہے کہ اسے دنیا کے کسی بھی بڑے سے بڑے اسپتال کے مقابلہ میں پیش کیاجاسکتا ہے،بہرحال اسپتال کی شہرت اوراطباء کی مہارت کے بجائے اللہ رب العزت کی مددونصرت پربھروسہ کرتے ہوئے میں نے یہاں بائی پاس سرجری کرانے کا عزم مصمم کرلیا۔
ہمارا ۶نفری مختصرساقافلہ جومیری اہلیہ، میرے لڑکے کاشف شمیم خاں، مولانا عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ کے پوتے ڈاکٹر منظور احمد خاں ندوی وعلیگ، میرے سالے عزیزم پرویزاحمدخاں اورایک خادم پرمشتمل تھا۹؍اگست کی صبح گھرسے روانہ ہوکر ۱۰؍کی صبح دہلی پہونچا ،پھروہاں سے سیدھے گڑگاؤں اسپتال پہونچا ،وہاں ڈاکٹر فرحان سے ملاقات اورڈاکٹر آرآرکسلیوال کی طبی جانچ وتشخیص کے بعد مجھے فوراً آپریشن کے لئے ایڈمٹ کرلیا گیا ،ڈاکٹر فرحان کی خصوصی توجہ کی وجہ سے گنٹھوں کا کام منٹوں میں ہوتاگیا اوراسپتال کے فرض شناس عملہ کی مستعدی اور سرعت کادل پرنقش اولیں اچھا قائم ہوا ،ورنہ اسپتالوں کے اکتادینے والے کام، غیرضروری تاخیر اورمریضوں کو ہلکان وجاں بلب کرنے کابھی بعض جگہوں پر تجربہ ہوچکا ہے، لیکن یہاں اس کے برعکس ہوا، مجھے وارڈ میں منتقل کرنے کے فورا بعدسے مختلف طرح کے ٹیسٹ کا سلسلہ شروع ہوگیا اورایک انتہائی نگہداشت کے محتاج مریض جیسا برتاؤ کیاجانے لگا، چنانچہ باوجود اس کے کہ میں آپریشن سے قبل پوری طرح سے اپنے کوچست ودرست اورتندرست محسوس کرسکتا تھا اورمیلوں پیدل چلنے کی طاقت اپنے اندرپاتا تھا پھربھی مجھے اسپتال کے اندرہی ایک جگہ سے دوسری جگہ لانے لے جانے کے لئے وہیل چیئرکااستعمال کیاگیا اورایک نرس اور ایک وارڈ اٹینڈنٹ سایہ کی طرح ساتھ لگے رہے، کامو ں کوتیزی سے نپٹانے کا عالم یہ تھا کہ شام تک نہ صرف یہ کہ ۷۔۸ قسم کے ٹیسٹ مکمل ہوگئے بلکہ کچھ رات گئے سب کی رپورٹیں بھی موصول ہوگئیں اورالحمدللہ ساری رپورٹیں نارمل تھیں اورآپریشن میں کوئی ظاہری رکاوٹ نہیں تھی، دل کی حالت معتدل اور شوگروبلڈپریشرسب کنٹرول میں تھا، اس دوران الگ الگ امراض کے ماہرین آکر مختلف قسم کی ہدایات دیتے رہے اورتسلی ودلاسہ بھی کیونکہ آپریشن بہرحال بہت ہی نازک اورپرخطرتھا اورانسانی ذہن ودماغ اورہاتھوں کی ذراسی چوک جان لیواثابت ہوسکتی تھی، ساری مہارتوں اورجدید طبی سہولیات کے باوجود آپریشن کی کامیابی کا تمام تر دارومدار زندگی اور موت کے مالک حقیقی اللہ رب العزت پر تھا اورمیرا اسی ذات رحیم وکریم پرکامل بھروسہ واعتماد تھا،یہ آپریشن یوں توبجائے خودنازک ہوتا ہے لیکن ذیابطیس کے مرض نے جس میں معمولی پھوڑاپھنسی بھی جلد ٹھیک نہیں ہوتا اورچھوٹا سا زخم بھی جلد مندمل نہیں ہوتا اسے اورپر خطر بنادیاتھا، پھرپتہ یہ چلاتھا کہ بائی پاس کم ازکم ۴جگہ ہوناہے اوردونوں ٹانگوں کی نسیں نکال کراستعمال کی جائیں گی اس میں دوران آپریشن عام حالات سے کچھ زیادہ وقت درکارتھا اورگزرتے وقت کا ایک ایک لمحہ آپریشن کی کامیابی کومشکلات سے دوچارکرنے والا تھا ،مختلف طرح کے خدشات واندیشے دل میں پیدا ہورہے تھے کبھی کبھی رہ رہ کردل میں یہ خیال بھی سراٹھانے لگتا تھا جومجھ کومیرے بعض عزیزوں نے انٹرنیٹ پر دستیاب بعض طبی معلومات جمع کرکے مجھے بتائی تھیں کہ گرچہ جدید طبی سہولیات اورمیڈیکل سائنس کی ترقیات نے دل کے آپریشن کو خطرات سے کافی حد تک پاک کردیا ہے اوراب دوران آپریشن اموات کی شرح صرف دوفیصد رہ گئی ہے لیکن ان دوفیصد میں بھی ۶۰ فیصد لوگ شوگرکے مریض ہوتے ہیں، اس معلومات کے بعدخدشات میں اضافہ ہوناایک طبعی بات تھی کیونکہ میں شوگر کا مریض بھی تھا، اگرچہ ڈاکٹر فرحان صاحب نے یہ کہہ کرمیرے خوف کوکم کرنے میں بڑا مثبت کردار اداکیا کہ امراض قلب کے شکارخاص طورسے بائی پاس سرجری کے محتاج زیادہ ترشوگر کے مریض ہی ہوتے ہیں اورانھیں کا کامیابی کے ساتھ آپریشن ہوتا ہے اس لئے آپ کسی طرح کی فکر وتشویش کو دل میں جگہ نہ دیں اور اللہ پربھروسہ رکھیں، مجھے کافی تقویت ملی اوردل کو ڈھارس بندھی ،رات کو سونے سے قبل ایک ذمہ دار ڈاکٹر نے آکربتایا کہ آپ کے ٹیسٹوں کی ساری رپورٹیں آگئی ہیں، جو سب نارمل اوراطمینان بخش ہیں ،اس لئے آپ کا آپریشن کل شام تک یاپھر پرسوں ہوجائے گا، یہ جاننے کے بعد ڈاکٹر منظور احمد صاحب چندگھنٹوں کے لئے دلی چلے گئے اورمیرا لڑکا اورسالے اسپتال سے باہر ہوٹل میں چلے گئے، میرے ساتھ صرف میری اہلیہ والدۛ?کاشف رہ گئیں۔
صبح ساڑھے چاربجے فجرکی نماز کے لئے بیدارہوا ،وضو اورنماز سے فارغ ہی ہوا تھا کہ ایک نرس نے آکر ۵بجے بتایا کہ آپ دواملے پانی سے غسل کرکے تیار ہوجائیں( دواکی شیشی اس نے خود دی تھی) آپ کو ابھی آپریشن تھیٹرمیں چلنا ہے، میں اس کی ہدایات کے مطابق غسل کرنے توچلاگیا لیکن اس دوران میرے اوپر یک لخت خوف ودہشت اوراندیشوں نے حملہ کردیا کہ یہ نماز فجر میری زندگی کی آخری نماز بھی ثابت ہوسکتی ہے اوریہ دن میری حیات مستعارکا آخری دن بھی ثابت ہوسکتا ہے، پھرغسل خانہ سے نکلنے کے بعدمیں نے محسوس کیا کہ کچھ اسی قسم کی کیفیات کی شکارمیری اہلیہ بھی ہیں، پھرگھبراہٹ میں اضافہ اس وقت اورہوگیا جب میرے تینوں تیمارداروں میں سے کسی سے بھی مؤبائل پررابطہ نہیں ہوسکا جس کے لئے ہم دونوں نے متعدد بار کوششیں کیں، پھرمیں نے نیپال میں واقع اپنے آبائی گاؤں میں اپنے منیجر کو فون کرکے ۴بکرے ذبح کراکے ان کا گوشت صدقہ کرنے کی ہدایت کی اوراہل قریہ سے دعاکی درخواست بھی، اس اضطراب وبیچینی اور حددرجہ پریشانی میں مالک کون ومکان کو دل سے یاد کیا اور(من یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء)کا حقیقی مطلب اسی وقت آشکارا ہوا، پھر اس آیت پر عمل پیرا ہوا، (واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ إن اللہ مع الصابرین) صبر اورنماز کے ذریعہ مددحاصل کرو اللہ تعالیٰ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔
میں نے پھردورکعت نفل نماز اداکی اوردل کی گہرائیوں سے اللہ سے دعاکی کہ اس آزمائش سے مجھے کامیابی کے ساتھ نکال لے، نماز کے کرشمہ اورفوری تاثیر کامیں اس وقت قائل ہوگیا کہ میرے دل سے تمام وساوس اور اندیشے یکلخت نکل گئے اوردل مضبوط ہوکراس فیصلہ پر جم گیا جسے میں نے تائید غیبی سمجھا، مجھے بیڈ پرلٹاکرڈرپ لگائی گئی اوراسی دوران غالباً بیہوشی کی دواانجکٹ کردی گئی کیونکہ کمرہ سے نکلتے ہی مجھ پرغشی کی کیفیت طاری ہوئی اوربیڈکو لے جاتے ہوئے چندموڑ مڑنے اورراہداریوں سے گزرنے کے بعدمیں مکمل طورپر بے ہوش ہوگیا،ڈاکٹرفرحان صاحب سے جن سے ازیں قبل مختصرسی ملاقات میں خوشگوار تعلقات استوارہوگئے میں نے درخواست کی تھی کہ میرا آپریشن ڈاکٹر تریہن خود کریں ،انھوں نے اطمینان دلایا تھا کہ آپ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ایسا ہی ہوگا آپ اطمینان رکھیں، چناچنہ ڈاکٹرنریش تریہن سمیت تین ماہر سرجنوں اورتین ہی اسسٹنٹوں کے ذریعہ آپریشن کاعمل تقریباً ۶گھنٹوں میں مکمل ہوا جب کہ آپریشن سے متعلق ساری کاروائی میں پورے ۲۴گھنٹے صرف ہوئے، کیونکہ جب ۲۴گھنٹوں بعدمجھے ہوش آیا تواس وقت بھی کئی ڈاکٹر ونرسیں مصروف عمل تھے، اگلے دن صبح ۷بجے مجھے ہوش آیا اوربصارت نے کام کرنا شروع کیا جب کہ اس سے چندمنٹوں یاتقریباً ایک گھنٹہ قبل اس حد تک حواس بیدارہوگئے تھے کہ سماعت نے کام کرنا شروع کردیا تھا اورڈاکٹروں کی آوازیں اورطبی آلات اوراوزار کی کھٹرپٹرکانوں میں محسوس ہونے لگی تھی، اس وقت پہلا احساس یہی تھا کہ الحمدللہ زندہ ہوں، لیکن اعضاء وجوارح میں کوئی حرکت اورآنکھوں میں زندگی کے آثارنہیں تھے کیونکہ باوجود کوشش بسیارکے آنکھوں کوکھول کرماحول کاجائزہ لینے اورانگلی تک کوحرکت دینے سے قاصرتھا، دماغ پوری طرح کام کرررہا تھا لیکن احساسات مثبت ومنفی متضاد قسم کے تھے، صرف سماعت بیدارتھی اورڈاکٹروں کی یہ ہدایات پوری طرح سمجھ میں آرہی تھیں کہ زورزورسے سانس لیجئے،اس وقت منہ اورناک میں کئی نلکیاں اورآکسیجن کے پائپ وغیرہ لگے تھے اورپورا سینہ اورسامنے کا حصہ تاروں ونلکیوں اورمختلف مشینی آلات سے ڈھکا ہواتھا جوانسانی جسم کے بجائے ایک مشین کا منظر پیش کررہا تھا، پھرآنکھوں میں روشنی بھی آئی اورجسم میں حرکت بھی اوربتدریج تمام حسیات بیدارہوگئیں، سامنے گھڑی پرنظرگئی تو ۷بجے کا وقت تھا، میراپہلا احساس یہی تھاکہ شام کے ۷بجے کا وقت ہے لیکن بعدمیں معلوم ہواکہ اگلے دن کے صبح ۷بجے کا وقت تھا، گویا کہ بیہوشی کو ۲۵؍گھنٹے گزرگئے تھے جب کہ میں اسے ۱۳گھنٹہ طویل سمجھ رہا تھا، اس درمیان میرے بعض اعزہ دوبارچند منٹوں کے لئے مجھے دیکھ گئے تھے اورظاہری حالت کو دیکھ کردہشت زدہ بھی تھے جس میں میری حالت ناقابل شناخت تھی، لیکن ڈاکٹروں نے آپریشن کی کامیابی اورخطرہ سے باہر ہونے کا مژدہ سناکران کی فکر وتشویش کو رفع کردیاتھا، بعدکے کئی گھنٹوں تک میں ہوش وبیہوشی کے درمیان معلق رہا،جاگتے میں خواب دیکھنے کو میں نے حقیقت کے روپ میں اسی وقت دیکھا، بعدمیں ڈاکٹروں نے بتلایا کہ یہ کیفیت سب کے ساتھ لیکن عارضی ہوتی ہے، چنانچہ ایسا ہی ہوا اوربعدمیں یہ ساری کیفیات واحساسات اعتدال پرآگئیں، اگلے دو دنI.C.U. اورC.C.U.میں انتہائی نگہداشت میں رکھاگیا اور اس درمیان میرے اعزہ میں سے صرف ایک کو ۲۴؍گھنٹوں میں فقط دوبارصرف دس منٹ کے لئے آنے اورمحض دیکھنے پراکتفا کرنے کی اجازت تھی، پھر بولنے اور حال چال پوچھنے کی اجازت ملی، اورمیں بھی جواب دینے کے قابل ہوا،اگرچہ دوران آٖپریشن خون زیادہ ضائع ہونے کی بناپر حددرجہ نقاہت تھی لیکن دماغی حالت اطمینان بخش تھی اورسب کو اچھی طرح پہچان رہا تھا، پھرجتنی تیزی کے ساتھ کمزوری رفع ہوئی کہ خودمیں حیران ہوں آپریشن کے تیسرے دن سہارے کے ساتھ باتھ روم جانے بھرکی طاقت پیداہوگئی حتی کہ آپریشن کے صرف تین دن بعدالحمدللہ اس قدر طاقت بحال ہوچکی تھی کہ میں بسترپر لیٹے لیٹے نماز پڑھنے کے قابل ہوگیا، جب کہ اس سے قبل ضعف ونقاہت ،وقتی غشی اور طہارت کے عدم اہتمام کی بناپر اس سے قاصرتھا،I.C.U.میں میرے بغل کے ایک بیڈ پر ایک بزرگ عراقی شہری دل کا آپریشن کرانے کے بعدصاحب فراش تھے، ان کو انگریزی نہیں آتی تھی اورعملہ میں کوئی بھی عربی سے واقف نہ تھا سوائے ایک کشمیری مسلمان ڈاکٹر کے، ان کی عدم موجودگی میں‘ میں ان مذکورہ بالا عراقی مریض اور نرسوں کے درمیان رابطہ کا کام کرنے لگا اورترجمانی کے فرائض انجام دینے لگا، تیسرے دن غالبا بعدنماز ظہرمجھے پرائیوٹ وارڈ کے علیحدہ وآراستہ روم میں منتقل کردیا گیا اور شام کو ایک ڈاکٹر نے مجھے خوش خبری سنائی کہ آپ اب ہرطرح خطرہ سے باہر اور روبہ صحت ہیں اورصرف تین دن بعدگھرجاسکتے ہیں۔
اس درمیان میرے قریبی اعزہ مختلف جگہوں سے مجھے دیکھنے کے لئے آتے رہے اوردور ونزدیک کے لوگوں کا تانتا بندھا رہا ،میری بیٹی وداماد آگرہ سے آکر کئی روز مقیم رہے، میرے بہنوئی اشفاق احمد صاحب اورہونے والے سمدھی آفاق احمدصاحب آپریشن کے دن ہی آگئے تھے اور اخیر تک مقیم رہے ،میرے دوسرے سالے عزیزم شہاب سلمہ اورہونے والے داماد اوربھتیجہ عزیزم کامران سلمہ لکھنؤ سے آئے تو دلی میں موجود ہمارے عزیزوں کی آمد ورفت اورعیادت کا سلسلہ لگارہا ،میری بڑی بیٹی جواس وقت اپنے شوہرکے ساتھ کویت میں مقیم ہے، بڑی ہی فکرمندی کے ساتھ برابرفون پر احوال وکوائف اورآپریشن کی تفصیلات معلوم کرتی رہی، اورمستقل میری صحت یابی کے لئے دعائیں کرتی رہی،میری فرض شناس اہلیہ نے بھی خدمت وغمگساری اورایثار وقربانی کا حق اداکردیا اورایک ہفتہ اسپتال میں بغیرسحری کے روزہ رکھتے ہوئے اپنا فرض منصبی اداکیا،اسپتال کے ضابطہ کے تحت باہرسے کوئی بھی خوردونوش کی چیزلانے کی اجازت نہ تھی لیکن اس کے باوجودانھوں نے روزہ رکھ کر اپنا شرعی ودنیاوی دونوں طرح کے حقوق کی ادائیگی میں انصاف کیا،غرض کہ دور ونزدیک کے سارے اعزہ امید وبیم کی کیفیات کے ساتھ ایک دوسرے کو دعاؤں کے لئے برابرتلقین کرتے رہے اوراسپتال میں موجود میرے تیمارداروں سے تازہ ترین صورت حال دریافت کرتے رہے، جماعت کے معروف عالم دین اورملک گیر شہرت کے حامل ادارہ ابوالکلام آزاد اسلاملک اویکننگ سنٹر کے صدرمولانا عبدالحمید رحمانی ؍حفظہ اللہ اس دوران دوباربغرض عیادت تشریف لائے اوردعائے صحت سے نہ صرف خود نوازابلکہ اپنے اداروں میں بھی دعاؤں کا اہتمام کرایا اوارپنی گہری وابستگی اورفکرمندی کا اظہارکیا۔فجزاہ اللہ خیراً.
ہمارے جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈانگرکی عظیم الشان جامع مسجد،اس کی شاخوں کی مساجد اورہمارے آبائی گاؤں کدربٹوا وقرب وجوار ومضافات کی مساجد میں بھی دعاؤں کااہتمام ہوا، بالخصوص جھنڈانگرکی مسجد میں اساتذہ وکارکنان جامعہ اورمصلیان مسجد نہ صرف صحت یابی کے تئیں فکرمند تھے بلکہ نمازوں میں اجتماعی دعائیں دل کی گہرائیوں سے کرتے رہے اورہمارے قریبی وباخبرلوگوں سے دریافت حال کرتے رہے، ہمارے اساتذہ میں سے بالخصوص مولاناعبدالمنان سلفیؔ ،جوجامعہ کے وکیل الجامعہ ومدیرماہنامہ السراج کے علاوہ جامعہ کی جامع مسجد کے مستقل خطیب ہیں اسی طرح مولاناخورشید احمدسلفی جو شیخ الجامعہ کے علاوہ جامعہ کی جامع مسجد کے امام ہیں ان دونو ں نے بارہا نمازوں میں دعائے صحت کی اپیل کی، اسی طرح اول الذکر نے اردواخبارات میں کئی بارمیری صحت وعافیت سے متعلق تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے قارئین سے دعائے صحت کی اپیل کی، انھیں اخبارات کے ذریعہ دورونزدیک کے پرسان حال کو تازہ ترین حالات بھی معلوم ہوتے رہے اوروہ برابردعاؤں میں بھی مصروف رہے، ملک کے دوردراز علاقوں اورغیر ممالک میں موجود ہمارے بہی خواہوں وہمدردوں اورکرم فرماؤں نے گہری عقیدت ووابستگی کا اظہارکیا اور خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا، اورخلاصہ یہ کہ اللہ رب العزت مالک کون ومکاں اورمالک موت وحیات نے مجھ عاجز وخطا وار کو جو صحت وعافیت سے نوازا اورحیات نوعطاکی اس میں ہمارے اعزہ واقرباء کی دعائے نیم شبی اوررمضان المبارک کی بابرکت ساعات اورقبولیت دعا کے اوقات میں ہمارے کرم فرماؤں کے دلوں کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دعاؤں کا سب سے بڑا اثرہے، اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو جزائے خیرسے نوازے، میں فرداًفرداً ان سبھوں کا شکریہ اداکرنے سے قاصرہوں، چنانچہ ان سطور کے ذریعہ اپنے دلی جذبات اورتشکر وامتنان کااظہار کرتے ہوئے مکمل صحت یابی تک ان سے دعاؤں کاخواستگار ہوں۔

OCTOBER-2010مولانا خیراللہ اثری کا سانحۂ ارتحال

عبدالمنان سلفی

ماہنامہ ’’ السراج‘‘ کے آفس سکریٹری اور سرکولیشن مینیجر

مولانا خیراللہ اثری  کا سانحۂ ارتحال

۲۲؍رمضان المبارک ۱۴۳۱ھ ؁ مطابق ۲؍ ستمبر۲۰۱۰ء ؁ بروزجمعرات ‘ میں جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر کی جامع مسجد میں ظہر کی نماز اداکرکے فارغ ہوا،مسجدہی میں میرے کرم فرما دوست الحاج آفاق احمد عرف چرچل صاحب مل گئے جومحترم ناظم جامعہ حفظہ اللہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے تھے،مسجد سے نکل کرچند منٹ دفترمیں ان کے ساتھ گذارکرجیسے ہی میں اوپراپنی رہائش گاہ پہونچا میرے موبائل فون کی گھنٹی بجی مگرخراب نیٹ ورک کے سبب جیب سے موبائل نکالتے نکالتے رابطہ منقطع ہوگیا، دیکھا تواسکرین پر’’خیراللہ اثری‘‘ لکھا تھا، کمرہ سے باہرنکل کرمیں نے فوراً کال بیک کیا تاکہ نیٹ ورک مل جائے اوربات ہوسکے، گھنٹی بجی اورفون ریسیوہوا، میں نے سلام کیا، جواب دیا گیا مگرآواز برادرم مولاناخیراللہ اثری کے علاوہ کسی اورکی تھی، فون ریسیو کرنے والے صاحب نے اپنا تعارف کرایا ’’میں عبدالرحیم امینی بول رہا ہوں‘‘ اوردوسرے ہی لمحہ یہ وحشت ناک خبرمیری سماعت سے ٹکرائی کہ’’مولانا خیراللہ کامدراس میں انتقال ہوگیا‘‘ سن کرکلیجہ دھک سے ہوگیا،مجھے اپنے کانوں پریقین نہ آیا، میں نے حواس باختہ ہوکرپوچھا آپ کیاکہہ رہے ہیں؟ امینی صاحب نے وہی بات دہرائی، میرا وجود لرزنے لگا اورانا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے میں نے مختصر سوال کیا کہ کیسے؟ اس لئے کہ اس ناگہانی خبرپر اول وہلہ میں مجھے کسی سفری حادثہ کا شبہ ہوا،جواب میں امینی صاحب نے بتایا اچانک اورآنافاناً، دوروز قبل انھیں معمولی بخارآگیا تھا اورپیچش کی شکایت تھی، یہ بتاتے ہوئے امینی صاحب نے مجھ سے پوچھ لیا کہ کیا کیا جائے؟ جلدی بتایئے، میں نے جواب دیا کہ بغیران کے گھروالوں سے مشورہ کئے ہم تنہا کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے، اورفون بند ہوگیا، میں نے جامعہ کے دفتری ماسٹرعبدالحسیب صاحب کو فون کیا جوجامعہ ہی کے ایک کام سے چنروٹہ تھے،چند منٹ پہلے انھیں اس حادثہ کی اطلاع برادرم مولاناعبدالواجد فیضی کے فون سے ہوچکی تھی، میں نے انھیں فوراً جامعہ پہونچنے کی ہدایت کی، اس کے بعد مولانا عبدالواجد فیضی کو فون کیا، فون ریسیوکرتے ہی وہ رونے لگے،پھر میرے ضبط کا بندھن بھی ٹوٹ گیا اور ہم دونوں کی ہچکیاں بندھ گئیں،بالآخر میں نے دل پر پتھر باندھ کر کہا’’میرے بھائی! اب صبرکریں ،کیا کرناہے اس پر غورکریں اور سردست آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ مولاناخیراللہ اثری رحمہ اللہ کے گھر فوراً پہونچ کران کے بچوں کو سنبھالیں‘‘، میں نے نہ چاہتے ہوئے محترم ناظم جامعہ سے مل کر مناسب تمہید اورحکمت عملی کے ساتھ انھیں بھی اس حادثہ سے باخبر کیا، موصوف ان دنوں صاحب فراش تھے اور محض چند دنوں قبل دل کا بائی پاس آپریشن کراکے واپس آئے تھے اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مکمل آرام کررہے تھے، مگرادارہ سے متعلق اس حادثہ سے باخبر کرنابھی ضروری تھا، موصوف نے غم وافسوس کااظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان کے اہل خانہ ان کاجنازہ گھرلانے کے خواہش مند ہیں تونعش لائی جائے، اس سلسلہ میں جوبھی اخراجات ہوں گے ادارہ برداشت کرے گا، اس سے ہمیں بڑاسکون ملا اورآگے فیصلہ کرنے میںآسانی ہوئی۔
پھرمدراس، دہلی اور ممبئی کے احباب نیز دیگر مخلصین سے برابر رابطہ کر کے مشورہ لیتا رہا ،بالآخر مولانا عبدالواجدفیضی اور بعض دیگر احباب کی رائے پر مولانا اثری رحمہ اللہ کا جنازہ وطن لانے کی بات مدراس کے اخوان جماعت کے سامنے رکھی گئی،مگر بعض قانونی پیچیدگیوں نیز صحیح شرعی نقطۂ نظر کے پیش نظر قبیل مغرب ہم سب نے مدراس کے اخوان جماعت کوانھیں مدراس ہی میں دفن کرنے کی اجازت دے دی ،چنانچہ بعدنماز عشاء ہزاروں فرزندان توحیدنے مسجد مبارک(اہل حدیث) دھوبی پیٹ میں ان کی نماز جنازہ اداکی اورقریبی قبرستان میں ان موحدین نے اپنے غریب الدیاربھائی کو سپردخاک کر دیا اور تدفین سے فراغت کے بعدان سب نے تراویح کی نماز اداکی ،انا للہ واناالیہ راجعون۔
برادرم مولاناخیراللہ اثری جامعہ سراج العلوم کی سفارت کے سلسلہ میں جنوبی ہند کے دورہ پرتھے، وہ ہم ساتھیوں میں نسبتاً نہایت تندرست اورصحت مند تھے، انھیں سگر، بلڈپریشر، یاقلب وغیرہ سے متعلق کوئی مزمن اور مہلک بیماری نہ تھی، سفرپر روانہ ہونے سے قبل رمضان کے پہلے عشرہ میں وہ جامعہ تشریف لائے تھے، دوشب انھوں نے یہاں قیام کیا تھا اور پوری طرح چاق وچوبند اورنشیط تھے، تاہم جاتے جاتے انھوں نے ماسٹر عبدالحسیب صاحب سے یہ کہہ دیا تھا کہ’’ اب’’السراج‘‘ کی ذمہ داری مجھ سے نہ اٹھائی جاسکے گی اس لئے اس کام کے لئے کوئی آدمی تلاش کرلیجئے‘‘، اوربالآخر ان کی بات پوری ہوگئی اوراس ذمہ داری سے وہ ہمیشہ کے لئے دست کش ہوکرہم سے رحضت ہوگئے۔
مولاناخیراللہ اثری جامعہ سراج العلوم السلفیہ کے قدیم ،فرض شناس ،بااصول اورمخلص استاد اورکارکن تھے، خطیب الاسلام علامہ عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ کے دورنظامت میں ان کی تقرری ۱۹۹۸ء ؁ میں ماہنامہ’’السراج‘‘ کے آفس سکریٹری اورمیرے معاون کے طورپر ہوئی تھی پھرکچھ ہی دنوں بعد شعبۂ عربی کی بعض گھنٹیوں کی تدریس بھی موصوف کے ذمہ کردی گئی، اس طرح موصوف تقریباً ۱۳؍برسوں تک جامعہ کی خدمت کرتے رہے بلکہ خدمت کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے، اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔(آمین)
مولاناخیراللہ اثری اسم بامسمّی اورسراپا خیرتھے،وہ ٹھاٹ باٹ اورکروفر سے کوسوں دوررہتے تھے، میرے اپنے اندازے کے مطابق ان کی پیدائش ۱۹۵۰ء ؁ سے ۱۹۵۴ء ؁ کے درمیان کی ہوگی، مڑلا، بنگائی ضلع روپندیہی نیپال میں انھوں نے جناب رحمت اللہ کے گھرمیں آنکھیں کھولیں اورجلد ہی ماں اورباپ دونوں کی شفقت سے محروم ہوگئے، ابتدائی تعلیم آبائی وطن ’مڑلا ‘اور ضلع مہراج گنج کے’ ببھنی‘ گاؤں میں ہوئی، ان کی ہمشیرہ (جو عمر میں ان سے بڑی تھیں)کی شادی ہندوستان کے سرحدی ضلع مہراج گنج میں آنندنگر۔نوتنواں روٹ کے اسٹیشن لچھمی پورکے قریب’’ بنواٹاری‘‘ بستی میں ہوئی تھی، شفقت پدری ومادری سے محروم ہونے کے بعدان کی ہمشیرہ نے انھیں سنبھالا اوراپنے ساتھ انھیں ’’بنواٹاری‘‘ لے گئیں اوران کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری احسن طریقہ سے نبھائی، موصوف نے جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ اورجامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ میں تعلیم پائی اور آخرالذکر ادارہ سے سند فراغت حاصل کی، فراغت کے وقت ان کی عمر بہت کم تھی اس لئے مزید تعلیم حاصل کرنے کا خیال ان کے دل میں آیا، جامعہ سلفیہ بنارس بھی گئے تھے مگرچند دنوں بعدوہاں سے چلے آئے، پھرجامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر آکر آٹھویں جماعت میں داخل ہوگئے اور یہاں سے بھی سندفراغت حاصل کی۔
آپ کی ہمشیرہ اوربہنوئی محمدمقیم صاحب نے آپ کاہرطرح خیال رکھا، تعلیم سے آراستہ کرنے کے بعد آپ کی شادی بھی کرائی اوراپنے گھر کئی سالوں تک رکھا، کافی دنوں بعدمولانااثری نے نیپال میں اپنی زمین جائیداد فروخت کرکے اپنی بہن ہی کے گاؤں بنواٹاری میں زمین خرید کر ایک مکان بنایا اوربچوں کے ساتھ اس میں سکونت پذیرہوگئے۔
فراغت کے بعد علاقہ ہی کے کسی مدرسہ میں تدریسی فریضہ انجام دیا، پھر۱۹۸۰ء ؁ میں دہلی کے اندرجب مولاناعبدالحمید رحمانی حفظہ اللہ نے معہدالتعلیم الاسلامی کی داغ بیل ڈالی تو اس کے ابتدائی مدرسین اورکارکنوں میں مولانا عبدالعزیز سلفی، مولاناعبدالواجد فیضی(ماہنامہ نوائے اسلام) کے ساتھ مولانا خیراللہ اثری بھی تھے، ۱۹۹۴ء۔۱۹۹۳ء کے تعلیمی سال میں جب بحیثیت مدرس میری بھی تقرری معہد میں ہوئی توکم وبیش ایک برس ان کے ساتھ رہنے کا موقعہ ملا، مگرجلد ہی یہ تینوں حضرات ایک ساتھ معہد سے علیحدہ ہوگئے اورچاہ رہٹ کی ایک مسجد میں فروکش ہوکر وہاں سے ماہنامہ’’ نوائے اسلام‘‘ کااجراء کیا، مولانا عبدالعزیز سلفی(عزیزعمرسلفی) پرچہ کے مدیرمسؤل ،مولاناعبدالواجد فیضی نائب مدیر اورمولاناخیراللہ اثری (ابن رحمت اثری) معاون مدیر مقررہوئے، اوران تینوں نے بڑی جانفشانی اور محنت سے نوائے اسلام کو پورے ہندوستان اورنیپال میں متعارف کرایا، جولوگ انھیں قریب سے جانتے ہیں انھیں پتہ ہے کہ یہ انھیں تینوں کا حوصلہ بلکہ ناقابل تسخیرعزم تھا کہ سخت ناموافق حالات سے یہ قطعاًنہ گھبرائے اور اللہ کے فضل و احسان کے بعداپنے خلوص، اخلاق اور بے پناہ محنت اورلگن کے سبب مقصد میں کامیاب ہوئے، اس راستے میں انھو ں نے کیا کیا مصیبتیں جھیلیں؟ کتنی مخالفتوں کا سامنا کرناپڑا؟ چاہ رہٹ کی مسجد میں کتنی راتیں ان تینوں نے بغیرکھائے پئے گذاریں ؟یہ لمبی داستان ہے، اس کے ذکر کی نہ یہاں ضرورت ہے نہ موقع،برادرم مولانا خیراللہ اثری کے سلسلہ میں لکھتے ہوئے یہ باتیں بے ساختہ نوک قلم پرآگئیں۔
بھوکے پیاسے، معاوضہ اورتنخواہ سے بے نیازیہ تینوں دیوانے ایک مقصد کے لئے کئی برس لگے رہے،مگر بعد میں مولاناخیراللہ اثری کے لئے بلاتنخواہ رہنا مشکل ہوگیاکہ وہ بال بچوں والے تھے اور بہن بہنوئی کے یہاں رہتے تھے، مجبوراً اپنے رفیقوں کا ساتھ چھوڑا اور وطن آکر غالباً ببھنی مدرسہ میں ملازمت کرلی۔
دوسال معہد میں گذارکر جب میں مدرسہ قاسم العلوم گلرہا بلرام پورآیا تووہاں شعبۂ عالیہ میں ایک مدرس کی جگہ خالی ہوئی، میں نے مولاناخیراللہ اثری کو بلالیا ،ان کی تقرری ہوگئی اور سرکاری اسکیل کے مطابق ان کی تنخواہ جاری ہو گئی، واضح رہے کہ یہ مدرسہ حکومت اترپردیش سے امدادیافتہ ہے ، کم وبیش چار پانچ برس وہاں وہ میرے ساتھ جماعت رابعہ اورخامسہ تک کتابیں پڑھاتے رہے۔
تعلیمی سال۹۰۔۱۹۸۹ء میں جب میں قاسم العلوم سے علیحدہ ہوکر ماہنامہ نورتوحید جھنڈانگرسے وابستہ ہوا اور مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ میں پڑھانے لگا توچندماہ بعدمولانااثری نے بھی اپنی سرکاری ملازمت چھوڑدی اورکہا کہ میں ’’آپ کے بغیر گلرہا نہ رہ سکوں گا‘‘، پھر وہ مولانا عبدالحفیظ ندویؔ کی نظامت میں چلنے والے ادارہ المعہد الاسلامی بڈھی ضلع سدھاتھ نگر چلے گئے اوربزرگ عالم دین اور معروف مدرس اور شاعر مولانا عبدالشکور دورؔ صدیقی رحمہ اللہ کے ساتھ وہاں دوایک برس پڑھاتے رہے، ادھرماہنامہ نورتوحید میں مجھے اپنی معاونت کے لئے کسی تجربہ کار اور پڑھے لکھے شخص کی ضرورت پیش آئی ، ان پرنظر پڑی اورمشورہ کے بعدانھیں بلالیا گیا۔
شوال ۱۴۱۶ھ مطابق مارچ۱۹۹۶ء ؁ تک میں ماہنامہ نورتوحید اورمدرسہ خدیجۃ الکبریٰ جھنڈانگرسے وابستہ رہا، تب تک یہ بھی وہاں رہے، مگرجب شوال ۱۴۱۶ھ ؁ میں راقم وہاں سے علیحدہ ہواتوکچھ دنوں بعدموصوف نے بھی اپنا بوریہ بستر باندھ لیا اورالدارالسلفیہ کولہوئی مہراج گنج میں پڑھانے لگے اورتعلیم کے ساتھ بحیثیت صدرمدرس وہاں کے نظم وانصرام کو بھی سنبھالا۔
یکم صفر ۱۴۱۷ھ مطابق ۱۶؍جون۱۹۹۶ء ؁ میں میری تقرری جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر میں ہوئی، ۱۹۹۸ء ؁ کے اوائل میں میرے معاون مولوی خورشید احمدسراجیؔ بغرض ملازمت قطرچلے گئے، توبعض اساتذہ کے مشورہ سے ماہنامہ’’السراج‘‘ کے آفس سکریٹری، پرو ف ریڈر اور سرکولیشن منیجر کے طورپر ان کی تقرری ہوئی اوراس وقت سے آخری دم تک وہ جامعہ کی خدمت پورے خلوص، محنت اورلگن کے ساتھ کرتے رہے۔
مولانا خیراللہ اثری کومیں تقریباً ۳۰؍سالوں سے جانتا ہوں اور اس مدت میں کم وبیش ۲۵؍برس ان کے ساتھ رہنے اورانھیں قریب سے دیکھنے اوران کی صلاحیتوں کوجاننے کاموقعہ ملا، وہ اسم بامسمی نہایت شریف النفس انسان تھے ،قداورکاٹھی تومعمولی تھی مگر اللہ نے انھیں بے شمار صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا، سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ایک بالغ نظر،فرض شناس، بااصول اورمحنتی شخص تھے، اپنی ذمہ داری احسن طریقہ سے انجام دینے کی کوشش کرتے تھے، تدریس اورتربیت مقدس پیشہ ضرورہے،مگریہ مشکل اور پتّہ ماری کا کام ہے، موصوف ان دونوں میں کامیاب تھے، تدریس کے گُر سے انھیں بخوبی واقفیت تھی ، جوپڑھاتے طلبہ کے ذہن میں نقش کردیتے تھے، انتقال کے بعد ان کے کئی شاگردوں نے جن میں بعض فارغ ہوچکے ہیں اس کی شہادت دی ہے، طلبہ کی تربیت بھی وہ سلیقہ سے کرتے تھے، بابو، بھیہ کہہ کر انھیں سمجھاتے، اگرناراض بھی ہوتے توکبھی آپے سے باہر نہ ہوتے ۔
جہاں تک مضامین اورکتابوں کے پروف پڑھنے اوراصلاح کی بات ہے توکم ازکم میں نے اتنا باریک بیں پروف پڑھنے والا اپنی زندگی میں نہیں دیکھا ہے، ہم اگرکسی تحریر کو دس بار بھی پڑھ کر اصلاح کرتے اورآخری بار ان کی نظر اس پر پڑتی توپوراصفحہ سرخ ہوجاتا، اورکچھ توبڑی فاش غلطیاں سامنے آتیں، یہی وجہ ہے کہ ہم لوگ کوئی بھی اہم تحریرانھیں دکھائے بغیر چھپنے کو نہ بھیجتے تھے، بالعموم حضرات علماء کرام لکھنے میں کوما، فل اسٹاپ، ندائیہ، اورسوالیہ رموزاوراشاروں کااہتمام کم کرتے ہیں، مگر مجال کیا تھی کہ مولانا خیراللہ کے سامنے سے کوئی تحریر ان کمیوں کے ساتھ نکل جائے، وہ اس پر سخت نکیر کرتے تھے، اردوقواعد پر بھی وہ گہری نظررکھتے تھے، بلکہ تذکیروتانیث کے سلسلہ میں ہم انھیں مرجع تصور کرتے تھے، وہ بتاتے اورحوالہ کے طورپر مستند اردوفارسی لغت کی کتاب بھی دکھاتے، کسی کی تحریر میں کوئی جھول ہوتا یا کوئی جملہ سمجھ میں نہ آتا تواس پر نشان لگاکرپوچھتے، ہم اپنے طورپر اس کو درست کرتے اوراگروہ مطمئن نہ ہوتے توہم ان کے اعتراض سے دامن بچانے کے لئے اسے حذف کرنے ہی میں عافیت سمجھتے۔
ان کے علاوہ ہمارے رفقاء میں جنرل نالج کی معلومات انھیں سب سے زیادہ تھی، تاریخ، جغرافیہ، کھیل، کھلاڑی، ٹرینوں کی آمدورفت کا شیڈول، روٹ اوراوقات کی انھیں پوری جانکاری رہتی تھی اوربلاجھجھک وہ ہرمسئلہ حل کردیتے تھے، بہرحال میرے مخلص دوست اورمعاون مولاناخیراللہ اثری اپنی ان متعدد اورگوناں گوں خوبیوں ،صلاحیتوں اور اصول پسندی کے سبب ہم سب کی نظروں میں تو محترم تھے ہی بعض بڑے نامورعلماء بھی ان سے محبت کرتے تھے۔
برادرم مولانااثری ہماری اپنی مادری زبان کے اعتبارسے بچوں کے ’’گُدیا‘‘ تھے اوراساتذہ واسٹاف کے بچوں سے بھرپورمحبت کرتے تھے، خصوصاً میرے بچوں کو انھوں نے کبھی یہ احساس نہ ہونے دیاکہ وہ ان کے حقیقی اور سگے چچانہیں ہیں، وہ سب کوکھلاتے، گودلیتے اورپیارکرتے، میرے چھوٹے بچے،پوتے پوتیاں اور نواسے اگرکسی روزکسی وجہ سے ان کے پاس نہ پہونچ پاتے توکسی کے ذریعہ منگالیتے یا خودگھر پہونچ کرلے آتے، جب وہ مدرسہ میں رہتے توہم اہل خانہ بچوں کے سلسلہ میں مطمئن رہتے کہ بچے اگر نیچے کھیل رہے ہیں تو چچاکی نظرمیں ہوں گے، ان کی یہی محبت تھی کہ جب میں نے باچشم نم بچوں کوان کے سانحۂ ارتحال کی خبردی توچھوٹے بڑے سب پھوٹ پھوٹ کر روپڑے اورگھرمیں کہرام سامچ گیا، اورشام کو تعزیت کے لئے جب میں اہلیہ اور جامعہ کے بعض اساتذہ و اسٹاف کے ساتھ ان کے گھر جانے کے لئے تیار ہواتو اکثر بچے اوربچیاں ان کے گھرجانے کے لئے بہ اصرار تیار ہوگئے۔
یہ حسن اتفاق ہی کہاجائے گا کہ گذشتہ سال برادرم مولاناخیراللہ اثری ،برادرم مولانا عبدالواجد فیضی اور راقم نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ حج بیت اللہ کا پروگرام بنایا، ہم تینوں کا سفرآگے پیچھے ہوا،مگر رہائش ایک ہی علاقہ میں رہی اور ہمیں حرم مکی میں بیشتراوقات ایک ساتھ گذارنے کی سعادت حاصل ہوئی، میرے ساتھ میراشیرخواربچہ سعدسلمہ بھی تھا جو پہلے سے مولانا اثری سے مانوس تھا، حرم شریف میں اس کی دیکھ ریکھ کی پوری ذمہ داری مولاناخیراللہ اثری ہی کے سر تھی جس سے ہمیں بڑاسکون ملا، اسی طرح حرمین شریفین خصوصاً مدینہ طیبہ میں قیام کے دوران آں رحمہ اللہ نے مولانا عبدالواجد فیضی کی زبردست خدمت ومعاونت فرمائی، اللہ تعالیٰ ان کی خدمات قبول فرمائے، ان کی بشری خطاؤں اور لغزشوں کودرگذر کرے اور ان کی مغفرت فرماکر اعلیٰ علیین اورجنت الفردوس میں جگہ دے۔(آمین)
مولاناخیراللہ اثری کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اورپانچ بیٹیاں ہیں ،بڑے بیٹے عاصم سلمہ، حافظ قرآن اورجامعہ خیرالعلوم ڈمریا گنج سے فارغ ہیں ، ان کا داخلہ خوش قسمتی سے جامعۃ الامام محمدبن سعود الإسلامیۃ،ریاض اورجامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ دونوں جگہ ہوا، مولانااثری بہت خوش تھے اورہم لوگوں سے مشورہ کے بعدجامعہ اسلامیہ بھیجنے کا فیصلہ کرچکے تھے، مگرکسے پتہ تھاکہ بیٹے کے روانہ ہونے سے پہلے وہ خودہی رخصت ہوجائیں گے، عاصم سلمہ جلدہی جامعہ اسلامیہ جانے والے ہیں،بڑی بیٹی یاسمین کلیہ عائشہ صدیقہ جھنڈانگرمیں فضیلت سال آخرکی طالبہ ہے اوردیگر بچے اوربچیاں بھی تعلیم کی راہ میں ہیں، اللہ تعالیٰ ان سب کی حفاظت فرمائے اورانھیں علم کی دولت سے نواز کر مولانااثری کے لئے صدقہ جاریہ بنائے۔(آمین)اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ واکرم نزلہ ووسع مدخلہ۔
*استاد گرامی مولاناخیراللہ اثری گوناں گوں خوبیوں کے مالک تھے، حسن اخلاق کے اعتبار سے بھی وہ ممتاز تھے، ان کے پڑھانے کا انداز بھی بہت نرالاتھا، خاص طورپرجماعت رابعہ میں ترجمۂ قرآن جب پڑھاتے توایک ایک آیت کی اس طرح تفسیر بیان کرتے کہ ہم طلبہ کہنے پہ مجبور ہوجاتے کہ کورس میں ترجمہ داخل ہے یاتفسیر؟(فیروز احمد،جماعت سادسہ)
*استاد محترم سے میں نے پانچ سال تک مسلسل استفادہ کیا اورجماعت اولیٰ سے خامسہ تک ان سے مختلف علوم وفنون کی کتابیں پڑھیں، آپ ایک باکمال استاد اورمشفق مربی ہونے کے ساتھ باحوصلہ اور خوش مزاج انسان تھے، آج درسگاہ یاماہنامہ’’السراج‘‘ کے دفترسے گذرتے ہوئے ان کی یاد دل کوتڑپاتی ہے، اللہ تعالیٰ ان کی خدمات قبول فرمائے۔آمین۔(محمداسحٰق افضل حسین، عالمیت سال آخر)
*استاد محترم الحاج مولاناخیراللہ اثری رحمہ اللہ کی وفات سے ہمیں سخت صدمہ ہوا، آپ بڑے مشفق استاد اور مربی تھے، جوپڑھاتے محنت سے پڑھاتے اورسبق ہم طلبہ کے ذہن میں بٹھادیتے ۔
(حافظ نصیب اللہ، عالمیت سال آخر)
*استاد مکرم مولاناخیراللہ اثری صاحب کے اچانک رحلت فرماجانے کا مجھے صدمہ ہے، آپ اچھے اخلاق کے خوگر مثالی استاد تھے۔(شفیق الرحمن ،عالم آخر)
*ہمارے استاد اثری صاحب ،صاحب فضل وکمال انسان تھے، کئی سال ہمیں ان سے استفادہ کاموقعہ ملا، وہ بڑی شفقت کا برتاؤ کرتے۔(شمس القمر ،عالم سال آخر)
*استا دمحترم کی اصول پسندی اورحسن اخلاق سے میں بیحد متاثر ہوں،ان کی وفات کا ہمیں بہت غم ہے اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔(آمین)(وسیم اختر، عالم سال آخر)

OCTOBER-2010 جامعہ سراج العلوم کے ناظم اعلیٰ کو ایوارڈ:

عبدالمنان سلفی


جامعہ کے روزوشب

جامعہ سراج العلوم کے ناظم اعلیٰ کو ایوارڈ:

نیپال کے قومی یوم تعلیم اور بین الاقوامی یوم فروغ تعلیم کے موقعہ پر ۸؍ستمبر۲۰۱۰ء کوضلع شکچھا کاریالیہ کپل وستو کے زیر اہتمام تولہوا میں منعقد ایک خصوصی پروگرام میں ملک کے سب سے قدیم اور مرکزی تعلیمی ادارہ جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر کے ناظم مولانا شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ کونیپال میں تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں نمایاں خدمات انجام دینے کے لئے نیپال کی وزارت تعلیم کی جانب سے ایوارڈ دے کر تعلیم کے میدان میں ان کی گراں قدر خدمات کو سراہا اور ان کی کوششوں کا کھل کر اعتراف کیا گیا۔ مولانا شمیم احمد ندویؔ اپنی علالت کے باعث خودایوارڈ وصول کرنے نہ جاسکے ، ان کی نمائندگی کرتے ہوئے راقم عبدالمنان سلفیؔ اور آفس سکریٹری ماسٹرعبد الحسیب صاحب نے پروگرام میں شرکت کی اور تقریب کے مہمان خصوصی عالیجناب لکچھمن کمار تھاپا(C.D.O.) چیف ضلع آفیسر، ضلع شکچھا ادھیکاری جناب ٹیگ بہادر تھاپا اور دوسرے معززین کے ہاتھوں راقم نے توصیفی سند اور ایوارڈ حاصل کیا، اس موقعہ پر راقم سطورنے اپنے مختصر خطاب میں نیپالی حکومت خصوصا وزارت تعلیم کا شکریہ ادا کیا جس نے اس اعزاز کے لئے نہایت موزوں اور مستحق شخصیت کا انتخاب کیا اور کہا کہ یہ انتخاب صحیح معنوں میں ’’حق بہ حقدار رسید ‘‘ کا مصداق ہے،اس کے بعد راقم نے تعلیم کے میدان میں مولانا ندوی کی اجمالی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا بچوں کے دینی تعلیمی ادارہ جامعہ سراج العلوم کی نظامت کے ساتھ ہی بچیوں کی تعلیم کے لئے کرشنا نگر میں قائم کلیہ عائشہ صدیقہ کی سرپرستی کررہے ہیں اور عصری تعلیم کے لئے ’’الہلال پبلک اسکول ‘‘ بھی نہایت کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں جونیپال کی وزارت تعلیم سے منظور شدہ ہے اور جہاں سرکاری نصاب کے مطابق انٹر میڈیٹ تک کی تعلیم دی جاتی ہے، اس کے علاوہ کمپیوٹر کی تعلیم کے لئے آپ کے ذریعہ کرشنا نگر میں ’’ السراج کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ‘‘ سرگرم عمل ہے، ساتھ ہی موصوف کئی دیگر مدارس اور اسکولوں کی سرپرستی کررہے ہیں، آخر میں راقم نے نیپال میں تعلیم کے فروغ کے لئے مدارس کے رول کا ذکر کیا اور تعلیم سے جڑے تمام شرکاء سے درخواست کی کہ آپ ایسے بچوں کو اسکول لانے کی کوشش کریں جو کسی وجہ سے اسکول نہیں آپارہے ہیں ،اس لئے کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی تعلیم کے بغیر نا ممکن ہے۔

بہر حال نیپالی حکومت کی جانب سے کسی عالم دین اور مدرسہ کے سربراہ کی یہ عزت افزائی قابل قدر ہے، جامعہ سراج العلوم کے جملہ اساتذہ کرام اور کارکنان کے علاوہ کئی اہم علمی شخصیتوں نے نے اس اعزاز پر ناظم جامعہ کو مبارک باد دی ہے ۔

ماہ رمضان المبارک میں تعلیم الصلاۃ کاپروگرام:

اس سال ماہ رمضان المبارک میں عصری اسکولوں میں زیرتعلیم طلبہ کے لئے راقم نے جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر کی جامع مسجد میں’’تعلیم الصلاۃ‘‘ پروگرام کاانعقاد کیا جس میں کرشنانگر اوربڑھنی کے عصری اسکولوں کے مسلم طلبہ نے پورے ذوق وشوق کے ساتھ شرکت کی اور نماز اور اس سے متعلق اذان، اقامت، وضو اورتیمم وغیرہ کے مسائل سیکھے، دعائیں یاد کیں، اورآخر میں ان کی عملی مشق بھی کی، اس مفید اوربامقصد پروگرام میں نمازکی تعلیم وتربیت کے سلسلہ میں راقم کے ساتھ مولانا وصی اللہ مدنی، مولانا عتیق الرحمن سراجی، مولوی عبدالخبیرسراجی، اور حافظ محمدلقمان صفوی نے تعاون کیا، اللہ تعالیٰ انھیں جزائے خیرعطا فرمائے۔

اس دس روزہ تربیتی پروگرام کے اختتام پر شریک طلبہ کی ہمت افزائی کے لئے توصیفی سند کے علاوہ تفسیر احسن البیان، منہاج المسلم، الرحیق المختوم ،صحیح اسلامی عقیدہ اورتحفۂ رمضان المبارک جیسی مفید کتابیں انعام میں دی گئیں ،تقسیم انعامات کی نشست میں مولانا خورشید احمد سلفی(شیخ الجامعہ) اورجناب محمود عالم خاں صاحب سابق ڈائرکٹرمحکمہ تعلیم نیپال نے اس پروگرام کو سراہتے ہوئے اسے بیحد مفیداورکامیاب قراردیا، اور آئندہ عامۃ المسلمین کے لئے بھی اس قسم کے پروگرام مثلاً تعلیم القرآن ،تعلیم الصلاۃ اورتعلیم الاخلاق والأداب و غیرہ منعقد کرنے کا مشورہ دیا۔

مسابقۂ حفظ قرآن کریم دبئی میں جامعہ کے طالب علم کی شرکت:

جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم عزیزم حافظ عبداللہ سلمہ نے پورے ملک کی نمائندگی کرتے ہوئے دبئی انٹرنیشنل مسابقۂ حفظ قرآن کریم ’’جائزۃدبئی الدولیۃ‘‘میں شرکت کی سعادت حاصل کی جن کی ترشیح اسلامی سنگھ نیپال کے ذریعہ ہوئی تھی، واضح رہے کہ دبئی کی وزارت اوقات ومذہبی امورکے زیراہتمام امیردبئی کے خرچ پر حفظ قرآن کریم کا یہ مسابقہ ہرسال منعقد ہوتا ہے جس میں دنیا کے متعدد ممالک کے حفاظ قرآن شریک ہوکر اعجازِ قرآن کا عملی مظاہرہ پیش کرتے ہیں، اس سال یہ مسابقہ ۱۵؍اگست ۲۰۱۰ء ؁ تا ۲۹؍ اگست ۲۰۱۰ء ؁ دبئی کے پانچ ستارہ ہوٹل’’ فلورا پارک‘‘ میں اپنی سابقہ روایات کے مطابق بڑے اہتمام سے منعقد ہواجس میں ۷۸؍ ممالک کے ۷۸؍حفاظ کرام نے شرکت کی اور الجزائر اوربنگلہ دیش کے خوش قسمت حفاظ بالترتیب پہلے اور دوسرے انعامات کے مستحق قرارپائے، جامعہ سراج العلوم جھنڈانگر کے ایک ہونہار طالب علم عزیزم عبداللہ بن عظمت اللہ سلمہ کو بھی اس میں شرکت کا موقعہ ملا، آں عزیز نے ۲۰۰۷ء میں جامعہ کے شعبۂ حفظ سے حفظ قرآن کی تکمیل کی اس کے بعدشعبۂ عربی میں داخل ہوئے اوراس سال وہ ثانویہ سال آخرکے طالب علم ہیں ، ۷۸؍ ممالک کے نامورحفاظ اورقراء میں ان کی کوئی پوزیشن تونہ آئی تاہم ان کی کارکردگی بہتراوراطمینان بخش رہی اورمیرٹ کی بنیاد پر انھیں مسابقہ کمیٹی کی طرف سے 34285 درہم680000) روپئے نیپالی( کی خطیررقم انعام میں دی گئی، اس خبرسے جامعہ کے ذ مہ داران ،اساتذہ وکارکنان کو دلی مسرت حاصل ہوئی، اللہ تعالیٰ آں عزیز کومستقبل میں بھی اسی قسم کی کامیابیوں سے ہم کنار کرے اورانکا مستقبل مزیدروشن اورتابناک بنائے ۔ (آمین)