Sunday, June 20, 2010

ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ جماعتی وذاتی اخلاق کے تناظرمیں apr-jul 2010

مولاناابوالعاص وحیدیؔ
پرنسپل جامعہ عربیہ قاسم العلوم ،گلرہا،بلرامپور

ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ
جماعتی وذاتی اخلاق کے تناظرمیں
اس عالم فانی میں حیات وموت کا سلسلہ جاری ہے، روزانہ بیشمار لوگ پیدا ہوتے ہیں اوران گنت افراد موت کے آغوش میں چلے جاتے ہیں، رفت وبودکے یہ مناظر سب کے سامنے ہیں، بہت سے لوگ پیداہوئے ،پلے اوربڑھے اورضروریات زندگی کی تکمیل کرکے راہی ملک عدم ہوگئے اوردوسرے لوگ جوابھی زندہ ہیں اپنی افتا وطبع کے مطابق حصول مقاصد میں لگے ہوتے ہیں، دراصل یہ خدائی نظام کاکرشمہ ہے جوقیامت تک جاری وساری رہے گا، قرآن کریم میں ایک مخصوص پس منظرکے ساتھ اس الٰہی نظام کاذکرکیا گیاہے:۔
(من المؤمنین رجال صدقوا ماعاھدوا اللہ علیہ فمنھم من قضی نحبہٗ ومنھم من ینتظر ومابدلوا تبدیلا)(الأحزاب:۲۳)
مومنین میں کچھ ایسے لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا ہواعہد سچ کردکھایا، ان میں سے بعض لوگوں نے اپناعہد پوراکردیا، اوربعض منتظرہیں، اورانھوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔
حیات وموت کے اس اٹل خدائی نظام کے تحت ہرسال ملّی وجماعتی سطح کی بڑی بڑی شخصیات رخصت ہوجاتی ہیں اوراپنے پیچھے بہت سے دینی وعلمی اورفکری وادبی آثار ونقوش چھوڑجاتی ہیں، انھیں عظیم شخصیات میں سے ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ(۱۹۳۹ء۔۲۰۰۹ء) بھی ہیں، جن کے بہت سے علمی وادبی کارنامے ملت وجماعت کے لئے عظیم سرمایہ ہیں۔
اب تک ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ پر مختلف اندازسے بہت کچھ لکھا گیاہے اورمستقبل میں لکھاجائے گا، ان شاء اللہ، میں اس مقالہ میں بڑے اختصار کے ساتھ ان کے جماعتی وذاتی اخلاق واوصاف پرروشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا، اس لئے کہ جماعتی وذاتی کردارہرانسان کی شخصیت کے دواہم پہلوہیں، واللہ ھو الموفق وھو المعین۔
جماعتی اخلاق:ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ جماعت اہل حدیث کے ایک ممتاز فردتھے، ان کے اندرپورے طورپر جماعتی مزاج پایاجاتا تھا، ان کو پختہ یقین تھا کہ مسلک اہل حدیث مذہب اسلام کی صحیح ترین تعبیروتشریح کانام ہے جو عہد نبوی، عہدصحابہ اورعہدتابعین کے اعتقادی وفقہی مزاج کاترجمان ہے ،بنابریں ان کے جماعتی اخلاق کے حوالہ سے چندباتوں کاذکر کیاجارہاہے۔
ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ مختلف تعلیمی وثقافتی سرچشموں سے سیراب ہوئے،ابتدائی تعلیم اورحفظ قرآن کریم کی تکمیل حنفی ادارہ دارالعلوم مؤمیں کی،اس کے بعدثانویہ ،عالمیت اور فضیلت کی تکمیل بالترتیب مؤہی کے مشہور سلفی مدارس جامعہ عالیہ عربیہ ،جامعہ فیض عام اورجامعہ اثریہ دارالحدیث میں کی، پھردوسال کے تدریسی عمل کے بعدجامع ازہرمصرمیں تعلیم حاصل کی، اس کے بعدکچھ دنوں تدریسی مصروفیت رہی، پھردویاتین سال مسلم یونیورسٹی علیگڈھ میں رہ کرایم.فل. اورپی.ایچ.ڈی. کی ڈگریاں حاصل کیں، اس کے بعدتادم حیات سردوگرم برداشت کرتے ہوئے بالترتیب وکیل الجامعہ اور صدرعاملہ کی حیثیت سے جامعہ سلفیہ بنارس میں تعلیم وتربیت اورعربی واردوصحافت کے فرائض انجام دیتے رہے۔
عام طورپر دیکھاجاتا ہے کہ جولوگ اس طرح دینی وعصری درسگاہوں سے استفادہ کرتے ہیں اوراس طرح تعلیمی ڈگریاں ان کے پاس ہوتی ہیں وہ فکری وعملی طورپرآزادی کے شکارہوجاتے ہیں، ان کے اندرتجدد پسندی آجاتی ہے ،وہ شکل وصورت اوروضع قطع میں ماڈرن بن جاتے ہیں اورعلمائے دین کو روایت پرست اوردقیانوس کے القاب سے نوازتے رہتے ہیں، مگرہمارے ممدوح ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ اپنی زندگی میں فکری وعملی اباحیت میں مبتلا نہیں ہوئے، انھوں نے پورے طورپرخالص اسلامیت اورصحیح سلفیت کی حفاظت کی اورفکری وعملی طورپر تجددپسندی سے محفوظ رہے، ان کے اس دینی مزاج اورجماعتی اخلاق کااندازہ ان کے تراجم وتالیفات سے واضح طورپرکیا جاسکتا ہے ،جیسے’’مسئلۃ حیاۃ النبی ﷺ ‘‘(عربی ترجمہ)’’زیارۃ القبور وحکمھا‘‘(عربی ترجمہ)’’رحمۃ للعالمین‘‘للعلامۃ القاضی محمدسلیمان المنصورفوری رحمہ اللہ (عربی ترجمہ) ’’حرکۃ الانطلاق الفکری و جھود الشاہ ولی اللہ الدھلوی فی التجدید‘‘للشیخ محمداسماعیل السلفیؒ (عربی ترجمہ) ’’موقف الإسلام من المرأۃ ‘‘ (اردوتالیف)’’حجیۃ الحدیث الشریف‘‘ للشیخ محمداسماعیل السلفیؒ (عربی ترجمہ)’’اقتضاء الصراط المستقیم‘‘لشیخ الإسلام ابن تیمیۃؒ ‘‘ (اردوترجمہ)’’مختصر زادالمعاد‘‘لشیخ الإسلام محمدبن عبدالوہابؒ ‘‘ (اردوترجمہ)اور’’قضایا کتابۃ التأریخ الإسلامی وحلولھا‘‘للدکتور محمدیاسین مظہرالصدیقی‘‘(عربی ترجمہ) وغیرہ،یقیناًان تراجم وتالیفات میں جناب ازہریؒ کے دینی وجماعتی مزاج کا عکس بھی ہے اوران کے جماعتی اخلاق کی تشکیل میں ان کا دخل بھی ہے، مولانا عبداللہ مدنی؍حفظہ اللہ نے بہت درست لکھا ہے کہ جب انھوں نے علامہ محمداسماعیل سلفیؒ کی تصنیف’’تحریک آزادئ فکر اورشاہ ولی اللہ کے تجدیدی مساعی‘‘کے عربی ترجمہ کا آغاز کیا، اس کتاب نے حضرۃ الدکتور کے اندرخوشگوار تبدیلی پیداکی، جس کے اثرات تاعمرظاہر رہے، ان کے اعمال جس پرشاہد ہیں۔(ماہنامہ نورتوحید،نومبرودسمبر۲۰۰۹ء ؁ ،خصوصی اشاعت)
*محترم ڈاکٹر ازہری ؒ کا جودینی وجماعتی منہج فکرتھا، وہ مختلف انداز سے اس کے فروغ واشاعت کی بھی کوشش کرتے تھے، چنانچہ انھوں نے جامعہ سلفیہ بنارس میں مختلف موضوعات پرعالمی کانفرنس وسمینارمنعقد کئے،جن میں مختلف مکاتب فکر کے اصحاب علم اوردینی وعصری جامعات کے مفکرین کو مدعوکیا اورجامعہ سلفیہ کے حوالہ سے تحریک اہل حدیث اورسلفی منہج فکر کو متعارف کرایا،اسی بناپرمیرا احساس ہے کہ سلفیت کاجوتعارف جامعہ سلفیہ کے ذریعہ ہواہے اس میں ازہری صاحب کی کوششوں کابڑا دخل ہے، اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مختلف اعتبارسے جامعہ سلفیہ کے عروج وارتقاء میں بھی ازہریؒ صاحب کی مختلف کوشش اورلگن شامل رہی ہے، مگریہ قابل ذکر تلخ حقیقت ہے جسے احباب جماعت جانتے ہیں کہ جناب ازہریؒ صاحب نے مولانا محمدرئیس ندویؒ کی طرح جامعہ کے ذمہ داران کی ناقدریوں کی وجہ سے اپنی زندگی کاآخری حصہ بڑے دردوکرب کے ساتھ گذاراہے۔
*جناب ڈاکٹر ازہریؒ کے جماعتی اخلاق کے سلسلہ میں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ وہ اگرچہ علمی وادبی کاموں میں مصروف رہتے تھے، اس کے باوجود ضلعی،صوبائی اورمرکزی سطح پرجماعتی تنظیم سے عملی طورپر وابستہ رہے، جماعتی تنظیم میں جوگروپ بندی، علاقائیت اورعصبیت نظرآتی ہے ممکن ہے اس میں ازہری صاحب کاکچھ رول رہاہو،مگرمجھے اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ وہ جماعتی تنظیم کوقائم ودائم اوربارآور دیکھناچاہتے تھے۔
ذاتی اخلاق:ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہریؒ کے جماعتی اخلاق کے ضمن میں کئی ایسے امورکاذکر آیاہے جن کا تعلق ان کے ذاتی اخلاق واوصاف سے بھی ہے جیسے مومنانہ شکل وصورت، وضع قطع اورطرزفکروغیرہ، مگراس عنوان کے تحت کچھ خالص ذاتی اخلاق واوصاف کاذکرکرنا چاہتاہوں،جن سے بہت سے موجودہ علماء وصحافی محروم نظرآتے ہیں۔
*اس سلسلہ میں سب سے پہلی چیز صلوات خمسہ وغیرہ کی پابندی ہے، میرا جب بھی جامعہ سلفیہ بنارس جاناہوا یا کسی کانفرنس وسمینار میں ان کے ساتھ شریک ہوا توان کوتمام نمازوں میں صف اول میں اس طرح پایاکہ وہ کسی رکعت میں مسبوق نہیں رہتے تھے، موجودہ بدعملی کے دورمیں یقیناجناب ازہریؒ صاحب کایہ وصف بڑا اہم ہے،علماء وطلبہ اوردعاۃ ومبلغین کواس پرخصوصی توجہ دیناچاہئے، عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں امام مالکؒ نے مؤطا میں ذکرکیاہے کہ وہ مختلف صوبوں کے گورنروں کوصلوات خمسہ کی مواظبت ومحافظت کی تاکید کرتے رہتے تھے اورانھیں لکھتے رہتے تھے کہ جوشخص نماز کوضائع کرنے والاہوگا وہ ہرچیز کوضائع کرسکتاہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صلاۃ اوردوسری تمام دینی عبادات کی محافظت کی توفیق عطافرمائے۔(آمین)
*ازہری صاحب کے ذاتی اخلاق میں دوسری اہم چیز تدریسی وصحافتی کاموں میں انہماک اورپابندی اوقات ہے، وقت پرنماز میں حاضری، وقت پردرس گاہ میں جانا، وقت پرآفس میں آنا اوروقت پر کھانا اوردیگر معمولات، یقیناًانسانی زندگی میں پابندی اوقات اورکاموں میں توجہ وانہماک کی بڑی اہمیت ہے، اس سے مختلف علمی ودینی کام جلدی اوراچھے انداز میں ہوتے ہیں، اسی لئے مذہب اسلام اپنے ماننے والوں میں پابندی اوقات کامزاج پیداکرتاہے، مگرافسوس آج کل علماء وطلبہ اوقات کی پابندی سے غافل نظرآتے ہیں اوروقت کی بالکل قدرنہیں کرتے، فالی اللہ المشتکی۔
*ڈاکٹرازہریؒ جلال وجمال دونوں اوصاف سے متصف تھے، البتہ ان کی شخصیت میں رعب وجلال کا پہلوغالب تھا، میں نے خودمشاہدہ کیاہے کہ صلاۃ کے دوران طلبہ ان کے بغل میں کھڑے ہونے سے گھبراتے تھے اورجامعہ کے اساتذہ مرعوبیت کی وجہ سے بڑے ادب وتواضع کے ساتھ ان سے ملتے تھے، وہ اپنی علمی مصروفیات کی وجہ سے کم آمیز بھی تھے اورمجلسی آدمی نہیں تھے اسی لئے دوسروں کے لئے ہم نشینی کے مواقع بہت کم فراہم کرتے تھے، دراصل کسی بھی سنجیدہ اورمصروف شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ بہت زیادہ مجلسی نہ ہو، آج کل مختلف دینی اداروں میں اساتذہ وعلماء کی جومجلسیں ہوتی ہیں ان میں عام طورپرغیبت، چغلی، سازش اورلایعنی گفتگو ضرورہوتی ہے ،اس لئے بہت زیادہ ہم نشینی کاعادی ہونادرست نہیں ہے۔
یہ توازہری صاحب کاجلالی پہلو تھا،اسی کے ساتھ ان کا جمالی پہلوبھی قابل ذکر ہے، وہ کم آمیز ضرورتھے جس کی وجہ ذکرکی گئی ہے، مگرجب لوگ ان سے ملاقات کرتے تووہ بڑی خندہ پیشانی سے ملتے،ان کی احوال پرسی کرتے اورحسب موقع چائے وغیرہ سے ضیافت کرتے، مجھ جیسے خردوں کے ساتھ ازہریؒ صاحب کایہی سلوک ہوتاتھا، جامعہ سلفیہ بنارس میں جب بھی میں نے آفس میں ان سے ملاقات کی ہے انھوں نے مسکراتے ہوئے مجھ سے گفتگوکی ہے اورکبھی کبھی چائے وغیرہ سے نوازا بھی ہے، ایک بارازہریؒ صاحب سے میں نے ملاقات ان دنوں کہ جب وہ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کاعربی میں ترجمہ کررہے تھے، میں نے ان سے کہاکہ اس کتاب کی جلد دوم میں بعض امورمحل نظرہیں، جیسے قاضی محمدسلیمان منصورپوریؒ نے جہاں رسول اللہﷺکے اہل وعیال اوراولادواحفاد کاذکرکیاہے توانھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حسن عسکریؒ (جنھیں اہل تشیع گیارہواں امام کہتے ہیں) کے یہاں ایک لڑکا محمد پیداہواتھا جوچارسال کی عمرمیں غارمیں روپوش ہوگیا، حالانکہ صحیح تحقیق یہ ہے کہ حسن عسکریؒ لاولد فوت ہوئے تھے، ان کے یہاں کوئی لڑکا نہیں پیداہواتھا، یہ افسانہ محمد بن نصیرنامی ایک شخص نے گھڑا ہے،اہل تشیع کی ایک شاخ فرقۂ نصیریہ اسی کی طرف منسوب ہے،اس نے یہ افسانے اس لئے گھڑا تاکہ بارہویں امام کاتصورباقی رکھاجاسکے، شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے ’’منہاج السنۃ‘‘میں مفصل بحث کی ہے۔
دوسری بات میں نے ازہری صاحب سے یہ کہی کہ قاضی محمدسلیمان منصورپوریؒ نے حضرت حسین رضی اللہ کے تذکرہ میں جہاں یزیدؒ بن معاویہؒ کاذکرکیا ہے انھیں یزید پلیدکہاہے، یزیدؒ کے بارے میں یہی نقطۂ نظر مولانامحمدرئیس ندویؒ کا بھی ہے، جیساکہ انھوں نے اپنی غیر مطبوع کتاب’’قول سدید برائے محبان یزید‘‘میں یہی موقف اختیار کیاہے۔
چونکہ مذکورہ دونوں باتیں محققین کے منہج کے خلاف ہیں اس لئے میں نے ازہری صاحب سے کہا کہ ان دونوں مقامات پرمختصر حاشیہ ضرور لگادیجئے گا وہ میری باتیں سن کرخاموش رہے، مجھے اندیشہ تھاکہ کہیں جلال میں نہ آجائیں مگرمسکراتے ہوئے کہا کہ تم لوگ تواسی طرح کی باریکیاں نکالتے رہتے ہو،میں نے ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کاعربی ایڈیشن نہیں دیکھاہے، معلوم نہیں کہ انھوں نے ان قابل مواخذہ مقامات پرحاشیہ لگایاہے یانہیں۔
ڈاکٹر ازہریؒ صاحب کی ایک اورذاتی خصوصیت یہ تھی کہ وہ حددرجہ نظیف الطبع تھے، ان کی نظافت پسندی کے اثرات ان کے مزاج،لباس اورآفس وغیرہ تمام چیزوں میں دکھائی دیتے تھے، اس حقیقت کااعتراف ہراس شخص کوہے جس کاسابقہ ان سے رہاہے، ان کی نظافت پسندی کے بارے میں مولانا محمدمظہراعظمی استادجامعہ عالیہ عربیہ مؤکی درج ذیل تحریر قابل مطالعہ ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹر صاحب کی نظافت بھی مسلم ہے، وہ حددرجہ نظیف اورصفائی پسند تھے، ہماری مسجد میں جب ان کو خطبہ دینارہتا توہم لوگ خاص خیال رکھتے، ایک مرتبہ جمعہ کی نماز پڑھانے کے بعدکہاکہ دیکھو مصلی میں کوئی بدبوتونہیں آرہی ہے، ہم لوگوں نے سونگھ کردیکھا توہم لوگوں کو کچھ محسوس نہیں ہوا، اس کے بعدہم لوگ یہ کرتے تھے کہ جب آپ کوخطبہ دینارہتا تومصلی پر سجدہ کرنے کی جگہ عطرلگادیاکرتے تاکہ کسی قسم کی بوکا تصوربھی نہ ہو۔
کچھ دنوں پہلے مسجدپر مصلیوں کے لئے تولیہ لٹکادیاکرتے تھے تاکہ وضوکے بعدلوگ پونچھ لیاکریں، آپ نے دیکھا توبہت ناپسند کیا اورکہاکہ تمام مصلیان اسی ایک دوتولیہ سے باربارپونچھتے ہیں جس کی وجہ سے تولیہ گنداہوجاتا ہے اورمہکتا بھی ہے، اس لئے یہاں تولیہ نہیں رکھنا چاہئے اورپھراسی دن سے تولیہ کا سلسلہ بندکردیاگیا‘‘۔
مولانا مظہراعظمی صاحب ازہریؒ صاحب کی نظافت پسندی کے بارے میں مزید لکھتے ہیں:
’’ایک سمینار میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ انھیں کے کمرے میں تھا، صبح کے وقت میں نے بوٹ برش نکالا، اپنااورڈاکٹرصاحب کاجوتا صاف کردیا، کچھ دیرکے بعدجب سمینار ہال میں جانے کاوقت آیا تو ڈاکٹرصاحب نے جوتاپونچھنے کے لئے ایک کپڑا نکالا اور پھردیکھا توجوتا صاف ہے، جوتے کے پاس بوٹ برش دیکھ کرسمجھ گئے اورکہنے لگے کہ ہم لوگ توصاف کرنے کے لئے کپڑا رکھتے ہیں، مگرآپ بوٹ برش رکھتے ہیں، اس کے بعدکپڑا رکھنے کے بارے میں بتایاکہ جب ہم لوگ مصرمیں ریڈیوپرکام کرتے تھے توا س وقت ٹریننگ میں بتایاگیاتھاکہ آپ دو رومال رکھیں ایک چہرہ صاف کرنے کے لئے اوردوسرا جوتایاکرسی صاف کرنے کے لئے تاکہ کپڑا پراگندہ نہ ہو‘‘۔(ماہنامہ نورتوحید کرشنانگر ،نومبرودسمبر۲۰۰۹ء)
*جناب ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ کے ذاتی اخلاق واوصاف کے متعلق سے ان کی خردنوازی بھی ہے، جس کا تجربہ ان کے شاگردوں کے علاوہ ان معاصرعلماء کو بھی ہے جوعمرمیں ان سے چھوٹے ہیں، وہ اپنے شاگردوں اورعزیزوں کی علمی رہنمائی کرتے، علمی کوششوں پران کی ہمت افزائی کرتے اورمفید مشوروں سے نوازتے۔
ذاتی طورپر مجھے خود ان کی شفقت وعنایت اورخردنوازی کا کئی بار تجربہ ہوا ہے ایک بارکا واقعہ ہے کہ ۱۹۹۶ء ؁ میں میرے کاغذات جمعیۃ احیاء التراث کویت بھیجے گئے مجھے اس موقع پر بعض ممتاز شخصیات کے توصیہ کی ضرورت تھی، میرابنارس جاناہوا تومیں نے جناب ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ صاحب سے کہا کہ میرے تعلیمی وتدریسی، دعوتی وتبلیغی اورملی وجماعتی کاموں کوسامنے رکھتے ہوئے ایک عربی توصیہ لکھ دیجئے!اس وقت انھوں نے یہ کہہ کرٹال دیا کہ آپ توخود دوسروں کے لئے توصیہ کھتے ہیں ،آپ کو توصیہ کی کیا ضرورت ہے، میں مایوسں اوربددل ہوکر واپس آگیا،ان دنوں میں سراج العلوم کنڈوبونڈیہار میں مدرس تھا، واپس آنے کے بعدیہ دیکھ کر مجھے بڑی خوشگوار حیرت ہوئی کہ جناب ازہری رحمہ اللہ صاحب نے عربی میں میرے بارے میں ایک خصوصی توصیہ لکھ کر بائی پوسٹ جامعہ کے پتہ پربھیج دیا، جومجھے ایک ہفتہ کے اندرموصول ہوگیا، مجھے بڑی خوشی ہوئی اوران کی اس خردنوازی پرمیرے دل سے ان کے لئے دعائیں نکلیں، مجھے اب تک ان کی اس خردنوازی کا واقعہ یادہے جومیں کبھی بھول نہیں سکتا۔جزاہ اللہ احسن الجزاء۔
یہ تھے ڈاکٹرازہریؒ کے جماعتی وذاتی اخلاق واوصاف جویقیناًملت وجماعت کے لئے مشعل راہ ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی لغزشیں معاف فرمائے، ان کی نیکیاں قبول کرے، ان کی قبرکو نورسے بھردے اورانھیں جنت الفردوس کامکین بنائے۔(آمین)
***

Thursday, June 17, 2010

ایک باوقار عالم دین ،مشفق استاد ومربی اوربااصول انسان apr-jul 2010

عبدالمنان عبدالحنان سلفیؔ
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ
ایک باوقار عالم دین ،مشفق استاد ومربی اوربااصول انسان
۲۹؍اکتوبر ۲۰۰۹ء ؁ کی شب تقریبا ۹؍ بجے میں اپنے سفرحج کے لئے لکھنؤ پہونچا ہی تھاکہ مجھے بذریعہ فون یہ اندوہناک خبرملی کہ استاذ محترم ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ کا دہلی میں دوران علاج انتقال ہوگیا، میں نے فوراًجامعہ سراج العلوم سے رابطہ کرکے وہاں کے بعض احباب کو مطلع کیا اورمحترم ناظم جامعہ مولانا شمیم احمدندوی ؍حفظہ اللہ۔جو اپنے قطرکے سفرکے پیش نظر لکھنؤ ہی میں تھے۔کو اس افسوسناک سانحہ سے باخبرکیا، اس دوران بعض اوراحباب سے ٹیلیفون پر رابطہ کرتا رہا تو پتہ چلاکہ وفات کی خبردرست نہیں تاہم حالت تشویشناک ہے اورڈاکٹروں نے مایوسی ظاہر کرتے ہوئے گھرلے جانے کوکہاہے اورآپ کو بذریعہ ایمبولینس دہلی سے مؤلایا جارہاہے، یہ سن کرقدرے اطمینان تو ضرور ہوامگراندیشہ باقی رہا، اورصبح جب فجرکی نماز کے بعدمیں مسجدہی میں تھا تو میرے موبائل فون کی گھنٹی بجنے لگی اور دل کسی انجانے خوف سے کانپنے لگا،سب سے پہلے مولانا عبداللہ مدنی صدرمرکزالتوحید کرشنانگر نیپال نے اورمعا بعدمولانا شہاب الدین مدنی امیرصوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی نے بذریعہ فون دل میں پیدا ہونے والے اندیشہ کی تصدیق کردی اور افسوس کے ساتھ بتایا کہ ازہری صاحب ابھی صبح سواپانچ بجے کا نپور کے قریب دارآخرت کی جانب کوچ کرگئے، اناللہ وانا الیہ راجعون۔
یکم نومبرکو مدینہ طیبہ کے لئے میری فلائٹ تھی اور ۳۰؍اکتوبرہی کو حج کمیٹی پہونچ کرمجھے اپنے سفر کی کارروائی مکمل کرانی تھی، جنازہ میں شرکت کی شدید خواہش تھی، مگردرپیش سفر کے سبب کوئی فیصلہ نہیں کرپارہا تھا، مولانا شہاب الدین مدنی صاحب سے ان کاپروگرام معلوم کیا توپتہ چلاکہ موصوف اپنی گاڑی سے مؤجانے کو تیاربیٹھے ہیں، میں نے جنازہ میں شرکت کے لئے جب اپنی دلی خواہش کااظہارکیا توموصوف نے فرمایا کہ میری گاڑی میں جگہ توہے لیکن آپ کے سفر کی کارروائی میں اگرخدانخواستہ آپ کی ضرورت پڑگئی تو سفرمیں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے اس لئے آپ کانہ جاناہی بہترہوگا، میں نے بعض اورمخلصین و محبین سے مشورہ کیا توانھوں نے بھی مولانا مدنی کی بات دہرائی اور میں جنازہ میں شریک نہ ہوپانے پر دل مسوس کے رہ گیا۔
۳۰؍اکتوبر جمعہ کا دن تھا، چوک کی جامع مسجداہل حدیث میں مولانا شہاب الدین مدنی اورحافظ عتیق الرحمن طیبی صاحبان کے ذریعہ میرے خطبۂ جمعہ کا پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا ،میں نے دوسرے خطبہ میں اس سانحہ کاذکرکیا اورڈاکٹرازہری رحمہ اللہ کے انتقال سے ملّی، جماعتی، علمی اوردعوتی سطح پرجوخسارہ ہواہے اس کی جانب اشارہ کرکے استاذ محترم رحمہ اللہ کی مغفرت اوردرجات کی بلندی کی دعاکرائی۔
جنازہ سے واپسی پر ۳۱؍اکتوبر کو بعد نماز عصرمولاناشہاب الدین مدنی نے اپنے دولت کدہ پرایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا، مجھے بھی مطلع کیا اورپہونچنے کی تاکید کی بلکہ سواری بھیج کر مجھے بلوایا، اس نشست میں استاذ محترم ڈاکٹر ازہری صاحب کی قدآور علمی شخصیت اور ان کی ہمہ جہت خدمات کاتذکرہ ہوتارہا ،تمام شرکاء نے اپنے اپنے احساسات بیان کئے اورازہری صاحب کی وفات پرسبھوں نے اپنے رنج وغم کا اظہارکیا۔
پروگرام کے مطابق میں یکم نومبر کو مدینۃ الرسول کے لئے روانہ ہوگیا، وہاں پہونچ کر جامعہ سلفیہ بنارس کے بعض فارغین سے ملاقات ہوئی، ان میں عزیز ان گرامی مولانا محمدنسیم سلفی نیپالی اورمولانا امان اللہ عبدالرؤف سلفی نیپالی قابل ذکر ہیں،انھوں نے بھی استاذ محترم کے سانحۂ ارتحال کاتذکرہ کیا، نسیم سلمہ نے بتایاکہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں جلدہی کوئی بین الاقوامی کانفرنس ہورہی ہے، ہندوستان سے جن علماء کو اس میں مدعوکیاگیا تھا ان میں ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ کی قدآور شخصیت بھی تھی، ازہری صاحب نے اس مؤتمر کے لئے اپنامقالہ تیار کررکھا تھا اوراس کی تلخیص جامعہ کو بھیج بھی دی تھی مگرکسے معلوم تھا کہ وہ اصل مقالہ پیش کرنے سے قبل دنیا سے رخصت ہوجائیں گے، عزیز موصوف نے یہ بھی کہاکہ کوشش کی جائے کہ ازہری صاحب کامقالہ کسی کے ذریعہ مؤتمرمیں پیش کیاجاسکے۔
اس طرح اس پورے سفرحج میں جہاں بھی اہل علم سے ملاقات ہوئی،ازہری صاحب کاذکرجمیل ضرورہوا، سبھوں نے انھیں خراج تحسین پیش کیا، ان کے حق میں دعائیں کیں اوران کی وفات کو زبردست علمی ودعوتی خسارہ قراردیا۔
ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ اب اس دنیا میں نہ رہے ،صرف ان کے کام اوران کے تعلق سے یادیں اورباتیں ہی لوگوں میں باقی ہیں ، ضرورت ہے کہ ڈاکٹرصاحب رحمہ اللہ کی شخصیت اورہمہ جہت خدمات کے مختلف گوشوں کوآئندہ نسل کے لئے باقاعدہ محفوظ کیاجائے اوراس سلسلہ میں ان کے تمام متعلقین، معاصرین اورتلامذہ سے بھرپورتعاون حاصل کیاجائے، تاکہ اپنے اپنے طورپر لوگ اس’’رجل عظیم‘‘ کے سلسلہ میں اپنے تاثرات قلمبند کرسکیں جوملت اسلامیہ کے لئے عموماً اورطالبان علوم نبوت کے لئے خصوصاً مشعل راہ ہوں۔
کم وبیش ۳۵؍برسوں سے ڈاکٹرازہری صاحب سے میری واقفیت ہے،اس طویل مدت میں ۸؍برسوں تک جامعہ سلفیہ کے زمانۂ طالب علمی میں آپ کو قریب سے دیکھنے اورعالمیت وفضیلت کے مراحل میں آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل ہوا، اورجامعہ سلفیہ سے جب ۱۹۸۲ء ؁ میں فراغت حاصل ہوئی تواس کے بعدبھی گاہے گاہے آپ سے ملاقات کاموقع ملتارہا، کانفرنسوں اورسمیناروں میں آپ سے استفادہ کی سعادت بھی حاصل ہوتی رہی اورآپ کے زریں خیالات اورقیمتی تو جیہات سے مستفید ہوتارہا۔
ازہری صاحب رحمہ اللہ صرف روایتی عالم دین ،ادیب ،مفکر ،مدرس اور مصنف و مؤلف نہ تھے، بلکہ وہ ایک نسل کی تربیت کے لئے پیداکئے گئے تھے ،اس لئے قدرت نے ان کے اندر وہ تمام صلاحیتیں ودیعت کررکھی تھیں جواس مرد میدان کے لئے ضروری اورناگزیرتھیں، علمی صلاحیت تواپنی جگہ مسلّم ہی تھی۔ اوریہ خوبی تو بہتوں میں پائی جاتی ہے۔ مگرٹھوس علم، گہرامطالعہ اورطویل تجربہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مردم شناسی کی صلاحیت بھی انھیں خوب دے رکھی تھی،یہی وصف تربیت کے باب میں ڈاکٹرازہری کو ممتازمقام عطاکرتاہے۔
ڈاکٹرازہری اپنے علم وفضل، وضع قطع، لباس وپوشاک، طرزِ گفتار اورسلیقہ پسندی کے سبب باوقار شخصیت کے مالک تھے، آپ کی بارعب علمی شخصیت سے کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہ رہتاتھا، ہمہ وقت آپ کے چہرہ پرمتانت وسنجیدگی جھلکتی رہتی تھی، درسگاہ سے لے کر علمی مجلسوں اورکانفرنسوں وسمیناروں تک ہرجگہ اپنی پرکشش اورموثر شخصیت کے سبب چھائے رہتے، جامعہ کے اپنے رہائشی فلیٹ سے جب آپ اپنی آفس کے لئے نکلتے توآپ کا عالمانہ وقار پورے طورپرنمایاں رہتا، بغل میں کوئی کتاب، فائل یا مجلہ دبائے، نگاہیں نیچی کئے اورجنچے تلے قدم رکھتے جب آپ نمودارہوتے تو طلبہ سنبھل جاتے اورہرطرف سناٹا چھاجاتا۔
ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ اپنی عزت نفس کاہمیشہ خیال رکھتے اور کبھی اسے مجروح نہ ہونے دیتے، اپنے طلبہ کو بھی اسی کی نصیحت اورتلقین کرتے رہتے، جامعہ کے اساتذہ میں بھی وہ یہ وصف دیکھنا پسند کرتے تھے، ازہری صاحب بالکل زاہد خشک نہ تھے کہ احباب کی مجلسوں میں وہ بے تکلف نہ ہوتے رہے ہوں مگراتنا ضرورہے کہ وہ پورے طورپرکبھی نہ کھلتے اورایک خاص فاصلہ درمیان میں ضروررکھتے تھے، طلبہ سے گفتگوکرتے ہوئے اکثرنگاہیں نیچی رکھتے تھے حتی کہ اگرکسی غلطی پر کسی کوتنبیہ کرتے یا ڈانٹتے توآپ متعلقہ شخص کے چہرہ پرنظر کرنے کے بجائے نگاہیں نیچی کرکے اپناکام کرجاتے ۔
میرے زمانہ طالب علمی میں بسااوقات طلبہ اپنی شوخ طبیعت کے سبب دارالاقامہ میں شوروہنگامہ کرتے، ایسے مواقع پرجب کہ نگراں اساتذۂ کرام کی ڈانٹ پھٹکار غیرموثرثابت ہورہی ہوتی، ازہری صاحب کاصرف اپنی آفس سے نکل کردارالاقامہ کی جانب نظر اٹھاکر دیکھ لینا ہی کافی ہوتاتھا، سارے طلبہ بھاگ کربلوں اور سوراخوں میں جگہ ڈھونڈھتے پھرتے اور ہرطرف خاموشی چھاجاتی، ایسا رعب ودبدبہ کم ازکم میں نے علماء واساتذہ میں نہیں دیکھاہے۔
ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ حددرجہ نظافت پسند اورسلیقہ مندانسان تھے، صاف ستھرا لباس ہمیشہ زیب تن فرماتے، بالعموم درسگاہ اورآفس میں کرتا،پائجامہ، بال کی قدرے اونچی ٹوپی اورشیروانی پہنتے تھے، کبھی کبھار موسم کے لحاظ سے شیروانی کی جگہ صدری بھی استعمال کرتے تھے، مسجد میں نماز کے لئے آتے توفجراورعصر کے سوا دوسری نمازوں میں بھی اسی مکمل لباس میں ہوتے ،البتہ فجراورعصر کی نمازوں میں بسااوقات لنگی بھی زیب تن کئے ہوتے تھے۔
آپ کی آفس بھی بڑی مرتب ہواکرتی تھی، کتابیں ،کاغذات اورفائلیں بیحد سلیقہ سے رکھی رہتی تھیں، پہلے آپ کے دفترمیں کرسی میز نہ تھی، فرش پردری اور سفید چاندنی بچھی رہتی تھی اورآپ سامنے اونچی تپائی رکھ کربیٹھتے تھے اورپوری توجہ اورانہماک کے ساتھ اپنے علمی کاموں میں مشغول رہتے تھے، آپ اپنے وقت کا صحیح استعمال کرتے ،ہمیں محسوس ہوتاکہ آپ کے کام کا ایک نظام الاوقات ہے اورآپ کے سارے کام اسی کے تحت انجام پاتے ہیں، ٹھیک وقت پرآفس آتے اوراپنے کام میں جٹ جاتے، گھنٹی لگتے ہی کتابیں ہاتھ میں لے کر درسگاہ پہونچتے اورپوری گھنٹی طلبہ کوپڑھاتے، کلاس کا ایک ایک لمحہ طلبہ کو فیض پہونچانے میں گذارتے، غلط عبارت پڑھنے پر سخت برہم ہوتے، گھنٹی ختم ہوتے ہی سیدھے اپنی آفس میں آکرپھراپنے علمی کام میں مصروف ہوجاتے، مضامین اورکتابیں لکھتے، کمپوزشدہ کتابوں اور مضامین کا پروف پڑھتے اوردوسرے تحقیقی وعلمی امورمیں مشغول رہتے۔
ایک باوقار اوروزن دارعالم ہونے کے ساتھ ساتھ ازہری صاحب رحمہ اللہ ایک ہردلعزیز استاد اورمشفق مربی تھے، ممکن ہے کہ بعض لوگ میرا یہ جملہ سبقت قلمی یا مبالغہ آرائی پرمحمول کریں مگرمیں نے ہردلعزیز اورمشفق دونوں الفاظ بہت سوچ سمجھ کر استعمال کئے ہیں،آپ سے مستفید ہونے والے اکثرتلامذہ جن میں طلب علم کی سچی تڑپ اوراساتذ ہ سے کسب فیض کا نیک جذبہ تھاکم ازکم وہ تومیرے اس خیال کی تائید ضرور کریں گے اوروہ گواہی دیں گے کہ ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ نہایت ہی محترم ومحتشم اورہردلعزیز تھے اورآپ کے اندرایک کہنہ مشق مدرس کے سارے اوصاف بدرجۂ اتم پائے جاتے تھے، موصوف پوری دیانت داری اورخلوص کے ساتھ ہم طلبہ کی تربیت فرماتے ، درس کے علاوہ دیگر مناسب مواقع پربھی وہ ہم طلبہ کی علمی ،فکری اوردینی تربیت کے لئے کوشاں رہتے، مطالعہ میں وسعت، علم میں گہرائی وگیرائی، فکرمیں پختگی ،تخیل میں بلندی اورعمل میں جہد پیہم اورجذبۂ اخلاص پیداکرنے کے لئے ہمیں مناسب خوراک دیتے رہتے تھے، اپنے طلبہ کی قلمی رہنمائی اورحوصلہ افزائی ازہری رحمہ اللہ بڑے فراخدلانہ انداز میں فرماتے رہتے تھے، اورایسے تلامذہ جوکسب فیض کے مقصدسے آپ کے پاس آتے جاتے اورمشورہ لیتے ان سے وہ خوش بھی رہتے اوران کی بھرپوررہنمائی فرماتے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں فضیلت سال اول میں پہونچا تو نئے تعلیمی سال کے آغاز پر مجھے ندوۃ الطلبہ کی افتتاحی انجمن میں نظامت کی ذمہ داری دی گئی، ندوۃ الطلبہ کاافتتاحی پروگرام اس وقت بڑی اہمیت کا حامل مانا جاتا تھا، مختلف زبانوں میں منتخب طلبہ تقریرکے نمونے پیش کرتے تھے اور اس پروگرام میں تمام اساتذہ بڑے اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے تھے، کسی اہم پروگرام کی نظامت کا میرایہ پہلاموقعہ تھا، اللہ کی توفیق سے میں نے اسے سلیقہ سے نبھایا جس پرتمام اساتذہ وطلبہ نے حوصلہ افزائی بھی کی، پروگرام کے اختتام کے کچھ دیر بعدازہری صاحب نے مجھے طلب کیا اورفرمایا ’’ میاں! تم نے نظامت توٹھیک کی مگرکہیں کہیں تمہید وتبصرہ میں تم نے وقت زیادہ لیا، آئندہ اس کاخیال رکھو‘‘،اورپھر میں نے یہ سبق ہمیشہ کے لئے یادکرلیا۔
غالباً اسی سال پر وفیسر یامین محمدی رحمہ اللہ جامعہ کی زیارت کے لئے بنارس تشریف لائے، یہ بڑے عالم وفاضل اوراچھے مقرروخطیب تھے، ازہری صاحب اورذمہ داران جامعہ نے ان کے استقبالیہ پروگرام کی تمام ترذمہ داری ہم طلبہ کے سپرد کردی،استقبالیہ کلمات اورمہمان گرامی کے تعارف کے لئے احباب کی نظر انتخاب میرے اوپرپڑی، میں نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے طورپرمہمان کاتعارف سلیقہ سے کرایا اورخوش آمدید اورترحیب کے منتخب جملوں سے ان کا استقبال بھی کیا، مگریہاں بھی مجھ سے چوک ہوئی اورشاید میرے تعارفی کلمات نادانستہ طورپر تعریفی جملے بن گئے، طالب علمی میں بھلاتعارف اورتعریف کے مابین فرق کی تمیزکہاں ہوتی ہے،پروگرام ختم ہوا، دوسرے روز ازہری صاحب کے دفتر میں طلبی ہوئی، یہ خبرنہ تھی کہ کس لئے بلایاگیاہے، مگرسیاق و سباق سے اتنااندازہ توہوگیا تھاکہ ضرور کوئی بات ہے ،حاضرہوا ،سلام کے بعدباادب میزکے سامنے کھڑا ہوگیا،نظراٹھاکر ایک بار میراچہرہ دیکھا اور پھرنظرنیچی کرکے اپنے مخصوص انداز میں تنبیہ فرمائی، اورپھرمجھے احساس ہواکہ واقعی میں نے تعارف کے حدودکوپھلانگ کرتعریف کے باب میں قدم رکھ دیاتھا جومعززمہمان کوبھی ناگوار خاطرگذراہوگا۔
غالباً ۱۹۸۱ء ؁ ہی میں ندوۃ الطلبہ کامعتمد صحافت مجھے منتخب کیاگیا تھا،اسی سال ازہری صاحب دوتین ماہ کے لئے خلیجی ممالک کے سفرپر تشریف لے گئے تھے، ان کی غیرموجودگی میں جامعہ کے ایک ذمہ دار استاد نے ندوۃ الطلبہ کے پروگراموں میں ایک ثقافتی و علمی پروگرام بھی شامل کردیا اوراس کے چلانے کی ذمہ داری مجھے دے دی گئی، یہ پروگرام کوئی ایک گھنٹہ کا ہوتاتھا جو تلاوت قرآن،حمد؍نعت؍نظم؍ غزل، ہفتہ بھرکی منتخب تفصیلی خبروں،معلوماتی فیچرز،علمی لطائف اور انٹرویوز وغیرہ پرمشتمل رہتاتھا، اس کے پیش کرنے کا انداز ریڈیو پروگرام جیساہوتاتھا، یہ سلسلہ دلچسپ ہونے کے ساتھ بہ ظاہر مفید بھی تھا، ہرجمعہ کی شام بعدنماز عشاء یہ پروگرام دارالحدیث ہال میں منعقد کیا جاتاتھا، پروگرام میں بعض اساتذہ بھی تشریف لاتے تھے،طلبہ اس پروگرام کو اس قدر پسند کرتے تھے کہ بسااوقات امتحان کے ایام میں بھی مجھے اس کے انعقاد کے لئے مجبورکرتے، ازہری صاحب جب سفرسے واپس آئے توکسی نے اس پروگرام کے بارے میں انھیں بتادیا، پھرمیری طلبی ہوئی، اس بار توجرم کی نوعیت معلوم تھی، ہمت کرکے حاضرہوااورایک مجرم کی طرح سامنے مودب اورڈراسہما کھڑاہوگیا، استاذمحترم نے استفسارکیا ’’میاں! میں نے سناہے تم کوئی پروگرام چلارہے ہو؟‘‘ میں نے لڑکھڑاتی زبان میں مختصرجواب دیاجی!، سوال ہوا ’’اس میں کیا چیزیں پیش ہوتی ہیں؟‘‘میں نے اس کی تفصیلات بتادیں، آپ نے فرمایا ’’ٹھیک ہے ،تمہارااگلاپروگرام کب ہے؟‘‘میں نے عرض کیاکہ جمعہ کو بعدنمازعشاء،فرمایا’’ٹھیک ہے آئندہ پروگرام میں میں بھی حاضررہوں گا، جاؤ ‘‘،میں کسی طرح دفترسے باہرنکلا، احباب نے خیریت دریافت کی،میں نے کہاکہ ایک بڑا امتحان سرپر آن پڑاہے، سبھوں نے ڈھارس بندھائی اور تسلی دی ،اورپھر ہمت کرکے راقم نے بزعم خویش اپنے معاونین اوررفقاء کے تعاون سے ایک اچھا اور معیاری پروگرام ترتیب دے لیا اوراس کی مشق بھی کرادی کہ کہیں کوئی کمی یا جھول نہ رہ جائے، پروگرام کا وقت ہوا، ازہری صاحب تشریف لائے، میں نے آپ کا استقبال کیا اورپروگرام شروع کردیا، ازہری صاحب نے شروع سے آخرتک پروگرام کو غور سے سنا اوردیکھا بھی، آپ کے چہرے پرابھرنے والے نقوش سے ہم آپ کی دلی کیفیت کا اندازہ لگانے میں غلطی نہیں کررہے تھے کہ پروگرام آپ کے معیار پر پورانہیں اتررہاہے اورپھر بات وہی سامنے آئی جس وقت میں نے نہ چاہتے ہوئے استاذمحترم کو تاثرات اورقیمتی پندونصائح کے لئے زحمت دی، آپ کھڑے ہوئے جوکچھ آپ نے فرمایا اس کاخلاصہ تھا کہ اس قسم کا پروگرام میں عربی میں چاہتاہوں۔
اورپھراگلے روزمجھے دوبارہ دفترمیں طلب کرکے فرمایا ’’مولانا!ان بیہودہ کاموں میں وقت نہ ضائع کرو، میں اس پروگرام کا مخالف نہیں مگرمیں چاہتاہوں کہ اسے عربی میں کیجئے، میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیاکہ ’’طلبہ اس میں دلچسپی کم لیں گے‘‘ فرمایا’’ تب محض دلچسپی کے لئے کسی پروگرام کی نہ ضرورت ہے اور نہ گنجائش ‘‘۔
جامعہ سلفیہ بنارس کی آٹھ سالہ طالب علمی کی مدت تک ان تمام امورکا میں نے اچھی طرح مشاہدہ کیاہے اورآپ کے فیض تربیت سے بہرہ ورہوتا رہاہوں، اورمقام شکرہے کہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعدبھی استاذ محترم نے بسا اوقات راقم کواپنی عنایتوں اورتوجہات کامستحق سمجھا، اور گاہے گاہے میری رہنمائی اور حوصلہ افزائی فرماتے رہے ۔
۱۹۸۲ء ؁ میں جامعہ سلفیہ سے فراغت کے بعدایک سال مدرسہ قاسم العلوم گلرہا ضلع بلرام پور میں تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد دوبرس تک راقم دہلی کے ایک تعلیمی ادارہ میں تدریسی وانتظامی خدمت انجام دیتا رہا، دوسرا سال مکمل کرکے جب رمضان کی تعطیل میں گھرآیا تواس ادارہ سے ایک رجسٹرڈ خط موصول ہوا جس میں میرے مفوضہ فرائض اورکارکردگی کے تعلق سے کئی جارحانہ سوالات کرکے مجھ سے ان کاجواب طلب کیاگیا تھا، میں نے اس خط کا جواب تقریباً اُسی لب ولہجہ میں لکھ کر بذریعہ ڈاک روانہ کردیا جس اسلوب اورلب ولہجہ میں مجھے خط میں مخاطب کیا گیاتھا، اب وہاں میرا لب ولہجہ اوراسلوب موضوع بحث بن گیا، اور بالآخرذمہ داران نے اسے جارحانہ ہونے کافیصلہ صادر کردیا، ظاہرہے میں ان حالات میں وہاں کیوں کر اورکیسے رہتا؟ میں واپس اپنی پرانی جگہ آگیا، اس دوران وہاں کے سربراہ اعلی نے کسی کے ذریعہ میری اس ’’گستاخی‘‘ کی شکایت اپنے کسی معتمد شخص کے ذریعہ استاد محترم ازہری صاحب تک پہونچائی اوربطورطنز ان سے کہلایا کہ’’ کیا آپ نے ایسے ہی گستاخ شاگردتیار کئے ہیں؟‘‘ استاذ محترم نے بڑے اطمینان ووثوق سے پیغام لانے والے صاحب سے کہا کہ’’ مجھے اپنے تمام شاگردوں پر اطمینان ہے اورعبدالمنان کو تومیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں ، اس سے اپنے بزرگوں کی شان میں کسی ادنی بھی گستا خی کا میں تصورنہیں کرسکتا الا کہ کوئی اوربات ہوجومیرے سامنے نہ لائی جارہی ہو‘‘اورمعاملہ یہی تھاکہ شکایت میں ادارہ کی جانب سے آنے والے جارحانہ خط کاذکرنہ کرکے ’’ پیغامبر صاحب ‘‘ نے صرف میرے جواب کا تذکرہ کیاتھا،پھر استاذ محترم نے جامعہ کے ایک ثقہ استاد کے ذریعہ کسی تعطیل میں زبانی مجھ سے اس کی وضاحت چاہی، میں نے خط اوراس کے جواب کی کاپی استاذ محترم کوروانہ کردی، خط اورمیراجواب دیکھ کر ازہری صاحب جذباتی ہوگئے اورفرمایاکہ’’ اس جارحانہ خط کے مقابلہ میں جواب میں بڑی حدتک متانت اور سنجیدگی ہے، دل میں تویہی آتاہے کہ دونوں خط چھاپ دئے جائیں تاکہ لوگ اس کا صحیح فیصلہ کرسکیں کہ جارح کون ہے اور کس کا اسلوب رعونت زدہ اور ادب وتہذیب کے منافی ہے‘‘۔
ازہری صاحب رحمہ اللہ اپنے تلامذہ پرپورا اعتماد کرتے تھے اورجہاں بھی ضرورت محسوس کرتے فوراً مناسب انداز میں رہنمائی فرماتے ، ۲۰۰۴ء ؁ میں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس پاکوڑ کے افتتاحی اجلاس میں ایک عرب شیخ کے خطاب کا ترجمہ کرنے کی ذمہ داری راقم کو سونپی گئی، شیخ موصوف نے اپنی تقریرمیں ایک تحریک کانام بہ طور مثال لے لیا جس کا ذکرہندوستان اورخاص طورسے اس کانفرنس کے تناظرمیں اہل حدیث عوام کے لئے الجھن کا سبب بن سکتا تھا، میں جب ترجمہ کے لئے کھڑا ہونے لگاتو ازہری صاحب نے اپنے خاص لب ولہجہ میں فرمایا کہ ’’ذرہ سنبھال لینا‘‘ اورمیں سمجھ گیا اورترجمہ میں اس بات کو مصلحتاً گول کرگیا، ازہری صاحب نے بعدمیں فرمایا تم نے اچھاکیا ورنہ بعدمیں ہمارے لئے مسائل پیدا ہوتے۔
میں نے پہلے بھی لکھا ہے کہ استاذ محترم اپنے تلامذہ کی حوصلہ افزائی بڑی فراخ دلی سے فرماتے اوران کی کسی چھوٹی اورمعمولی خدمت پربھی وہ خوشی کا اظہار کرتے اوراسے لوگوں کے سامنے بڑا بناکرپیش فرماتے، یہ ان کی نہ صرف خورد نوازی بلکہ ان کے بڑکپن کی دلیل ہے ،اس سلسلہ میں اپنا صرف ایک واقعہ نذرقارئین کرناچاہتا ہوں۔
۱۹۹۷ء ؁ میں قادیانیوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اپنے پرپُرزے نکالنا شروع کئے اورنیپال کے بیرگنج ،براٹ نگر،پرسااوردانگ کے اضلاع میں ان کے دعاۃ ومبلغین نے غریب و نادار مسلمانوں کے ایمان کا سودا شروع کردیا،نیز انھیں ایام میں مغربی یوپی کے بعض دیہاتوں کے سادہ لوح اوراَنْ پڑھ مسلمانوں کے ’’شُدھی کرن‘‘ (دوبارہ ہندوبنانے) کی ہوش ربا خبریں آئیں تومیں نے ماہنامہ ’’السراج‘‘ کے نومبر۱۹۹۷ء ؁ کے شمارہ میں’’ہندونیپال میں فتنۂ ارتداد‘‘ کے عنوان سے اداریہ لکھا جس میں اسلام کے خلاف رونما ہونے والے ان فتنوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے مسلمانوں کو ان سے چوکنارہنے کی تلقین کی اورمسلم تنظیموں اوراداروں کو ان کے مقابلہ کے لئے صف آراہونے کی دعوت دی، اتفاقاً انھیں دنوں دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں ۱۲،۱۳؍نومبر۱۹۹۷ء ؁ کو ’’مؤتمر علماء المسلمین‘‘ کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں عالم اسلام کی منتخب اورعظیم علمی شخصیات نے شرکت کی، مادرعلمی جامعہ سلفیہ بنارس کوبھی اس اہم پروگرام میں مدعوکیاگیا تھا، چنانچہ استاذ محترم ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ جامعہ کے بعض ذمہ داران اوراساتذۂ کرام پرمشتمل ایک باوقار وفدکے ساتھ کانفرنس میں شریک ہوئے، مؤتمرمیں گفتگو اورمناقشہ کے لئے جوموضوع منتخب کیا گیاتھا اس کے دوحصے تھے، ایک دعوت اوراس کے اسالیب کے سلسلہ میں اوردوسرا اسی سے ملتا جلتا قادیانیت اوردیگرباطل تحریکات اورگمراہ فرقوں کے استیصال جیسے اہم موضوع سے متعلق تھا، یہ دونوں موضوعات حالات حاضرہ کے پس منظرمیں بیحد حساس اوراہم تھے اور اس قابل تھے کہ تمام مسلکی اورنظریاتی اختلافات سے بلندہوکر باہمی تعاون اوراشتراک کامظاہرہ کرتے ہوئے مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی، مگر بدقسمتی سے یہ کانفرنس تنگ نظری پرمبنی سیاست کی نذرہوگئی اور ہندوستان کے طول وعرض سے صرف ایک ندوی اہل حدیث عالم دین مولانامختاراحمد ندوی رحمہ اللہ کو کانفرنس میں مختصر خطاب کاموقعہ دیاگیا، اورکانفرنس کے کسی بھی سیشن میں دعوت وارشاد اورباطل تحریکات خصوصاً قادیانیت کی تردید کے سلسلہ میں جماعت اہل حدیث کی کاوشوں کا کوئی ذکر نہ کیا گیا،جب کہ اس جماعت کی مساعئ جمیلہ ان دونوں میدانوں میں نہ یہ کہ لائق ذکربلکہ قابل قدررہی ہیں ،ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے کانفرنس سے واپسی کے بعد اپنے مجلہ ’’صوت الأمۃ‘‘ کے فروری ۱۹۹۸ء ؁ کے اداریہ میں’’مؤتمر علماء المسلمین بندوۃ العلماء فی لکنؤ‘‘ کے عنوان سے اس کی مختصر رپورٹ تحریر فرمائی اوراس پر اپنے تاثرات قلمبند کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کااظہارکیا کہ اس مشترک مسئلہ میں بھی پورے پروگرام کے اندرکہیں جماعت اہل حدیث کاذکر آیا اورنہ ہی اس کی ان قابل قدردعوتی کاوشوں کا معمولی تذکرہ کیا گیا جواس جماعت نے برصغیر میں شرک وبدعت کی تردید اورباطل تحریکات مثلاً قادیانیت اورفتنہ انکارحدیث وغیرہ کے استیصال کے سلسلہ میں انجام دی ہے، استاذ محترم نے بڑے درد کے ساتھ یہ لکھا کہ مولانا مختاراحمد ندوی سے امید تھی کہ کم ازکم موصوف جماعت کی خدمات کواجاگر کریں گے مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ، آپ کے الفاظ پڑھ کر اصحاب علم آپ کے کرب کااندازہ کرسکتے ہیں۔
’’وکذلک کانت تأمل(الجامعۃ السلفیۃ)أن الشیخ مختاراحمد الندوی السلفی۔ المتکلم الوحید فی المؤتمر من جماعۃ أھل الحدیث بالھند۔ یشیرولوإشارۃ خاطفۃ، إلی جھود ھذہ الجماعۃ التی بذلتھا فی نشرالعقیدۃ الإسلامیۃ الحقۃ وفی الرد علی الفرق الضالۃ والإتجاھات الزائغۃ والأفکار المنحرفۃ ،ولکن لم یتحقق ھذا الأمل، ولم تقرع أسماع الحضور تلک الأصوات التی دوت فی أجواء شبہ القارۃ الھندیۃ من عہد الإستعمار الإنجلیزی إلی الآن، إنّ ممثلی الجھات والجماعات الأخری قدأشاروا إلی جھود ھذہ الجماعات ومآثرھا فی ھذا المجال، فلوذکرت جھود أھل الحدیث لکان أدعی إلی الوحدۃ والتعاون وأدل علی الإخلاص والإحسان فی النیۃ(مجلۃ صوت الأمۃ،المجلد:۳۰العددالثانی، شوال ۱۴۱۸ھ الموافق فبرائر۱۹۹۸م)
استاذ محترم نے اپنے اس اداریہ میں جماعت اہل حدیث کی دعوتی کاوشوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ماضی کے علماء اہل حدیث کی خدمات کامختصرتذکرہ کیا اور لکھاکہ ہمارے ان بزرگوں نے دعوت کے ہرمحاذ پرمخلصانہ اور رضاکارانہ خدمت انجام دی ہے اورامت کو داخلی اورخارجی فتنوں سے محفوظ رکھنے کے لئے وہ ہردورمیں پیش پیش رہے ہیں، اس ضمن میں آپ نے شیخ الکل فی الکل میاں سیدنذیر حسین محدث دہلوی ،مولانا محمدحسین بٹالوی اورشیخ الاسلام علامہ ثناء اللہ امرتسری رحمہم اللہ کا نام لیاہے جنھوں نے بالخصوص قادیانیت کے استیصال کے لئے ازاول تاآخر کو ششیں جاری رکھیں۔ اس سلسلہ کو جوڑتے ہوئے ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے لکھاکہ موجودہ زمانہ میں بھی ہمارے علماء اس محاذ پر پیش پیش ہیں اوربہ طورمثال میراذکرکرتے ہوئے میرے ’’السراج‘‘ کے اداریہ کے اہم اقتباسات کاعربی ترجمہ تحریر فرمایا ہے،ڈاکٹرصاحب رقم طرازہیں:
’’ومواصلۃ للجھود الدفاعیۃ، وتحذ یراً للناس من الفتن المعاصرۃ، وکشفاً عن دسائس أعداء الدین، دبجت براعۃ أحد خریجی الجامعۃ السلفیۃ، ھوالأخ عبدالمنان عبدالحنان السلفی مقالاً افتتاحیاً فی مجلۃ ’’السراج‘‘ الشھریۃ التی تصدرعن جامعۃ سراج العلوم السلفیۃ فی نیبال، فی عددشھر رجب ۱۴۱۸ھ، وقدجاء فی ھذہ الإفتتاحیۃ أن أعداء الإسلام ینتھزون الفرص فی البلادالتی یعیش فیھا المسلمون کأقلیۃ، ویعانون أنواعاً من الضعف والتخلف والجھل والفقر...................(مجلۃ صوت الأمۃ، فروری ۱۹۹۸م)
آگے ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے ڈیڑھ صفحات میں میرے مضمون کا اختصار پیش کیاہے اور مسلمانوں کومرتدکرنے کے لئے عیسائیوں، قادیانیوں اورہندوؤں کی سرگرمیوں اور منظم کوششوں کا جوتذکرہ میں نے اپنے اداریہ میں کیاہے اسے من وعن ذکرفرمایا ہے، اداریہ کے آخرمیں میں نے لکھاتھا کہ:
’’گویا ارتدادکا یہ فتنہ مختلف شکلوں میں ظاہرہوچکا ہے اورآہستہ آہستہ یہ سیلاب بلاکی شکل اختیار کرتاجارہا ہے، کہ اگراسے روکانہ گیا تواس سے ناقابل تلافی نقصان پہونچنے کا اندیشہ ہے، اس لئے ضرورت ہے کہ اسلامی مفکرین، مسلم قائدین اوراسلامی تنظیمیں اپنے اپنے خول سے باہر آکران فتنوں کے پس منظرپر غورکریں اوران کے سدباب کے لئے متحدہ جدوجہد کریں،متاثرہ علاقوں میں اپنے دعاۃ و مرشدین بھیج کر اسلام کی حقانیت ثابت کریں، مسلمانوں کو اسلامی عقائد وعبادات کی تعلیم دیں، وہاں مساجد ومدارس قائم کریں اوران کے نونہالوں کو دین کی بنیادی تعلیمات سے آراستہ کریں‘‘۔(ماہنامہ ’’السراج‘‘نومبر ۱۹۹۷ء)
ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے اس اقتباس کو اپنے الفاظ میں اس طرح سے لکھا ہے کہ:
’’وفتنۃ الردۃ ھذہ بأوضاعھا المتنوعۃ وأ شکالھا المختلفۃ تقتضی من المسلمین وخاصۃ من علماء ھم أن یوحّدوا الجھود ویدرسوا الأوضاع بد قۃ ویرسلوا العلماء والدعاۃ إلی المناطق المعرضۃ للخطر، حتی یقوموا بشرح العقید ۃ الإسلامیۃ الحقۃ وینذروا المسلمین من الخطر المدحق بھم، ویُنشؤا المد ارس والمساجد التی یجتمع فیھا المسلمون لتعلم مبادئ الإسلام الحقۃ وللإطلاع علی مکائد الأعد اء ومصائد ھم‘‘
ناچیز راقم کا یہ مضمون اگرچہ یونہی سرسری ساتھا اوراس کے ذریعہ مسلم قائدین کو خوا ب غفلت سے بیدارکرنے کی ایک معمولی کاوش تھی مگر استاذمحترم نے اسے پوری سنجیدگی سے لیا اور اپنے ایک گمنام اورعلم وعمل سے بے بہرہ شاگرد کواس قدرلائق توجہ سمجھاکہ اس کااوراس کی معمولی کاوش کا ذکراپنے اداریہ میں بڑے اوراکابرعلماء کے ساتھ کرکے حوصلہ افزائی فرمائی، اورحقیقت ہے کہ آپ کی اس تحریرکو پڑھ کر بڑاسہارا ملا اور اطمینان ہواکہ ہم صحیح سمت جارہے ہیں ،چنانچہ اس کے بعدہی میں نے نیپال میں قادیانی فتنہ کوبے نقاب کرنے کے مقصد سے ایک کتابچہ مرتب کرکے شائع کرایا۔
اس قسم کے بہت سارے واقعات ہیں جواستاذمحترم رحمہ اللہ کی حوصلہ افزائی کے تعلق سے ان کے شاگردوں کے ذہن ودماغ میں محفوظ ہیں، انھیں یکجا کرنے کی ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ ڈاکٹرازہری رحمہ اللہ کی ہمہ جہت خدمات کو قبول فرمائے ،ان کے علمی ودعوتی کاموں کو صدقۂ جاریہ بنائے اورجماعت وجامعہ کوان کا نعم البدل عطافرمائے۔(آمین)
***

علامہ ازہری کا تبحرعلمی اورعلماء کی قدردانی apr-jul-2010

مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی
استاد کلیہ عائشہ صدیقہ جھنڈانگر،نیپال
علامہ ازہری کا تبحرعلمی اورعلماء کی قدردانی
برصغیر ہندوپاک کے ممتاز عالم دین، عظیم مصنف، مشہور اسکالروبے باک صحافی،صاحب طرز ادیب اورمیرے استاد ومربی جناب حضرت العلام حافظ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن فیضی ثم ازہری مختصرعلالت کے بعدمورخہ ۳۰؍اکتوبر ۲۰۰۹ء ؁ بروزجمعہ بوقت صبح تقریباً ۵؍بجے ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
بلاشبہ مجھے اپنی اس سعادت مندی پرفخرحاصل ہے کہ اللہ رب العالمین نے مجھے جن اساطین علم وفن اورارباب فضل وکمال سے شرف تلمذ اختیارکرنے اوران کے چشمہ علم وآگہی سے سیرابی حاصل کرنے کا ذریں موقع نصیب فرمایا ہے ان مشائخ عظام میں جلیل القدر ،عظیم المرتبت، عبقری شخصیت کے حامل، نابغہ روزگار، صاحب قرطاس وقلم میرے ممدوح محترم علامہ ازہری صاحب(تغمداللہ برحمتہ) کا اسم گرامی سرفہرست ہے ،آپ اہل علم کے درمیان اپنے نام سے زیادہ اپنی نسبت’’ازہری‘‘ سے معروف تھے، جب بھی کسی مجلس میں ’’ازہری صاحب‘‘کہاجاتا تھا تواس سے صرف آپ ہی کی بے مثال شخصیت مراد ہوتی تھی، آپ تاحیات درس وتدریس، تصنیف وتالیف اورشعبۂ دعوت وتبلیغ سے منسلک رہے، زبان وقلم کے ذریعہ دشمنان اسلام اورباطل افکار ونظریات کے حاملین کے شکوک وشبہات کا دنداں شکن جواب سپردقلم کرتے ہوئے تشنگان علوم دینیہ کوکتاب وسنت کے چشمۂ صافی اورآب زُلال سے بہرہ ورکرتے رہے ہیں۔
آپ کی زندگی کے بیشمار گوشے ہیں جنھیں قلمبند کرنا مجھ جیسے بے بضاعت کے بس کی بات نہیں تاہم ایک شاگردکی حیثیت سے میںآپ کے گوناگوں اوصاف وخصائل میں سے بعض قابل رشک اورنمایاں خوبیوں کونوک قلم پرلانا چاہتاہوں جوکم ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہیں، آئندہ سطورمیں جوکچھ میں نے لکھنے کی کوشش کی ہے وہ درحقیقت میرے قلبی احساسات وتاثرات اورمیرے ضمیرکی آواز ہے جس کے ہرلفظ سے تمام قارئین کا اتفاق ضروری نہیں۔
۱۴۰۸ھ ؁میں میں نے مادرعلمی جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈانگر،نیپال سے سندفراغت حاصل کی، فراغت کے معاً بعد خطیب الاسلام علامہ عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ نے فریضۂ تدریس انجام دینے کی پیش کش فرمائی لیکن مزیدعلمی تشنگی بجھانے اورسلسلہ تعلیم جاری رکھنے کی غرض سے ناظم محترم کی اس ذرہ نوازی پر معذرت کرلی اور۱۴۰۹ھ ؁میں جامعہ سلفیہ بنارس کے شعبہ ’’تخصص فی الحدیث‘‘میں داخلہ لینے کی خاطر جانب بنارس روانہ ہوگیا، تحریری اورتقریری امتحان کے بعددیرینہ خواب بآسانی مرحلہ تکمیل کوپہنچ گیا اورمطلوبہ جماعت میں داخلہ ہوگیا، داخلہ کی منظوری معلوم ہونے پر فرحت وانبساط میں ڈوب گیا اوریکایک ز باں پر یہ شعرآگیا ؂
مانگی تھی اک دعا جو قبول ہوگئی
جماعت کی مرکزی سلفی درسگاہ میں داخل ہونے اوروہاں کے ماہروکہنہ مشق اساتذہ کے علمی فیوض وبرکات سے مستفید ہونے کی تڑپ عرصہ دراز سے سینے میں موجزن تھی بالآخر آج اللہ نے میری اس دلی خواہش کوبھی پوراہی کردیا جس پرمیں نے اللہ کاشکر اداکیا اورجامعہ کی عالیشان بلڈنگ اوروسیع وعریض چہار دیواری میں رہنے لگا،شہربنارس کا میرایہ پہلاسفر تھا اورممدوح محترم جناب ازہری صاحب سے پہلی ملاقات بھی،آپ کی علمی وجاہت وشخصیت کے بارے میں مستفیدین، محبین، معاصرین اور لائق شاگردوں کے زبانی جوکچھ سناتھا آپ کو انہی اوصاف وکمالات سے متصف پایا، نرم خوومنکسر المزاج تھے، اسلامی اصولوں پر کاربندتھے، جامعہ کے وضع کردہ آئین ودستور کی خودپابندی کرنے کے عادی، اساتذہ، طلبہ اوردیگر عمال وماتحتوں کوپابندکرانے کی سعی محمود کرتے تھے، چہرے پر علمی ہیبت وجلال کے آثار نمایاں تھے، جامعہ کے باوقار عہدۂ جلیلہ وکیل الجامعہ (ریکٹر) کے منصب پر فائز تھے، میری دانست کے مطابق بعض ذمہ داران جامعات اوراہم مناصب پربراجمان حضرات کی طرح کبھی بھی آپ نے اپنے عہدے کا غلط استعمال نہیں کیا بلکہ اپنی معتبر اورعلمی شخصیت کے ذریعہ اخلاص وللہیت کے ساتھ جامعہ سلفیہ کو عالم اسلام میں متعارف کرایا، شہرت بخشی، عمدہ نمائندگی کی اور اس کی ہمہ جہت تعلیمی وتعمیری اوردیگر منصوبوں کی تکمیل میں ہرطرح کی قربانیاں پیش کیں، ان کے اس اخلاص وقربانی کی کوئی قدرکرے یانہ کرے کبھی انھوں نے اس کی پروانہ کی۔
علامہ ازہری رحمہ اللہ کی علمی جامعیت اورتبحرعلمی کا اعتراف اختلاف آراء کے باجود اپنوں اوربیگانوں نے یکساں طورپرکیا ہے، آپ عالمی سطح کے معروف بلندپایہ کے عالم اورمقناطیسی شخصیت کے مالک تھے، آپ کم سخن تھے ،لیکن قلم میں دریا کی روانی تھی، آپ کا علم پختہ اورگہراتھا، سارے علوم وفنون پرگہری بصیرت کے حامل تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیک وقت تین مختلف عربی، اردو اور عربی زبان پر ایسی قدرت بخشی تھی کہ تینوں زبان میں علمی کام کرکے علماء سے داد تحسین حاصل کی ہے بقدرضرورت انگلش کی بھی معرفت تھی، درس نظامیہ کے ہرفن کی کتابوں کو عمدگی سے پڑھانا، زیردرس طلبہ کے اشکالات واستفسارکامعقول جواب دے کر ان کے دلوں کومطمئن کرنا، دقیق اورمبہم عبارتوں کی توضیح وتشریح اورمصنف کتاب کے معنی ومراد کی وضاحت کرنا مختلف ملکی اوربین الاقوامی سیمیناروں اورکانفرنسوں کی کرسی صدارت پر جلوہ افروزہونا ،علمی ریفریشر کورس میں شرکت کرکے علمی استعداد اورفکری قوتوں کامظاہرہ کرنا، دعوتی وتبلیغی اوراصلاحی سیمیناروں میں مختلف حساس موضوعات پربیش قیمت مقالات پیش کرنا، غیرمسلموں کی جانب سے منعقدپروگراموں میں شرکت کرکے اسلام کی نمائندگی کرنا ،درجنوں علمی کتابوں کی تصنیف وتالیف اور ’’بہجۃ المجالس لابن عبدالبر‘‘کی احادیث کی تخریج کرنا، قابل قدر اردووعربی کتابوں کی تعریب وترجمہ کرنا، بعض نفع بخش درسی کتابوں کی تلخیص اورمفید تعلیق سے آراستہ کرنا، عربی ماہنامہ ’’صوت الامۃ‘‘ (قدیم کانام ’’صوت الجامعہ) کے اجراء کے پہلے دن سے تاحیات ایڈیٹرکے منصب پر رہ کرفکر انگیز اور چشم کشا اداریہ زیب قرطاس کرنا، وقیع مضامین ومقالات کے ذریعہ ماہنامہ ’’محدث‘‘ کی صحافتی اقدارکو بلند کرنا،ملکی وغیرملکی عربی اردوجرائد ومجلات اورروزنامہ’’ اخبار‘‘میں حالات حاضرہ پربے لاگ تبصرہ کرنا اوردینی موضوعات پرخامہ فرسائی کرنا،حساس موضوعات واہم شخصیات پرجامعہ سلفیہ میں سمیناروں کا انعقاد کرنا، مسلک اہل حدیث کے خلاف قلمی وزبانی ریشہ دوانی کرنے والی تحریکات وشخصیات کے خلاف تیشہ زنی کرنا ،۱۹۹۲ء ؁ میں تاریخ ادب عربی پراپنی شاہکار تصنیف کے ذریعہ صدرجمہوریہ ہند ایوارڈ سے سرفراز ہونا ،جامعہ سلفیہ کے شعبہ تصنیف وتالیف کی مکمل سرپرستی ونگرانی کرتے ہوئے اس ادارہ سے شائع ہونے والی تمام علمی،فکری، دعوتی ،تحقیقی اوردرسی کتابوں پرمفید مقدمہ تحریرکرنا، کتاب کی اہمیت وافادیت اورمؤلف کی علمی شخصیت ونمایاں خصوصیات پر غیرجانبدارانہ اظہارخیال کرنا، عرض ناشر قلمبندکرنا ،جامعہ کی مجلس عاملہ ومنتظمہ کا متفقہ طورپریکے بعددیگرے’’ وکیل الجامعہ ‘‘اور’’ رئیس الجامعہ ‘‘کا باوقار عہدہ تفویض کرنا ،آپ کے علم کی وسعت، مختلف علوم وفنون کی معرفت، زبان وبیان پرمکمل قدرت رکھنے اورانتظامی لیاقت وصلاحیت سے مالامال ہونے پرغماز ہیں،اس کے اثبات میں کسی مثال اورکسی فردکی تائید وتصدیق کی قطعا حاجت نہیں گوبعض شپرہ چشم وآشوب چشم میں مبتلاانسان کوآپ کے علم کی گیرائی وگہرائی نظرنہ آئے تویہ اس کے آنکھ کا قصورہے آپ کی ذات ستودہ صفات شخصیت کی نہیں، عبارت فہمی اورعربی کو اردو میں اور اردوکوعربی زبان میں منتقل کرنے کا جوملکہ اللہ نے آپ کے اندرودیعت فرمائی تھی وہ آپ ہی کا حصہ تھا، ان کی مترجم کتابوں کی ورق گردانی سے اس بات کا احساس نہیں ہوتا ہے کہ یہ کتابیں کسی اور زبان میں لکھی گئی تھیں، زبان وبیان میں ادنی ثقالت اورجھول نہیں بلکہ سلاست وروانگی اس قدرہے کہ کتاب پڑھنے میں اکتاہٹ نہیں ہوتی ہے کیونکہ آپ تصنیف وتالیف اور تراجم کے عالمانہ اصول وآداب اورعلمی امانت کا بھرپورخیال رکھ کر یہ مقدس فریضہ انجام دیاہے۔
ہرمنصف وبابصیرت شخص جب بھی آپ کے مترجم کتابوں علی سبیل المثال سیرت کے موضوع پر علامہ قاضی محمدسلیمان سلمان منصورپوری کی لازوال وبے مثال کتاب بزبان اردو، ’’رحمۃ للعالمین‘‘کا عربی ترجمہ، شیخ الحدیث علامہ محمداسماعیل سلفی، گجرانوالہ کی ’’تحریک آزادی فکر اورحضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی‘‘ کا عربی ترجمہ بنام’’حرکۃ الانطلاق الفکری وجہود الشاہ ولی اللہ فی التجدید‘‘اورعلامہ محمدجمال الدین قاسمی کی ’’اصلاح المساجد من البدع و العوائد‘‘ کااردوترجمہ دقیق نگاہ سے مطالعہ کرے گا تووہی مذکورہ تحریرکی تائید وتصدیق پرمجبور نظرآئے گا، کیونکہ یہی حق اورسچ ہے جس کے انکارکی کوئی گنجائش نہیں۔’’ھذا ھوالواقع ولیس لہ دافع‘‘۔
میں اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک ذاتی واقعہ سپردقرطاس کررہا ہوں جس میں اگرایک طرف محترم ڈاکٹرصاحب کے کمال علم وفضل، وفورعلم وآگہی ،انشاء پردازی اورزبان وبیان پردست گاہ کامل کی جھلک نظرآرہی ہے تودوسری طرف علمی وانتظامی انہماک ومصروفیت کے باوجود آپ کا تشنگان علوم طالبان دینیہ کے تئیں شفقت ومحبت، اللہ جزائے خیردے میرے استاد نبیل فضیلۃ الشیخ ؍ڈاکٹر عبدالرحمن عبدالجبار مدنی،پریوائی ؍حفظہ اللہ مقیم حال سعودی عرب ریاض جوایک ممتاز اسکالر،محقق ومدقق اورکئی گراں قدر کتابوں کے مصنف ہیں، شعبہ تخصص فی الحدیث کے قیام اورپروان چڑھانے میں آپ کا اہم کردارتھا، اس شعبہ میں داخل طلبہ کو محدث زماں علامہ محمدناصرالدین البانی، متکلم دوراں علامہ عطاء اللہ حنیف بھوجیانی، نمونۂ سلف شیخ الحدیث علامہ محمداسماعیل سلفی گجرانولہ، اورشیخ الحدیث علامہ عبیداللہ مبارک پوری جیسی عالمی وعلمی شخصیات کی علمی ودینی خدمات سے روشناس کراتے اور اردووعربی زبان بولنے، سیکھنے اورلکھنے کے بارے میں ہمیشہ متفکر وکوشاں رہتے تھے اور ہم سب ساتھیوں کے مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھتے، شرم وعار دلاکر کچھ نہ کچھ ضرورلکھنے پر برانگیختہ کرتے تھے، چنانچہ ایک دن ہمارے ہم سبق ساتھیوں کو عربی کتاب’’التفسیر والمفسرون‘‘ کے بعض صفحات الگ الگ کرکے یہ حکم دیاکہ تم لوگ اس کا اردوترجمہ کرکے لاؤ مرتاکیا نہیں کرتا کے بمصداق استاد محترم کا حکم سرآنکھوں پر رکھ کر ہمارے تمام ساتھیوں نے اپنے اپنے مضمون کا ترجمہ شروع کردیا، میرے حصے میں مفسرقرآن امام بیضاوی کی سوانح حیات آئی، میں نے بھی طبع آزمائی کی اورحتی الوسع ترجمہ کرنے اورمصنف کتاب کے مافی الضمیر کی ترجمانی کی کوشش کی، ’’التفسیر والمفسرون ‘‘کے مؤلف نے امام بیضاوی کی سوانح عمری لکھتے وقت ان کے علمی مقام ومرتبہ کو بیان کرنے کے لئے ایک جملہ یوں استعمال کیاتھا ’’....انہ فحل من فحول العلماء...‘‘مصنف کے نزدیک ’’فحل‘‘کا حقیقی معنی ومفہوم اورمرادکیا تھا؟ میری سمجھ سے باہرتھا، لغت کا سہارا لیا تب بھی اس کا صحیح مفہوم واضح نہ ہوا، متفوق وباصلاحیت رفقاء واحباب سے رجوع کیا ان لوگوں نے بھی ایسا مزاحیہ ترجمہ کیاکہ میرے کمرے میں موجودتمام ساتھی ہنس پڑے اوران لوگوں نے مجھے یہ مشورہ دیا کہ تم’’ازہری صاحب‘‘ کے پاس چلے جاؤ وہی اس لفظ کا حقیقی ومرادی مفہوم بتائیں گے مجھے اپنی کم علمی کا احساس اورشیخ ازہری کی علمی ہیبت وجلال کا خو ف ان کے آفس تک جانے میں باربارحائل رہا لیکن جائے بغیر کوئی چارہ بھی نہ تھا، ڈرتے ڈرتے ان کی آفس تک گیا کچھ کہنے سے پہلے ہی آپ اپنے مخصوص لب ولہجہ میں گویا ہوئے’’اجی مولانا! کیابات ہے؟ میں نے جلدی سے اپنی بات ان کے سامنے رکھی فوراً مسکرائے اورہماری پریشانی کوبھی بھانپ لئے اورکہہ بیٹھے کہ تم اس لفظ کے لغوی معنی میں پریشان ہویہاں اس لفظ کا لغوی معنی مرادنہیں ہے، صاحب کتاب نے امام بیضاوی کی علمی قدر ومنزلت اورعبقریت کی طرف اشارہ کیاہے اس کا بامحاورہ ترجمہ نابغۂ روزگار اورعبقری علماء جیسے الفاظ سے کروتب اس کا مفہوم واضح ہوگا۔
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے صحابی جلیل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے فضل وکمال کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: ’’لا تسئلونا وھذا الحبر فیکم‘‘(۱)عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ہم سے کوئی سوال نہ کرو، آپ کا یہ فرمان ہم سب کے لئے اسوہ ونمونہ کی حیثیت رکھتا ہے اوراس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ ہمیں اپنے اکابرین صلحاء، اتقیاء اور علمائے ربانین کا ادب واحترام اورتکریم وتعظیم کرنی چاہئے، یہی ہمارے سلف صالحین کا طرۂ امتیاز تھا، چنانچہ میرے استاد محترم، نازش جمعیت وجماعت علامہ ازہری رحمہ اللہ بھی اکابرین ملت بشمول متقدمین ،متاخرین، قابل قدر تلامذہ حتی کہ ان غیرجماعتی اورغیراسلامی وضع قطع رکھنے والے اہل علم کے قدردان تھے جو اسلام کے خلاف سورش ویلغاربپا کرنے والوں کے خلاف نبرد آزما ہوئے اوردین اسلام کی خدمت کو اپنا ملی، دینی اوراخلاقی فریضہ تصور کرتے تھے، درحقیقت آپ کی یہ علم دوستی اورعلماء کی قدرشناسی آپ کو وراثت میں ملی تھی، بیان کیاجاتا ہے کہ مردم خیز سرزمین مؤمیں منعقدایک آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے جب شیرپنجاب ،فاتح قادیان علامہ ثناء اللہ امرتسری مؤاسٹیشن پر اترے توآپ کے والد
گرامی جناب الحاج محمدیٰسین صاحب اورسابق امیر جماعت مولانامختاراحمد ندوی کے والدنے ہاتھ سے کھینچنے والے’’ٹھیلے‘‘ پربیٹھاکرآپ کو جلسہ گاہ پہنچایا تھا۔
ڈاکٹرموصوف رحمہ اللہ دورحاضر کے ان قصاص اورعلم وعمل سے عاری خطباء وعلماء کی طرح نہیں تھے جنھیں اپنی دروغ بیانی، قصہ گوئی اوربے سروپا حکایت بیانی اورآزادشاعری وتک بندی کے سامنے دوسرے لائق احترام اہل علم بونے نظرآتے ہیں، بلکہ آپ کے شب وروزکاعمل ’’انزلوالناس منازلھم‘‘پرتھا، آپ ہرایک کی عزت افزائی کرتے تھے، خوش اسلوبی اوراچھے انداز میں ائمہ دین کی خدمات کاذکرفرماتے تھے جسے میرے کانوں نے باربار سماعت کیا ہے، کسی کے تکریم کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ اسے عمدہ ڈش پرحاضرہونے کی والہانہ دعوت دی جائے، پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا جائے بلکہ تکریم کا ایک پہلویہ بھی ہے کہ ایسے علماء جومرجع خلائق ہوں، زہد وورع، تقویٰ وطہارت میں اپنی مثال آپ ہوں، دوراندیش دینی وسیاسی بصیرت کے حامل ہوں ان کے محاسن بیکراں کواجاگرکیاجائے، ان کی انقلابی واصلاحی تحریروں
(۱)سنن ابوداؤد،کتاب النکاح،باب فی رضاعۃ الکبیر
اورکتابوں کو زندہ زبانوں میں منتقل کیاجائے اوران کے مفکرانہ ومدبرانہ صلاحیتوں سے عامۃ المسلمین کو روشناس کرایاجائے چنانچہ استادمحترم رحمہ اللہ نے عالم اسلام کی چیدہ وچنیدہ شخصیات مثل شیخ الاسلام ابن تیمیہ، علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، شیخ الاسلام محمدبن عبدالوہاب نجدی، علامہ قاضی محمدسلیمان سلمان منصورپوری ،علامہ محمدجمال الدین قاسمی، شیخ الحدیث علامہ محمد اسماعیل سلفی،گجرانوالہ،ڈاکٹر عبدالحلیم عویس، مولانا محمدتقی امین اورمولانا مصلح الدین اعظمی کی کتابوں کا ترجمہ کرکے ان کے قلمی وفکری عظمتوں کو خراج عقیدت پیش کیاہے، اسی طرح سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ضخیم فتاؤں کی تلخیص بنام ’’معارف ابن تیمیہ‘‘ اورتحریک شہیدین کے مساعی کو سلفی نقطہ نظرسے عربی زبان میں ہدیہ قارئین کرنے کی آپ کی دلی تڑپ تھی جوپوری نہ ہوسکی اورتکمیل ومنصہ شہور پر آنے سے پہلے ہی آپ سفرآخرت پر روانہ ہوگئے۔
اثناء درس علمائے اصولیین، محققین ومحدثین سے اپنی بے پناہ عقیدت ومحبت کا اظہارکرتے ہوئے ان کے علمی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتے تھے ،جب آپ ’’دفاع عن السنۃ‘‘ کے موضوع پر اپنا قیمتی محاضرہ پیش کرتے تھے تو حدیث نبوی کی صیانت وحفاظت میں محدثین کرام کی شبانہ روزمساعئ جمیلہ کاذکرکرنے کے بعدعالم اسلام کے ان شخصیتوں کا ذکربڑے ادب واحترام کے ساتھ کرتے تھے جنھوں نے ذخیرۂ احادیث نبوی کی حفاظت وحمایت میں اپنے گہربارزبان وقلم کو استعمال کرکے باطل افکار ونظریات کے حاملین کے شکوک وشبہات کاپردہ چاک کیا ہے، موضوع سے متعلق عربی زبان کی اہم تصانیف جیسے العقدالجید،السنۃ قبل التدوین، السنۃ ومکانتھا فی التشریع الاسلامی، تدوین السنۃ، الحدیث حجۃ بنفسہ فی العقائد والأعمال، اسی طرح سے اردوزبان میں قائد سلفیت، ماحئ شرک وبدعت شیخ الحدیث علامہ محمداسماعیل سلفی، گجرانوالہ کی ’’حجیت حدیث‘‘ اورجماعت اسلامی کے مؤسس مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب’’سنت کی آئینی حیثیت‘‘ ہم لوگوں سے پڑھاتے تھے، دونوں بزرگوں کے شستہ وشگفتہ زبان وبیان کی چاشنی، سلاست وروانی اورنگارش تحریرکی جم کرمدح سرائی کرتے لیکن ’’لکل حصان کبوۃ ولکل عالم ہفوۃ‘‘کے تحت جماعت اسلامی کے بانی کی علمی فروگذاشت وتسامحات خصوصاً خبرواحد کی عدم حجیت، بعض احادیث کی تشکیک وتضحیک اورمحدثین کرام کے عظیم خدمات حدیث کی تخفیف ورکیک حملوں اورغیرمناسب جملوں کے استعمال پر عالمانہ وفاضلانہ نقدوتبصرہ فرماتے تھے۔
میرے عظیم مشفق استادمحترم آج ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ایک موقع پر ان کے گراں قدر اورپرسوز ناصحانہ کلمات کی شیریں آواز کی گونج ابھی محسوس کررہا ہوں جوآپ کے تواضع وانکساری اوراہل علم کی قدرشناسی پرشاہد ہے،میرے تخصص فی الحدیث کا پہلا سال تھا ،جامعہ کے مجلہ حائطیہ میں میں نے ایک مضمون لکھاتھا، عرصہ ہوامضمون کا عنوان یادنہیں البتہ اس وقت بس اتنایادہے کہ غیرشعوری طورپر مجھ جیسے طالب کے قلم سے جناب مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی شان میں بعض ایسے کلمات نوک قلم آگئے تھے جوغیرمناسب تھے، تنقیدی واصلاحی نظر یے سے آپ نے پورے مجلہ پرایک نظرڈالی اورمیں آپ کے گرفت میں آگیا، عمروجماعت کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں نصیحت کرتے ہوئے کہا ’’اجی مولانا! جس شخصیت کے بارے میں تم نے فلاں لفظ استعمال کیا ہے وہ مناسب اورصحیح نہیں ہے، ان کے علمی خدمات قابل شکر ولائق اعتناء ہیں، وہ مشہور صاحب زبان وقلم تھے ان کا علم وفضل مسلم ہے ،یہ اوربات ہے کہ وہ بھی ایک انسان تھے اورعام انسانوں کی طرح ان سے بھی کچھ شعوری وغیرشعوری اوراجتہادی طورپرغلطیاں سرزد ہوئی ہیں، اللہ اپنے دامن عفومیں جگہ دے گا،تمام کوتاہیوں اورخامیوں کے باوجود وہ ایک مستند ومعتبر دینی رہبرتھے،تحریر وتقریر میں عالمانہ وقار اورشان برقرار رکھو اورایسے کلمات استعمال کرنے سے گریز کروجس سے کسی کی شخصیت مجروح ہورہی ہو یا اس سے ناقدری کی بُوآرہی ہو‘‘۔
آج جب میں آپ کی اس کشادہ روئی، وسعت قلبی، اعلیٰ ظرفی اورنصیحت آموزکلمات کو سوچتاہوں تودل بھرآتاہے، آنکھوں میں آنسو امنڈآتے ہیں کہ آپ کے اندر آج کے بعض علماء کی طرح تعلی وخودروئی کی بیماری نہیں تھی بلکہ علمی تفوق وبرتری کے باوصف آپ دوسرے علماء کی عیب جوئی اورحوصلہ شکنی کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی اورعزت کرتے تھے اوران کے تمام تردینی خدمات کو انشراح صدرکے ساتھ دادتحسین پیش کرتے تھے۔
جامعہ سلفیہ کے طلبہ، اساتذہ اورمنتظمین جامعہ کی نظرمیں آپ باعزت تھے، قدرکی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اورآپ بھی ہرایک کا حسب مراتب احترام کرتے تھے ،میرے دورطالب علمی کا یہ دوسراواقعہ ہے ایک بار ہمارے ایک مقامی ہم سبق ساتھی اور استادمحترم فقیہ ملت، جماعت کے محقق ومصنف اورسابق مفتئ جامعہ جناب مولانامحمدرئیس ندوی رحمہ اللہ کے مابین غیرشرعی لباس زیب تن کرنے کے موضوع پرکچھ اس انداز میں گفتگوشروع ہوئی کہ معمولی وقفہ کے بعدشدید تلخی آگئی اورمولانا موصوف اپنی عمرومزاج کے تقاضے کے مطابق آپے سے باہرہوگئے اور کلاس روم سے نکل کرسیدھے محترم ازہری صاحب کے پاس چلے گئے اورہم لوگوں کی شکایت کردی، آپ جب اپنی گھنٹی میں تشریف لائے توایک بلیغ اور موثرکن اسلوب میں مختصر خطاب کیا جس میں اساتذہ کا ادب واحترام کرنے کے ساتھ ساتھ جامعہ کے اصول وضوابط اورنظام کو برقراررکھنے کی تاکید کرتے ہوئے ایک مثال دی تھی کہ ’’گوتم بدھ‘‘ کے عقیدت مندوں کو دیکھو وہ گروارنگ کالباس پہنے رہتے ہیں اورسرہمیشہ منڈائے رہتے ہیں ان کے متبعین کوکوئی اعتراض نہیں ہوتا اورنہ ہی خفت محسوس کرتے ہیں جب کہ ہمارے جامعہ کے طلبہ اسلامی لباس پہننے میں عارمحسوس کرتے ہیں،جامعہ کا ایک نظام ہے اسے آپ برتنے کی کوشش کریں اورمحترم ندوی صاحب جماعت وجمعیت کی ایک مغتنم شخصیت ہے ان کی عزت کرو، اوران کے علم سے استفادہ کرو، انھیں ناراض مت کرو، آپ کا یہ اندازگفتگو علماء سے الفت ومحبت اوران کی عزت واحترام کی واضح مثال ہے۔
اسی طرح سے آپ نے اپنے بیش قیمت بحوث ومقالات اورفکرانگیز افتتاحیہ کلمات میں جماعت کے باکمال،حوصلہ مند اورقابل احترام شخصیات کی خدمات کاتذکرہ کرکے ان کے حوصلوں کو بلند کرتے تھے، ان کے خفتہ وخوابیدہ صلاحیتوں کوبیدارکرنے کے لئے مہمیز لگایاکرتے تھے، تفصیل کا یہ مقام نہیں بطورمثال جماعت کے بعض مشاہیر اصحاب قلم کاذکرجمیل کیاجارہا ہے جس کے تناظرمیں استادمحترم کاعلماء اسلام سے عمدہ مراسم وتعلقات کی گہرائی کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے ۔
*مادرعلمی جامعہ سراج العلوم السلفیہ ،جھنڈانگر،نیپال کے سابق ناظم اعلیٰ ،مرکزی جمعیت اہل حدیث نیبال کے مؤسس وبانی اورخطیب الاسلام علامہ عبدالرؤف رحمانی رحمہ اللہ اگرآپ کی مایہ نازادبیت، سیال قلم اورشرافت وسنجیدگی پرنازاں تھے تومیرے استادمحترم ان کی مشہورخطابت وصحافت پرفخرکرتے تھے اوران کے ہرحکم کو نہایت ہی خندہ پیشانی کے ساتھ قبول فرماتے اورقوم وملت کے لئے اپناعلمی تعاون پیش کرنے میں کبھی دریغ نہ کرتے تھے، تعطیل کلاں کے بعدجب بھی میں وطن عزیزسے بنارس جاتاتوآپ ان کی خیروعافیت اورعلمی وملی مصروفیت کے بارے میں ضرور استفسار فرماتے ۔
*مشرقی نیپال کے مختلف اضلاع ومقامات میں جب قادیانیوں کے گمراہ علماء ودعاۃ نے اپنے مشن کو فروغ دینے کے لئے اپنی سرگرمیوں کو تیز کردیا اورقریب تھاکہ بہت سارے سادہ لوح انسان ان کے اس دام تزویر میں پھنس جاتے توآپ کے شاگردگرامی قدربرادرمحترم جناب مولانا عبدالمنان سلفی؍حفظہ اللہ نے اس فتنہ کی سرکوبی اوران کے مزعومہ وخودساختہ دلائل کے تارپودکوبکھیرنے اورمنظرعام پر لانے کے لئے ’’السراج‘‘ کے ادارتی صفحات میں فتنۂ ارتداد کے عنوان سے ایک مضمون لکھا نیز اس فتنہ کوبے نقاب کرنے کے لئے بعدمیں آپ نے ایک کتاب ’’فتنۂ قادیانیت ‘‘کے نام سے مرتب کرکے شائع کی توآپ نے اپنے شاگرد کی اس کاوش کو استحسان کی نظرسے دیکھا اورعربی ماہنامہ’’صوت الامۃ‘‘کے اداریہ میں حوصلہ افزا کلمات کے ذریعہ اپنے بے پایاں مسرت کا اظہارکرتے ہوئے اپنے تلمیذرشید کے لئے مزیددعوتی ومسلکی خدمت کرنے کی اللہ سے دعاکی۔
*’’زادالخطیب‘‘ یہ ایک جامع اورمفصل خطبات جمعہ کا مجموعہ جودعاۃ ومبلغین اوراہل علم کے لئے بیش بہا علمی تحفہ ہے جسے جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کے فاضل، سلفی فکرومنہج کے حامل ادارہ ’’جمعیۃ احیاء التراث الاسلامی،کویت‘‘ کے فعال ومتحرک داعی ،دعاۃ کے مسؤل اورمیرے بزرگ دوست برادرمحترم ڈاکٹر حافظ محمداسحاق زاہدمدنی؍حفظہ اللہ مقیم حال کویت نے نہایت ہی عرق ریزی ودیدہ وری کے ساتھ مرتب کیاہے،آغاز کتاب میں برصغیر کے جماعت اہل حدیث کے نامور علماء کے تقریظات ہیں اسی ضمن میں میرے ممدوح محترم کا بھی تقریظ شامل ہے جس میں آپ نے کتاب کی نمایاں ومنفرد خصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مؤلف محترم کی شبانہ روزکی محنت ومشقت، حکمت ودانائی ،بالغ نظری، اخلاص ونیک نیتی اوردیگر خوبیوں کا اعتراف کرکے ان کی عزت بخشی ہے۔
استاد محترم علامہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ نے اپنی حیات مستعار اس طرح سے گذاری ہے جس میں طلبہ،علماء،دعاۃ، مؤلفین ومصنفین اورمنتظمین سب کے لئے سامان درس عبرت موجودہے ہم سب کو ان کی زندگی اورطرززندگی سے عبرت حاصل کرناچاہئے ،اگرآپ علوم شریعت کے متلاشی ہیں اوراپنے دامن مراد کو دینی بصیرت وبصارت سے مالامال کرناچاہتے ہیں توآپ اپنے قیمتی اوقات کو یوں ہی ضائع نہ کریں بلکہ علم شرعی کے حصول میں ہرطرح کی ممکن کوشش کرنے کی عادت ڈالیں ،کتابوں کی خوشہ چینی کریں،اپنے منزل مقصود کو حاصل کرنے کے سلسلے میں ہمیشہ کوشاں رہیں،اگرآپ مسند تدریس پرفائز ہیں تواپنی مفوضہ ذمہ داری کاہمیشہ احساس رکھیں کیونکہ فریضۂ تدریس ایک امانت ہے جس کے بارے میں اللہ آپ سے بازپرس کرے گا، کتابوں کا مطالعہ ضرورکریں تاکہ اعتمادکے ساتھ پڑھا سکیں،زیردرس عزیزطلبہ کے تئیں بغض وعناد اوراخلاقی گراوٹ کے بجائے محبت کاپیکراوراچھے اخلاق کامظاہرہ کریں، اگرآپ کے طلبہ علمی،ادبی اورتحقیقی ذوق رکھتے ہوں اورآپ سے رہنمائی چاہتے ہوں توان پربیجانکتہ چینی کرنے اوران سے جلنے کے بجائے ان کی ہرطرح حوصلہ افزائی کیجئے، خلوص دل سے دعا دیجئے تاکہ آپ کوبھی اپنی دعاؤں میں یادرکھیں، اگرآپ منتظم یاکسی نوع کے ذمہ دارہیں توفرض شناسی کے ساتھ اپنے ماتحتوں کا خیال رکھیں، اوربدکلامی کے بجائے حسن اخلاق سے پیش آئیں، اگرجامعہ کے ذمہ داران آپ پراعتماد کرتے ہیں توان کے حسن ظن کوٹھیس نہ پہونچائیں،اپنے عہدوں کی من مانی فیس وصول کرنے اورجامعہ کی مالی وسائل کی فراہمی کے بجائے اپنے جیب خاص کوگرم نہ کیجئے ،فضامیں اداروں کوقائم کرنے کے بجائے زمین پر قائم کرکے نونہالان ملت اسلامیہ کو زیورعلم وعرفاں سے آراستہ کریں، اگرآپ ادبی وتصنیفی ذوق کے حامل ہیں اوراپنے اندرمزید نکھار لانا چاہتے ہیں تومتقدمین ومتاخرین ادباء ومصنفین کی کتابوں کوزیرمطالعہ رکھیں اورحاسدوں کی حسد کی پرواکئے بغیراپنے مشن میں منہمک رہیں ،غرضیکہ آپ اپنی زندگی کو ایسے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں کہ مرنے کے بعد بھی آپ کے نام اورکام کویاد کیاجائے ۔
بارالٰہا!میرے استاد محترم کے تمام بشری لغزشوں کودرگذرفرماتے ہوئے جنت میں اعلیٰ مقام عطافرما اوران کے تمام پسماندگان ،احباب اورتلامذہ کو صبرجمیل کی توفیق مرحمت فرما۔(آمین)
***

Wednesday, June 16, 2010

ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ apr-jul 2010

مولاناشریف اللہ سلفیؔ
پرنسپل جامعہ عالیہ عربیہ،مؤناتھ بھنجن
ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ
سرزمین مؤبالخصوص محلہ ڈومن پورہ کو اپنے جن سپوتوں پربجا طورسے فخرہے ان میں ڈاکٹرحافظ مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ سرفہرست ہیں، جامعہ عالیہ عربیہ سے تعلیم کی ابتدا کی پھرفیض عام مؤ اور دارالحدیث سے کسب فیض کے بعد جامعہ ازہرمصرگئے ،وہاں سے کسب فیض کے بعدجب ہندوستان واپس آئے تو آپ نے جامعہ سلفیہ بنارس کا انتخاب کیا اوریہیں سے درس وتدریس کا آغاز کیا، یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے آپ سے کتاب ’’البلاغۃ الواضحۃ‘‘ سبقاً سبقاً پڑھی ہے،آپ عبارت خوانی اورعبارت فہمی پرپوری توجہ صرف کرتے اورکہاکرتے’’اچھا پڑھنا آدھی تیاری ہے‘‘ اورچونکہ ترجمتین میں آپ ماہرتھے اس لئے پہلے لفظی ترجمہ اورپھربامحاورہ ترجمہ کرتے تھے، دوران مطالعہ اگرکہیں کوئی غلطی ہوجاتی تواس کی اصلاح کے بعدہی آگے بڑھتے اور کتاب میں موجود تمرینات کوبحث سے اس طرح جوڑدیتے کہ طلباء کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی، اس کا خاطر خواہ فائدہ یہ ہواکہ چنداسباق کے بعدہی کتاب بہت آسان معلوم ہونے لگی اورمباحث کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔
آپ کی حیات وخدمات پراہل قلم نے خوب لکھا ہے اورمزید تحریر وتحقیق کا دورچل رہا ہے اورچلنابھی چاہئے تاکہ اس عظیم شخصیت کی زندگی کا ایک ایک گوشہ سامنے آئے اورلوگ اس سے استفادہ کریں اوراپنی زندگی میں نافذ کریں، میں آپ کی زندگی کے تین واقعات بالاختصار بیان کرنے کی کوشش کررہا ہوں جومیرااپنا ذاتی مشاہدہ ہے۔
(۱) ۱۹۷۵ء ؁ کی شدید گرمی کا زمانہ تھا، بچھوا گرم ہواچل رہی تھی، مجھے معلوم ہواکہ ازہری صاحب رحمہ اللہ مع اہل وعیال اونرہوا ضلع بلرامپور تشریف لارہے ہیں، راستہ ٹرین ہی کا تھا اس لئے میں بڑھنی اسٹیشن پہونچ گیا (میں ان دنوں ’’دارالتوحید‘‘ مینا عیدگاہ ضلع سدھارتھ نگر سے منسلک تھا جوبڑھنی اسٹیشن سے تقریباً ۲۶ کلومیٹر دکھن اٹواتحصیل سے پورب واقع ہے) معلوم ہواکہ ڈاکٹر صاحب ویٹنگ روم میں تشریف فرماہیں، تھوڑی دیربعدآپ باہرتشریف لائے اورمجھے دیکھتے ہی بہت تعجب سے پوچھنے لگے آپ کیسے؟کیا آپ کومیرے یہاں آنے کا علم ہوگیاتھا؟ کیا آپ کا گھر بھی یہاں سے قریب ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا جی ہاں! مجھے آپ کی آمد کا علم ہوگیا تھا اورمیں آپ کو زحمت دوں گا کہ آپ میرے غریب خانہ تک تشریف لے چلیں، یہاں سے میرا گھرتقریباً ۲۶کلومیٹر ہے، میرے والد صاحب نے مجھے خاص طورسے اسی لئے بھیجا ہے، ڈاکٹرصاحب نے جواب دیا :اولامیں تومہمان ہوں،میزبان کی مرضی کے بغیر میں کہیں نہیں جاسکتا، ثانیاً میرا یہ پروگرام طے شدہ ہے اس میں ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں دکھائی پڑتی ہے بہرکیف بحث وتمحیص کے بعدمایوسی ہی میرا مقدر بنی۔
دوران گفتگو میں نے کہا :کہ ڈاکٹر صاحب’’اونرہوا‘‘ میں آپ کی تقریر کا بھی پروگرام ہے، ڈاکٹر صاحب فوراً گویا ہوئے، ٹھیک توہے ! میں تقریر کروں گا‘‘ یہ آپ ہی کے الفاظ ہیں اوراب تک مجھے یاد ہے چونکہ میں نے آپ کی عوامی تقریر نہیں سنی تھی اس لئے آپ کے جواب پرمجھے کچھ تعجب ہوا مگرآپ نے اسے یقین میں بدل دیا اورپھر میں آپ کی تقریرسننے کے لئے اونرہوا پہونچ گیا، آپ کی تقریر کس موضوع پرتھی؟ یہ تویادنہیں آرہا ہے البتہ لوگوں کو تقریر پسند آئی اورخوب تعریف کی ۔
میرے خیال سے آپ کا اس علاقہ کا یہ پہلا سفرتھا اورپہلی عوامی تقریر تھی اوراس کے اصل داعی حاجی عبدالودود صاحب اوران کے صاحبزادے مولانا عبدالصبور سلفی تھے جوڈاکٹر صاحب کے شاگردوں میں سے ہیں(اگرکسی کو آپ کی پہلی عوامی تقریر اس سے پہلے کی یاد ہو تومجھے مطلع کرنے میں زحمت کریں گے تاکہ میں اپنی اصلاح کرسکوں)
(۲) جامعہ سلفیہ میں آپ طلبہ میں ترجمتین اورعربی زبان وادب میں بات چیت کرنے کا ملکہ پیدا کرنے کے لئے انجمن کے ہفتہ وارپروگرام میں ضرورشرکت کرتے اوروہاں طلبہ سے عربی میں خطاب کرتے اوردوران تقریر اخطاء کی اصلاح بھی عربی میں کرتے۔
اسی طرح بعد صلاۃ عشاء باذوق منتہی درجات کے طلبہ کواپنے کمرہ میں بلالیتے ،سامنے کبھی کوئی اخبار اردوکا رہتا اورکبھی کوئی عربی کا اورپھراس کی عبارت پڑھواکر اس کا ترجمہ کراتے، ایک طالب علم ترجمہ کرتا پھردوسرے ،تیسرے اورکئی ایک سے اس میں مزید بہتری اورحسن پیدا کرتے، اورآخرمیں مکمل اصلاح خودکرتے ،ابتداء میں آپ نے یہ سلسلہ صرف منتہی طلبہ ہی کے لئے رکھا تھا، مگربعدمیں ہرباذوق طالب علم شریک ہوتا اوراسی وجہ سے کافی طلبہ استفادہ کرنے جاتے تھے، یہ سلسلہ آپ کے علی گڈھ جانے سے قبل تک قائم رہا،علی گڈھ جانے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوگیا اوردوبارہ جب آپ جامعہ سلفیہ بنارس واپس آئے تویہ سلسلہ قائم نہیں رہ سکا۔
(۳) یہ حقیقت ہے کہ ہرذمہ دار ،عہدیدار، ادھیکاری بالخصوص عربی مدارس کے ذمہ داران کے کان بڑے لمبے ہوتے ہیں اوراپنے گرگوں کی ہربات پرآمنا وصدقنا کہہ کرفیصلہ کرلیتے ہیں، تحقیق وتفتیش کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اوراگرکبھی تحقیق کرنے کی مجبوری ہوگئی توپہلے سے ایک مفروضہ قائم کرکے اسی کے اردگرد ساری تحقیق ہوتی ہے، اس سے سرموانحراف باعث ننگ وعارسمجھتے ہیں ،اس وجہ سے مدارس میں جہاں کمزور پہلووالے اساتذہ ذمہ داران کی چاپلوسی اور’’ہاں میں ہاں ملانے‘‘میں لگے رہتے ہیں اوراپنا قداونچاکرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، وہیں دوسری طرف باصلاحیت اورخود داراساتذہ ذمہ داران کی نگاہ میں معتوب رہتے ہیں(الا ماشاء اللہ) لیکن ڈاکٹر صاحب ہرسنی ہوئی بات کو مان لینے پریقین نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنی حد تک تحقیق کرلینے کے بعدہی اس کا یقین یا انکار کرتے، میرے ساتھ تو آپ کا یہی برتاؤ رہا،سنئے:
جب درالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں چھاپہ پڑا تھا ان دنوں جامعہ سلفیہ میں کسی بھی متعارف یا اجنبی شخص کو رات گذارنے کی قطعاً اجازت نہیں تھی، مجھے جامعہ عالیہ عربیہ کے کچھ اہم ضروری کام سے جامعہ سلفیہ جاناپڑا، چونکہ یہ بات پہلے سے معلوم تھی کہ رات جامعہ سلفیہ میں گذارنے کی اجازت نہیں ہے اس لئے یہ سوچ کرگئے تھے کہ ضروری کاغذات مولانا محمد اجمل صاحب کے حوالہ کرکے رات کسی بھی ہوٹل میں گذارلیں گے اورپھر دن میں جاکرکام کرلیں گے اوراسی پروگرام پرعمل پیرابھی رہا، لیکن میرے کسی خیرخواہ نے ڈاکٹر صاحب سے میری خوب شکایت کی اوررات میں عدم قیام کی من گھڑت حکایات بیان کی (جیساکہ مجھے بعدمیں ڈاکٹرصاحب کی زبانی معلوم ہوا) اس کے کچھ دنوں بعدمؤہی میں ڈاکٹرصاحب سے ملاقات ہوئی،جب ہم دونو ں تنہا ہوئے توآپ نے بہت سنجیدگی سے میری شکایت کوسامنے رکھا اورمجھ سے استفسار کیا، چونکہ میں خالی الذہن تھا اس لئے بھونچکا رہ گیا، پھرمیں نے اپنی بات بتلائی توآپ نے میری تصدیق کی اوراس نمّام کی باتوں کو ردکرتے ہوئے کہا: دیکھو لوگ کس طرح دوآدمیوں کے مابین اختلاف اورنفرت پیداکرتے ہیں ،اللہ ان پررحم کرے۔
بظاہریہ توایک معمولی واقعہ ہے مگراسی سے آپ کے اونچے اخلاق کا پتہ چلتا ہے اوریہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ بلاتحقیق ہرکسی کی بات مان لینا آپ کی فطرت نہیں تھی، اب کہاں ہیں ایسے لوگ؟ جوصاحب معاملہ سے تحقیق کے بعدچاپلوسوں کی بات ردکرتے ہوں اورصاحب معاملہ کو سچ مانتے اوراس کی بات کی تصدیق کرتے ہوں، اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔(آمین)
***

ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ اور ان کی عربی طرزِ تحریر apr-jul-2010

ڈاکٹرلیث محمد لال محمدعمریؔ مکی
ندوۃ السنۃ،اٹوابازار، سدھارتھ نگر

ڈاکٹرمقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ
اور ان کی عربی طرزِ تحریر
اس جہانِ رنگ وبومیں ابتدائے آفرینش ہی سے لوگوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری ہے، یہ سلسلہ اس دارِ فانی کے فناکا منہ بولتاثبوت ہے ،اکثروبیشتر لوگ آتے ہیں اورچلے جاتے ہیں، ان کے نام ونشان مٹ جاتے ہیں، دنیا انھیں بھول جاتی ہے،اس لئے کہ انھوں نے اپنے پیچھے یادوں کاکوئی سلسلہ نہیں چھوڑا۔مگر کچھ ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ ان کے محاسن واوصاف حمیدہ کے باعث چلے جانے کے بعدبھی دنیاانھیں یادرکھتی ہے ،وہ دنیائے علم وادب میں تصنیفات وتالیفات، تراجم وتحقیقات ،مضامین ومقالات کے انمٹ نقوش چھوڑجاتی ہیں جن سے ان کی یادیں ذہنوں میں تازہ رہتی ہیں،ان کے بعددرس وتدریس اورتلامذہ کی شکل میں علم ینتفع بہ کی ایسی عملی تفسیر باقی رہ جاتی ہے جوان کے لئے صدقہ جاریہ کا کام کرتی رہتی ہے، انھیں ہستیوں میں سے ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کی بھی ہستی ہے جوبتاریخ ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء ؁ بروزجمعہ داغ مفارقت دے کراس دارفانی سے داربقاکو چل بسے، اللہ تعالیٰ انھیں کروٹ کروٹ جنت عطاکرے ۔(آمین)
مجھے آپ کی سیرت کے ایک خاص گوشے ’’ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کی عربی طرزتحریر‘‘ کواجاگر کرناہے، لیکن اس سے پہلے آپ کے ایک خاص وصف کاذکرکئے بغیرنہیں رہ سکتا کہ میراخود اس سے سابقہ پڑچکا ہے، لکھنے پڑھنے اورمیدانِ تصنیف وتالیف سے منسلک رہنے والوں کی آپ دل کھول کر تشجیع اورہمت افزائی کرتے تھے ،بڑکپن کا احساس اس راہ میں کبھی حائل نہ ہوا، چنانچہ جب میں نے اپنی کتاب’’تیسیرالنحو‘‘ پرتبصرہ لکھنے کی خواہش ظاہرکی، توپورے شرح صدرکے ساتھ آپ نے قبول فرمایا،قارئین حضرات میں سے جن لوگوں نے آپ کا تبصرہ پڑھاہوگا وہ میری رائے سے اختلاف نہیں کریں گے، آپ کی تشجیع وہمت افزائی سے یقیناًعلمی کاموں کے لئے مجھے بے پناہ حوصلہ وتوانائی ملی، اللہ تعالیٰ ہمارے دیگربڑے لوگوں کوبھی اس کی توفیق بخشے ۔(آمین)
ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ کی عربی طرز تحریر:
ادب نام ہے طرزِ ادا وتخیل کی ندرت کا،جس قدران دونوں میں ہم آہنگی ہوگی اتنا ہی ادیب عروج سے قریب ہوتاجائے گا،مواداوراسلوب بیان اس کے زمین وآسمان ہیں، بغیر ان دونوں کے یکجا ہوئے دنیا ئے ادب آبادنہیں ہوسکتی، یہ تو ہوسکتا ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا سہارا لے کرکوئی ادیب میدانِ ادب میں نمایاں ہوجائے، لیکن ثبات ناممکن ہے، ہر دلعزیزی تو ممکن ہے لیکن ہمہ گیری واستحکام نصیب ہونا مشکل ہے۔
ادب کے نمایاں ہونے میں طرز تحریر اورمواد کاتناسب کیاہے؟ اس کا فیصلہ آسان نہیں، لیکن عام طورپر یہ رائے ہے کہ موادکی اہمیت اس سلسلے میں زیادہ ہے، اس لئے کہ جس پایہ کا خیال ہوتاہے، اسی مرتبہ کے الفاظ بھی ساتھ ہی ساتھ دماغ میں ابھرآتے ہیں ،کوئی خیال بغیر الفاظ کا سہارا لئے ہوئے ذہن میں نہیں آتا، مواد کے ذخیرے سے تخیل جب کوئی موضوع چنتاہے تو الفاظ ہی اس کو ہیئت عطاکرتے ہیں، گویا خیال زندگی ہے اورالفاظ پیکر، ظاہر ہے کہ زندگی بغیرپیکرکے آسانی سے نہ دیکھی جاسکتی ہے نہ سمجھی جاسکتی ہے، مگراس کے وجودسے انکارنہیں کیا جاسکتا ،روح بغیر قالب کے ہماری سمجھ میں آئے یانہ آئے مگرماننے والوں کے نزدیک اس کا ہونامسلم ہے، بہرحال روح بغیرجسم کے اورجسم بغیر روح کے بے معنی تونہیں، مگرناقابل فہم ضرورہے، ان دونوں کاساتھ ناگزیرہے، دنیا زیادہ تر ظاہری وجسمانی حسن سے متاثر ہوتی ہے، روح کی رعنائی کا بھی معیار اسی کوسمجھتی ہے ،معنوی وباطنی حسن کو دیکھنا آسان کام نہیں، اسی لئے توکہا گیاہے کہ ؂
عشق کا حسن کہاں دیکھ سکے اہل جہاں
ورنہ یوسف سے زیادہ تھا زلیخا کا جمال
بہ لفظ دیگرعموماًطرزِ تحریر واداکے حسن کا جادو ہی سرچڑھ کربولتاہے، غالب کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ دنیائے شاعری میں ان کے ابتدائی نقوش باوجود تخیل کی ندرت کے کوئی جگہ ادب میں نہ پاسکے، لیکن جب انھوں نے زبان وبیان اورطرزِ ادا کی رعنائی میں معقول اضافہ کرلیا تووہی سب سے بلندجگہ پرنظرآئے،اگروہ ایسانہ کرتے توانھیں یہ بلندی نصیب نہ ہوتی۔
اس تناظر میں جب ہم ازہری صاحب کی عربی تحریروں کاجائزہ لیتے ہیں تووہ طرز تحریرکے اعلی مقام پرفائز نظر آتے ہیں، پڑھنے سے معلوم ہوتاہے کہ آپ بے پناہ ذخیرۂ الفاظ کے مالک ہیں، وہ آپ کے ذہن میں اس طرح مستحضراور آپ کے سامنے اس قدردست بستہ کھڑے محسوس ہوتے ہیں کہ موقع ومحل کے اعتبارسے مطلوب الفاظ بے ساختہ خود بخود نوک قلم پر آجاتے ہیں، ان کا ایسا برمحل استعمال کرتے ہیں خصوصاً افعال کے صلات کو ایسی مہارت سے برتتے ہیں کہ پڑھنے والے کو کہیں سے بھی آپ کے غیرعرب ہونے کا شبہ نہ ہو، جبکہ برصغیرکے دوسرے لکھنے والوں کے یہاں اس سلسلے میں ایسی لغزشیں پائی جاتی ہیں جوان کی عجمیت کی چغلی کھاتی ہیں، آپ کے یہاں مشکل وبھاری بھرکم الفاظ کا بے تکا استعمال نہیں ملتا، جس سے اسلوب اور طرز تحریر کی رونق ورعنائی جاتی رہے، جب کہ دوسرے حضرات اسی کو معیار ادب سمجھ بیٹھے ہیں، ان کی تحریروں میں مشکل ترین اوربھاری بھرکم الفاظ کی ایسی بھرمار ہوتی ہے جس سے وہ نہایت بوجھل اوربھدی ہوجاتی ہیں، اپنا حسن وجمال کھوبیٹھتی ہیں، قارئین کے ذوق پرایسی گراں گذرتی ہیں کہ وہ ان سے متنفرہوجاتے ہیں، کچھ لوگوں کی تحریروں میں بہ تکلف وزبردستی مترادفات کی ایسی کثرت پائی جاتی ہے جس سے شبہ ہونے لگتا ہے کہ لکھنے والا احساس کمتری میں مبتلاہے، اورمترادفات کی بے جاکثرت سے اپنے اس احساس کو مٹانا چاہتاہے، آپ کی تحریروں میں اس طرح کاشائبہ تک نہیں ملتا، آپ کے جملوں میں بلاکی ہم آہنگی، ترکیبوں میں شدید ارتباط، عبارتوں میں دریا کی روانی وسلاست پائی جاتی ہے، اسلوب ایسا جاذب وپرکشش کہ قاری کھنچتا چلاجائے، تحریر اگر مضمون ومقالہ کی صورت میں مختصر ہوتواسے ختم کئے بغیر دم نہ لے، فقروں کی زنجیروں سے ایسی مترنم آواز ابھرتی ہے جوکانوں میں رس گھول دے۔
خشکی مذہبی تحریروں کا ایک لازمی جزء سمجھ لی گئی ہے، آپ کی اکثرعربی تحریروں کا تعلق مذہبی امورسے ہے، لیکن مذکورہ صفات سے متصف آپ کی طرز تحریر کاکمال ہے کہ انھیں بھی گل وگلزار بنادیاہے۔
خلاصہ یہ کہ آپ کی طرز تحریر ایسی عمدہ کہ لطافت وشادابی سطر سطر سے عیاں اورآمد وبے ساختہ پن لفظ لفظ سے نمایاں ہے، اسی طرزِ تحریر کے باعث جب عصرحاضر کے ہندوستانی ادباء کی تاریخ مرتب کی جائے گی توآپ کا شمار صف اول کے ادیبو ں میں ہوگا۔

عربی زبان وادب میں ڈاکٹرحافظ مقتدیٰ حسن ازہری کا مقام apr-jul 2010

مولانامطیع اللہ حقیق اللہ مدنیؔ
استاد مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کرشنانگر
عربی زبان وادب میں
ڈاکٹرحافظ مقتدیٰ حسن ازہری کا مقام
ہندوستان میں جماعتِ اہل حدیث میں بڑے نامی گرامی اہل علم وفن گذرے ہیں اسلامی، شرعی علوم کے جملہ شعبوں میں ایسی باکمال ہستیاں موجود رہی ہیں،جنھوں نے علوم وفنون میں اپنی واضح خدمات اورانمٹ نقوش چھوڑرکھی ہیں۔
ملی اورجماعتی تاریخ میں ضلع اعظم گڈھ کی خاک سے اٹھنے والے ناموران علم وفن کاایک زریں سلسلہ اورعظیم نمایاں سنہری تاریخ سے جس پربجاطورپر نازواافتخار کیاجاسکتاہے۔
ضلع اعظم گڈھ کے مشہورقصبہ مؤناتھ بھنجن کی علمی وادبی خدمات بھی قابل صدافتخار ہیں،یہاں کے اساطین علم وفن مؤلفین ومصنفین اورباکمال ادباء وشعراء وغیرہم أکابررجال اپنے اپنے اختصاص میں ان کی روشن تاریخ ہے۔
اسی شہرعلم وادب مؤناتھ بھنجن کے اکابرعلم وادب میں بالخصوص عربی وادب میں عظیم الشان خدمات انجام دینے والی ایک عظیم ہستی،نابغہ روزگار شخصیت اورمختلف اوصاف حمیدہ سے متصف اور خدمات کثیرہ کی حامل ذات کا نام نامی ،اسم گرامی’’مقتدی حسن بن محمدیاسین بن محمدسعیدہے‘‘ جن کا تعلق اس شہرکے علمی طورپر سب سے زرخیز محلہ ڈومن پورہ سے تھا، ’’جناب مقتدی حسن کے نانا مولانا محمدنعمان صاحب اعظمی شیخ الحدیث مدرسہ دارالسلام عمرآباد مدراس شیخ الکل فی الکل کے تلمیذ تھے۔
ڈاکٹر حافظ مقتدی حسن صاحب ازہری نے انتہائی بھرپوراسلامی وادبی خدمات کی انجام دہی کرتے ہوئے ۳۰؍اکتوبر۲۰۰۹ء ؁ مطابق ۱۰؍ذی قعدہ ۱۴۳۰ھ ؁ کو انتقال کیا،رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃً۔
ان سطورمیں ان کی عربی وادبی خدمات پرروشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے ڈاکٹرصاحب نے مؤکی علمی، ادبی، تہذیبی اورثقافتی فضامیں آنکھیں کھولیں، عربی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ عالیہ عربیہ ڈومن پورہ میں حاصل کرنے کے بعدمدرسہ اسلامیہ فیض عام سے عالمیت کی سند حاصل کی، ۱۹۶۱ء ؁ میں مدرسہ اثریہ دارالحدیث سے سندفراغت حاصل کیا، اس شہرکے نابغہ روزگار، جامع المعقول والمنقول شخصیات کے سامنے زانوئے تلمذطے کیا، علم وفن میں نبوغ وکمال حاصل کرنے کے لئے عربی فارسی بورڈ اترپردیش کے مولوی، عالم اورفاضل کے امتحانات پاس کیا۔
عربی زبان وادب سے لگاؤ تھا،اس میں کامل دستگاہ کی خاطر اورعلمی تشنگی بجھانے کے لئے آپ نے عالم اسلام کی سب سے مؤقر درسگاہ جامع ازہر مصرکا رخ کیا وہاں آپ نے عربی زبان وادب میں ایم.اے. کیا ،چندسال تک وہاں قاہرہ ریڈیواسٹیشن سے منسلک رہ کر اردوشعبہ میں مترجم اوراناؤنسرکی حیثیت سے کام کیا۔
قاہرہ کے قیام میں آپ نے عربی زبان وادب کا گہرامطالعہ کیا،اورعربی تحریر اورانشاء پردازی کا ہنرسیکھا، عربی سے اردومیں ترجمہ کرنے کی مہارت حاصل کی، عربی ادب کی تاریخ اورمنظوم ومنشور ادب کاغائرانہ مطالعہ کیا،۱۹۶۸ء ؁ میں وطن کی طرف مراجعت فرمائی۔
دارالحدیث اثریہ سے فارغ التحصیل ہونے کے معاً بعد آپ نے مدرسہ فیض عام میں دوسال تک تدریس کا کام کیا۔
مصرسے واپسی کے بعد آپ کو جامعہ سلفیہ بنارس کے ذمہ داروں نے جامعہ میں تدریس کے لئے طلب کیا، آپ نے ۱۹۶۸ء ؁ سے تادم واپسیں ۲۰۰۹ء ؁ تک جامعہ سلفیہ بنارس سے منسلک رہ کر مختلف مناصب جلیلہ پرفائز ہوکر ہمہ جہت عظیم خدمات انجام دیں۔
جامعہ سلفیہ بنارس سے وابستہ ہوکر آپ نے تحصیل علم کا سفربھی جاری رکھا، ملک کی عظیم یونیورسٹی’’علیگڈھ مسلم یونیورسٹی ‘‘ سے ۱۹۷۲ء ؁ میں ایم.فل. اور ۱۹۷۵ء ؁ میں ڈاکٹریٹ(پی.ایچ.ڈی) کی ڈگری حاصل کیا،آپ کے مقالہ کا عنوان تھا’’تخریج أحادیث بہجۃ المجالس لابن عبدالبر(الجزء الثانی)
ڈاکٹر صاحب موصوف کی علمی ودعوتی، تصنیفی، تحقیقی، تدریسی ،تنظیمی،ملی اورجماعتی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، جامعہ سلفیہ بنارس کے اسٹیج سے آپ ان تمام خدمات کوبحسن وخوبی انجام دیا، اپنے وقت کی قدروقیمت کوپہچانا، اورانھیں عظیم النفع کاموں میں صرف کیا، نیز مطلوب جدوجہد ،انتہک کوشش اورجفاکشی سے کام لے کر متنوع اعمال کوپایۂ تکمیل تک پہونچاکرتاریخ میں اپنا نام روشن کیا۔
جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے مختلف شعبہائے علم وفن میں ان کی شاہکار تصنیفات وتالیفات ہیں:
صحافتی میدان میں بھی جماعت کی خدمات قابل قدر ہیں، تقسیم ملک سے پہلے جماعت کے مختلف جرائد ومجلات شائع ہواکرتے تھے،مگر میرے علم ومطالعہ کی حدتک تقسیم ملک کے بعدپورے ملک ہندوستان میں صرف دیوبند سے الداعی، اورندوۃ العلماء سے’’الضیاء‘‘، ’’البعث الإسلامیاور الرائد نامی عربی مجلات شائع ہوتے تھے جن کی عمریں بھی کچھ زیادہ طویل نہ تھیں۔
جامعہ سلفیہ بنارس کی تاسیس ۱۹۶۳ء ؁ میں عمل میں آئی تھی، تدریس کا آغاز ۱۹۶۶ء ؁ میں ہوا، اساطین علم وفن کو بقدراستطاعت برائے تعلیم وتربیت جامعہ کی علمی خدمات پر مامورکیاگیا تھا، ارباب جامعہ کے عزائم انتہائی بلند تھے، منصوبے بھی عظیم سے عظیم ترتھے،انھیں منصوبوں میں جامعہ کااردوآرگن اورعربی آرگن کی ماہانہ نشرواشاعت بھی تھی۔
اردو ماہنامہ کی اشاعت اوراس کی طباعت وتقسیم کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں دیرنہ لگی تھی۔ مگرعربی ماہنامہ کی اشاعت کسی عربی زبان کے ماہرعالم اورزبان وادب پرمتمکن ادیب وانشاء پرداز کی محتاج تھی۔ عربی ماہنامہ میگزین کی اشاعت کا دیرینہ خواب،شرمندہ تعبیرہونے کے لئے کسی بالغ نظرعربی صحافی، بہترین قادرفن مضمون نگار اوروسیع المطالعہ صاحب قرطاس وقلم کی منتظرتھی۔
۱۹۶۸ء ؁ میں جب ڈاکٹر صاحب جامعہ سلفیہ بنارس سے منسلک ہوئے توعربی مجلہ کی اشاعت کاخواب شرمندہ تعبیرہوا، اور’’صوت الجامعہ‘‘نامی مجلہ کی اشاعت عمل میں آئی، ڈاکٹرصاحب اس کے مدیر مقررہوئے اورآپ کی ادارت میں یہ مجلہ برابر شائع ہوتا رہا۔ صوت الجامعہ پھر مجلہ الجامعہ السلفیہ اورآخیرمیں اب تک صوت الامۃ کے نام سے شائع ہورہاہے ۔
تقریباً چالیس برس تک کسی عربی میگزین کی مسلسل اشاعت اس کے لئے اداریئے تحریر فرمانا۔ نیز دیگرمتعدد مقالات حوالہ قرطاس وقلم کرنا اور اس میں ملک وبیرون ملک کے متعددنامورعلماء ادباء اورمشاہیر قلم کے نگارشات کی پروف ریڈنگ ،تصحیح وترتیب وغیرہ ایک عظیم ادبی وثقافتی خدمت ہے جسے آپ نے بڑی دلجمعی اورلگن سے انجام دیاہے،صرف جامعہ کے اس ماہنامہ میں اشاعت پذیر ادارتی اوردیگر عربی مقالات کی تعداد ۳۵۸ہے:
آپ نے اپنے ان ادارتی مضامین اوردیگرمقالات میں عقیدہ، تاریخ، سیرت وسوانح، زبان وادب، حدیث وفقہ، دعوت وارشاد وغیرہ اورملک وملت اورجماعت نیز حالات حاضرہ کے سلگتے ہوئے اورانہتائی حساس اوراہم ترین مسائل وتاریخی حوادث پرروشنی ڈالنے اور ایک دیدہ ور،بالغ نظر،صحافی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
صرف یہ حجم ہی عربی زبان وادب کی خدمت کے لئے کافی ہے، اس طرح اس مجلہ کے ذریعہ آپ نے اپنی،جامعہ اورجماعت کی فکرسے عالم عرب کو روسناش کرانے کی بھی ایک کامیاب کوشش کی جس کی بوجوہ ضروت بھی تھی اوراس میں افادیت کے بے شمار پہلوبھی پوشیدہ تھے۔
یوں عربی زبان وادب میں اپنابھرپور کردارکرنے کے ساتھ آپ نے جامعہ وجماعت کا صحیح پیغام عالم اسلام خصوصاً عالم عرب تک پہونچانے کی ذمہ داری نبھائی، جس کا بجاطورپر اعتراف کیاگیا،سعودی عرب کی طرف سے آپ کو صوت الامۃ کی بہترین ادارت پر’’سند‘‘ عطاکی گئی تھی جوآپ کے بہترین اعلیٰ پایہ عربی صحافت ہونے کا اعتراف ہے۔
جماعت اہل حدیث کی تاریخ میں خصوصاً آزادی کے بعداس جماعت کا یہ عربی مجلہ پہلا مجلہ تھا، آپ اس کے اول مدیرتھے،یوں آپ نے ایک طویل عرصہ تک عربی مجلہ کے مدیرکی حیثیت سے جماعتی تاریخ میں اپنانام درج کروانے میں کامیابی حاصل کی۔
یہ ایک حقیقت ہے جس کا اعتراف کرناچاہئے کہ ملک کے اندر جماعت میں ہمیشہ بالغ نظراہل علم رہے ہیں جو علوم اسلامیہ عربیہ میں یدطولی رکھتے تھے، قواعد وبلاغت اوردیگرخالص ادبی فن میں بھی نبوغ وکمال رکھتے تھے۔ اردوزبان وادب میں توان کا کوئی ثانی کم ہی نظرآتا ہے۔البتہ عربی زبان وادب میں نطق وتکلم اورتحریر وانشاء پردازی برجستہ طورپرمقالہ نگاری اورمضمون نویسی میں صحیح معنی میں کامل دستگاہ کے حامل اہل قلم کم تھے۔ عربی زبان کی ساری باریکیوں سے واقف ہونے کے باوصف نطق وتکلم کی مہارت نیز کتابت وتحریرکی مہارت میں ضعف کے شکارتھے’’الکلمۃ لفظ وضع لمعنی مفرد‘‘پرہفتوں درس دیتے ہوئے بال کی کھال نکالنے میں جواپناکوئی ثانی نہیں رکھتے تھے، ان میں سے کئی ایک چند صفحات کا مقالہ۔ کسی بھی دینی واسلامی موضوع پر بھی۔ برجستہ حوالہ قلم کرنے میں عجزوضعف کاشکارنظرآتے تھے۔
ایسے ماحول میں ڈاکٹرازہری صاحب کی عربی مقالات، صوت الامہ میں عربی اداریاجات ، المنارمیں عربی مضامین ،نیزادارہ ’’ادارہ البحوث الاسلامی والدعوۃ والافتاء‘‘بنارس کی جانب سے متعدد موضوعات سے متعلق شائع ہونے والی خود ان کی اوردیگر بہت سے اہل علم وفن، ارباب قلم علماء وادباء کی عربی کتابوں پراپنے گوہر بارقلم سے وقیع مقدمات تحریرفرمانا عربی زبان وادب کی وہ شاندار خدمت ہے جس کی نظیرماضی میں ملنی مشکل ہے۔
اگر ان داریوں کے تمام عناوین، صوت الامہ اوردیگر مجلات ورسائل اورجرائد میں شائع مطول ومختصر مقالات کے عناوین اورعربی کتابوں پر ان کے تحریر کردہ مقدمات وتقاریظ کے عناوین جمع کریئے جائیں توپھر آپ کی زبان عربی کی خدمت میں نمایاں کردار اداکرنے کی شہادت کے لئے کافی ہوگا اوربجاطور پرآپ کو عربی زبان کا ایک بہترین ادیب عظیم صحافی اوربلندپایہ انشاء پرداز قراردیا جاسکتاہے۔
عربی زبان وادب میں اپنی خدمات کو صرف صوت الامۃ کی ادارت اورمقالات نویسی اورمقدمہ نگاری تک محدود نہیں رکھابلکہ آپ عربی زبان میں مستقل طورپر کئی کتابیں تالیف وتصنیف کی ہیں،آپ کی عربی کتابوں کے نام یہ ہیں:
۱۔ منصورالفقیہ،حیاتہ وشعرہ۲۔ حقیقۃ الادب وظیفتہ۔۳۔مشکلہ المسجد الباری فی ضوء التأریخ والکتابات المعاصرۃ۔۴۔نظر إلی مواقف المسلمین من أحداث الخلیج۔۵۔القادیانیۃ۔۶۔ قراء ۃ فی کتاب’’الحالۃ الخلیفہ للعالم الإسلامی‘‘۔
ان کتابوں میں اکثرمطبوع ہیں بعض صوت الامۃ میں اولاً قسط واراشاعت پذیرہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض غیر مطبوع بھی ہیں ان کے عناوین سے موضوعات وافکارکے تنوع کا اندازہ کیاجاسکتا ہے جس سے آپ کے علم ومطالعہ کی وسعت وکثرت اورثقافت کے تنوع کاپتہ چلتاہے اورعربی زبان وادب میں تصنیف وتالیف کے میدان میں ایک کامیاب شہ سوار ہونے کے لئے شاہد عدل ہے ۔
*عربی زبان وادب کی خدمات کا ایک اہم شعبہ عربی تالیفات اورعربی مقالات ومضامین کا دنیا کی دوسری زندہ زبانوں میں اس کی ترجمانی ہے تاکہ عربی زبان سے ناواقف حضرات کوان افکار وخیالات سے آگاہ کیاجائے اورعربی زبان میں مدون دینی وثقافتی معلومات سے انھیں روشناس کیاجائے۔
اسی طرح خود عربی کے علاوہ دیگرزبانوں کی تصانیف کو عربی قالب میں ڈھال کر عربوں کوان معانی ومفاہیم سے آگاہی اوران سے استفادہ کاموقع ہپہونچایاجائے اوردیگر زبانوں میں تالیف اسلامی تعلیمات وافکارسے فائدہ اٹھانے کاموقع دیاجائے،اس مجال میں ڈاکٹرصاحب موصوف کی خدمات ازحد نمایاں اورغایت درجہ روشن ہیں۔
ڈاکٹرازہری صاحب اردو اورفارسی زبان وادب سے بخوبی آگاہ تھے۔ اوران زبانوں پرقدرت رکھنے کے ساتھ ان کا عربی ترجمہ کرنے پرکامل عبوررکھتے تھے۔ ترجمہ کے اسرارورموز سے آپ خوب آگاہ وآشناتھے۔ چنانچہ آپ نے متعدد قیمتی علمی،ادبی اوراسلامی کتابوں کاجواردو اورفارسی زبان میں لکھی گئی تھیں۔ بامحاورہ ،رواں عربی زبان میں ترجمہ کیا اورعربی دان حضرات کو ان سے بھرپور استفادہ کاموقع فراہم ہے اسی طرح اہم قیمتی عربی زبان میں لکھی گئی کتب کا اردومیں صاف اورشستہ ترجمہ کرکے اردو زبان جاننے والوں کو ان سے فائدہ اٹھانے کا موقع عنایت کیا،یوں آپ نے عربی زبان وادب کی عظیم نمایاں اورقابل قدر خدمت انجام دی۔
ذیل میں اردواورفارسی سے عربی زبان میں مترجم کتابوں کی فہرست پیش کی جارہی ہے:
*اردوسے عربی تراجم:
۱۔ قضایا کفایۃ التأریخ الإسلامی وحلولھا:للدکتور لیسی مظہرالصدیقی
۲۔رحمۃ للعالمین:للعلامۃ القاضی محمدسلیمان السلمان المنصورفوری.
۳۔النظام الالٰہی للرقی والانحطاط :للعلامۃ محمداسماعیل غجرانوالہ.
۴۔حرکۃ الانطلاق الفکری وجھود الشاہ ولی اللہ فی التجدید.
۵۔مسالۃ حیاۃ النبیﷺ :للعلامۃ محمداسماعیل غجرانوالہ.
۶۔زیارۃ القبور :للعلامۃ محمداسماعیل غجرانوالہ.
۷۔حجیۃ الحدیث النبوی الشریف: :للعلامۃ محمداسماعیل غجرانوالہ.
۸۔النصرانیۃ الحاضرہ فی ضوء التأریخ والبحث العلمی:للعلامۃ مصلح الدین الأعظمی.
۹۔ عصرالالحاد خلیفتہ التأریخیۃ وبدایۃ نھایۃ:للشیخ محمدتقی الأمینی.
۱۰۔بین الانسان الطبیعی والإنسان الصناعی:للشیخ محمدتقی الأمینی.
۱۱۔الإسلام تشکیل جدید للحضارۃ:للشیخ محمدتقی الأمینی.
۱۲۔جماعۃ المجاہدین:للعلامۃ غلام رسول مہر۔
فارسی سے عربی تراجم:
(۱)قرۃ العینین فی تفصیل الشیخین :للشاہ ولی اللہ الدھلوی.
(۲)الاکسیر فی أصول التفسیر:للنواب محمدصدیق حسن البوفالی.
عربی سے اردوتراجم:
۱۔راہ حق کے تقاضے:ترجمہمختصر اقتضاء الصراط المستقیم،للشیخ الإسلام ابن تیمیۃ.
۲۔مختصرزاد المعاد:ترجمہمختصر زادالمعاد لابن قیم الجوزیۃ،للشیخ محمد بن عبدالوہاب.
۳۔اصلاح المساجد:ترجمہ اصلاح المساجد من البدع والعوائدللشیخ محمدجمال الدین القاسمی.
۴۔عظمتِ رفتہ:ترجمہ:سقوط ثلاثین دولۃ ،للشیخ عبدالحلیم عویس.
۵۔رسالت کے سایے میں:ترجمہ:فی ظلال الرسول ﷺ،للشیخ عبدالحلیم عویس.
۶۔خادم الحرمین الشریفین کا حقیقت افروز بیان:ترجمہ:کلمات منتقاۃ من خادم الحرمین الشریفین.
۷۔اسلامی شریعت میں اعضاء کی پیوندکاری:ترجمہمقالات المشائخ العرب .
۸۔آپ بیتی:ترجمہ أنا للعباس محمود العقاد.
اردو فارسی سے عربی اورعربی سے اردوترجمانی بہرحال عربی زبان وادب کی ایک یہ لازوال خدمت ہے۔ اس مذکورہ فہرست سے آپ کی اس عظیم کدوکاوش کا اندازہ لگانابالکل دشوار نہیں ہے جوآپ نے لسانِ عربی مبین کی خدمت میں صرف کیا۔
ان مذکورہ بالاخدمات کے علاوہ دراصل عربی ادب اوراسلامی علوم کی خدمات کا ہی عظیم ترین حصہ آپ کی وہ کتابیں بھی ہیں جوآپ نے مستقلا تالیف فرمائیں ہیں،اس لئے کہ آپ کی ان تالیفات ان کتابوں میں آپ کی وہ شاہکار تصنیف ہے جس کانام ہی ’’تاریخ الادب العربی‘‘ ہے یہ تصنیف پانچ جلدوں پرمشتمل ہے جس میں ادب عربی کی جاہلی، اسلامی اموی عباسی دورکی پوری تاریخ اورعربی زبان کے معروف ادباء ارباب نثراوراصحابِ الدواوین نظماء وشعراء کی تاریخ کو قلمبند کیاگیاہے۔
اس عظیم تالیف کے علاوہ آپ کی تصانیف کے اسماء درج ذیل ہیں:
*خاتون اسلام،مسلم نوجوان اوراسلامی تربیت۔*عصری حاضرمیں مسلمانوں کو سائنس اورٹکنالوجی کی ضرورت۔*قرآن کریم پرغور وتدبر مذہبی فریضہ ہے۔*رمضان اور عیدالفطر تربیتی نقطۂ نظرسے۔*ہم کیاپڑھیں؟:*مسلمان اوراسلامی ثقافت۔*شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود اورمملکت سعودی عرب۔*ہندوستان میں تحریک اہل حدیث اورجدیدتقاضے۔
ان کتب ومقالات ،ومقدمات وتراجم کے علاوہ بھی متعدد جرائد ومجلات ورسائل میں آپ کے تقریباً ۲۶ مقالات شائع ہوئے۔
ملک وبیرون ملک مؤقر کا نفرنسوں اورسمیناروں میں آپ نے چالیس مقالات پیش کئے ان میں سے کئی اہم مقالے عربی زبان میں ہی قلمبند کئے گئے تھے۔
آپ مختلف اوقات وایام میں اہم اعزازات سے نوازے اورجلیل القدر مناصب پر مامورکئے گئے، مختلف دینی اسلامی علم ادبی اورثقافتی اداروں اورتنظیموں کے رکن رکین بھی رہے ان میں بعض کاذکرکیاجارہاہے:
رکن: مسلم یونیورسٹی علیگڈھ۔ رکن: عالمی رابطہ ادب اسلامی۔
رکن:جمعیۃ المثقفین للتوعیۃ الاسلامیہ۔ رکن:دینی تعلیمی کونسل اترپردیش:
رکن: تعلیمی کمیٹی جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں۔
عربی زبان وادب کی نمایاں اورقابل صدافتخار خدمات کی انجام دہی پرآپ کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طورپر ۱۹۹۳ء ؁ میں حکومت ہند نے’’ صدرجمہوریہ ہندایوارڈ‘‘ عطاکیاتھا۔
خلاصہ القول یہ ہے کہ ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری کی عربی زبان وادب کی خدمت میں غایت درجہ قابل قدرحصہ ہے’’این کا راز توآید ومردان چنیں کنند۔
ڈاکٹر صاحب کی عربی زبان وادب کی خدمت کا اہم حصہ یہ بھی ہے کہ آپ کے زیرتربیت آپ کے متعدد تلامذہ نے عربی مضمون نگاری اورعربی صحافت کا ہنرسیکھا اورآپ کی رہنمائی میں اس فن میں کمال پیداکیا آپ کے تلامذہ کی تعداد ہزاروں ہے جن میں سیکڑوں انتہائی ہونہار ہیں،جوآج مختلف علوم وفنون میں یدطولی رکھنے کے ساتھ عربی زبان وادب کی ہمہ گیر خدمت میں مصروف کارہیں۔
دعا گوں ہوں کہ مولائے کریم توحافظ مقتدی حسن ازہری کی خدمات کو قبول فرماکر ان کی مغفرت فرما اورانھیں جنت الفردوس میں جگہ عطافرما۔(آمین)

ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری اوران کی تعلیمی وفکری تربیت پر مبنی خدمات apr-jul 2010

مولانا محمدصہیب سلفیؔ
استاد جامعہ اسلامیہ خیرالعلوم ڈمریا گنج
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری
اوران کی تعلیمی وفکری تربیت پر مبنی خدمات
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمۃ اللہ علیہ اس دورقحط الرجال میں ایک جامع شخصیت کے حامل، اسلامی نظریات وافکارکے ایک عظیم اسکالر، اسلام کے ہمہ جہت مسائل پر ہروقت گفتگو کرنے والے، ایک کردار ساز، بہترین منتظم، مربی اور مشفق استاد تھے۔
ڈاکٹر صاحب ایک بڑے ہی مشفق استاد تھے، آپ کی تدریسی خدمات عظیم ہیں، تاحیات اس میں لگے رہے، جامعہ کی درسی کتابوں کے نصاب کی تیاری اورحالات کے مطابق اس میں ترمیم آپ ہی کی کاوشوں کا ثمرہ ہے، طلباء کی انجمن’’ندوۃالطلبۃ‘‘ اوراس سے شائع ہونے والے سالانہ میگزین ’’المنار‘‘پر خصوصی توجہ دیتے تھے، ذمہ دارطلباء کی تربیت کرتے تھے اوران کومفید مشوروں سے نوازتے تھے۔
طرق تدریس آپ کا بہت اچھاتھا، کبھی کہیں جھول دیکھنے کونہیں ملا، عبارت خوانی کے دوران کوئی فاش غلطی ہوتی توکبھی کبھارڈانٹتے تھے اکثر درگذرسے کام لیتے ہوئے خود تصحیح کرکے پڑھ دیتے تھے۔
سبعہ معلقہ طلباء کے درمیان ایک مشکل ترین کتاب مانی جاتی ہے آپ کا طریقۂ تدریس اس کے سلسلے میں یہ ہوتاتھا کہ سبق پڑھانے سے پہلے ہی طلباء کو حل لغات لکھا دیتے تھے تاکہ طلباء کوپڑھاتے وقت سمجھنے میں آسانی ہو، یہی وجہ ہے کہ وہ کتاب آسانی سے سمجھ میں آجاتی تھی پھرکسی دوسرے استاد سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔
انشاء پڑھانے کاطریقہ بھی بہت اچھاتھا، کورس کی تمرینات کے ساتھ ساتھ عربی اخبارات کی چھوٹی چھوٹی خبروں کے ترجموں کی تصحیح کرتے تھے اورطلباء اس میں آزاد ہوتے تھے۔
اورفکری طورپر آپ منہج سلف کے مطابق بچوں کی تربیت کرتے تھے، کبھی ضرورت محسوس کی توطلباء کو خطاب کرکے ان کو آگاہ کرتے تھے، آپ’’عالمی مسائل‘‘ اورخاص طورسے ’’مسائل عالم اسلامی‘‘ سے گہری واقفیت رکھتے تھے، جب کویت اورعراق کے مسئلے کولے کرخلیجی بحران پیداہوا تواس وقت جامعہ سلفیہ میں طلباء دوگروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ سعودیہ عربیہ اورکویت کواچھاکہتا تھا اوردوسرا گروہ عراق کو اچھاکہتاتھا، دوسراگروہ یہ کہتا تھا کہ سعودیہ عربیہ نے امریکہ سے دوستی کررکھی ہے اور امریکہ ایک عیسائی ملک ہے اورعیسائیوں اورکافروں سے دوستی حرام ہے کیونکہ قرآن میں اس سے منع کیاگیا ہے، یہ معاملہ طلباء کے درمیان بہت گرم ہوگیا، ایک دن مولانا عابدحسین صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مسجدمیں طلباء سے خطاب کیا اورطلباء کے دوسرے گروہ کے موقف کی حمایت کی اوردلیل کے طورپر سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۵۱(یاایھاالذین آمنوا لاتتخذوا الیھود والنصٰریٰ اولیاء بعضھم اولیاء بعض ومن یتولھم منکم فإنہ منہم إن اللہ لایھدی القوم الظالمین)پڑھ کر سنائی، اوریہ مجلس کسی نماز کے بعدہی منعقد ہوئی تھی اس میں ازہری صاحب بھی موجود تھے،انھوں نے سعودی عرب اورامریکہ کے درمیان موالاۃ ومحبت کے تعلق کودرست بتایا اورکہاکہ شرسے بچنے کے لئے یہ جائز ہے، اللہ نے اس کی اجازت دی ہے اس طرح کی باتیں بتائیں، اورسورہ آل عمران کی آیت نمبر۲۸(لا یتخذ المومنون الکفرین اولیاء من دون المومنین ومن یفعل ذالک فلیس من اللہ فی شیء إلا أن تتقوا منھم تقٰۃویحذرکم اللہ نفسہ وإلی اللہ المصیر)کودلیل کے طورپر پیش کیں اور شاید سورہ ممتحنہ کی آیت نمبر ۷ اور۸ (عسی اللہ أن یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منھم مؤدۃ واللہ قدیر واللہ غفوررحیم )اور(لاینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم أن تبروھم وتقسطوا إلیھم إن اللہ یحب المقسطین)سے بھی استدلال کیا،اس کے بعدطلباء کی ذہنی وفکری تشویش ختم ہوگئی۔
آپ ’’تحریک وہابیت‘‘اور ’’تحریک شہیدین‘‘کے بڑے مداح تھے، تحریر وتقریردونوں میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔
آفس ہویاکلاس روم یاطلباء کی کوئی مجلس اس میں طلباء کی اتنے اچھے ڈھنگ سے تربیت کرتے تھے جیسے لگتا تھاکہ اس پرعمل کرلیاگیا توبڑے سے بڑامعرکہ سرکرلیاجائے گا اورمشکل سے مشکل معاملہ چٹکیوں میں حل کرلیاجائے گا اورایسا تھا بھی، اورکبھی کبھار شریرطلباء کی سرزنش کرتے تھے تولہجہ قدرے بلندہوجاتا تھا اوران کوڈانٹتے بھی تھے اوران پر تنقید بھی کرتے تھے۔
ماحول کوپرسکون بنائے رکھنے کا بڑاخیال تھایہ اوربات ہے کہ کچھ ناعاقبت اندیش طلباء آپ کی علمی وفکری اورانتظامی حیثیت کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔
جب بابری مسجد کامعاملہ بہت تشویشناک حدتک پہونچ چکاتھا اورجگہ جگہ فسادات ہورہے تھے توطلباء کی ایک جماعت آئی اورآپ سے کہاکہ جامعہ میں چھٹی کردیجئے تاکہ طلباء بحفاظت اپنے گھروں کو چلے جائیں، اس وقت ازہری صاحب نے طلباء کو خطاب کیا اورکہاکہ تم لوگوں کی مثال ان منافقین جیسی ہے جنھوں نے غزوۂ احزاب کے موقعہ پر کہاتھا(إن بیوتنا عورۃ وماہی بعورۃ إن یریدون إلا فرارا)۔
ایک دفعہ کی بات ہے کہ مولانا مطیع الرحمن چترویدی (یہاں)جامعہ سلفیہ بنارس میں آنے والے اور بچوں کوخطاب کرنے والے تھے، ان کاخطاب بہت لمباہواکرتا تھا اوروہ خاص طورسے تکوینی امورپر ہی تقریر کرتے تھے اوروہ طلباء میں آکریہی تقریر کرتے، طلباء کی فکری انتشار کے خوف سے ازہری صاحب نے طلباء کوخطاب کیا اورچترویدی صاحب پر ہلکی سی تنقید کی جس سے طلباء کا انتشارکم ہوا اوران کا معاملہ معمول پر آگیا۔
ازہری صاحب چاہتے تھے کہ فراغت سے پہلے پہلے طلباء یکسوئی سے پڑھیں لکھیں اورذہنی وفکری انتشار سے بچتے رہیں اورکسی دوسری تنظیمات وجمعیات کاشکار نہ ہوں، ایک اسلامی تنظیم نے بنارس میں علمی کمپٹیشن کروایا اوراس کے افراد جامعہ سلفیہ میں بھی آئے اورطلباء نے بھی حصہ لیا، ازہری صاحب کو جب معلوم ہوا توطلباء کو خطاب کیا اوراس خطاب میں کہا:’’مال ہم تیار کرتے ہیں اورمہرکوئی اورلگاتا ہے‘‘۔
ایسے ہی کوئی سمینار منعقد ہوتا اورمقالہ نگارحضرات اپنا اپنا مقالہ پڑھتے اگرکوئی مقالہ نگار منہج سے ہٹتا تو طلباء کی موجود گی میں اس مقالہ پر کبھی خود تنقید کرتے یا کسی دوسرے فاضل مقالہ نگار سے تنقیدکرواتے۔
درحقیقت ازہری صاحب بیک وقت ایک عربی ادیب اورعظیم اسکالر تھے مجلہ’’صوت الأمۃ‘‘ اوران کی دیگرعربی اوراردو تصنیفات وتراجم وتالیفات اورمضامین اس کی شہادت دیتے ہیں ،یقیناًانھوں نے طلباء اورعلماء اورعوام سب کے لئے ادبی ،علمی، فکری اور دینی خدمات انجام دی ہیں ،عوام کے لئے دینی خدمات اس طورپر کہ برابر وہ ایک مسجد میں جمعہ کا خطبہ دیتے تھے،اورعربی ادیب اورعظیم اسکالر اس طورپر کہ درس وتدریس کے ساتھ ساتھ مختلف کانفرنسوں اورجلسوں میں شرکت کرتے تھے اورحقائق پرمبنی شواہد اوراستقرائی تحریروں سے خواص وعوام کوفائدہ پہونچاتے تھے،جامعہ سلفیہ میں میں نے اپنے چھ سالہ ۱۹۸۸۔۱۹۹۳،دورطالب علمی کے اندر میں نے دیکھاکہ مختلف موضوعات پرمتعدد چھوٹے بڑے سمیناراورکانفرنسیں منعقد کیں، سیرت طیبہ ﷺ اورابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ پرکانفرنسیں اسی دورمیں منعقدہوئیں۔
***

’’ apr-jul 2010خاتون اسلام‘‘ایک نظرمیں

مولانا عُزیراحمدکتاب اللہ سلفیؔ
استاد جامعہ اسلامیہ خیرالعلوم ڈمریا گنج
ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری
اوران کی کتاب’’خاتون اسلام‘‘ایک نظرمیں
الحمدللہ رب العالمین والعاقبۃ للمتقین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم أمابعد!
’’خدابخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں‘‘ کے مصداق ،اللہ جل شانہ نے محترم ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری علیہ الرحمۃ میں بڑی خوبیاں ودیعت فرمائی تھیں، آپ بیک وقت عظیم مدرس ومحقق، معتبرادیب واسکالر، بے باک صحافی ومصنف، کامیاب مترجم وانشاء پرداز اورممتاز مربی ومفکرتھے، عربی واردوزبان پرکامل دسترس اورمکمل مہارت رکھتے تھے، تصنیف وتالیف ، ترجمہ وتحقیق کابڑا صاف وستھرا ذوق تھا، یہی وجہ ہے کہ آپ کے قلم سیال سے دودرجن سے زائد ترجمے وکتابیں شائع ہوکر مقبول عام وخاص ہوچکی ہیں جبکہ متنوع اداریوں، فکرانگیز مضامین اورتحقیقی نگارشات کی تعداد آٹھ سو سے زیادہ ہے اورمؤلفین ومترجمین کی کتابوں پرمقدمے اورتقریظات کم وبیش پانچ سوہیں۔
*اردوزبان وادب میں آپ نے قرآن وحدیث، مساجد ومدارس، دین ودعوت، توحید وتعلیم، عبادات ومعاملات، حقوق وفرائض، ادب وانشاء، سیاست وسماج وغیرہ جیسے عناوین وموضوعات پربڑی مفید اور انیق مقالات ومضامین قلم بند کئے ہیں جن کے مطالعہ سے آپ کی قلمی لیاقت وصلاحیت اورتحریری سرگرمی وذوق کا پتہ چلتاہے۔
*یوں تو اردوزبان میں آپ کی مستقل تصانیف کی تعداد ترجمے ومقالات سے کم ہیں مگرجوہیں وہ اپنے موضوع پربڑی منفرد، سنجیدہ، تحقیقی اورتاریخی ہیں،چنانچہ زیرتعارف کتاب’’ خاتون اسلام‘‘ اسی سلسلہ کی ایک بہترین کڑی ہے جسے عصرحاضر کے ایک حساس اورزندہ موضوع پرایک شاندار شاہکار اورگرانقدر تالیف کا درجہ حاصل ہے ملاحظہ فرمائیں کتاب کامختصر تعارف وسرسری جائزہ اور اندازہ لگائیں اس کی ضرورت ومقصدیت اورقدروحیثیت کا۔
۱:۔کذب واتہام، تحریف وتلبیس اورتزویر وپروپیگنڈہ بندی کے اس دورمیں اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے اسلام اوراحکام اسلام کے بارے میں نت نئے اعتراضات اورشبہات بڑے زور وشورسے کئے جارہے ہیں، ان میں یہ بات بڑی طاقت سے کہی جاتی ہے کہ اسلام میں ’’عورت‘‘کی کوئی حیثیت نہیں اورنہ ہی اسے کوئی اختیار وحقوق حاصل ہیں۔
مذکورہ کتاب کی دوسری وتیسری فصل اسی باطل پروپیگنڈہ کی تردید اوراسی غلط فہمی کے ازالے کے لئے تحریر کی گئی ہے اورعورت کی انسانی، مذہبی، معاشرتی، معاملاتی اورسیاسی حیثیت وغیرہ عناوین کے ذریعہ بڑے وثوق کے ساتھ یہ بتایاگیا ہے کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے عورت کواونچا مقام عطاکیاہے اوربحیثیت انسانی جینے کے وہ تمام حقوق دیئے جوفاطرفطرت نے نظام کائنات کے لئے مقررکیاہے، عام انسانی حیثیت، عزت وکرامت اور جملہ معاملاتی امورکے اندرمردوعورت کویکساں درجہ حاصل ہے، چنانچہ ہرانصاف پسند اس بات کو تسلیم کرے گا کہ اسلام نے عزت وشان کا جوبلند مقام عورت کودیاہے وہ اپنی نظیرآپ ہے۔
مصنف علیہ الرحمہ کے الفاظ میں(۱) ’’اسلام نے عورت کو ہرجگہ عزت واحترام کی نظرسے دیکھاہے اورمردکے ساتھ اس کے تعلقات کواستوار بناکر زندگی کوسدھارنے کی راہ بتائی ہے۔
(۲) اسلام کی نظرمیں عورت جس طرح مکمل انسان ہے اسی طرح اسے جملہ شہری وسماجی حقوق حاصل ہیں۔
(۳) اسلام نے عام انسانی، معاشرتی اورمعاملاتی میدان میں عورت کو مناسب مقام پررکھا ہے اوراسے اس کے جائز حقوق سے نوازاہے۔(دیکھئے :زیرتعارف کتاب ص:۴۱)
۲:۔مذہب اسلام سے قبل دیگر ادیان ومذاہب ،مختلف تہذیبوں اورمتعددسماجی مصلحین عورت کو بڑی منحوس، گناہوں کامخزن، مکاریوں کا محل، بدگمانیوں کا ڈیرا، اورہربرائی کاپیش خیمہ تصور کرتے تھے، لوگوں کا عورت کوگری پڑی چیزسمجھنا، اس کی خرید وفروخت کرنا، ان پرظلم وستم کے پہاڑتوڑنا، ان کے ساتھ نارواسلوک کرنا، انھیں کسی طرح کے شہری حق میں شامل نہ کرنا عام بات تھی۔
کتاب ہذا کی پہلی فصل میں درج ذیل عناوین’’عورت:یونانی تہذیب، رومن تہذیب، ہندی تہذیب، چینی ومصری تہذیب، یہودی ونصرانی تہذیب اورمغربی تہذیب میں،عورت بدھ و جین مذہب میں اورعورت جزیرۂ عرب میں‘‘کے حوالہ سے ثابت کیا گیاکہ اسلام سے پہلے عورت اپنے تمام حقوق وواجبات اورشرف وتکریم کے تمام مقامات سے ہمیشہ محروم رہی ہے، یہ صرف دعویٰ ہی نہیں بلکہ اس کا عتراف بہت سے انصاف پسند، تعلیم یافتہ اور غیرمسلم دانشوروں نے بھی کیاہے، جبکہ اسلام نے دیگر مذاہب وقوانین سے کہیں بہتر طورپر اس مسئلہ کاحل پیش کیاہے اورآج سے چودہ سوسال پہلے ہی اس نے عورتوں کو وہ تمام حقوق واختیارات عطا کردیئے ہیں جنھیں عورتوں نے اب جاکر حاصل کیاہے یاابھی بھی ان کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
*فرانس کے ایک اخبار’’ مانیٹر‘‘ کے الفاظ: ’’اسلام نے عورتوں کی معاشرتی حالت میں عظیم الشان اصلاح کی ہے، اس نے عورتوں کو جوقانونی حقوق دیئے ہیں وہ فرانس میں دیئے گئے حقوق سے کہیں زیادہ ہیں‘‘۔(خاتون اسلام ص:۸۱)
اور’’تمدن عرب‘‘ کے حوالے سے:’’اسلام نے عورتوں کے معاملہ کوسب سے زیادہ سدھارا ہے وہ پہلا مذہب ہے جس نے عورت کے درجہ کوبلندکیاہے، مشرق میں عورتوں کااحترام، ان کی تعلیم اورخوش بختی یورپ سے زیادہ ہے‘‘۔(خاتون اسلام:ص:۸۱)
*ان معلوماتی وتاریخی دستاویز کے علاوہ: عورت کی سربراہی، عورت کی ملازمت، ان کی عفت وعصمت، عورت کامثالی کردار، تعددازدواج، طلاق، رشتۂ زوجیت، اولادکی تربیت، زوجین سے متعلق احکام وآداب وغیرہ عناوین وموضوعات پرکتاب وسنت، اسلامی واقعات اورتاریخی حوالوں کی روشنی میں مصنف نے بھرپور مواد جمع کیاہے اوربڑی ذمہ داری سے اس حقیقت کوواضح کیاہے کہ عورتوں کے متعلق اسلامی احکام وقوانین پراعتراض واتہام غلط فہمی یا تعصب کے نتیجے میں وجودمیں آئے ہیں، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ محترم ڈاکٹرصاحب کی یہ کتاب’’ خاتون اسلام‘‘ اپنے موضوع پرایک بہترین معلوماتی وتاریخی ریکارڈ ہے جوعورتوں کے متعلق اسلام دشمن طاقتوں کے تمام الزامات واتہامات اورشکوک وشبہات کی قلعی کھولتی ہے اورساتھ ہی ساتھ ہمیں بتاتی ہے کہ اسلام نے عورت پرآزادی، معاشی استقلال اورمعاشرتی حقوق واختیارات کے باب میں کیا کیا احسانات وانعامات کئے ہیں، کتاب ڈھائی سوسے زائد صفحات اورایک مقدمہ وگیارہ فصلوں پرمشتمل ومحیط ہے، میری نظرمیں کتاب لائق مطالعہ، قابل استفادہ اورآں محترم کی اہم خدمات میں سے ایک عظیم خدمت ہے، اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ الٰہا! ان کی لغزشوں کودرگزر فرمااوراعلیٰ علیین میں مقام بلند عطافرما۔(آمین)
***

فکروفن کا شہسوار ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ apr-june 2010

مولانا محمدنسیم محمدیونس مدنیؔ
رئیس مرکزالسنۃ،ایکلا ،نیپال
فکروفن کا شہسوار ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ
ڈاکٹرمقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ جامعہ سلفیہ کے ایک باکمال استاذ ومربی ووکیل الجامعہ توتھے ہی ساتھ ہی ساتھ تصنیف وتالیف، تراجم وبحوث ومقالہ نگاری میں آپ کو دست گاہ کامل حاصل تھی، آپ بڑی بڑی کانفرنسوں ، سمیناروں، جلسوں میں شریک ہوتے اورعلم وعرفان کے دریا بہاتے تھے گوکہ آپ کے اندرخطیبانہ کروفرنہیں تھالیکن پُرسکون اورسنجیدہ سامعین کے لئے اپنی تقریروں میں اعداد وأرقام میں علم کے موتی لٹاتے تھے اورسمندر کو کوزے میں بند کردینے کا آپ کے اندر خاصا ہنرتھا۔
ڈاکٹرصاحب رحمہ اللہ ایک عظیم دانشور، مفکر اوربالغ نظرصحافی تھے آپ کا رہوار قلم عموماً ملی مسائل پررواں دواں رہتاتھا، ملت کا درد آپ کے رگ وریشہ میں پیوست تھا، آپ بلا تردد اوربلاخوف لومۃ لائم صحیح اورحق بات مدلل سپردقلم فرماتے تھے،ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے ہزاروں مقالات ومضامین لکھنے کے علاوہ دسیوں کتابیں تصنیف کیں اوربعض ناموراہل حدیث مصنفین کی گراں قدر علمی کتابوں کے ترجمے بھی کئے، ذیل میں ان میں سے بعض پر اپنے خیالات کا اظہارکرنے کی کوشش کررہا ہوں۔
(۱)سیرۃ النبیﷺ پرمنفرد، بے نظیرکتاب ’’رحمۃ للعالمین‘‘ جس کے مؤلف علامہ قاضی محمدسلیمان سلمان منصورپوری رحمہ اللہ ہیں،کتاب بے مثال شہرت یافتہ اورمقبول خاص وعام ہے،فاضل مؤلف رحمہ اللہ نے حب رسول ﷺ میں ڈوب کر یہ کتاب تحریرفرمائی ہے کہ بہت سارے افاضل نے اسے سیرت کے موضوع پر اردوزبان میں شاہکار اورموثر ترین کتاب قراردیا اس وقیع اورقیمتی کتاب کو ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے بڑی عرق ریزی اور محنت شاقہ کے بعدعربی کے قالب میں ڈھالاہے، آپ کے پیش نظرصرف یہی بات رہی ہوگی کہ سیرت رسولﷺ سے متعلق اس محقق اورمہتم بالشان کتاب سے اہل عرب بھی خوب خوب استفادہ کرسکیں۔
(۲)اسی طرح علامہ محمداسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی معرکۃ الآراء کتاب ’’تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی‘‘کاعربی زبان میں ترجمہ’’حرکۃ الإنطلاق الفکری وجھودالشاہ ولی اللہ المحدث الدہلوی‘‘کے نام سے ڈاکٹر ازہری رحمہ اللہ نے کیا ،یہ کتاب اپنی مثال آپ ہے کیونکہ مقلدین امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے حنفی مقلدیت کی تجدید کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ عاملین حدیث اورمتبعین سنت کا جینادشوارتھا وہ آمین بالجہرکی پاداش میں مسجدوں سے گھسیٹ کرنکال دیئے جاتے تھے، تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ اورتحریک کی بنیاد پران کی انگلیاں کاٹ لی جاتی تھیں قال اللہ وقال الرسول ﷺ کے بجائے لوگوں کی زبان وقلم سے قال الإمام الفلانی قال فلانکی ہی ادائیگی ہوتی تھی، ایسے حالات میں تقلیدی جمود سے اوپر اٹھ کر کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ کے لئے راہ ہموار کرنا اوران کی بالادستی کے لئے آواز بلند کرنا محدث دہلوی رحمہ اللہ ہی کی جرأت اورہمت کی بات تھی، اس حقیقت کو نہایت خوبصورت شگفتہ انداز میں امت اسلامیہ کے لئے بطورتحفہ پیش کیاہے علامہ محمداسماعیل سلفی رحمہ اللہ نے اوراہل علم واہل عرب کے استفادہ کے لئے اسے عربی قالب میں ڈھالا ہمارے ممدوح علامہ ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ نے مقصدبالکل عیاں اورواضح ہے کہ ملت اسلامیہ صحیح فکر اوراتباع سنت مصطفی ﷺ کی پابند ہوکرعظمت رفتہ پھرسے حاصل کرے اوربغیر اس کے ؂
ایں خیال است ومحال است وجنون
(۳)ڈاکٹرصاحب کے مقالات مفاد ملت سے وابستہ ہوتے تھے انھیں پڑھ کرآپ کے اندر ملت کے تئیں جودرد تھا محسوس کیاجاسکتا ہے آپ موضوع کا پورا پورا حق اداکرتے تھے اورکسی طرح کی مجاملت سے کام نہ لیتے تھے، آپ کے چند مقالات کے عناوین کچھ اس طرح ہیں:
۱۔حقوق انسانی کا تحفظ اوربڑی طاقتوں کی آویزش۔
۲۔ ملی ترقی کے تقاضے۔
۳۔ عصرحاضر میں اسلام کا تعارف تقاضے اورامکانات۔
۴۔ انسانیت کی بہی خواہی ہمارا فرض ہے۔
۵۔انسانیت کی بے کسی اسلحہ کی عالمی تناظرمیں۔
۶۔ نبی رحمتﷺ اورحقوق نسواں۔
اس آخرالذکر مقالہ میں آپ رقمطراز ہیں کہ ’’یوں تویہ عنوان ملت کی تاریخ میں ہمیشہ ہی زندہ اورمعرکہ آراء بنارہا ہے لیکن آج اس کی اہمیت ومعنویت میں مزید اضافہ ہوگیاہے، شاہ بانوکیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ جب سے صادر ہوا اوراس فیصلہ کے خلاف مسلمانوں نے اپنے رد عمل کا اظہارکیا، اسی وقت سے اس مسئلہ میں دلچسپی رکھنے والے بہت سے وہ لوگ جنھیں اسلامی احکام کی براہ راست واقفیت نہیں ہے اس شبہ میں پڑگئے ہیں کہ کیا عورتوں کے سلسلہ میں اسلام کا موقف منصفانہ ہے؟اوراس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو انسانی ہمدردی وبہی خواہی کے زاویہ سے دیکھاہے، نیز اسلام کے مخالفین نے اس مسئلہ پراظہار کرتے ہوئے لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام عورت کو طلاق کے جس جزئیہ میں انصاف نہ دے سکا تھا اس کی اصلاح سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ہوگئی،کبرت کلمۃ تخرج من أفواہھم۔
اس وقیع اوراہم مقالہ میں ڈاکٹرصاحب نے انتہائی فاضلانہ انداز میں یہ ثابت کیاہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت عورتوں کے حق میں خصوصاً اورہرفرد بشرکے حق میں عموماً منصفانہ اورباعث خیرہے، اسلام میں عورتوں کا مرتبہ کیاہے اسے دلائل سے اجاگرکیا ہے۔
ایک ذیلی عنوان ’’اصل مقصود کیاہے ‘‘اس کے تحت آپ لکھتے ہیں کہ:
’’اسلام نے عورتوں کو جن حقوق سے نوازاہے ان کی اہمیت وافادیت کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اس نقطۂ نظر اورمقصد اصلی کو پیش نظر رکھاجائے جس کے لئے اسلام نے تشریعات واحکام کا یہ وسیع ومحکم نظام قائم کیا ہے کیونکہ اس کے بغیر اسلام کے موقف کو سمجھنا مشکل ہوگا‘‘اس کے بعدآپ نے سماجی زندگی سے متعلق قدیم وجدید زمانوں میں موجود دونظام ذکرفرمایاہے ایک وہ جس میں جنسی زندگی اوراس سے بہرہ اندوزی کو خاندان اورازدواجی رشتہ کے ساتھ مربوط رکھا گیا ہے دوسرا نظام وہ جس میں جنسی عمل اورشہوانی فعل کوازدواجی زندگی سے مربوط نہیں رکھاگیا ہے، اس تفصیل کے بعدآپ رقمطراز ہیں’’اسلام نے اپنے اعلی مقاصد کے پیش نظر اس نظام کو اختیار کیاہے جس میں اخلاقی ضوابط اورعفت وپاکبازی کے اصول کی پابندی کو اہمیت حاصل ہے اوراس نظام کا وہ مخالف ہے جس میں آزاد جنسی تعلقات اورغیر خاندانی بنیادپر زندگی بسرکی جاتی ہے‘‘۔
اس کے بعد آپ نے ان حقوق کا ذکرکیاہے جنھیں اسلام نے عورتوں کودیاہے آپ فرماتے ہیں:
’’عام انسانی حقوق میں آزادی ومساوات کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اس لئے ہم انھیں دونوں حقوق پر مختصر روشنی ڈالیں گے‘‘چنانچہ آپ نے دینی آزادی، سیاسی وفکری آزادی، آزادئ عمل، شہری آزادی، انسانیت میں مساوات،حق زندگی میں مساوات، شرعی تکلیف میں مساوات، جزا وسزا میں مساوات، تبلیغ دین میں مساوات، تعلیم وتعلم میں مساوات، مالی حیثیت میں مساوات ان تمام کاذکر بڑے ہی فاضلانہ اورمدلل انداز میں کیاہے، اس کے بعدعورتوں کے بالمقابل مردوں کوجوبعض امتیازات حاصل ہیں انھیں ذکر فرمایاہے اورشروع ہی میں بتادیاہے کہ ان امتیازات کامقصد صرف دونوں کے فطری حالات کی رعایت ہے عورت کی تنقیص یااس کے درجہ کو گھٹانا مقصود نہیں۔
اورآخرمیں ’’بے اطمینانی کا اصل محرک‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت فرماتے ہیں کہ: ’’عورتوں سے متعلق اسلامی موقف پرجولوگ بے اطمینانی کااظہار کرتے ہیں وہ اسلامی شریعت میں مزعومہ اصلاح کی بات کرتے ہیں ان کی ظاہری صورت سے اخلاص وہمدردی کااندازہ ہوتا ہے اورعام طور پران کے سننے والے یہ سمجھتے ہیں کہ صنف نازک کی حمایت میں اٹھنے والی یہ آواز اخلاص وایمانداری پرمبنی ہے اورآواز اٹھانے والا عورتوں کا مخلص ہے لیکن حقیقت حال ایسی نہیں ہوتی، صنف نازک یا پوری انسانیت کا دم بھرنے والے ایسے افراد اصل میں اپنی اسلام دشمنی کے جذبہ کو تسکین دینے اوراسلام سے انتقام لینے کے لئے یہ لبادہ اوڑھتے ہیں اوراس چال سے وہ مسلمانوں یاسادہ لوحوں کو اسلام سے متنفر کرنا چاہتے ہیں۔
یہ چند باتیں تھیں جوڈاکٹر حافظ علامہ ازہری رحمہ اللہ کے تعلق سے ذکرکی گئیں، آپ کی شخصیت پوری ملت اسلامیہ کے لئے بالعموم اورمسلک اہل حدیث کے لئے بالخصوص سرمایۂ افتخارتھی جواب اس جہانِ رنگ وبومیں باقی نہ رہی لیکن آپ کا علمی سرمایہ۔ تصنیف وتالیف، ترجمہ وتحقیق، مقالات وبحوث ، نامور تلامذہ کی شکل میں ۔بہ طورصدقۂ جاریہ موجود ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کے حسنات کوقبول فرمائے اورلغزشوں اورخطاؤں سے درگذر فرماکر جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔(آمین)
***